| عنوان: | مروجہ جہیز سماج کا بدترین شیوہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد مبشر الاسلام نوری دمکاوی |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
”جہیز“ کا لفظ سن کر فوراً ہمارا دماغ اور ذہن و فکر ان دل سوز و دردناک اندوہناک واقعات کی طرف مبذول ہو جاتا ہے جو جہیز نہ ملنے کی بنیاد پر آئے دن منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں اور جس کی وجہ سے سیکڑوں انسانی جانوں کو موت کے کھنڈر میں دھکیل دیا گیا۔ ان دردناک واقعات کو پڑھنے اور سننے کے بعد ہمیں خون کے آنسو رونا آتا ہے کہ ہمارے انڈیا کی سرزمین پر نہ جانے کتنی حسیناؤں، دوشیزاؤں اور سہاگ رات کی سہاگنوں کو جہیز کی بیہودہ رسم کی تکمیل نہ کرنے کی وجہ سے موت کی آغوش میں سلا دیا جاتا ہے۔ اور جہیز کے لالچی لوگ جہیز جیسی بیہودہ رسم کے لالچ میں آ کر اتنے خوب صورت پھولوں کو مسل ڈالتے ہیں جن کی خوشبوؤں سے ہماری زندگی معطر رہتی ہے۔ جس کے وجود سے نسلِ آدم کا گلستاں شاداب رہتا ہے۔
آخر یہ ظلم و ستم کی موسلا دھار بارش لڑکیوں کے اوپر کب تک ہوتی رہے گی۔ کیا اس خطرناک رسم کی بنیاد پر ہزاروں لڑکیوں کو موت کے چنگل میں برباد نہیں کیا گیا؟ کیا انھیں زندگی کی لذتوں سے محروم نہیں کیا گیا؟ ہمارے مذہب نے اور رسولِ اعظم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز ہرگز اس کی تعلیم نہیں دی ہے کہ اگر کوئی لڑکی والا دولہا کو قیمتی سامان نہ دے سکے تو وہ جبراً اس سے سامان لے لے۔ اور خطیر روپے کی مانگ کر کے والدین کو غم و اندوہ کے بحرِ ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کر دے۔ ہماری اسلامی سوسائٹی اور اسلامی سماج میں یہ ظالم و بیہودہ رسم نے بہت غلبہ ڈالا ہے۔ اور پورے معاشرے میں اپنا پنجہ جما لیا ہے۔ آج کل تو اس کا رواج اس طرح ہو گیا ہے کہ اپنے کو مسلمان کہنے والوں نے، غلامیِ رسول کا دعویٰ کرنے والوں نے ہزاروں اور لاکھوں روپے کی مانگ کرنا اپنا طرۂ امتیاز سمجھ لیا ہے اور اس پر وہ فخر کرتے ہیں۔ آئے دن اخبار، رسائل و جرائد میں اس کے متعلق خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں جن کو پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو پٹرول ڈال کر جلا ڈالا۔ تو کچھ جہیز کے لالچی اپنی حسین بیوی کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیتے ہیں۔ کبھی دوشیزہ کے اوپر ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ اور بالآخر اس طرح سے اس کی قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی ہے۔ لڑکی بار بار معافی مانگتی ہے کہ میں نے کیا قصور کیا ہے؟ میری کیا غلطی ہے؟ لڑکی اپنے شوہر سے اپنی زندگی کی بھیک مانگتی ہے۔ لیکن کیا ظالم شوہر یا لالچی انسان اس کو چھوڑ دیتا ہے یا نہیں؟ یہ بات اس پر کوئی اثر نہیں کرتی ہے۔ جابر شوہر اس کے نشے اور لالچ میں مال و زر کے حصول کے لیے اس طرح اندھا ہو جاتا ہے کہ شادی جیسے مقدس رشتے کا کچھ خیال نہیں کرتا ہے۔ مقامِ حیف ہے۔ یہ پاک رشتہ جو رسولِ اعظم کی بہترین سنت ہے۔ شادی سے رسول کی سنت کو زندہ کیا جاتا ہے مگر جہیز والے جب شادی کے رشتے میں منسلک ہونا چاہتے ہیں تو پہلے بات چیت لڑکی کی نہیں، مال و زر و دولت و ثروت کی ہوتی ہے۔ ٹی وی، وی سی آر، موٹر سائیکل، کار اور لاکھوں روپے کی مانگ رکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی لڑکے کے بارے میں تبادلۂ خیال ہوتا ہے۔ آخر کب تک دوشیزاؤں اور لڑکیوں کو موت کے چنگل میں دبایا جاتا رہے گا؟ آخر کب تک ان مظلوموں کی آہ و بکا ہمارے کانوں سے ٹکراتی رہیں گے؟ کب تک لڑکیوں کو جلانے اور مارے جانے والے دل سوز، دردناک واقعات کا سدِ باب ہوگا؟
