Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
عنوان: دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
تحریر: زریں امجدی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

بصیرت—جسے دانائی، قلبی بینائی، دانشمندی اور باطنی فہم و ادراک سے تعبیر کیا جاتا ہے—درحقیقت ایک ایسی روحانی قوت ہے جو انسان کو حق و باطل اور صحیح و غلط کے درمیان امتیاز کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ یہی وہ نورِ قلب اور معرفتِ الٰہی ہے جس کی بدولت انسان بحرانی کیفیات اور سنگین حالات میں بھی صائب فیصلے کرنے کا حوصلہ پاتا ہے۔

یہ امر نہایت قابلِ توجہ ہے کہ ہر علم، بصیرت کا ضامن نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر عالم کو بصیر کہا جا سکتا ہے۔ محض کتب کا حفظ اور معلومات کا انبار انسان کو صاحبِ بصیرت نہیں بناتا؛ بلکہ وہ علم جو شعور کو بیدار کرے، فکر کو جلا بخشے، اور انسان کو حقیقتِ اشیاء کے ادراک تک پہنچائے—وہی درحقیقت علمِ نافع ہے۔ ایسی فہم و فراست اور ذکاوتِ قلبی سے متصف انسان ہی بجا طور پر ”بصیر“ کہلانے کا مستحق ہے۔

ڈاکٹر اقبال نے کہا:

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

یہ روحانی بصارت محض ظاہری مطالعہ سے نہیں، بلکہ غور و فکر، کائنات کے اسرار میں تدبر، اور سیرتِ طیبہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمیق مطالعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ ذرائع ہیں جو انسان کے باطن کو بیدار کرتے، اس کے قلب کو منور کرتے، اور اسے راہِ راست پر استوار رکھتے ہیں۔

ورنہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ بہت سے ایسے افراد گزرے جن کے پاس علم و معلومات کا وسیع و عریض خزانہ تھا، مگر بصیرت کی روشنی سے محروم رہے۔ انہی میں ابن تیمیہ کی ذات بھی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے، جو غیر معمولی ذہانت، قوتِ حافظہ اور وسعتِ علم کا حامل تھا، یہاں تک کہ اپنے زمانے کے علماء میں ایک ممتاز مقام رکھتا تھا اور ابتدا میں اہلِ علم کے درمیان نہایت معزز سمجھا جاتا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس نے بعض ایسے اعتقادی مسائل اور آراء پیش کیں جنہیں جمہور اہلِ سنت کے نزدیک محلِ اشکال اور اختلاف سمجھا گیا۔ ابن تیمیہ سے منسوب چند اقوال میں یہ امور بیان کیے جاتے ہیں کہ اس نے بعض مواقع پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے جہت و مکان کے اثبات کی بات کی، عرش کے حوالے سے مخصوص تعبیرات اختیار کیں، صفاتِ الٰہی کے فہم میں ایسی آراء پیش کیں جنہیں متعدد علماء نے قابلِ اعتراض جانا، نیز زیارتِ قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر کے مسئلے پر بھی ایک منفرد موقف اختیار کیا جسے اہلِ علم کی بڑی جماعت نے قبول نہیں کیا۔ [فتاویٰ حدیثیہ، ص: 338]

چنانچہ اس بنا پر اس دور کے جلیل القدر علمائے اہلِ سنت نے اس کے ان افکار کا علمی رد فرمایا اور ان پر نقد و محاکمہ کیا۔ ان میں خصوصاً امام ابو یوسف بن اسماعیل، امام صدر الدین بن وکیل اور امام ابو حیان اندلسی جیسے اکابر علماء شامل ہیں، جو اس کے معاصرین میں شمار ہوتے تھے۔ ان حضرات نے اپنے علمی و تحقیقی اسلوب میں اس کے بعض نظریات کی تردید کی اور امت کو ان امور پر متنبہ فرمایا۔

یہاں تک کہ ان اختلافات کے نتیجے میں حالات اس نہج تک پہنچے کہ ابن تیمیہ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں، اور آخرکار اسی حالت میں اس کا انتقال ہوا۔

