| عنوان: | سچ کی برکتیں اور جھوٹ کی نحوستیں |
|---|---|
| تحریر: | ام الفضل رضویہ |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
سچ انسان کی ایک عظیم اور اعلیٰ صفت ہے۔ سچ بولنے کی بدولت ایک عام انسان بھی باوقار اور معزز شخصیت کا حامل بن جاتا ہے۔ سچ وہ روشنی ہے جو انسان کے کردار کو منور کر دیتی ہے اور اسے لوگوں کی نظروں میں بلند مقام عطا کرتی ہے۔ سچ بولنے والا ہمیشہ اعتماد اور عزت پاتا ہے۔
حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت سے پہلے ہی سچائی کی ایسی بے مثال، مثال قائم فرمائی کہ کفارِ مکہ بھی آپ کو ”صادق“ اور ”امین“ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر اعلانِ نبوت فرمایا اور قریش سے پوچھا کہ اگر میں کہوں ”اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟ تو سب نے بیک زبان ہو کر کہا: جی ہاں! ہم یقین کریں گے، کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور امانت دار پایا ہے۔“
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ سچائی کی قدر و قیمت کتنی بلند ہے۔ انسانی زندگی میں زبان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے؛ انسان اپنی زبان کے ذریعے یا تو عزت حاصل کرتا ہے یا ذلت میں پڑ جاتا ہے۔ اگر زبان میں سچائی اور نرمی ہو تو انسان بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے، اور اگر جھوٹ اور باطل اس کا حصہ بن جائیں تو یہی زبان اسے مشکلات میں الجھا دیتی ہے۔
چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں بھی زبان کی اہمیت کو یوں بیان کیا گیا ہے: إذا أصبح ابن آدم فإن الأعضاء كلها تكفر اللسان فتقول اتق الله فينا؛ فإنما نحن بك فإن استقمت استقمنا وإن اعوججت اعوججنا [سنن ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: 2407]
ترجمہ: جب ابنِ آدم صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ”اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے، اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔“
لہٰذا معلوم ہوا کہ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت؛ سچائی بلندی ہے اور جھوٹ پستی؛ سچائی حقیقت ہے اور جھوٹ محض ایک افسانہ؛ سچائی عزت ہے اور جھوٹ ذلت۔
سچ کی تعریف
قارئینِ کرام! گفتگو شروع کرنے سے قبل جان لینا چاہیے کہ سچ کسے کہتے ہیں؟ اس تعلق سے سید شریف جرجانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب میں سچ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الصدق في اللغة: مطابقة الحكم للواقع [کتاب التعریفات، ص: 95]
ترجمہ: لغت میں قائل کی بات کا واقع کے مطابق ہونا سچ کہلاتا ہے۔
اسلام میں سچائی کی بہت اہمیت آئی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں بارہا سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [المائدۃ: 119]
ترجمہِ کنز الایمان: یہ ہے وہ دن جس میں سچوں کو اُن کا سچ کام آئے گا اُن کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ اُن میں رہیں گے اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ ہے بڑی کامیابی۔
دوسرے مقام پر فرمایا: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ [التوبۃ: 119]
ترجمہِ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
یوں ہی ایک اور مقام پر فرمایا: وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا [الاحزاب: 35]
ترجمہِ کنز الایمان: اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں اُن سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تو بارہا سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہی ہے، ساتھ ہی ہمارے آقا و مولیٰ، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بارہا احادیث ارشاد فرمائیں۔
مختارِ کل آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا [صحیح مسلم شریف، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، حدیث: 2607]
