| عنوان: | اسلامی وسعت کا استحصال |
|---|---|
| تحریر: | محمد عابد چشتی |
| پیشکش: | میمن احمد رضا مدنی |
(اسلامی وسعت کا غلط استعمال کرنے والوں کی سخت تردید اور صحیح صورتِ حال کی نشاندہی)
جس دور سے گزر رہے ہیں اگر اسے دورِ استحصال (Period of Exploitation) کہا جائے تو شاید یہ غیر مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ یہاں زندگی کے ہر شعبے میں مختلف جہت اور طریقوں سے استحصال کا گورکھ دھندہ کہیں خفیہ اور حکمتِ عملی کے ساتھ تو کہیں کھلم کھلا جاری ہے اور اب استحصال کی صورتوں میں اس قدر تنوع (Variety) ہو گیا ہے کہ اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں ہے اور احاطے کا امکان بھی کیسے ہو سکتا ہے جب کہ آئے دن استحصال کا نئی اور عجیب غریب شکل میں جنم (Rebirth) ہو رہا ہے، فی الحال ہمارے سماج میں اس تعلق سے زیادہ تر جو الفاظ سننے میں آتے ہیں وہ یہ ہیں: ”عورتوں کا استحصال، بچوں کا استحصال، غریبوں کا استحصال، مزدوروں کا استحصال“ وغیرہ۔ مگر ہم کچھ مشاہدات کے نتیجے میں استحصال کی ایک بالکل نئی صورت دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس کا سلسلہ تو بہت طویل ہے مگر ابھی تک کسی نے اسے عنوان نہیں دیا تھا یعنی ”اسلامی وسعت کا استحصال“۔ آنے والی سطروں میں ہم اسی استحصال کا تعارف مختصر تبصرے کے ساتھ قارئین تک پہنچانے جا رہے ہیں!
اسلام ایک وسیع مذہب ہے جس کے اندر زندگی کے ہر لمحے کی رہنمائی کے اصول موجود ہیں، انجماد کے بجائے مسلسل ارتقا کی طرف گامزن ہے۔ بدلتے حالات، رجحانات اور تبدیل ہوتی ضرورتوں کے لحاظ سے اسلام کا برابر رہنمائی کرنا اس کی وسعت کا پتا دیتا ہے اور یہی چیز اس کی اشاعت میں زبردست تعاون کر رہی ہے ورنہ اکیسویں صدی تک آتے آتے یہ کب کا دم توڑ چکا ہوتا جیسا کہ دیگر مذاہب اپنے تنگ اصولوں کی بنیاد پر آج کے ماڈرن دور میں آخری سانسیں لے رہے ہیں اور صرف چند لوگوں کی غیر فطری کوششوں کے بل بوتے کسی طرح اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، بر خلاف اسلام کے کہ وہ اپنی صداقت، تعلیمات اور اصولِ زندگی میں فطرت کے موافق زبردست وسعت رکھنے کی بنیاد پر دن بدن پھیلتا ہی جا رہا ہے، اسلامی وسعت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں کے حقوق، تحفظ اور عزت و احترام کی بات کرتا ہے بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر ہر انسان کے لیے اس نے حقوق و تحفظ اور اخلاقی روابط کی بات کی ہے۔ اسلام کے معتمد ماخذوں کے مطالعے سے بخوبی اس نظریے کی تائید ہوتی ہے اور اس حوالے سے مفکرین نے بہت کچھ لکھا اور اسلام کی وسعت پسندی کو حیاتِ نبوی اور دیگر پہلوؤں سے اچھے انداز میں پیش بھی کیا ہے، مگر جس طرح ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے اسی طرح اب ہر چیز کا استحصال بھی کسی نہ کسی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔
اسلام کی وسعت پسندی کے نظریے کا بھی بڑی چالاکی سے استحصال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے اور یہ استحصال کرنے والے کوئی اسلام کے مخالف، متعصب اور عناد رکھنے والے نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو مسلم سمجھتے، یقین کرتے اور لکھتے بھی ہیں۔ فی الحال جنہیں دو طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ان میں ایک طبقہ ان مسلمانوں کا ہے جن کی زندگی پر مغربی کلچر کا اثر نمایاں ہے، دنیا طلبی جن کا مقصد اور آزاد خیالی جن کا طرۂ امتیاز ہے مگر وہ اس آزاد خیالی کی سرحدی پیمائش کو اسلامی وسعت کے اندر اندر ہی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ دوسرا وہ طبقہ ہے جن کو دنیا اسلامی مفکر، اسکالر اور خیر خواہانِ ملت کے نام سے جانتی ہے۔ استحصال دونوں کر رہے ہیں، نوعیت مختلف ہے۔ پہلی جماعت اپنی ملحدانہ روش اور اسلام مخالف رویوں پر اسلامی وسعت کا پردہ ڈال کر اسے دبائے رکھنا چاہتی ہے جب کہ دوسری جماعت خود ساختہ نظریات، بے ڈھنگے اعتقادات اور بالواسطہ دین میں دخل اندازی کو اسلام کی وسعت پسندی کی آڑ دے کر پھیلانا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنے سے پہلے ہم اختصار کے ساتھ اس نقطے کو بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ آخر اسلامی وسعت کا استحصال کیوں کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا عزائم ہو سکتے ہیں یا ہوتے ہیں؟ مسلم سماج اگرچہ اسلامی روایات اور اس کی تعلیمات سے دور کیوں نہ ہو جائے اور عملی دنیا میں اسلامی اقدار کو نہ اپنائے یا پھر تقلیدِ بے جا میں پھنس کر دوسروں کے کلچر اور تہذیب کا رنگ اپنے اوپر غالب کر لے، مگر کسی نہ کسی جہت سے ان میں اسلامی غیرت کی رمق برقرار رہتی ہے اور مذہبی حمیت پر متواتر کاری ضرب لگانے کے باوجود اس کی سانسوں کی حرارت باقی رہتی ہے، جس کی وجہ سے عام مسلم طبقے میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ جب بھی کوئی نظریہ، عمل، تحریک یا شخصیت کے متعلق ان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلامی معتقدات اور اس کی اصولی تعلیمات و روایات کے برخلاف ہے یا یہ کہ اس چیز کے ذریعے دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے خلاف در پردہ کوئی سازش چل رہے ہیں تو پھر عام طور پر مسلمان ایسی تحریک، شخصیت، عمل وغیرہ سے عمومی کنارہ کشی شروع کر دیتے ہیں اور اخلاقی بائیکاٹ کا راستہ اپنا لیتے ہیں۔
مسلمانوں کے اس ردِ عمل کا علم و احساس اپنوں اور غیروں سب کو ہے، لہٰذا جو لوگ کوئی نیا نظریہ، تحریک یا عمل جو واقعی اسلام مخالف ہو کو اس طرح اپنانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے عتاب و تنفر کا شکار بھی نہ ہوں ان کے لیے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ کسی طرح کھینچ تان کر ان تمام چیزوں کو اسلام موافق اور اس سے غیر متصادم ثابت کر دیا جائے، اس لیے کہ جب تک یہ مرحلہ سر نہیں ہوتا ہے اس وقت تک مسلمانوں کو راضی کرنا بہت مشکل ہے۔ شہنشاہیت کے خلاف جمہوریت کا نظریہ آیا تو سب سے پہلے اسے اسلام موافق بلکہ اسلام کو اس کا علمبردار کہا گیا، سوشلزم (Socialism) کا نظریہ غیروں نے قبول کیا مگر مسلمان پس و پیش میں رہے لہٰذا اسے بھی اسلام کے موافق ثابت کیا گیا، اس جھانسے میں آ کر مسلمانوں کی ایک تعداد اس ملحدانہ تحریک کی حامی ہو گئی، سنا ہے حسرت موہانی جیسے انقلابی شاعر سوشلزم کے قائل و مؤید تھے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی کسی نے اسلام کے مخالف کوئی کام کرنا چاہا یا نظریہ پیش کرنا چاہا تو سب سے پہلے اسے اسلام کے موافق ثابت کیا تاکہ مسلمانوں کی عمومی ناراضگی سے خود کو محفوظ رکھیں اور یہی وہ چیز ہے جو اسلام کی وسعت کے استحصال کا سبب بنی، یعنی وہ لوگ جن کا تعلق تو مسلم سماج سے ہے مگر ایک طرف وہ مذہب کے بر خلاف کوئی نظریہ یا کام کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلم طبقہ ہم سے ناراض نہ ہو، ان کے لیے سب سے آسان اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ اسلامی نقشے میں موجود مذہبی حدود کی لکیروں کو اس قدر وسیع کر دیا جائے اور دکھایا جائے کہ مذہب مخالف امور خود بخود اس کے اندر داخل ہو جائیں! اس نکتے کو سمجھنے کے بعد ہم پھر اپنی گفتگو کا سرا پیچھے سے جوڑتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا کہ استحصال کرنے والے مسلم سماج سے تعلق رکھتے ہیں جس میں پہلے طبقے کی اکثریت مختلف ثقافتی میدانوں سے جڑی ہوئی ہے جیسے کھیل، آرٹ، فلم وغیرہ ثانیہ مرزا، وینا ملک، شاہ رخ خان، شبانہ اعظمی، مقبول فدا حسین، اور اس طرح کے بہت سے نام ہیں جن کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کی اسلامی معلومات کتنی ہوگی یہ بتانے کی ضرورت نہیں، مگر جب بھی کسی نے ان کے کارناموں کو اسلامی تناظر میں دیکھنے یا ان پر تبصرہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فوراً بھاگ کر ”اسلامی وسعت“ کے دامن میں پناہ لے کر اس کا استحصال شروع کر دیا۔ ایک غیر مسلم لڑکی ”گوری“ سے شادی کرنے پر جب کوئی شاہ رخ خان سے پوچھتا ہے کہ اسلامی قانون کے اعتبار سے یہ کتنا صحیح ہے؟ ان کا جواب ہوتا ہے کہ ”اسلام بہت وسیع مذہب ہے اسے تنگ نہ کیا جائے“ یعنی اسلام میں اس چیز کی گنجائش ہے۔