اس بیہودہ رسم کو ایجاد کرنے میں اغنیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اور مالدار لوگوں نے ہی اس کی ابتدا کی ہے، جس کے پاس مال و زر اور نقد و جواہرات کی بہتات رہتی ہے ان لوگوں کو تو کچھ پتا نہیں چلتا، وہ آسانی سے اس رسم کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں۔ صرف اور صرف شہرت کے لیے، ناموری کے لیے۔ تاکہ لوگ اس کی خوب سے خوب تعریف و تحسین کریں کہ فلاں نے جہیز میں اتنا وافر مال خرچ کیا۔ آج جہیز کے نام پر ہی لڑکی کا رشتہ و نکاح طے کیا جاتا ہے۔ اگر کسی لڑکی کے ہاں اس کے والدین کے پاس اتنی دولت نہیں ہے کہ وہ لڑکے والوں کی مطلوبہ چیزوں کو شادی میں دے سکیں، تو اس جگہ اگرچہ بات مکمل طے ہو چکی تھی، یہ کہہ کر کہ تو جہیز نہیں دے سکتا ہے، منہ مانگی ڈیمانڈ نہیں مل رہی ہے، رشتہ نہیں ہو پاتا ہے اور لالچی آدمی دوسری جگہوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے کہ کہیں ایسا آدمی مل جائے جو ہمیں منہ مانگی چیز دے سکے۔ اس طرح کے ماحول سے ہماری اسلامی فضا خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اور سب یہی خواہش کرتے ہیں کہ شادی میں زیادہ سے زیادہ سامان ہمارے گھر میں آئے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی بیہودہ رسم سے مالداروں کو تو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔ مگر ہمارے ہی درمیان، ہمارے ہی ملک میں، ہماری ہی بستیوں میں نہ جانے کتنے باپ ایسے بھی ہیں جن کے پاس سوائے غربت و افلاس کے کچھ نہیں ہے۔ وہ افلاس و تنگدستی کے شکار ہیں۔ ان کی چار پانچ لڑکیاں ہیں۔ آخر وہ باپ اپنی لڑکیوں کی شادی کس طرح کریں گے۔ ان کی لڑکیاں گھر کی چار دیواری کے اندر اپنے جذبات کا محل ڈھا دیتی ہیں، اور یہی ہو بھی رہا ہے کہ وہ مسکین و غریب لڑکیاں اپنے شباب کی منزل میں آ کر بھی اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کو قربان کر دیتی ہیں اس کا صرف ایک سبب ہوتا ہے کہ اس کے والدین مجبور ہو جاتے ہیں، مانگ پوری نہیں کر پاتے ہیں۔ اس طرح سے لڑکیاں والدین کے لیے امرِ عظیم بن جاتی ہیں۔ اور بے سہارا باپ کی لڑکیاں سنتِ رسول کی لذتوں سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اور گھر میں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ کیوں کہ انھیں اس شرط پر شریکِ حیات ملتا ہے جب مطلوبہ چیزوں کی تکمیل ہو جائے۔
وہ کیا کریں گے قدرِ رفیقِ حیات کی
جن کی نظر میں پیار کی قیمت جہیز ہے
آہ! افسوس آج کے مادہ پرست اور پُرآشوب دور میں ہم نے غیر مسلموں کے رسم و رواج کو اپنا لیا ہے جو ہمیں تنزلی اور پستی کی طرف لے جا رہا ہے ہماری تاریخ ہمیں درسِ غیرت دیتی ہے، تاریخ کے سینے میں سب واقعات و حقائق نقش ہیں کہ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کس طرح ہوئی! رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح شادی کی تھی؟ کیا حضور نے اس چیز کا درس دیا تھا؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر ہم کیوں ایسا کرتے ہیں؟ حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وبا ہر طرف پھیل گئی ہے اور شہر تو شہر دیہاتوں میں بھی اس کی ہوا اور چنگاری پہنچ گئی ہے۔ جہاں کہ اس طرح کا کوئی رواج نہ تھا۔ دیہات میں جب جہیز کا دولہا سسرال جاتا ہے تو لوگ اس کا نظارہ کرنے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی بیل ہے جس کی قیمت دس ہزار پچاس ہزار ہے اس طرح سے ذلت و رسوائی کی چادر اوڑھائے جانے کے باوجود کوئی احساس نہیں ہوتا ہے۔ مسلمان، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والو! ذرا سنجیدگی کے ساتھ سوچو تو سہی۔ کیا اس طرح کا رواج، یہ طریقہ عہدِ رسالت، عہدِ خلافت و عہدِ اسلاف و ائمۂ مجتہدین میں تھا؟ اس وقت اس کا کوئی نام و نشان نہ تھا اور اس بری رسم نے آج کے دور میں جنم لیا ہے۔ اے میرے مسلمان بھائیو! آپ جہیز کی مانگ کر کے کتنے دن تک عیش کریں گے۔ دوسرے کے مال و دولت سے کب تک خوش و خرم رہیں گے۔ جو آپ اپنے بیٹے کی شادی میں وصول کرتے ہیں، یا وہ جو شادی میں بے خطیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، کب تک آپ مستی اڑائیں گے، دوسرے کے روپے سے یہی تو حال ہوگا چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔ صرف چند دنوں کے لیے راحت ہے۔ لہٰذا غور کریں کہ کتنی بری چیز ہے۔ آپس میں عداوت، دشمنی، نفاق و تعصب، لڑکیوں کا نکاح نہ ہونا، جلا دیا جانا اس ظالم رسم کا شاخسانہ ہے۔ ہمارا تو یہ شیوہ ہونا چاہیے کہ غریبوں کی مدد کر کے ان کی تنگدستی اور بدحالی کو دور کریں۔ اسلام نے عورتوں کے تقدس کا اعلان فرمایا ہے۔ اور عورت کی زندگی کو ستیاناس اور پائمال ہونے سے بچا کر ایک بارونق اور خوش گوار زندگی عطا فرمائی。
ہے مسلمان آج اس کو پائمال کر رہے ہیں، ان کی زندگی کا چراغ گل کر رہے ہیں، کس لیے؟ تو جواب ہوگا جہیز کے لیے اور حصولِ زر کے لیے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اس گناہ کے طریقے کو روکنے کے لیے ہمارے نوجوان طبقوں کو آگے آنا ہوگا، تب جہیز والوں کے فکر و مزاج، مذہب سے بے رغبتی کو ختم کیا جا سکتا ہے ورنہ ہمارے سماج میں اسلامی روایات و تہذیب کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اگر نوجوانوں نے قدم آگے بڑھایا تو بالیقین ان کو کامیابی ملے گی۔ نوجوان طبقہ مانگ نہ کر کے شادی کرے تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ میری نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اگر ان کے والدین اس کے لالچی ہیں اور اس کے لیے شادی نہیں کرا رہے ہیں تو وہ مصر ہو جائیں کہ ہم بغیر مطالبے کے سنتِ رسول کو اپنائیں گے۔ ہر شہر، قصبہ و دیہات میں ایک کمیٹی تیار کریں کہ جہیز کے لالچیوں کو لڑکی نہ دی جائے اور بائیکاٹ کریں، کمیٹیاں اولوالعزمی و مستعدی سے اس کے خلاف میدان میں آئیں۔ نوجوان بھائیوں نے اگر دلچسپی کے ساتھ اس کی روک تھام میں پیہم کوشش کی تو بہت اجر کے مستحق ہوں گے، خستہ حال لوگوں میں امید و بیم کی کرن نمودار ہوگی، ناامیدیوں مایوسیوں کو اجالے میں تبدیل کر دے گی اور لڑکیوں کے لیے تابناک مستقبل کی راہ کھل جائے گی۔
قرآنِ مقدس نے کسی ایماندار کے قتل کی سخت ممانعت فرمائی ہے، نہ جانے کتنوں نے بیویوں کو اس کے لیے موت کے دہانے میں دھکیل دیا، قرآن میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو کسی بھی ایماندار کو قصداً قتل کرے اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ خدارا مسلمانو اب تو ان لڑکیوں پر رحم کھاؤ۔ اب بھی ہوش میں آؤ۔ اس میں تو ہماری ہی بدنامی ہے۔ کیوں نہ ہم متحد ہو کر اس کے خلاف آواز بلند کریں۔
[ماخوذ از: سنی دنیا، بریلی شریف، مارچ ۱۹۹۲ء]