ترجمہ: تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے، اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے، حتیٰ کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے۔
سبحان اللہ! رب تعالیٰ سچ بولنے والے کو کیا مرتبہ عطا فرماتا ہے، اس حدیثِ پاک کے تحت مفسرِ شہیر، حکیم الامت، حضرت مولانا مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:
”جو شخص سچ بولنے کا عادی ہو، اللہ تعالیٰ اسے نیک بنا دے گا، اس کی عادت اچھے کام کرنے کی ہو جائے گی۔ اس کی برکت سے مرتے دم تک نیک رہے گا، برائیوں سے بچا رہے گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جائے گا، اس کا خاتمہ اچھا ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے، ہر قسم کا ثواب پاتا ہے دنیا اس کو سچا کہنے اور اچھا سمجھنے لگتی ہے۔ اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔“
اور حدیثِ پاک کے دوسرے جز میں جھوٹ سے بچنے کا ارشاد فرمایا گیا ہے، اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:
”جھوٹا آدمی آگے چل کر فاسق و فاجر بن جاتا ہے جھوٹ ہزار گناہوں تک پہنچا دیتا ہے، تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے، سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا حضرت آدم سے کہا کہ میں آپ کا خیر خواہ ہوں، سب سے پہلا تقیہ اور سب سے پہلا جھوٹ شیطان کا کام ہے۔ (جب یہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کذاب لکھ دیا جاتا ہے تو) اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر یہ شخص ہر قسم کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور قدرتی طور پر لوگوں کا اس پر اعتبار نہیں رہتا، لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔“
سچائی انبیاءِ کرام علیہم السلام کی صفت
قرآن و حدیث سے سچائی ثابت کرنے کے بعد عرض کرتی چلوں کہ سچائی صرف امتِ محمدیہ میں ہی نہیں بلکہ دیگر انبیاءِ کرام علیہم السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے سورہ مریم آیت 41 میں سچائی والے پیغمبر کے لقب سے یاد فرمایا۔ یونہی حضرت ادریس علیہ السلام کو سورہ مریم آیت 56 میں نیک کردار نبی فرمایا اور اسی سورہ کی آیت 54 میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بابت ارشاد فرمایا کہ آپ وعدے کے سچے نبی تھے۔
غرض یہ کہ سچائی انبیاءِ کرام علیہم السلام کی صفتِ باکمال ہے، انبیا نے اس کو اپنا کر ہمیں سکھایا تاکہ ہم بھی اپنی زندگی میں سچائی کو اپنا کر انبیا کی اس عظیم سنت پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔
قارئینِ کرام! سچائی ایسی عظیم صفت ہے، جو ایمان و اسلام کو مکمل کرتی ہے، کیونکہ جسے یہ حاصل ہو جائے تو یہ اُس کی نجات کا سبب بنے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ جھوٹ سے بچتے ہوئے ہمیشہ سچ بولے اور سچائی کو اپنی صفت بنا لے۔
سچ اولیاء اللہ کی پسند
سچ ہمارے اسلاف کی بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، سرکار غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچپن کے اس واقعہ سے کون لاعلم ہے؟ کہ کمسنی کی عمر میں آپ کے سچ بولنے کی عادت کے سبب 70 ڈاکوؤں نے آپ کے دستِ حق پر توبہ کی اور نیکی کی راہ لی۔
یونہی اسلاف کے فرامین بھی سچائی کی اہمیت پر شاہد ہیں، چنانچہ حضرت مالک بن دینار علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ جس طرح کھجور کے پودے کا آغاز ایک ٹہنی سے ہوتا ہے، اس وقت وہ ٹہنی اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر بچہ اسے اکھیڑے یا بکری کھا لے تو اس کی جڑ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر اس ٹہنی کو مسلسل پانی دیا جاتا ہے جس سے وہ پرورش پاتی رہتی ہے حتیٰ کہ اس کی ایک مضبوط جڑ تیار ہو جاتی ہے، پھر وہی ٹہنی جو پہلے بہت کمزور تھی اب سایہ بھی دیتی ہے، پھل بھی دیتی ہے۔
