| عنوان: | ویلینٹائن ڈے: تہذیبی یلغار اور عیاشی کا دن |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ،گھوسی |
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی زندگی، اخلاقیات اور تہذیب و تمدن کے بھی بہترین اصول فراہم کرتا ہے۔ اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم حیا اور پاکیزگی ہے، جبکہ مغربی تہذیب کی بنیاد مادیت اور آزاد خیالی پر ہے۔ ان دونوں تہذیبوں کا ٹکراؤ قدم قدم پر نظر آتا ہے، اور اسی ٹکراؤ کی ایک بدترین مثال ویلینٹائن ڈے (Valentine's Day) ہے، جو اسلامی رسم و رواج اور ایمانی غیرت کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔
اور اسلام محض چند خشک رسومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ حیاتِ انسانی کا ایک مکمل، روشن اور تابندہ منشور ہے۔ یہ وہ ضابطہِ حیات ہے جو عبادات کے محراب و منبر سے لے کر معاشرت کے گلی کوچوں تک، اور اخلاقیات کے درس سے لے کر تہذیب و تمدن کے ایوانوں تک، ہر موڑ پر انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔
حیا: اسلام کا امتیاز اور ویلینٹائن ڈے کی عریانی
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ اور ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو"۔
حیا وہ نورانی پردہ ہے جو انسان کو حیوانیت سے جدا کرتا اور اسے شرافتِ انسانی کا تاج پہناتا ہے۔
ویلینٹائن ڈے کا سب سے بڑا وار مسلمانوں کی اسی حیا پر ہے۔ یہ دن نامحرم لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان بے حجابانہ میل جول، تحائف کے تبادلے اور اظہارِ محبت کے نام پر بیہودگی کو فروغ دیتا ہے۔
اسلام نے عورت کو "صنفِ نازک" اور ایک قیمتی گوہر قرار دے کر اسے عفت و عصمت کے حصار میں محفوظ کیا تھا، مگر افسوس کہ یہ مغربی تہوار اسے بازار کی زینت بنا رہا ہے۔ کوچہ و بازار، سیرگاہوں اور شاہراہوں پر اس دن جو حیا سوز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ نہ صرف اسلامی شعار کا تمسخر اڑاتے ہیں بلکہ شرافتِ انسانی کا سر بھی ندامت سے جھکا دیتے ہیں۔
اسلامی شریعت میں غیر مسلموں کے مذہبی اور مخصوص تہذیبی شعار کو اپنانا سختی سے منع ہے۔ حدیث مبارکہ ہے: "من تشبہ بقوم فھو منھم" جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔
ویلینٹائن ڈے کا مسلمانوں کی تاریخ، ثقافت یا مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ جب ایک مسلمان نوجوان اس دن کو مناتا ہے، یا اس دن کی مناسبت سے تحائف دیتا ہے، تو وہ انجانے میں خود کو اغیار کی صف میں کھڑا کر رہا ہوتا ہے۔ یہ محض ایک تفریح نہیں بلکہ اپنی دینی شناخت کو مٹا کر دوسروں کے رنگ میں رنگ جانے کا نام ہے۔
زنا اور فواحش کا راستہ
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔"
غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی روکا ہے۔
ویلینٹائن ڈے دراصل اسی قربت کا پہلا زینہ ہے۔ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا کلچر، جو کہ مغرب کا متعفن تحفہ ہے، اسلام میں حرام ہے۔ اس دن کی تقریبات، خلوت نشینی اور ڈیٹنگ دراصل گناہِ کبیرہ کی دہلیز پر قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ شیطان انسان کو سیدھا گناہ کی طرف نہیں دھکیلتا، بلکہ اسے ایسے خوشنما ناموں کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔
اسلام محبت کا دشمن نہیں، بلکہ محبت اور الفت کا سب سے بڑا داعی ہے۔ لیکن اسلام میں محبت نکاح کے پاکیزہ بندھن کی پابند ہے۔ اسلام میں محبت چھپ کر نہیں کی جاتی اور نہ ہی سڑکوں پر اس کا تماشا لگایا جاتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کے لیے سال کا کوئی ایک دن مخصوص نہیں، بلکہ پوری زندگی محبت اور رحمت کا نمونہ ہونی چاہیے۔
ویلینٹائن ڈے جس محبت کا پرچار کرتا ہے، وہ دراصل ہوس اور وقتی جذبات کا نام ہے، جس کا مقصد ذمہ داری اٹھائے بغیر نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے۔
تحفہ یا رشوت؟
اس دن کی سب سے بڑی اور خطرناک بدعت تحائف کا تبادلہ ہے۔ بظاہر سرخ گلاب، چاکلیٹس اور قیمتی تحائف محبت کی نشانی معلوم ہوتے ہیں، لیکن شریعت کی باریک بین نگاہ اس فعل کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ جب دو اجنبی مرد اور عورت، جذبات کی رو میں بہہ کر، ناجائز تعلقات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں، تو یہ تحفہ نہیں بلکہ گناہ کی قیمت بن جاتا ہے۔
فقہائے کرام نے انسانی نفسیات اور شریعت کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس عمل پر بہت سخت حکم لگایا ہے۔ ”بحر الرائق“ میں اس طرح کے لین دین کی حقیقت کو بہت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے: ”مَا يَدْفَعُهُ الْمُتَعَاشِقَانِ رِشْوَةٌ يَجِبُ رَدُّهَا وَلَا تُمْلَكُ“ یعنی وہ مال یا تحفہ جو دو عاشق و معشوق ایک دوسرے کو دیتے ہیں، وہ تحفہ نہیں بلکہ رشوت ہے، جس کا واپس کرنا واجب ہے اور اس پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔
غور کیجئے! فقہ نے کس قدر ادبی اور نفسیاتی گہرائی کے ساتھ اس عمل کا آپریشن کیا ہے۔ رشوت صرف اسی کو نہیں کہتے جو حاکم کو دے کر فیصلہ بدلوایا جائے، بلکہ ہر وہ چیز رشوت ہے جو کسی ناجائز مقصد، عیاشی اور زنا کے مقدمات کے حصول کے لیے دی جائے۔ ویلینٹائن ڈے پر دی جانے والی چاکلیٹ یا تحفہ دراصل عفت و عصمت کے سودے کا پیشگی معاوضہ ہے۔ چونکہ یہ بنیاد ہی حرام ہے، لہٰذا لینے والے کے لیے وہ تحفہ بھی حرام ہے اور اس کا مالک بننا شرعاً ناممکن ہے۔ یہ محبت کا نذرانہ نہیں، بلکہ ہوس کا بیعانہ ہے۔
صدائے وقت اور ہماری ذمہ داری
آج وقت کی پکار اور حالات کا تقاضا ہے کہ والدین، جو نسلِ نو کے حقیقی معمار ہیں، خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔ انہیں اپنی اولاد کی آبیاری محض دنیاوی آسائشوں سے نہیں، بلکہ ایمانی اور اسلامی اقدار کے آبِ زلال سے کرنی ہوگی، تاکہ یہ ننھے پودے تناور درخت بن کر مغربی ہوائوں کے زہریلے تھپیڑوں کا مقابلہ کر سکیں۔
تعلیمی درسگاہوں..... اسکولوں اور کالجوں..... کو بھی چاہیے کہ وہ محض ڈگریاں بانٹنے کی فیکٹریاں نہ بنیں، بلکہ طلبہ کے ذہنوں میں اس تہذیبی ناسور کے خلاف شعور کی شمعیں روشن کریں اور انہیں بتائیں کہ ویلینٹائن ڈے جیسی خرافات ان کی تہذیبی شناخت کے لیے کتنا مہلک زہر ہیں۔
بحیثیت ایک زندہ اور غیرت مند قوم، ہم پر لازم ہے کہ اس "یومِ بے حیائی" کا مکمل اور اجتماعی بائیکاٹ کر کے یہ ثابت کریں کہ ہمارے معاشرے میں حیا اور عفت کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی بستیوں کو اس آلودگی سے پاک رکھیں گے، تاکہ ہمارا معاشرہ امن، سکون اور پاکیزگی کا وہ گہوارہ بن سکے جہاں انسانیت اور شرافت سانس لے سکے۔
