Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ہندوستان کے مسلم سلاطین

ہندوستان کے مسلم سلاطین
عنوان: ہندوستان کے مسلم سلاطین
تحریر: ممتاز عالم مصباحی
پیشکش: خواجہ حسن ازہری

ہندوستان میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ یہ عہدِ حکومت سیاسی و انتظامی، سماجی و تمدنی، علمی، مذہبی، مختلف اعتبار سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ اس زمانۂ حکومت کو عام طور پر عہدِ وسطیٰ کا ہندوستان کہا جاتا ہے۔ اس طویل دور میں حکومت کے کام کاج میں شریعت کا کیا عمل دخل تھا؟

حکمرانِ وقت کے طبعی میلانات و فکری رجحانات کیا تھے، وہ خود کس حد تک شرعی احکام کے پابند تھے، علماء، فقہاء اور مشائخ سے ان کا کس حد تک ربط و لگاؤ تھا؟ معاصر مؤرخین کی تضاد بیانیوں کے باوجود ان امور کے تعلق سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کم و بیش تمامی حکمرانِ وقت کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں:

  • بعض کے استثنا کے ساتھ مسلم سلاطین نے عام طور پر نہ صرف یہ کہ شریعت کا ادب و احترام کیا بلکہ عوام کے سامنے اس کے اظہار کو بھی ضروری سمجھا۔ ایسی بھی مثالیں ملتی ہیں کہ ان سلاطین نے ذاتی و سیاسی فوائد کے لیے شرعی اصول و ضوابط کی خلاف ورزیاں بھی کیں لیکن شاید ہی کوئی ایسا حکمراں ملے گا جس نے علانیہ طور پر شریعت کا انکار کیا ہو۔
  • سیاست و حکومت سے متعلق مختلف معاملات میں انہوں نے شرعی نقطۂ نظر جاننے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اس کے لیے علما و مشائخ سے انفرادی و اجتماعی طور پر مشورہ کیا، ہاں! کبھی کبھار ان کے مشوروں کو عملاً نظر انداز بھی کر دیا گیا۔
  • انہوں نے علما و مشائخ کو انتظامی امور پر شرعی نقطۂ نظر واضح کرنے کی اجازت دی اور اپنی حکومت کے خلاف ان کی تنقیدوں کو سنا اور اکثر کو گوارا بھی کیا۔
  • انہوں نے علما و مشائخ کے ادب و احترام کو حد درجہ ملحوظ رکھا۔ اگر کسی عالم یا بزرگ کے ساتھ کسی حکمراں کے مخالفانہ یا معاندانہ رویے کا واقعہ رونما ہوا تو اس کی وجہ اس سلطان کے زعم کے مطابق ذاتی و سیاسی مفاد کا تحفظ کرنا تھی یا اس کے علاوہ کوئی خاص پسِ منظر تھا۔ مجموعی طور پر علما و مشائخ سے عداوت و مخالفت کا شاخسانہ نہیں تھا۔
  • انہوں نے عدل و انصاف کے معاملات میں شرعی احکام کو نافذ کرنے کا سب سے زیادہ مظاہرہ کیا۔

اس مختصر سی تحریر میں تمام مسلم سلاطین کے عہد کا جائزہ تو نہیں لیا جا سکتا بلکہ یہ عنوان تو ایک تفصیلی بحث کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے سردست چند معروف مسلم سلاطین کے احترامِ شریعت، ان کی شرعی پاسداری، علما و مشائخ نوازی اور ان کی دیگر اسلامی سرگرمیوں کا ہی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ العزیز اس موضوع پر راقم السطور کی جلد ہی ایک تفصیلی کتاب منظرِ عام پر آئے گی۔

قطب الدین ایبک:

سلطان قطب الدین ایبک جنہوں نے 1206ء سے لے کر 1210ء تک حکومت کی، انہوں نے شریعت کا حد درجہ احترام کیا اور مذہبی طبقے خاص طور پر معاصر علما و فقہا سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے۔ حسن نظامی اور فخر مدبر نے ان کے مذہبی جذبات اور احترامِ شرع کی بڑی تعریف کی ہے، چنانچہ حسن نظامی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”تاج المآثر“ میں لکھا ہے:

”هِمَّتُ بِلَنْدَش بَر اِحْيَاے مَعَالِمِ شَرِيْعَت وَ اِعْلَاے وَ اِعْلَامِ سُنَّت مَقْصُور وَ مَوْقُوف دَاشْت۔“

ترجمہ: ان کی بلند ہمت شریعت کے نشانات کو زندہ کرنے اور سنت کے جھنڈوں کو بلند کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

فخر مدبر نے بھی اپنی کتاب ”تاریخ فخر الدین مبارک شاہ“ میں سلطان کے متعلق بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلطان نے لاہور میں بہت سے ٹیکس جو غیر شرعی تھے موقوف کر دیے تھے اور یہ حکم صادر کیا تھا کہ مسلمانوں سے غیر شرعی خراج کے بجائے شرعی ٹیکس ”عشر“ وصول کیا جائے۔

[تاریخ فخر الدین مبارک شاہ، ص: 34]

سلطان معاصر علما و فقہا کی اس درجہ قدر دانی کرتے تھے کہ انہیں خصوصی انعام و اکرام سے نوازتے تھے جیسا کہ حسن نظامی نے لکھا ہے کہ:

”أَئِمَّه وَ عُلَمَاے دِين كِه نَگِينِ خَاتَم شَرِيْعَت اَنْد بِلُطْفِ اِعْزَاز نَوَاخْت۔“

ترجمہ: ائمہ اور علمائے دین کو جو شریعت کی انگوٹھی کے نگینے ہیں، اپنی مہربانی سے نوازا۔

[تاج المآثر، ص: 446]

”لباب الالباب“ میں تو یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ: ”سلطان قطب الدین ایبک کے دستِ سخاوت نے فقہا کو فکرِ معاش سے آزاد کر دیا تھا۔“

[لباب الالباب اول، ص: 203]

معاصر مورخ فخر مدبر نے سلطان کی داد و دہش کا تذکرہ یوں کیا ہے:

”وَ اِدْرَارَاتِے وَ مُشَاهِرَاتِے كِه مُسْتَحِقَّان اَز أَهْلِ عِلْم وَ فِقْه وَ قِرَاءَت وَ زُهْد وَ مُصْلِحَان دَاشْتَنْد، آں هَم بَر حَال دَاشْتَن فَرْمُود، وَ مَبْلَغِ خَطِير اَز زَر وَ غَلَّه اَز خَاصِّ خَوِيْش بَفَرْمُود بِنَامِ مُسْتَحِقَّان وَ دَرْوِيشَان وَ بِيْوَگَاں وَ يَتِيْمَاں صَدَقَه فَرْمُود۔“

ترجمہ: روزینہ و مشاہرہ کے طور پر مستحقین یعنی علما و فقہا، قاریوں، زاہدوں اور مصلحوں کو جو کچھ دیا جاتا تھا اس کے جاری رکھنے کا حکم دیا اور بہت بڑی رقم سونا اور غلہ خود اپنے پاس سے دیا تاکہ مستحقوں میں تقسیم کیا جائے اور کچھ روپیہ سونے کی قسم سے مستحقوں، درویشوں، بیواؤں اور یتیموں میں صدقہ کے طور پر بانٹا۔

[تاریخ فخر الدین مبارک شاہ، ص: 35]

مصاحبِ علما:

اس عہد کے بہت سے علما و فقہا خاص طور پر لاہور اور غزنین کے علما سلطان کے ہم نشیں رہے، ان میں سے قاضی حمید الدین افتخار علی بن عمر الحمودی، فخر مدبر، صدر الدین حسن نظامی اور مولانا بہاء الدین اوشی قابلِ ذکر ہیں۔

[سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، ص: 95]

سلطان شمس الدین التمش:

سلطان شمس الدین التمش نے 607ھ مطابق 1210ء تا 633ھ مطابق 1235ء تقریباً پچیس سال تک انتہائی شان و شوکت کے ساتھ ہندوستان پر حکومت کی۔ ان کا یہ عہدِ حکومت تاریخِ ہند میں جہاں ایک طرف ایک امتیازی شان رکھتا ہے، وہاں دوسری جانب مذہبی اور علمی اعتبار سے بھی حد درجہ روشن و تابناک ہے۔ ہندوستان میں اسلامی ثقافتی و تہذیبی اداروں کی داغ بیل اور ان کا عروج و ارتقا سلطان کی ہی کوششوں کا رہینِ منت ہے۔ حوضِ شمسی اور قطب مینار محض تعمیری کارنامے نہیں تھے بلکہ وہ زبردست تہذیبی نشانیاں تھیں جو اسلامی تمدن کے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کر رہی تھیں، جس کے پس پردہ عزمِ جہاں بانی کے ساتھ ساتھ فرائضِ دینی اور خدمتِ خلق کے بے پناہ جذبات کار فرما تھے۔ شرعِ مطہر کا حد درجہ احترام کرنے اور علما و مشائخ سے والہانہ عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے۔ آنے والی سطور میں ان کے احترامِ شرع، علما و مشائخ سے عقیدے اور ان کی عبادت و ریاضت پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

نماز کی پابندی:

سلطان نہایت پابندی کے ساتھ پنج وقتہ نمازیں ادا کرتے تھے، صاحبِ ”طبقاتِ اکبری“ نے ان کی طاعت و عبادت کے متعلق لکھا ہے:

”سُلْطَان شَمْسُ الدِّين بَر طَاعَت وَ عِبَادَت مُولَع بُود، وَ رُوزهَاے جُمْعَه بِه مَسْجِد رَفْتِے وَ بِه اَدَاے فَرَائِض وَ نَوَافِل قِيَام نَمُودِے۔“

ترجمہ: سلطان شمس الدین طاعت و عبادت کی بڑی لگن رکھتے تھے، جمعہ کے دن مسجد جاتے تھے اور فرائض و نوافل کی ادائیگی کے لیے وہاں قیام کرتے تھے۔

[طبقات اکبری: ج: 1، ص: 63]

سلطان کی پابندیِ نماز کا بخوبی اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد جب ان کی وصیت میں بتائی گئی خصوصیات کا حامل کوئی شخص نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے نہیں ملا تو سلطان ہی نے آگے بڑھ کر نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اس واقعے کی قدرے تفصیل یوں ہے:

14 ربیع الاول 633ھ مطابق 1235ء کو حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد جب جنازہ نماز کے لیے لایا گیا تو خواجہ ابو سعید نے اعلان کیا:

”حَضْرَتِ خَوَاجَه وَصِيَّت كَرْدَه بُود كِه اِمَامِ جَنَازَه آں كَس بَاشَد كِه گَاهِے اَز بِهِدْسِ حَرَام نَكَشَادَه بَاشَد وَ سُنَّت هَاے عَصْر وَ تَكْبِيرِ اُولَىٰ فَرَائِض نَمَاز گَاهِے اَز و تَرْك نَشُدَه بَاشَد۔“

ترجمہ: حضرت خواجہ نے وصیت کی تھی کہ ہمارے جنازے کا امام ایسا شخص ہو جو متقی و پرہیزگار رہا ہو، عصر کی سنتیں اور فرائضِ نماز کی ادائیگی میں تکبیرِ اولیٰ کبھی اس سے ترک نہ ہوئی ہو۔

[خزینۃ الاصفیا، جلد اول، ص: 275]