جب بصیرت مفقود ہو جائے تو نتائج یہی ہوتے ہیں، اور جب یہ میسر ہو تو اس کے اثرات یوں جلوہ گر ہوتے ہیں:

تاریخِ انسانیت میں ایسی پاکیزہ ہستیاں بھی گزری ہیں جنہیں ایامِ طفولیت ہی سے بصیرت و دانائی اور معرفتِ الٰہی کی دولت نصیب ہوئی۔ ان مقدس نفوس میں صحابہِ عظام رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی سرِ فہرست درخشاں نظر آتے ہیں، جنہوں نے آغاز ہی میں حقانیت کا اقرار کیا اور شدائدِ احوال، مصائب و آلام اور آزمائشوں کی تند و تیز آندھیوں میں بھی راہِ مستقیم پر ثابت قدم رہے۔ خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت زید بن عمرو بن نفیل جیسے جلیل القدر نفوس، جنہوں نے باوجود معاشرتی دباؤ اور اصرار کے، کبھی بھی بت پرستی کو اختیار نہ کیا۔ ان کے قلوب کی روشنی اور کائنات کے عمیق مشاہدے نے ابتدا ہی سے اس حقیقت کی شہادت دے دی تھی کہ معبودِ برحق صرف ذاتِ واحدہ لا شریک ہے۔

درحقیقت کائنات کی صناعی، اس کا مربوط و منظم نظام، اور اس کے اسرار و رموز میں غور و فکر انسان کو حقیقی بصیرت سے ہمکنار کرتا ہے۔ اسی لیے خالقِ کائنات نے بارہا اپنے بندوں کو زمین میں سیر و سیاحت اور مظاہرِ فطرت کے مشاہدے کی دعوت دی، تاکہ وہ حقیقت تک رسائی حاصل کریں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ [الانعام: 11] یعنی زمین میں سیر کرو، کائنات کے نشانات کا مشاہدہ کرو، اور اس کے اسرار میں تدبر اختیار کرو۔

اور جو لوگ اس بصیرت افروز دعوت سے روگردانی کرتے ہیں، ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ [الاعراف: 179]

اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی، وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں، اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں، اور وہ کان جن سے سنتے نہیں، وہ چوپائیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، وہی غفلت میں پڑے ہیں۔ [ترجمہ کنز الایمان]

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَّعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَّسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [الحج: 46]

تو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں، یا کان ہوں جن سے سنیں؟ تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ [ترجمہ کنز الایمان]

اسی حقیقت کو نہایت بلیغ پیرایہ میں امام ابو حنیفہ نے یوں واضح فرمایا کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ دنیا میں ہدایت و تبلیغ کے لیے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث نہ بھی فرماتا، تب بھی انسان پر لازم تھا کہ وہ عقل و آگہی اور کائنات کے مشاہدہِ عمیق کے ذریعے خالقِ حقیقی کی معرفت حاصل کرتا اور اس کی حقانیت کا اقرار کرتا۔

یہ ارشاد اس امر کی روشن دلیل ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے خالق کی پہچان کا آئینہ دار ہے، اور صاحبِ بصیرت کے لیے یہی نشانیاں معرفتِ الٰہی تک رسائی کا معتبر وسیلہ بن جاتی ہیں۔

اور مذکورہ واقعات اس حقیقت کی طرف غمازی کرتے ہیں کہ محض ذہانت، وسعتِ مطالعہ اور معلومات کی فراوانی انسان کے لیے کافی نہیں، بلکہ اصل کمال اس نورِ بصیرت میں مضمر ہے جو علم کو اعتدال، حکمت اور صحیح سمت عطا کرے۔ یہی بصیرت انسان کو فکری لغزشوں سے محفوظ رکھتی ہے، اور اسی کے ذریعے انسان ہدایت و ضلالت کے درمیان فرق پہچان کر صراطِ مستقیم کا مسافر بنتا ہے۔ پس حقیقی کامیابی اسی بصیرت میں مضمر ہے جو انسان کو نہ صرف حقیقت آشنا بنائے بلکہ اسے صراطِ مستقیم کا استقامت شعار مسافر بھی بنا دے۔

شافعی مالک احمد امامِ حنیف
چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!