Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

دینی و عصری علوم میں تفریق کب سے ہوئی؟ (قسط:اول)

دینی و عصری علوم میں تفریق کب سے ہوئی؟ (قسط:اول)
عنوان: دینی و عصری علوم میں تفریق کب سے ہوئی؟ (قسط:اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: ام ماجد، فاؤنڈر نالج آف اسلام اکیڈمی

سرورِ سروراں، خاتمِ پیغمبراں، منبعِ علم و حکم، معدنِ جود و کرم، نورِ مجسم، ہادیِ عالم، سید السادات علی الإطلاق، افضل الخلائق بالاتفاق، خليفة الله في السموات والأرضين، رحمة للمعلمين، أفضل المرسلين، أكمل الصالحين، مخزنِ کمالاتِ انسانیہ، مرجعِ درجاتِ روحانیہ، مصدرِ کائنات، مرکزِ برکات، منشاِ تخلیقِ کل جہاں، فرماں روائے زمان و مکاں، سید الانبیا، شمس الاتقیا، سیدی و سندی، ماوائی و ملجائی، حبیبِ متفرد، صاحبِ متوحد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دنیائے ہست و بود میں ”معلم کائنات“ کے تاجِ زرنگار سے مرصع ہو کر جلوہ گر ہوئے ہیں۔

وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ [البقرۃ: 129] [الجمعۃ: 2]

  1. کلامِ الہی میں ”کتاب“ سے مراد قرآنِ مقدس ہے، اور حکمت کے مفہوم میں بہت وسعت ہے۔ حضرت عالمِ ما کان و ما یکون صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اہل عالم کو دین و شریعت اور معرفتِ الہیہ کی تعلیم کے علاوہ صنعت و حرفت، تجارت و معیشت، تاریخ و جغرافیہ، اخلاق و کردار، فنِ حرب و ضرب، سیاسیات و سماجیات اور بے شمار علوم کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ کتبِ احادیث میں ان تمام علوم و فنون سے متعلق احادیثِ مبارکہ موجود ہیں۔ نہ صرف اپنے عہد کے علومِ عصریہ کی تعلیم دی، بلکہ مستقبل میں وجود پذیر علومِ عصریہ کے رہنما اشارات اور اصول و ضوابط بھی قرآنِ مقدس اور احادیثِ طیبہ میں موجود ہیں، جن کی تفصیل کے لیے ایک دفترِ عظیم درکار ہے۔ عصری ایجادات اور سائنسی اکتشافات سے متعلق آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ متعدد کتب و رسائل میں جمع کی گئی ہیں اور ان کی تفسیر و تشریح بھی رقم کی گئی ہے۔ علامہ عز بن عبد السلام شافعی دمشقی (سن ہجری 577 - سن ہجری 660) نے لکھا: الحكمة العلم بما في تلك الكتب أو جميع ما يحتاج إليه في دينه ودنياه [تفسير عز بن عبد السلام، ج: 1، ص: 287، دار ابن حزم، بیروت] (ت) حکمت ان امور کا علم ہے جو ان (آسمانی) کتابوں میں ہے، یا دین و دنیا کی تمام ضرورت کی چیزوں کا علم ہے۔
  2. اسلام وہ مذہب ہے، جس کے پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس ربِ تعالیٰ کی جانب سے پہلی وحی تعلیم و تعلم سے متعلق آئی، اور اس پیغامِ اول میں قلم و کتابت کا ذکر ہوا۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ [العلق: 1 تا 5] (ت) پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔ [کنز الایمان]
  3. اسلام وہ مذہب ہے جس مذہب کے نبی و رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تعلیم و تعلم کے لیے مبعوث فرمایا۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالِ مُّبِيۡن [الجمعۃ: 2] (ت) وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں، اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔ [کنز الایمان]

ایسا مذہب جس میں پیغامِ اول تعلیم و تعلم سے متعلق ہو اور وہ مذہب جس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم و تعلم کے لیے بھیجے گئے ہوں، وہ مذہب فائدہ بخش علوم کی تعلیم و تربیت سے کیونکر منع کر سکتا ہے۔ ہاں، جو علوم و فنون دنیا یا آخرت کے لیے مضر ہوں، ان کے لیے ضرور ممانعت کا حکم جاری ہوگا۔ فقہ و فتاوی کی کتابوں میں تفاصیل موجود ہیں۔