اعلان کے بعد کچھ دیر انتظار کیا گیا کہ کوئی ایسا شخص جو ان خصوصیات کا حامل ہو نکلے اور نمازِ جنازہ پڑھا دے۔ جب کوئی نہیں نکلا تو سلطان شمس الدین التمش یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی نمازوں کی اس طرح نمائش کروں لیکن بہرحال قطب صاحب کے حکم کی تعمیل لازم ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور اپنے کاندھوں پر جنازہ قبرستان تک لے گئے۔ (ایضاً)

مذکور ہے کہ وہ تزکیۂ باطن کی خاطر ریاضت و مجاہدہ بھی کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ تمام رات بارگاہِ الٰہی میں سر جھکائے بیٹھے رہتے تھے، چنانچہ محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”شَبْهَا بِيدَار بُودِے وَ هِيْچ كَس رَا بِيدَار نَه كَرْدِے۔“

ترجمہ: وہ راتوں کو جاگتا تھا اور کسی کو بیدار نہیں کرتا تھا۔

[فوائد الفواد، ص: 213]

سلاطینِ دہلی کے مذہبی رجحانات میں ”فوائد السالکین“ کے حوالے سے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کا ایک بیان درج ہے جس سے سلطان کی شب بیداری کا تفصیلی حال معلوم ہوتا ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

”وہ (سلطان التمش) حد سے زیادہ صاحبِ اعتقاد تھا، تمام رات جاگتا تھا کسی نے اس کو کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا، جب دیکھا عالمِ تحیر میں کھڑا ہوا دیکھا، اگر کبھی آنکھ لگ جاتی تو اسی وقت گھبرا کر بیدار ہو جاتا، اٹھ کر خود پانی بھرتا، وضو کرتا، مصلیٰ پر بیٹھ جاتا اور کبھی کسی خدمت گار کو نہیں جگاتا تھا کہ جو لوگ آرام میں ہیں ان کو کیوں زحمت دوں۔“

سلطان شمس الدین التمش کی اس قدر پابندیِ نماز اور شب بیداری سے ان کے احترامِ شرع کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے، اس لیے اس پہلو پر تبصرہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، البتہ ذیل کی سطور میں علما و مشائخِ کرام سے ان کے تعلقات و روابط پر مختصراً روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

علما و مشائخ سے وابستگی:

سلطان معاصر علما و مشائخ سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے اور ان سے اکتسابِ فیض کو حد درجہ سعادت و خوش بختی تصور کرتے تھے۔ خاص طور پر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، حضرت شیخ جلال الدین تبریزی، محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت قاضی حمید الدین ناگوری، حضرت شیخ نجیب الدین نخشبی، حضرت قاضی قطب الدین کاشانی، حضرت خواجہ عماد الدین بلگرامی اور حضرت سید محمد صغریٰ بلگرامی علیہم الرحمۃ والرضوان سے ان کو بڑی عقیدت و محبت تھی۔ معاصر مورخوں نے مذکورہ تمام بزرگوں کے ساتھ سلطان التمش کے تفصیلی روابط کا ذکر کیا ہے۔ ان کا مختصر بیان بھی ایک تفصیلی مضمون کا متقاضی ہے، اس لیے سردست صرف خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ساتھ ان کے روابط کے بیان پر اکتفا کیا جا رہا ہے، کیوں کہ بعض تذکرہ نگاروں نے سلطان کو ان کے مریدوں میں شمار کیا ہے۔

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ساتھ سلطان کے روابط:

سلطان کو آپ سے بڑی عقیدت و محبت تھی، مذکور ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین تشریف لائے تو سلطان نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کی بارگاہ میں عریضہ پیش کیا کہ آپ شاہی محل کے قریب ہی قیام فرمائیں، لیکن انہوں نے یہ درخواست قبول نہیں کی اور دوسری جگہ قیام کرنا پسند فرمایا تو سلطان نے ہفتے میں دو مرتبہ ان کی قیام گاہ پر حاضر ہونا اپنا معمول بنا لیا۔