یوں ہی وینا ملک پاکستان کی مشہور فلمی اداکارہ ہیں، کچھ مہینے پہلے انہوں نے ننگے بدن میں قابلِ اعتراض پوز دیے تھے۔ چونکہ ان کا تعلق ایک اسلام پسند ریاست سے تھا اس لیے ان کی عوام نے اس قدر آزادی اور بے احتیاطی سے نفرت کا اظہار کیا اور اسے اپنے لیے باعثِ ننگ و عار سمجھا کہ ہمارے ملک کی بیٹی اس قدر قابلِ اعتراض حالت میں دنیا کے روبرو آئے اور کلا یا آرٹ کے نام پر اس کے جسم کی نمائش کی جائے۔ اس واقعے کو لے کر میڈیا نے کافی سرگرمی دکھائی اور وینا ملک کو براہِ راست اپنی صفائی دینے کے لیے دعوت دی گئی جسے انھوں نے بخوشی قبول کیا، اس مجلس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک مفتی صاحب بھی رابطے میں تھے، کافی دیر تک یہ سیشن چلے اس میں وینا ملک نے کئی طرح سے جواب دینے کی کوشش کی مگر جب بات اسلامی نقطۂ نظر کی آئی تو ان کا واضح جواب یہ تھا کہ ”مفتی صاحب! آپ کیا جانیں اسلام بہت وسیع مذہب ہے“، یعنی اسلامی وسعت ہمارے کارناموں کو محیط ہے، اسلام آرٹ کے نام پر جسم کی نمائش برداشت کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور یہ اسلامی وسعت کے دائرے سے باہر کا کام نہیں ہے اور جو اسے باہر سمجھیں دراصل انہوں نے اسلامی حدود کا توسیعی مطالعہ کیا ہی نہیں ہے!
خیر اس طرح کے اور چہروں کو پیش کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اسلامی وسعت کے استحصال میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، اور جس طرح سیاسی لیڈر اپنے ہر متنازع بیان کی صفائی میں یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ ”میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے“ اور بڑی بڑی گرفت سے بچ جاتے ہیں، اسی طرح مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے ہر متنازع فعل پر ہونے والی گرفت سے بچنے کے لیے یہ لوگ یہ کہہ کر دامن بچا لیتے ہیں: ”اسلام بہت وسیع مذہب ہے“۔
اگر اسلام کی وسعت پسندی کا غلط استعمال صرف مذکورہ بالا شخصیتوں نے کیا ہوتا تو چنداں تعجب کی بات نہیں تھی کہ آخر ایسے لوگوں سے اور امید ہی کیا کی جا سکتی ہے مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ خود کو اسلامی افکار و نظریات کے نمائندہ کہنے والے بعض اسلامی اسکالرز نے بھی ”اسلامی وسعت“ کا استحصال ماضی میں کیا اور آج بھی کر رہے ہیں۔ نوعیت میں اختلاف ہے اس سے بحث نہیں، صرف پانچ چھ دہائی اگر پیچھے دیکھیں تو سر سید احمد خان، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جیسے اسکالرز کو اسلامی وسعت کا استحصال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ان حضرات نے صدیوں سے چلے آ رہے اسلامی اعتقاد اور نظریات کے خلاف آراء پیش کیں اور ان کی ایسی تفسیر و ترجمانی کی جو خالص ایجادِ بندہ تھی جس کا دور دور تک اصل اسلام سے واسطہ نہیں تھا، یہ شخصیات اپنے عہد میں علمی اور سماجی خدمات کے اعتبار سے کافی شہرت یافتہ رہیں اور انہی خدمات کی بدولت زمانے نے انہیں بڑے بڑے القاب (Title) سے نوازا اور آج بھی ان کی خدمات کا اعتراف قومی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر علمی زعم اور جدت پسندی کے رجحان میں انہوں نے وہ سب لکھا اور کہا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی تعلیمات و اعتقادات پر ضرب تھی، یہ سب کام اسی نظریے کے تحت ہوتے رہے کہ اسلام ایک وسیع مذہب ہے جہاں ہر کسی کو اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت ہے اگرچہ اس کی وجہ سے جمہوریت کی خلاف ورزی ہو، اور اگر بات عصرِ حاضر کی کی جائے تو مولانا وحید الدین خان کی شخصیت کو بجا طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جنہوں نے عمر کی اس حد پر پہنچ کر تقریباً چودہ صدیوں سے چلے آ رہے اہم اسلامی عقیدوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، نزولِ مسیح، دابۃ الارض، دجال وغیرہ جن کا تذکرہ احادیث میں تفصیل سے ملتا ہے اور اس کی تفسیر میں محدثین اور علمائے اسلام نے صراحت کے ساتھ لکھا کہ قربِ قیامت یہ تمام چیزیں بیان کردہ خدوخال کے ساتھ رونما ہوں گی مگر چودہویں صدی تک پہنچتے پہنچتے زمانے کے ساتھ ساتھ اس کی تفسیر بھی بدل دی گئی جس کا سہرا بجا طور پر مولانا وحید الدین خان کے سر پر ہے اور ان کے ماہنامہ ”الرسالہ“ کے توسط سے جب بھی کسی نے خان صاحب سے یہ سوال کیا کہ ان معاملات یا اس کے علاوہ دیگر مسائل میں اپنی نوعیت کی منفرد تفسیریں کیوں پیش کر رہے ہیں اور اس کا جواز کیا ہے؟ تو بار بار ان کا جواب پڑھنے کو ملا کہ ”اسلام بہت وسیع مذہب ہے جس میں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کی اجازت ہے لہٰذا میں اپنی تحقیق پیش کرنے کا حق رکھتا ہوں اور اسی حق کا استعمال کر رہا ہوں“۔ اس طرح کے اور بھی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی وسعت پسندی کا غلط مفہوم نکال کر وہ سب لکھا اور چھاپا جو کسی جہت سے نہ خود ان کی شخصیت کے لیے مناسب تھا اور نہ ہی سوسائٹی کے لیے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی اسلام اتنا وسیع مذہب ہے جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے یا پھر اس لفظ کی آڑ میں اسلام کا استحصال کیا جا رہا ہے؟؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا شمار دنیا کے ان بڑے مذاہب میں ہوتا ہے جس کے اپنے مخصوص نظریات، اصول اور قوانین و حدود ہیں، دین کی تشریح کرتے وقت جن کی رعایت لازم قرار دی گئی ہے اور کم سے کم مسلمان رہنے کے لیے ان کا پابند ہونا ضروری ہے۔ اضطرابی حالت کے علاوہ دور دور تک ان سے سمجھوتے کا امکان نہیں ہے اور یہ اصول اتنے واضح ہیں کہ دو لفظوں میں کسی بھی عمل اور فکر کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسلام اگرچہ ایک وسیع مذہب ہے مگر بہرحال اس کی وسعت کی حدود غیر متناہی نہیں ہیں کہ جس کے من میں جو آئے کرے، لکھے اور بولے اور پھر بھی اسلامی وسعت کے دائرے سے خارج نہ ہو، مذہبی وسعت کی حدود کا تعین قرآن و حدیث اور ائمۂ کرام کے اجتہاد کے ذریعے بہت پہلے کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا اگر شبانہ اعظمی فلم میں کام کر کے، سلمان خان اصنام پرستی اور مستقبل میں مولانا وحید الدین جیسے لوگ دین مخالف نظریات پیش کر کے یہ بتائیں کہ یہ عمل اسلام کے خلاف نہیں ہے کیوں کہ اسلام وسیع مذہب ہے تو یہ اسلامی وسعت کا سرِ عام استحصال کرنا ہوگا، کیوں کہ نہ اسلام میں اصنام پرستی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ خود ساختہ نظریات اور من گھڑت تعبیرات کے لیے کوئی جگہ۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اگر ہم کوئی کام اسلامی اصول کے خلاف کر رہے ہیں تو کھلے لفظوں میں یہ اعتراف (Accept) کر لیں کہ ہمارے کام کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس طرح ہزاروں تاویلوں اور مخالفتوں سے خود کو محفوظ کر لیں۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ اسلامی وسعت کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں، اسلام کے اٹل قوانین اور ناقابلِ تغیر حدود کا مطالعہ کریں، اور جتنی جلدی ہو سکے اسلامی وسعت کا استحصال بند کریں، اسلام وسیع مذہب ہے، غیر اصولی نہیں!
[ماہنامہ اشرفیہ، جون 2012ء]
