| عنوان: | صدقہ فطر کی حقیقت |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
صدقہ فطر کی حقیقت
صدقۂ فطر (جسے عرفِ عام میں فطرانہ و فطرہ بھی کہا جاتا ہے) اسلام کی مالی عبادات میں سے ایک اہم و واجبی عبادت ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کی جاتی ہے۔
صدقہ فطر کی تعریف
صدقۂ فطر وہ واجب صدقہ ہے جو رمضان کے روزوں کے اختتام پر عید الفطر کی نماز سے قبل ادا کیا جاتا ہے۔
مقصد
اس کا مقصد روزوں کے دوران ہونے والی چھوٹی موٹی لغزشوں (مثلاً فضول گفتگو یا کوتاہی) کی پاکیزگی اور غریبوں و مسکینوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔
صدقہ کی اقسام
صدقہ بنیادی طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم ہے:
- اول واجب صدقات: یہ وہ صدقات ہیں جو من جانبِ شرع فرض یا واجب ہیں ان کا نہ دینا گناہ ہے جیسے زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور نذر (منت) کا صدقہ۔
- ثانی نفلی صدقات: وہ صدقات جو انسان اپنی مرضی سے ثواب کی غرض سے دیتا ہے جیسے عام خیرات وغیرہ۔
صدقہ فطر کی فضیلت
- صحابیِ رسول حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کا روزہ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک صدقۂ فطر نہ ادا کرے“۔ [بہارِ شریعت]
- حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آخرِ رمضان میں فرمایا: اپنے روزے کا صدقہ ادا کرو، اس صدقہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا، ایک صاع خرما یا جو یا نصف صاع گیہوں۔ [بہارِ شریعت]
- حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکاۃِ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اور مساکین کی خورش (خوراک) ہو جائے۔ [بہارِ شریعت]
صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟
جو مسلمان اتنا مال دار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو یا اس پر زکوٰۃ تو واجب نہ ہو لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا سامان اس کے پاس موجود ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو تو اس پر عید الفطر کے دن صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، چاہے وہ مالِ تجارت کا ہو یا نہ ہو اور چاہے اس پر سال پورا گزرا ہو یا نہ گزرا ہو۔
ایک اہم نکتہ! مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت
عید الفطر کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے (یعنی جب سحری کا وقت ختم ہوتا ہے) اسی وقت یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا مستحب و افضل ہے، اگر عید الفطر کی نماز سے قبل ادا نہ کیا گیا تو بعد میں ادا کرنا ہوگا کیونکہ عمر بھر اس کا وقت ہے، نیز عید الفطر کی نماز کے بعد تک تاخیر کرنا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔
اہم نکتہ! غریب کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ صدقہ عید الفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
صدقہ فطر کی مقدار
صدقۂ فطر ان چار اجناس (گندم، جو، کھجور اور کشمش) میں سے کسی ایک جنس یا اس کی قیمت سے ادا کرنا ضروری ہے، گندم نصف صاع اور جو، کھجور، کشمش ایک صاع۔
سنن ترمذی میں ہے:
”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ: سنو! صدقۂ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گندم سے دو مد (نصف صاع) اور گندم کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے۔“
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”وإنما تجب صدقة الفطر من أربعة أشياء من الحنطة والشعير والتمر والزبيب كذا في خزانة المفتين وشرح الطحاوي وهي نصف صاع من بر أو صاع من شعير أو تمر، ودقيق الحنطة والشعير وسويقهما مثلهما والخبز لا يجوز إلا باعتبار القيمة، وهو الأصح، وأما الزبيب فقد ذكر في الجامع الصغير نصف صاع عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -؛ لأنه يؤكل بجميع أجزائه وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - صاع، وهو قولهما ثم قيل يجوز أداؤه باعتبار العين والأحوط أن يراعى فيه القيمة هكذا في محيط السرخسي۔“
صدقہ فطر کا مصرف کون؟
صدقۂ فطر میں بھی زکوٰۃ کی طرح ”تملیک“ شرط ہے، یعنی کسی مسلمان مستحق شخص کو بغیر عوض کے مالک بنا کر دینا ضروری ہے، اس کے بغیر صدقۂ فطر ادا نہیں ہوگا۔ صدقۂ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ یعنی جہاں جہاں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، انھیں جگہوں میں صدقۂ فطر بھی دینا جائز ہے اور جہاں جہاں زکوٰۃ دینا جائز نہیں ان جگہوں میں صدقۂ فطر دینا بھی جائز نہیں۔ لہٰذا صدقۂ فطر کی رقم کے مستحق فقراء اور مساکین ہیں، فطرہ کی رقم سے مسجد، مدرسہ، قبرستان، عیدگاہ، مزارات وغیرہ بنانا جائز نہیں اور جب زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر کا مصرف ایک ہی ہے تو ساداتِ کرام کو صدقۃ الفطر کی رقم دینا درست نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
”لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين“۔
اہم نکتہ! اگر کسی مدرسے میں زکوٰۃ و فطرہ کی رقم بلا تملیک کھانے پینے اور تعمیرات، اساتذہ کی تنخواہوں میں صرف کی جاتی ہے، تو یہ شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا تملیک سے پہلے صدقاتِ واجبہ کی رقوم کو استعمال میں نہیں لانا چاہیے۔
اخص الخاص نکتہ! شرعی اعتبار سے صدقۂ فطر کی ادائیگی کے لیے تملیک، یعنی کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے۔ محض مسجد کی کمیٹی یا سیکرٹری کے پاس جمع کروا دینا اور صرف فہرست میں نام لکھ دینا کافی نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ رقم صحیح مستحقین تک پہنچ کر انھیں مالک نہ بنا دیا جائے۔ زکوٰۃ کے مسائل بھی اسی نوعیت کے ہیں۔
خداوندِ متعال ہمیں صدقۂ فطر کی حفاظت کرنے اور مستحقین پر صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