حضرت مولانا جلال الدین محمد بسطامی کے انتقال پر سلطان التمش نے شیخ الاسلام کا عہدہ حضرت خواجہ قطب الدین علیہ الرحمہ کو پیش کیا تھا، جب انہوں نے معذرت کر لی تو مولانا نجم الدین صغریٰ کو شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ صغریٰ صاحب بڑے مغرور واقع ہوئے تھے، اس لیے حضرت قطب الدین علیہ الرحمہ کی مقبولیت سے وہ ذہنی اذیت اور قلبی بے چینی میں مبتلا ہو گئے اور ان کو ایذا پہنچانے کی فکر میں رہنے لگے۔ ایک مرتبہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ دہلی تشریف لائے۔ جب انہیں صغریٰ صاحب کی معاندانہ حرکتوں کے بارے میں معلوم ہوا تو بڑے رنجیدہ خاطر ہوئے اور حضرت قطب الدین علیہ الرحمہ کو اپنے ساتھ لے کر اجمیر کی طرف چل دیے۔ سلطان کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو ہزاروں عقیدت مندوں کے ساتھ ان دو بزرگوں کے پیچھے پیچھے کئی میل تک گئے۔ حضور خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ نے جب سلطان اور عقیدت مندوں کو اس قدر پریشان دیکھا تو حضرت بختیار کاکی علیہ الرحمہ کو حکم دیا کہ دہلی میں قیام کریں۔ اس اجازت کے بعد سلطان نے فرطِ مسرت میں حضرت خواجہ اجمیری کے قدم چوم لیے اور حضرت بختیار کاکی علیہ الرحمہ کو دہلی واپس لے آئے۔ حضرت خواجہ قطب الدین علیہ الرحمہ کے اجمیر کے لیے روانہ ہونے کی خبر سے سلطان شمس الدین التمش اور اہالیانِ دہلی کی جو بے چینی تھی اس کو میر خورد نے بڑے اچھے انداز میں بیان کیا ہے:

”پَس شَيْخ قُطْبُ الدِّين هَم رَاه شَيْخ رَوَانَه اَجْمِير گَرْدِيد، اَزِيں مُقَدَّمَه دَر تَمَام شَهْر دِهْلِي شُور اُفْتَاد، هَمَه اَهْلِ شَهْر مَع سُلْطَان شَمْسُ الدِّين دُنْبَال بَر آمَدَنْد وَ هَر جَا شَيْخ قُطْبُ الدِّين قَدَم مِے گُذَاشْت خَلَائِق خَاكِ آں زَمِين بِه تَبَرُّك بَر مِے دَاشْت۔“

ترجمہ: پس شیخ قطب الدین اپنے شیخ کے ہمراہ اجمیر کی طرف روانہ ہوئے، اس بات سے تمام شہرِ دہلی میں ایک شور برپا ہو گیا۔ دہلی شہر کے تمام باشندے سلطان شمس الدین کے ہمراہ ان کے پیچھے روانہ ہوئے، جہاں شیخ قطب الدین قدم رکھتے تھے لوگ اس زمین کی خاک تبرک کے طور پر اٹھا کر رکھ لیتے تھے۔

[سیر الاولیاء، ص: 54، 55]

خلاصہ یہ کہ مشائخِ کرام سے سلطان التمش کی جو عقیدت و محبت تھی اس کی مثالیں تاریخ میں بہت کم ملتی ہیں۔ حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا ہے:

دَر حُجْرَه فَقْر بَادْشَاهِے
دَر عَالَمِ دِل جَهَاں پَنَاهِے

شَاهَنْشَهِے هَے سَرِير وَ بِےتَاج
شَاهَانَش بِخَاك پَاے مُحْتَاج

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!