کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

وہابیت سے اختلاف کی وجوہات اور عقائدی اعتراضات

وہابیت سے اختلاف کی وجوہات اور عقائدی اعتراضات
عنوان: وہابیت سے اختلاف کی وجوہات اور عقائدی اعتراضات
تحریر: مصباح عطاریہ
پیش کش: جامعۃ المدینہ خدیجہ الکبریٰ، اکولہ، ہند

ایک معترض نے سوال کیا: ”آپ وہابیوں سے اختلاف اور براءت کیوں رکھتے ہیں؟“

سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہابیت کی بنیاد کس نے رکھی۔ اس کی ابتداء محمد بن عبد الوہاب نجدی سے ہوئی، جس نے عرب ممالک میں شدید فتنے برپا کیے۔ اسی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگانِ دین کے مزارات کو مسمار کروایا، علمائے کرام کا خون بہایا اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے گستاخانہ رویہ اپنایا۔ برصغیر پاک و ہند میں اس نظریے کو پھیلانے میں اسماعیل دہلوی کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کا بڑا کردار رہا ہے۔

اب آتے ہیں ان کے ان عقائد کی طرف جن کی بنیاد پر اہلِ سنت ان سے شدید اختلاف رکھتے ہیں:

عقیدۂ امتناعِ کذب اور توہینِ رسالت:

ان کے اکابرین نے اپنی کتابوں میں لکھا کہ (معاذ اللہ) اللہ تبارک و تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر ہے (جیسا کہ فتاویٰ رشیدیہ میں مذکور ہے)۔ یہ صریحاً قرآنِ پاک کی اس آیت کا انکار ہے کہ ”اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی؟“ (سورۂ نساء)۔ اسی طرح انہوں نے نماز میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خیال آنے کو (معاذ اللہ) اپنے بیل اور بیوی کے خیال میں ڈوبنے سے بدتر لکھا ہے۔

حیاتِ انبیاء کا انکار:

ان کا عقیدہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور دیگر اولیاء اپنی قبروں میں مردہ مٹی ہو چکے ہیں (معاذ اللہ)۔ جبکہ احادیثِ مبارکہ میں واضح طور پر موجود ہے:

إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.

ترجمہ: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“

ندائے ”یا رسول اللہ“ اور استغاثہ (مدد مانگنا):

وہابی عقیدے کے مطابق انبیاء اور اولیاء سے مدد مانگنا شرک ہے۔ جبکہ قرآنِ مجید میں استغاثہ کے ڈھیروں دلائل موجود ہیں۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے: ”ان کو اللہ اور رسول نے اپنے فضل سے غنی کر دیا۔“ اسی طرح قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے بھائی سے مدد مانگنے کا ذکر موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ: ”میں مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرتا ہوں۔“ اگر اللہ کی دی ہوئی طاقت سے کسی کو قادر ماننا شرک ہے، تو کیا قرآن ہمیں شرک کی تعلیم دیتا ہے؟

علمِ غیب اور معجزات کا انکار:

وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں، جبکہ دوسری طرف وہ یہ لکھتے ہیں کہ شیطان اور ملک الموت کے علمِ محیط کا ثبوت قرآنی نصوص سے ہے اور نبی کے علم کے لیے کوئی نص نہیں۔ جس میں شیطان کے علم کو معاذ اللہ نبی کے علم سے زیادہ بتایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وہ انبیائے کرام کے معجزات کا بھی انکار کرتے ہیں۔

عقیدۂ ختمِ نبوت میں تشکیک:

وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو زمانی اعتبار سے آخری نبی ماننے کو عوام کا خیال قرار دیتے ہیں، جو کہ صریحاً قرآن کی آیت ”خاتم النبیین“ کا انکار ہے اور یہ صریح کفر ہے۔

بدعت کے نام پر شعائرِ اسلام کی مخالفت:

ان کے نزدیک جو چیز صریحاً قرآن و حدیث میں موجود نہ ہو، وہ بدعت اور شرک ہے۔ وہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضۂ اطہر کی زیارت کے لیے سفر کرنے، ایصالِ ثواب، فاتحہ اور اولیاء کو پکارنے کو شرک و بدعت قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی کتابوں میں محفلِ میلاد کو (معاذ اللہ) کنہیا کی ولادت منانے کے مترادف لکھا گیا ہے۔

عہدِ حاضر کے فتنے:

اسی نظریے کے حامل تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی نے اپنے بیانات میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ”اُمی“ ہونے کی ایسی تشریح کی جو صریحاً گستاخی اور توہین کے زمرے میں آتی ہے۔

حاصلِ کلام:

اب آپ ہی بتائیں کہ جو اسلام کے مسلمہ عقائد کا انکار کرے، اللہ کی شان میں گستاخی کرے، انبیائے کرام کے معجزات کا منکر ہو اور گستاخِ رسول ہو، اس سے ہم دشمنی اور براءت کا اظہار نہ کریں تو اور کیا کریں؟ جب ہم یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے باطل عقائد کی وجہ سے دوست تسلیم نہیں کر سکتے، تو ان گستاخوں سے کیونکر محبت کی جا سکتی ہے؟

اسی لیے تو امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے غافل مسلمانوں کو جگاتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:

آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!