اسی طرح سچائی بھی آغاز میں دل کے اندر کمزور ہوتی ہے۔ بندہ اس کی حفاظت و دیکھ بھال کرتا رہتا ہے، جھوٹ سے بچتا رہتا ہے اور سچ کے پودے کو پروان چڑھاتا رہتا ہے، اس حفاظت کے سبب اللہ پاک سچائی کو مضبوطی عطا فرماتا ہے، سچ بولنے والے پر اپنی برکات اتارتا ہے۔ پھر سچ بولنے اور سچائی کی حفاظت کرنے کی وجہ سے بندہ اُس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کا کلام خطاکاروں اور گناہوں کے بیماروں کے لیے دوا کا کام دینے لگتا ہے۔
یہ بات بیان کر لینے کے بعد حضرت مالک بن دینار علیہ الرحمہ نے پوچھا: کیا تم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اس مرتبے پر فائز ہوئے؟ پھر خود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”ہاں! کیوں نہیں! خدا کی قسم! ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے اور وہ حضرتِ حسن بصری علیہ الرحمہ ہیں، وہ حضرتِ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ ہیں اور ان جیسے دیگر خوش بخت افراد ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کے کلام سے اللہ پاک ہزاروں لوگوں کو زندگی بخشتا ہے یعنی ان کے کلام سُن کر اللہ پاک کی رحمت سے ہزاروں افراد بُرائی کا راستہ چھوڑ کر نیکی کے راستے کے مسافر بن جاتے ہیں۔“ [اللہ والوں کی باتیں، ج: 2، ص: 548]
محترم قارئین! معلوم یہ ہوا کہ سچ ایک بہت بابرکت وصف ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم سچائی کو اختیار کریں اور جھوٹ سے فوراً تائب ہو کر جھوٹوں کی فہرست سے دور ہو جائیں، جھوٹ انسان کو برباد و ہلاک کر دیتا ہے، جھوٹ ایک فریب ہے جو کچھ دیر کسی نقصان سے بچا کر ساری عمر بے قراری دے کر چلا جاتا ہے۔
جھوٹ کے نقصانات
بات جب سچائی کی ہو اور جھوٹ کے تعلق سے خاموشی اختیار کی جائے یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں میں جھوٹ کے تعلق سے بھی چند شقیں بیان کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔ جھوٹ ایک صفتِ قبیحہ ہے، جس سے بچنا ہر خاص و عام پر لازم ہے۔
جھوٹ کسی کے بارے میں خلافِ حقیقت خبر دینا کہلاتا ہے۔ قائل (یعنی جھوٹی خبر دینے والا) گنہگار اس وقت ہوگا جبکہ بلا ضرورت جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔ [حدیقہِ ندیہ، ج: 4، ص: 10]
جھوٹ کے تعلق سے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ارشاد فرمایا: وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ [الزمر: 60]
ترجمہِ کنز الایمان: اور قیامت کے دن تم دیکھو گے اُنہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ اُن کے منہ کالے ہیں کیا مغرور کا ٹھکانا جہنم میں نہیں۔
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [الحج: 30]
ترجمہِ کنز الایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔
ایک اور جگہ فرمایا: وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ [البقرۃ: 42]
ترجمہِ کنز الایمان: اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ۔
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ [التوبۃ: 77]
ترجمہِ کنز الایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔
اللہ اللہ! آپ سب ملاحظہ فرمائیں کہ ربِ کریم نے کس قدر تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ جھوٹ سے بچو، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ آج ہماری زندگیاں جھوٹ سے ہی شروع ہو رہی ہیں۔
جھوٹ کی بعض صورتیں
ہر انسان پر سب سے زیادہ اثر اس کے گھر کے ماحول کا پڑتا ہے، گھر کا ماحول اگر اچھا، خوش گوار، سچائی، امانت داری اور دیانت داری کا ہو تو بچہ کبھی جھوٹ اور خیانت وغیرہ جیسے مذموم عادات کی طرف مائل نہ ہوگا۔
لیکن آج معاشرے کے حالات پر نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج جھوٹ کی شروعات وہیں سے ہوتی ہے، والد صاحب گھر میں موجود ہیں، کوئی بلانے آیا تو بیٹے سے کہلوا بھیجا، ”جاؤ کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں۔“ صد افسوس! والدین اپنی ذمہ داری بھول چکے ہیں، وہ بچے کو خود سکھا رہے ہیں کہ ”بیٹا میں جھوٹ بولتا ہوں تو بھی بولے گا تو کیا برا ہو جائے گا؟“