جب تک علوم و فنون پر مسلمانوں کی بالادستی قائم رہی، تب تک مذہبی و غیر مذہبی علوم میں تفریق نہ تھی، بلکہ اربابِ ذوق مختلف قسم کے دینی و عصری علوم اپنے شوق و ذوق کے مطابق حاصل کرتے۔ اندلس میں مسلمانوں نے اعلیٰ تعلیم گاہیں قائم کیں، جہاں یورپ کے یہودی و نصاری بھی علوم و فنون کی تحصیل کے لیے آتے، پھر سقوطِ اندلس کے بعد جب اہل یورپ اور مغربی ممالک نے مسلمانوں کے علمی ذخائر پر قبضہ کر لیا، اور اندلس کی لائبریریوں سے مختلف علوم و فنون کی کتابیں اٹھا کر یورپ لے گئے، اور جہالت و لاعلمی کی تاریکیوں سے نکل کر علم و دانش کے اجالے میں آئے تو انہوں نے رفتہ رفتہ مذہبی علوم کو اربابِ کلیسا کے ساتھ خاص کر دیا اور دیگر مادی علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے مستقل تعلیم گاہوں اور دانش کدوں کو وجود بخشا۔

جب برطانیہ دنیا کے مختلف ملکوں پر قابض ہوا تو ساری دنیا میں یہی طریقہ کار رائج ہوا، اور تعلیم و تعلم کے لیے دو قسم کی درس گاہیں وجود میں آگئیں۔ بعض تعلیم گاہوں میں صرف مذہبی تعلیم کا نظم ہوتا، جبکہ بعض تعلیم گاہوں میں صرف عصری علوم سے طلبا کو آراستہ کیا جاتا، نیز ادوارِ مابعد میں مذہبی علوم کے حاملین مذہبی امور تک محدود ہو کر رہ گئے، اور انہوں نے اسی میدان میں ذرائع معاش کی شکلیں پیدا کر لیں، حالانکہ تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام کسبِ معاش کے لیے مختلف ذرائع و اسباب کو اختیار فرماتے رہے تھے۔ اس مضمون میں حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے علومِ عصریہ سے واقف و آشنا ہونے اور مختلف ذرائعِ معاش سے وابستگی کا تذکرہ مرقوم ہوگا، تاکہ عہدِ حاضر میں اسی کے موافق رہنما خطوط کا تعین کیا جا سکے: وما توفيقي إلا بالله العلي العظيم

آج علم و فن اس قوم کے گرد و پیش گردش کناں ہیں، جن کے اسلاف علم و تحقیق کے دشمن تھے، اور جنہوں نے مسلمانوں سے علوم و فنون سیکھے، جبکہ قومِ مسلم خصوصاً رہنمایانِ قوم مذہبی علم و تحقیق تک محدود ہو کر رہ گئے۔ علومِ عصریہ کی جانب فکر و تدبر کی جنبش قوت و توانائی کے ساتھ نہ ہو سکی، جس کے سبب ہم آج بھی اغیار سے کئی صدی پیچھے رہ گئے ہیں، اور یہ صورتِ حال تبلیغِ اسلام و فروغِ دین و مسلک کے لیے بھی مضر ہے خود یہ تحقیق و تدقیق کا ایک اہم موضوع ہے، جس پر مبسوط مقالہ جات و طویل مضامین رقم کیے جا سکتے ہیں، بلکہ دانشوروں سے عرض ہے کہ اسلام و سنیت کے مصالح و مفاسد سے متعلق اپنی قلمی و علمی توانائیوں کو بروئے کار لائیں، تاکہ مستقبل کی صحیح تزئین و آرائش کی جا سکے، اور آپ کی تحریری کاوشیں قوم کے لیے مینارہِ نور اور قومی فلاحِ عامہ کے لیے خضرِ راہ بن جائیں۔

