| عنوان: | رشوت کی گرم بازاری نے مدارس کے تعلیمی ماحول کو خراب کر دیا ہے |
|---|---|
| تحریر: |
مولانا محمد ساجد رضا مصباحی
استاذ جامعہ صمدیہ، پھپھوند شریف |
| پیشکش: | فرحین فاطمہ نعمانی |
اس بار ماہنامہ اشرفیہ کی ”بزمِ دانش“ کے لیے منتخب کیا گیا عنوان بڑا حساس اور توجہ طلب ہے۔ یقیناً ملحق مدارس میں رشوت کی گرم بازاری اپنے عروج پر ہے۔ اس بازارِ رشوت میں اچھال ہی اچھال ہے، گراوٹ کی نوبت کبھی بھی نہیں آتی، ابھی حال ہی میں اتر پردیش گورنمنٹ کے ذریعے 100 مدارس کو ایڈڈ لسٹ پر لیے جانے کے بعد مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کے درمیان جس طرح کی سودے بازیاں ہوئیں، اور رشوت کے لین دین میں جس طرح کی مقابلہ آرائی کا ماحول قائم کیا گیا، اسے دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اسلامی مدارس ہیں، جہاں شریعتِ اسلامیہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور انہیں دین و مذہب کا محافظ قلعہ بھی کہا جاتا ہے۔
شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں رشوت لینا اور دینا دونوں ہی عظیم ترین گناہ ہیں۔ اس فعلِ قبیح کے مرتکب کو ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم“ نے سخت خطاکار، اور عذابِ الٰہی کا سزاوار قرار دیا ہے، ”حدیثِ پاک“ میں فرمایا گیا:
الراشي والمرتشي كلاهما في النار
(الحدیث)
باوقار اساتذہ اور مدارس ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم“ کے اس فرمانِ عالی شان کو اپنی درسگاہوں میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ پڑھاتے ہیں، اس لیے اس نص کے اطلاق و تخصیص اور اس کے رموز و اسرار سے بخوبی واقف ہوں گے۔
رشوت کی گرم بازاری نے مدارسِ اسلامیہ کے تعلیمی ماحول، طلبہ کے مستقبل، اور خود ان اسلامی تعلیم گاہوں کے تشخص و بقا کے تئیں، کئی طرح کے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
ملحق مدارس میں اساتذہ کی تقرری کے سلسلے میں جو بے راہ رویاں رواج پا رہی ہیں، اس کا سب سے بڑا، اور سیدھا اثر، مدارس کے تعلیمی ماحول پر پڑ رہا ہے۔ چونکہ رشوت کے بل بوتے پر بعض ایسے اساتذہ کی تقرری ہو جاتی ہے، جن کے پاس علم و لیاقت کے نام پر ”اتر پردیش“ مدرسہ تعلیمی بورڈ کی ”سستی سند“ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا؛ اور درسِ نظامی کی منتہی کتابیں تو درکنار، ابتدائی کتابوں کی تدریس کا شعور بھی نہیں رکھتے، اور بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں درسِ نظامی کی کتابوں کی زیارت بھی نصیب نہیں ہوئی ہوتی، ایسے افراد سے ادارے کی تعلیمی ترقی، اور طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے کس طرح کی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟
بعض باصلاحیت اور ذی علم اساتذہ، جو اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بھاری رشوت ادا کر کے کسی بھی قیمت پر ایسے مدارس میں ملازمت حاصل کر لیتے ہیں اور اپنا پورا سرمایہ اور پراپرٹی (Property) ملازمت کے حصول میں گنوا دینے کے بعد مکمل طور پر پروفیشنل (Professional) ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر ادارے کے تئیں وہ اخلاص و ایثار نہیں ہوتا، جو ایک کامیاب استاد کے اندر ہونا چاہیے۔
دوسری طرف انتظامیہ بھی ایسے اساتذہ کو محض اپنے ادارے کا ملازم، اور ادارے کو تجارت کی بہترین فیکٹری تصور کرتے ہیں، ایک دینی مذہبی ادارے کو تعلیم و تعلم کی شاہراہ پر رواں دواں رکھنے، اور دینی تعلیم کا فریضہ، بہ حسن و خوبی انجام دینے کے لیے، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان جو باہمی اخلاص، جذبۂ ایثار اور ادارے سے قلبی لگاؤ ہونا چاہیے، وہ یکسر مفقود ہو جاتا ہے۔
ہمارے ایک فاضل دوست جو حال ہی میں برسرِ ملازمت ہوئے ہیں، انہوں نے بڑے افسوسناک لہجے میں بتایا کہ ہمارے ادارے میں ماہِ شوال کے اختتام تک صرف پندرہ یا بیس طلبہ کی آمد ہو سکی ہے۔ لیکن مدرسے میں ان چند طلبہ کے خورد و نوش کے لیے بھی بجٹ نہیں ہے، جبکہ ابھی ڈیڑھ ماہ قبل پندرہ اسٹاف کی تقرری ہوئی ہے، اور ان میں سے ہر ایک سے تقریباً تین تین لاکھ روپے وصول کیے گئے ہیں، مولانا کا حیرت ناک انکشاف سن کر میں تھوڑی دیر کے لیے سکتے میں پڑ گیا، اور برجستہ میری زبان پر یہ شعر جاری ہو گیا:
گر ہمی مکتب است و ہمی ملا
کارِ طفلاں تمام خواہد شد
مدارسِ اسلامیہ کی یہ صورتِ حال نہایت افسوسناک ہے، مدارس کے دینی و مذہبی تشخص کو برقرار رکھنے، اور نونہالانِ اسلام کے مستقبل کو مزید تاریک ہونے سے بچانے کے لیے، اس صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹنا ہوگا۔ جس کی واحد صورت یہی ہے کہ ان ملحق مدارس کے منتظمین کے ذہن و دماغ سے یہ خیال پورے طور پر نکال دیا جائے کہ مدارس حصولِ زر کا خوبصورت ذریعہ ہیں، ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر یہ باور کرایا جائے کہ آپ کے اس کردار سے مدارسِ اسلامیہ بدنام ہو رہے ہیں۔
خدارا ان اسلامی قلعوں کو مزید بدنام ہونے سے بچائیں، اس میں صرف ایک مدرسے کی بدنامی نہیں، بلکہ نہ جانے کتنے مدارسِ اسلامیہ کی عزتوں کو پامال کرنے کا کام ہے۔
لہٰذا ہوش میں آئیں!
اپنے آبا و اجداد کے ہاتھوں سے سینچی ہوئی کاوشوں کو یوں خاک میں نہ ملائیں، اور حرام کاری کو انجام دے کر شریعت کو مجروح نہ کریں، اور چند روزہ دنیا کے حصول کے لیے اپنی آخرت تباہ و برباد نہ کیجیے، اگر مدارس کے منتظمین کے دلوں میں خدا کا خوف، اور اپنی مذہبی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو گیا، تو سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
خلاقِ کائنات سے دعا گو ہوں کہ ہمیں دین کا خادم بنائے، حرام کاری سے دور رکھے، ہمیں پابندِ شریعت بنائے، مدارس و مساجد کو اس نحوستِ حرام کاری سے محفوظ فرمائے۔
آمين يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔
21 اپریل 2026ء بروز منگل
