Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

قادیانی فتنہ اسلام کے خلاف ایک صہیونی سازش

قادیانی فتنہ اسلام کے خلاف ایک صہیونی سازش
عنوان: قادیانی فتنہ اسلام کے خلاف ایک صہیونی سازش
تحریر: غلام مصطفی رضوی، نوری مشن
پیش کش: محمد رونق علی رضوی

جاری سال میں قادیانی تحریک اپنے سو سال پورے ہونے کا جشن منا رہی ہے، اور اپنی صد سالہ اسلام دشمن سرگرمیوں کو فتوحات و کامیابیوں سے تعبیر کر رہی ہے۔ اس فرقے اور فتنے سے امتِ مسلمہ کے ہر فرد کا باخبر ہونا ضروری ہے تاکہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان محفوظ رہ سکے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریزوں کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت کا اندازہ ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔ متعدد فرقے انگریزوں کی کوششوں سے وجود پائے جن میں ایک نمایاں فرقہ قادیانی ہے، جس کے بانی کذاب مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے ایما پر نبوت کا جھوٹا دعویٰ ۱۹۰۰ء میں کیا حالاں کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمتِ عالم سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین۔ اس پر نصِ قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ دلالت کرتا ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں فروشی کی مثال قائم کر دی، امتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یا قادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعیِ نبوت کی سرکوبی کے لیے رہنما اور رہبر ہے۔ انگریزوں نے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔

قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں برطانیہ میں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن بالکل فری ۲۴ گھنٹے اپنے عقاید کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح کی تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت کو پوری آزادی حاصل رہی ہے اور یہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔

جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سدِ باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف نیز تقریر و تحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا محدث بریلوی (م ۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی نیز دوسرے باطل فرقوں کے کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور ”حسام الحرمین“ کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں۔ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہنامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں:

”جزاء الله عدوه بابائه ختم النبوة“، ”المبين ختم النبيين“، ”السوء والعقاب على المسيح الكذاب“، ”الجراز الدياني على المرتد القادياني“، ”قهر الديان على مرتد بقاديان“۔

آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضا قادری نے ”الصارم الرباني على اسراف القادياني“ تصنیف کی جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہور و ممبئی سے شائع ہوئی۔ اس دور کے دوسرے علما و مشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا نام بڑا نمایاں ہے۔ عالمی مبلغِ اسلام تلمیذِ اعلیٰ حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔ آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلادِ عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیف ”The Mirror“ بیرونِ ممالک بہت مقبول ہوئی، اس کا عربی میں ”المرآة“ کے نام سے ترجمہ ہوا؛ اسی طرح اردو میں ”مرزائی حقیقت کا اظہار“ تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ آپ کے فرزند علامہ شاہ احمد نورانی اور دوسرے علما کی کوششوں سے ۱۹۷۴ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا اور آئین کا حصہ بنا دیا گیا؛ اس سلسلے میں جو شق شامل کی گئی اسے علامہ نورانی نے ترتیب دیا، جس کا خلاصہ اس طرح ہے: ”جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔“ [ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، دسمبر ۱۹۷۴ء، ص: ۳۵، ۳۶،]

علامہ نورانی نے قادیانیت کا عالمی سطح پر استیصال کیا اور ان سے ماریشس، نیروبی، دارالسلام، سرینام، لاطینی امریکہ، برٹش گیانا، ٹرینی ڈاڈ میں کامیاب مناظرے بھی کیے جس کے نتیجے میں ۶۰۰ سے زیادہ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ نے یورپ و امریکہ میں قادیانیت کے سدِ باب میں ایک مستقل نیٹ ورک علامہ ارشد القادری کی مدد سے ترتیب دیا جو ”ورلڈ اسلامک مشن“ کے نام سے اماکنِ مغرب میں آج بھی سرگرم ہے اور مثبت انداز میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

قادیانی تحریک کے سدِ باب میں خلیفۂ امام احمد رضا علامہ پروفیسر الیاس برنی (پروفیسر معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن) کی تصنیف ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ نے اہم کردار ادا کیا، اس تصنیف نے عالمی شہرت پائی، اس کی جامعیت کی پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی نے بھی داد دی۔ نیز آپ نے انگریزی میں بھی اس موضوع پر وقیع کام کیا جس کے اثرات اب بھی پائے جاتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں جب کہ اسلام پر کئی طرح کے حملے کیے جا رہے ہیں۔ کہیں ناموسِ رسالت پر حملہ ہے تو کہیں مستشرقین کی تنقیدی سرگرمیاں اور سیرتِ طیبہ پر اعتراض و گستاخی، اور اسلامی قوانین پر اعتراض؛ ایسے حالات میں قادیانیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انھیں اسلام مخالف قوتیں تعاون فراہم کر رہی ہیں اور مادی و جدید ٹکنالوجی کے سہارے قادیانی فتنہ مسلمانوں کی تباہی کے درپے ہے، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی نشر و اشاعت کریں اور ہر مسلمان کو اس عقیدے کی اہمیت سے باخبر کریں۔ اس پر کتابوں کو مختلف زبانوں میں شائع کریں، اخبارات بھی اپنا کردار نبھائیں اور قادیانیت کے رد میں آرٹیکل شائع کر کے امتِ مسلمہ کے ایمان و ایقان کے تحفظ کا فریضہ سر انجام دیں۔ ابھی ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ فتنہ ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا، یہ ہماری بھول اور بے خبری ہے۔ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے:

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

قادیانی صد سالہ جشن منا کر اپنے مشن میں کامیابی کا ڈنکا پیٹ رہے ہیں، نئی نئی فتوحات کے پر فریب منصوبے بھی وہ تشکیل دے رہے ہیں اور بالخصوص ہندوستان ان کے نشانے پر ہے، یہاں کی غریب مسلم آبادیوں کا ایمان وہ مادی اور مالی آسائشوں سے خریدنا چاہتے ہیں، سماجی و فلاحی کاموں کی آڑ میں اپنا دائرہ پھیلانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انھیں درپردہ فرقہ پرست تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے، تو کیا ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم بیدار ہو کر قادیانیت کا رد اور سدِ باب کریں؟ راقم کے خیال میں اس کے سدِ باب کا کامیاب لائحہ عمل یہی ہو گا کہ آقا رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا موضوع سر فہرست رکھ کر اس کی اشاعت و تبلیغ کی جائے اور یہ ایمانی تقاضا بھی ہے؛ اس سلسلے میں امام احمد رضا کی جو تصانیف و رسائل ہیں ان کو گھر گھر عام کر دیا جائے، انھیں تسہیل و تخریج کے مرحلے سے گزار کر منظرِ عام پر لایا جائے۔ اس طرح کا علمی کام ایمان افروز بھی ہو گا اور وقت کا تقاضا بھی۔ امید کہ اصحابِ بصیرت اس سلسلے میں کوئی مؤثر اور فوری اقدام کریں گے۔

بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نورِ اول کا جلوہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم

[ماخوذ از: سہ ماہی امجدیہ، جولائی تا ستمبر ۲۰۲۳ء، ص: ۵۶،]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!