اہل یورپ نے ہم سے علم و فن سیکھا

  1. مسٹر جون ڈیون پورٹ (John Davenport) (1789ء - 1877ء) نے لکھا کہ دسویں صدی عیسوی تک یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، پھر اندلس کے ذریعہ علم کی روشنی اہل یورپ تک پہنچی۔ [این اپالوجی فار محمد اینڈ قرآن] (An apology for Mohammed and the kuran)
  2. ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے لکھا: قرونِ وسطی کے یورپ میں نہ کوئی درس گاہ تھی، نہ معلم، نہ مصنف۔ جب مسلمان اسپین، فرانس اور سسلی میں پہنچے تو انہوں نے نہ صرف اسکول اور کالج کھولے، بلکہ یونیورسٹیاں قائم کیں، جن میں دنیا کے ہر حصے سے طلبہ حصولِ علم کے لیے آتے تھے۔ ساتھ ہی دار الکتب قائم کیے، جن میں یونان، ایران، روم، ہند اور عرب کی لاکھوں کتابیں جمع کیں۔ نسلِ انسان پر اس سے بڑا ستم اور کیا ہو سکتا ہے کہ جاہل اور وحشی عیسائی بادشاہوں اور پادریوں نے اس زمانے میں کہ اہل علم و قلم کا شدید قحط تھا، ساٹھ لاکھ سے زیادہ کتابیں جلا ڈالیں۔ سات لاکھ اسکندریہ میں، پندرہ لاکھ اسپین میں، تیس لاکھ طرابلس میں، تین لاکھ سسلی میں، اور کئی لاکھ قسطنطنیہ، ایشیائے خوردہ، فلسطین، دمشق اور یورپ کے مختلف حصوں میں۔ اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی تو وہ تیرہویں صدی میں تاتاریوں نے پوری کر دی۔ انہوں نے بغداد، کوفہ، بصرہ، حلب، دمشق، نیشاپور، خراسان، خوارزم اور شیراز کی سینکڑوں لائبریریاں جن میں کتب کی مجموعی تعداد تین کروڑ سے زیادہ تھی بھسم کر ڈالیں۔ بے شمار علما مار ڈالے۔ مدارس جلا دیے، اور مسلمان جو ساری دنیا کو تجلیِ علم سے منور کر رہا تھا، جاہل ہو کر رہ گیا۔ یہ ساٹھ لاکھ کتابیں تو وہ ہیں، جن کا ذکر تاریخ میں آ گیا۔ نہ جانے، ان تباہ شدہ کتابوں کی تعداد کیا ہوگی جو مؤرخ کے علم میں نہیں آئی ہیں۔ یورپ میں طاقت دو گروہوں کے پاس تھی، بادشاہ اور پادری، اور یہ دونوں علم کے دشمن تھے۔ [یورپ پر اسلام کے احسانات، ص: 97، 98]

ہند میں مذہبی و عصری علوم میں تفریق کا بانی کون؟

سال 1834ء میں مسٹر میکالے گورنر جنرل کی کونسل کا نیا قانون ساز ممبر بن کر برطانیہ سے ہندوستان آیا۔ وہ ہندوستانی کا صدر مقرر ہوا۔ اس نے اسکولوں میں انگریزی تعلیم کی حمایت کی۔ درحقیقت اہل ہند کو انگریزوں کا فکری غلام بنانے کی یہ ایک تحریک تھی۔ مسٹر میکالے نے ہندوستان سے واپسی پر برطانیہ میں اپنے بیان میں کہا: ”معزز اراکینِ پارلیمان! میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں بار بار سفر کیا ہے۔ دنوں اور راتوں میں گھوما اور پھرا ہوں۔ میری آنکھیں آج تک ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے ترستی ہیں جو یہاں بھکاری ہو، یا جو لٹیرا ہو۔ اس ملک میں ایسی دولت دیکھی ہے، ایسی بلند اخلاقی کی قدریں دیکھی ہیں، اور اتنی بڑی ہستیوں سے ملا ہوں کہ مجھے پختہ یقین ہو گیا ہے کہ ہم کبھی اس ملک کو فتح نہیں کر سکیں گے، جب تک کہ اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی نہ توڑ دیں۔ اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کیا ہے؟ ان کا روحانی اور تہذیبی ورثہ۔ یہی وجہ ہے کہ میں بآوازِ بلند تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم ان کا نظامِ تعلیم اور ان کی ثقافت کو بدل کر رکھ دیں گے۔ دیکھنے میں خواہ یہ لوگ گندمی یا سانولی رنگت رکھتے ہوں لیکن ان کے سینوں میں سفید فام انگریز کا دل دھڑکتا ہو۔ اگر ہم انہیں یہ یقین دلا سکیں کہ ہر وہ چیز جو غیر ملکی اور ہر وہ چیز جو انگریزی ہے، وہ ان کی چیزوں سے بہتر ہے تو ہندوستانی بہت جلد اپنی نظروں میں گر جائیں گے، اور اپنے قدیم کلچر کو چھوڑ دیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس طرح جلد ایسا وقت آ جائے گا، اور وہ ایسے بن جائیں گے، جیسے ہم چاہتے ہیں۔ وہ ’براؤن صاحب‘ کہلانے میں فخر محسوس کریں گے، اور اس طرح وہ صحیح معنوں میں ہماری مفتوحہ اور باج گزار قوم بن کر زندگی کے دن پورے کرنے لگیں گے۔“ [تختہ دار کے سائے تلے، ص: 661، 662، از جاوید ہاشمی لیڈر مسلم لیگ پاکستان]

