Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

خلافت کا مفہوم اور اس کی فضیلت و اہمیت

خلافت کا مفہوم اور اس کی فضیلت و اہمیت
عنوان: خلافت کا مفہوم اور اس کی فضیلت و اہمیت
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیشکش: میمن احمد رضا مدنی

سوال: مرشدانِ کرام میں خلافت کا جو طریقہ رائج ہے، اس کا شرعی مفہوم کیا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت کیا ہے؟

الجواب:

خلافت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے نیابت اور خلیفہ کا معنیٰ ہے نائب۔ اس کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف ہو تو معنیٰ ہوگا اللہ کی نیابت، اللہ کا نائب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو تو معنیٰ ہوگا رسول اللہ کی نیابت، رسول اللہ کا نائب۔

انبیائے کرام، اللہ عزوجل کے نائب ہوتے ہیں تو وہ خلیفۃ اللہ ہوئے اور سید الانبیاء جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے خلیفۂ اکبر ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نائبین خلفائے راشدین ہیں، رضی اللہ تعالی عنہم۔

یہ خلافتِ کبریٰ ہے، اس میں امت کے دینی، دنیوی تمام امور کا نظم و نسق شامل ہوتا ہے۔

مشائخ و مرشدانِ کرام کی خلافت کا تعلق دینی امور میں ہدایت و ارشاد سے ہوتا ہے، وہ حضرات اپنے مریدین میں سے جسے اس لائق سمجھتے ہیں کہ وہ خلقِ خدا کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے، اسے اپنا خلیفہ بناتے اور بیعت کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسی خلافت کے تعلق سے ارشاد فرماتے ہیں:

”یہ معنیٰ صرف منصبِ دینی ہے اور اس میں تعددِ خلفا بے انتہا جائز اور واقع ہے حضور سیدِ عالم، مرشدِ کل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ کرام اس معنیٰ کے لحاظ سے حضور کے خلفا تھے اور اسی خلافت کو وراثتِ انبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس معنیٰ کے لحاظ سے علمائے دین و مشائخِ کاملین قیامت تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نائبین و خلفا ہیں۔“

[نقاء السلافہ، ص: 20]

فضیلت:

جو شخص کسی مرشد کا خلیفہ ہو اور اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہو تو وہ اپنے مشائخ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب و خلیفہ ہو جاتا ہے اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے فیوض و برکات کا چشمہ اس کے مشائخ کے واسطے سے خود اس کی ذات سے بھی بہنے لگتا ہے، یہاں تک کہ جو مسلمان اس کے ہاتھ پر بیعت ہو اس کا سلسلہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام تک متصل ہو جاتا ہے، بلکہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”یہ بیعتِ سالکین ہے اور یہی مقصودِ مشائخ و مرشدین ہے۔ یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے، یہی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لی۔“

جیسا سیدنا عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:

”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشواری پر، خوشی و ناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور صاحبِ حکم میں چوں چرا نہ کریں گے۔“

[فتاویٰ افریقہ، ص: 31 تا 35]

مرشد کیسا ہو:

جس مرشد کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے یہ درجہ حاصل ہوتا ہے اس کے لیے چار شرطیں ہیں:

  1. اس کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح طور پر متصل ہو، کہیں منقطع نہ ہو، اس کے لیے مرشدِ کامل سے اجازت و خلافت بھی حاصل ہونا ضروری ہے۔
  2. مرشد سنی صحیح العقیدہ ہو کہ بد مذہب، گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔
  3. عالم ہو۔
  4. فاسقِ معلن نہ ہو۔

پہلی شرط کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”بعض لوگ بلا بیعت محض بزعمِ وراثت اپنے باپ دادے کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں، یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی، بلا اذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا سلسلہ ہی کو تو قطع کر دیا گیا، اس میں فیض نہ رکھا گیا، لوگ براہِ ہوس اس میں اذنِ خلافت دیتے چلے آتے ہیں۔ ان صورتوں میں اس بیعت سے ہرگز (بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے) اتصال حاصل نہ ہوگا، بیل سے دودھ یا بانجھ سے بچہ مانگنے کی بات جدا ہے۔“

[فتاویٰ افریقہ، ص: 32]

جس مرشد میں یہ چاروں اوصاف پائے جائیں وہی مرشدِ کامل ہوتا ہے اور اسی کا خلیفہ فیض یاب ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

[ماہنامہ اشرفیہ، 11 جون 2012ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!