یونہی آج کل مزاح میں جھوٹ بولنا عام ہو چکا ہے، ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے ہر دوسرا شخص جھوٹ بولتا دکھائی دیتا ہے جبکہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب، ويل له ويل له [سنن ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: 2315]
ترجمہ: تباہی و بربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتا ہے: کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔
لیکن افسوس! کہ آج ہمہ و شما سب مذاق میں جھوٹ بولنا عام سمجھتے ہیں۔ یونہی کوئی بیمار ہوتا ہے اور کوئی اس سے طبیعت پوچھے تو وہ کہتا ہے ”میں ٹھیک ہوں“، جبکہ بیمار ہے تو یہ جھوٹ ہی ہوا، یونہی چوٹ زیادہ لگی ہوتی ہے، زخم گہرا ہوتا ہے اور گھر والوں کا دل رکھنے خاطر کہتا ہے ”زیادہ نہیں لگی، میں بالکل ٹھیک ہوں“ یہ سب جھوٹ کی ہی مثالیں ہیں، ان ساری جھوٹی باتوں سے بچنے کا ایک عمدہ جواب ہے کہ بندہ ہر حال میں کہے ”الحمد للہ علی کل حال“ اس سے جھوٹ بھی نہ ہوگا، اور ربِ کریم کا شکر بھی ادا ہو جائے گا۔
یونہی مرد حضرات کا مشہور و معروف جھوٹ ابھی تک گھر میں ہی ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ”راستے میں ہوں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں“ اور کوئی کچھ کہہ دے تو اپنے بہانے بتانے لگتے ہیں یا معاذ اللہ! کہتے ہیں ”اتنا تو چلتا ہے“۔
کیا انہیں قرآن کی آیات نہیں معلوم؟ احادیثِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کب تک روگردانی کرتے رہیں گے؟ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ عبرت نشان ملاحظہ فرمائیں: نورِ مجسم آقا، مزمل و مدثر آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به [مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، حدیث: 4844]
ترجمہ: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس (بندے) سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔
كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق، وأنت له به كاذب [سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، حدیث: 4971]
ترجمہ: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
لہٰذا ”اتنا تو چلتا ہے“ کہنا سراسر جہالت ہے۔ اس لیے ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جھوٹ چھوڑ دے اور توبہ کر کے سچ کے راستے میں چلتے ہوئے زندگی گزارے، احکامِ شریعت کو ہلکا نہ جانے، پل بھر کی خوشی اور ہنسی کی خاطر جھوٹ نہ بولے یہی ایک مسلمان کی پہچان ہے۔
قارئین! ہم سب دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ 60/70/100 سال کی زندگی گزار کر ہمیں ہمیشہ رہنے والے مکان میں جانا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم آخرت کی فکر میں ایک مسافر کی مانند زندگی گزاریں اور پھر بخوشی اپنے ابدی مکان کی طرف منتقل ہو جائیں۔ زندگی سکون و امن کے ساتھ شریعت کے قوانین کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں، جانتی ہوں! اس دور میں خود کو بہت سے گناہوں سے بچانا مشکل ہے مگر جو مشکل نہ ہو وہ محبت کیسی؟ آخرت کی محبت اور فکر ان مشکلات کو آسان کر دیتی ہے، ہمیں چاہیے ہم اپنے اعمال سنواریں، اور جھوٹ، غیبت، بہتان، بدنگاہی، بدگمانی، فریب کاری وغیرہم عیوب سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو سچ، امانت داری، دیانت داری، عدل و انصاف، صبر، شکر، عاجزی، حیا، تحمل، رحم دلی جیسے اخلاقِ حسنہ سے خود کو مزین کر کے زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
آئیے! مل کر ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اب تک کی گئی تمام کوتاہیوں اور گناہوں سے تائب ہوتے ہیں، مولیٰ کریم! ہم تمام اپنے جملہ اعمالِ قبیحہ سے سچے دل سے توبہ کرتے ہیں، ہم شرمندہ ہیں، ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و رحمت کے صدقے معاف فرما اور ہمیں خوب نیک و صالح بنا، اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں صادقین و صادقات میں شامل فرمائے آمین آمین آمین آمین ثم آمین بجاہ النبی الملاحم صلی اللہ علیہ وسلم۔