مسٹر میکالے کی سفارش پر ہندوستان میں سیکولر اسکولوں کی بنیاد ڈالی گئی۔ نصابِ تعلیم سے دینی مضامین کو خارج کر دیا گیا۔ ابتدائی عہد میں قومِ مسلم انگریزی حکومت کی جانب سے قائم ہونے والے ماڈرن اسکولوں (Modern Schools) کی جانب متوجہ نہ ہوئی، پھر جب صرف جدید تعلیم یافتگان کو حکومتی عہدہ جات و مناصب تفویض ہونے لگے تو عوام و خواص رفتہ رفتہ اسلامی تعلیم گاہوں کو ترک کر کے جدید اسکولوں کی طرف دوڑ پڑے، اور اسلامی تعلیمات سے ناآشنا ہوتے گئے، اور اسکولوں کا یہی سسٹم آج تک رائج و نافذ ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ ایسی تعلیم گاہیں قائم کریں کہ نسلِ جدید مذہبی و عصری ہر دو نوع کی تعلیم سے آراستہ ہو کر دنیا و آخرت کی نعمتوں سے سرفراز ہو سکے۔

سال 2009ء سے کیرلا کے سنی مسلمانوں نے بھی ”سنی جمیعۃ العلما“ (سمستھا کیرلا) کے زیرِ نگرانی اس قسم کا نصاب و نظام تیار کیا ہے۔ تادمِ تحریر پینسٹھ کالجوں میں اس نصابِ تعلیم کے مطابق تعلیمی خدمات جاری ہیں۔ کیرلا میں اس طرح کے کالجز ”دعوہ کالج“ کے نام سے متعارف ہیں۔ چونکہ ان کالجوں میں ذریعہِ تعلیم ”ملیالم زبان“ ہے، اس لیے اردو طلبا کے لیے گنجائش نہیں، پھر یہ کہ ہندوستان بھر کے طلباء کے لیے کسی ایک ریاست میں انتظام و انصرام بھی بہت مشکل ہے۔ ہاں، ہم ان کے طریقہ کار کو اخذ کر سکتے ہیں۔

ہمارے سامنے دو مقاصد ہیں:
(1) مقصدِ اول یہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ کے طلبا کو عصری علوم سے آراستہ کیا جائے۔ مدارسِ اسلامیہ کے نصابِ تعلیم میں چار پانچ اسکولی مضامین مثلاً:

  1. انگلش (English)
  2. حساب (Mathematics)
  3. سوشل سائنس (Social Science)
  4. سائنس (Science)

اور اسی طرح جغرافیہ / ہسٹری / ہندی وغیرہ شامل کیے جائیں۔

طلبا کے لیے ایس ایس ایل سی/ میٹرک (S.S.L.C/Matriculation) اور پی یو سی/ انٹرمیڈیٹ (P.U.C./Intermediate) کے امتحانات کا نظم کیا جائے، تاکہ مدارسِ اسلامیہ کے فارغین، مساجد و مدارس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی تبلیغِ دین و سنیت کی خدمت سرانجام دے سکیں۔ انہیں مختلف شعبہ جات میں معاش کے مواقع فراہم ہوں، اور ان شعبہ جات سے منسلک افراد تک آسانی کے ساتھ سنیت کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ اہل سنت و جماعت سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔ فارغین معاشی بدحالی کے شکار نہ ہوں، اور دینی تعلیم برائے تحفظِ عقائد و برائے تعلیمِ شریعت ہو، نہ کہ برائے حصولِ معیشت۔

ہندوستان میں ہر سال بیس ہزار سے زائد علماء و حفاظ فارغ ہوتے ہیں، جبکہ مساجد و مدارس محدود ہیں۔ لامحالہ عہدِ حاضر میں فارغینِ مدارس بے روزگاری کے شکار ہوں گے۔ ایسی صورتِ حال میں لوگ اپنے بچوں کو مدارس کی تعلیم سے منقطع کر دیں گے، بلکہ اربابِ ثروت اپنے بچوں کو مدارسِ اسلامیہ کی تعلیم سے منقطع کر چکے ہیں۔ علماء و دانشوران اس حقیقت سے یقیناً آگاہ ہیں، لیکن اب تک کوئی مناسب حکمتِ عملی اختیار نہ کی جا سکی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ رہنما خطوط اسی مضمون کی مابعد قسطوں میں مرقوم ہوں گے۔

(2) دوسرا مقصد یہ ہے کہ اسکول و کالج کے نصابِ تعلیم میں بقدرِ ضرورت اسلامی مضامین داخل کیے جائیں تاکہ طلبا اپنے ایمان و عمل کی حفاظت کر سکیں۔

ان دونوں مقاصد کی تکمیل کے لیے پرائیویٹ اسکول و کالج قائم کرنے ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے ادارہ جات قائم نہیں کیے جاتے۔ خیال رہے کہ میں کوئی نیا نظریہ نہیں پیش کر رہا ہوں، بلکہ دونوں طرز کی تعلیم گاہیں ہندوستان میں موجود ہیں۔ عصری علوم حاصل کرنے والے طلبا کو دینیات سے روشناس کرنے کے لیے کیرلا میں کثیر تعداد میں ”دعوہ کالجز“ تعمیر ہوئے ہیں۔ مشائخِ مارہرہ مطہرہ نے علی گڑھ میں ”جامعۃ البرکات“ کے نام سے اس قسم کا دانش کدہ قائم کیا ہے، اور مدارسِ اسلامیہ کے طلبا کو عصری علوم سے آشنا کرنے کے لیے جدید طرز کے اسلامی مدارس قائم کیے گئے ہیں لیکن وہ مدارس اہل سنت و جماعت کے نہیں۔ بعض سنی طلبا ان مدارس میں داخل ہو کر اپنا دین و ایمان بھی کھو بیٹھتے ہیں۔

ہندوستان میں اہل سنت و جماعت کی عظیم مرکزی خانقاہیں مثلاً خانقاہِ چشتیہ (اجمیر معلی)، خانقاہِ اشرفیہ (کچھوچھہ مقدسہ)، خانقاہِ منعمیہ (پٹنہ)، خانقاہِ مخدوم شرف (بہار شریف) وغیرہا کی جانب سے بھی پیش قدمی ہونی چاہیے۔ ہم اپنے مشائخِ عظام کی جانب سے اہل سنت و جماعت کے لیے انمول تحائف کے متمنی ہیں۔ خانقاہِ رضویہ (بریلی شریف) کی جانب سے ”جامعہ دراسات الرضا“ کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں دینی و عصری تعلیم کا نظم ہے جیسا کہ اس کے مطبوعہ پراسپیکٹس (Prospectus) میں صراحت ہے اور نصابِ تعلیم کا خاکہ بھی مرقوم ہے۔ وہاں ایک جفاکش، صائب الرائے اور جہاں دیدہ ”ایجویشنل ڈائرکٹر“ (Educational Director) کی ضرورت ہے، بدلِ خدمت بھی مناسب ہو۔ علمائے اہل سنت و جماعت میں سے حافظِ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی (1894ء - 1976ء) نے اس طرزِ تعلیم کو عملی طور پر ازہرِ ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور میں نافذ و رائج کرنے کی سعیِ بلیغ فرمائی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ قسط دوم میں آئے گا۔

ہندوستان میں اربابِ تسنن کے قائدِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری (1856ء - 1921ء) بھی مدارسِ اسلامیہ کے نصاب و نظام میں جدت و جودت کے متمنی تھے۔ ندوۃ العلما کے قیام و تشکیل کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ تعلیمی نصاب و نظام کی اصلاح و تجدید کاری (MODERNIZATION) کی جائے۔ پروفیسر مسعود احمد مظہری (م 2007ء) نے رقم فرمایا کہ 1310ھ مطابق 1892ء میں مدرسہ فیضِ عام کانپور کے سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر ندوۃ العلما کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدائی عہد میں کانپور کے ایک اجلاس میں امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری نے بھی شرکت فرمائی، اور اصلاحِ نصاب سے متعلق ایک مقالہ پڑھا، پھر اربابِ ندوہ کے غلط افکار و نظریات کے سبب 1313ھ مطابق 1894ء سے قبل اس مجلس سے علیحدگی اختیار فرما لیں۔ [گناہ بے گناہی، ص: 52، ادارہ مسعودیہ، کراچی، پاکستان] حوالہ: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، جون 2023ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!