| عنوان: | آداب عشق اور وسائل محبت (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
سید السادات علی الاطلاق، افضل الخلائق بالاتفاق، خلیفۃ اللہ فی السماوات والارضین، تاج الانبیاء والمرسلین، مصدر کمالات انسانیہ، مرجع درجات روحانیہ، خلاصۂ تکوین الٰہی، مظہر جلوۂ کبریائی، تاجدار کائنات، منشأ تخلیق موجودات، منبع علم وحکم، معدن جود وکرم، رحمت مجسم، ہادی عالم، سیدی وسندی، ماوائی وملجائی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کائناتِ عالم کی وہ عظیم ترین ہستی ہیں کہ ان کی مدح تام قوتِ انسانیہ سے ماورا ہے، تاہم حسبِ قوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب اور محامد و محاسن بیان کرتا ہوں، تاکہ دونوں جہاں کی سرمدی و ابدی نعمتوں سے شادکام ہو سکوں اور الطافِ خسروانہ سے سرفرازی کا موقع میسر آئے:
گر قبول افتد زہے عز و شرف
سب سے افضل و اعلیٰ ہمارا نبی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات و مراتب، عظمت و شوکت اور رفعت و بلندی کا علم ماسوی اللہ کو نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقاتِ الٰہی میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں۔ وہ اتنے عظیم ہیں کہ کسی کو ان کی عظمت کا علم و ادراک بھی نہیں۔ تصریحات و تشریحات درج ذیل ہیں۔
- مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: يا أبا بكر! لم يعلمني حقيقتي غير ربي [مطالع المسرات شرح دلائل الخيرات للعلامة الفاسي، ص: 129، مكتبة نورية رضویة فيصل آباد پاکستان] ترجمہ: اے ابوبکر! مجھے در حقیقت میرے رب تعالیٰ کے علاوہ (کسی) نے پہچانا نہیں۔
ہمہ پیغمبراں در جستجو اند
خدا داند کہ تو در چہ مقامی
ترجمہ: تمام پیغمبرانِ عظام علیہم الصلوۃ والسلام تلاش و جستجو میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس (بلند) منزل میں ہیں۔
- عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال لي جبريل: قلبت الأرض مشارقها ومغاربها فلم أجد رجلا أفضل من محمد صلى الله عليه وسلم ولم أجد بني أب أفضل من بني هاشم. [المواهب اللدنية، ج: 1، ص: 87، المکتب الإسلامي بيروت] [الخصائص الكبرى للسيوطي، ج: 1، ص: 67، دار الكتب العلمية بيروت] ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت جبرئیل امین نے مجھے بتایا کہ میں نے زمین کے مشارق و مغارب کو بغور دیکھا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل کسی انسان کو نہ پایا اور بنی ہاشم سے افضل کسی خاندان کو نہ پایا۔
منفرد اندر کمال، لاجرم مثلش محال
کمالِ ذاتی است و جمالِ ذاتی
ترجمہ: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی کمال میں بے نظیر ہیں۔ یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر محال بالذات ہے۔
لمحہ بہ لمحہ ترقیِ مراتب و رفعِ درجات
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات و مراتب روز افزوں ترقی پر ہیں۔ اس حقیقت کا انکشاف خود رب تعالیٰ نے فرمایا۔ ارشادِ الٰہی و تشریحاتِ علمائے اسلام مرقومہ ذیل ہیں:
- ربِ کل جہاں عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى [الضحى: 4، 5] ترجمہ: اور بے شک پچھلی (گھڑی) تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ کنزالایمان
- امام تاج الدین سبکی شافعی (۷۲۷ھ - ۷۷۱ھ) نے تحریر فرمایا: وهو صلى الله عليه وسلم يزداد كل يوم شرفا ورتبة إلى الأبد [طبقات الشافعية، ج: 3., ص: 411] ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دن ابد تک فضل و شرف اور درجہ و رتبہ کے اعتبار سے بڑھتے جا رہے ہیں۔
- علامہ ابنِ حجر مکی ہیتمی شافعی (۹۰۹ھ - ۹۷۴ھ) نے تحریر فرمایا: اعلم أن نبينا صلى الله عليه وسلم هو أشرف المخلوقات وأكملهم، فهو في كمال وزيادة أبدا، يترقى من كمال إلى كمال إلى ما لا يعلم كنهه إلا الله تعالى، فلا محال في تزايد كماله وترقيه بالنسبة إلى نفسه بعد كونه صلى الله عليه وسلم أكمل المخلوقات [الفتاوى الحديثية، ص: 10] ترجمہ: جان لو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوقات میں سب سے زیادہ بزرگی والے اور سب سے کامل ترین ہیں، پس وہ ہمیشہ کمال اور زیادتی میں ہیں، ایک کمال سے دوسرے کمال کی جانب ترقی کرتے جاتے ہیں، اس کمال کی طرف جس کی حقیقت رب تعالیٰ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے اضافے میں اور بہ نسبت خود ترقی کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلائق میں سب سے کامل ترین مخلوق ہیں۔
قرآن کی ہر آیت میں مدحِ مصطفوی
قرآن مجید کی ہر آیت میں مدحِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے۔ ہاں، ہر ایک کو اس مفہوم تک رسائی نہیں۔ محض اہل نظر کی نظر وہاں تک پہنچتی ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا: شیخ محقق (عبد الحق محدث دہلوی) نے اخبار الاخیار میں بعض اولیا کی ایک تفسیر بتائی، جس میں انہوں نے ہر آیت کو نعت کر دیا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 252، رضا اکیڈمی ممبئی]
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
- امام ابو زکریا نووی شافعی (۶۳۱ھ - ۶۷۶ھ) نے تحریر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صالح اور غیر صالح ہر ایک کے خواب میں تشریف لاتے ہیں۔ [الفتاوى النووية، ص: 285، دار الحديث، قاهرة]
حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حقیقی زیارت نصیب ہوئی اور ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ وہ رحمۃ للعالمین ہیں، ممکن ہے کہ کبھی ہم گنہگاروں کو بھی شرفِ دیدار سے سرفراز فرمائیں اور ہمارا باطن بھی برکتِ دیدار سے انقلاب پذیر ہو جائے۔ انتظار رہے گا اس ساعتِ سعید کا۔
ان کا خیال، ان کی طلب، ان کی جستجو
اب اور زندگی کے مشاغل نہیں رہے
ہمیں معلوم ہے کہ آج بھی مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عشاقِ کاملین سے لمحہ بھر کے لیے بھی اپنی زیارت و رویت سلب نہیں فرماتے۔ اربابِ عشق و محبت کہا کرتے ہیں کہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی آپ کی رویتِ مقدسہ ہم سے منقطع ہو جائے تو ہم خود کو مومن نہیں سمجھیں گے۔
- امام عبد الوہاب شعرانی شافعی (۸۹۸ھ - ۹۷۳ھ) نے تحریر فرمایا: وقد بلغنا عن الشيخ أبي الحسن الشاذلي وتلميذه الشيخ أبي العباس المرسي وغيرهما أنهم كانوا يقولون: لو احتجبت عنا رؤية رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفة عين ما عددنا أنفسنا من جملة المسلمين، فإذا كان هذا قول آحاد الأولياء فالأئمة المجتهدون أولى بهذا المقام [ميزان الشريعة الكبرى، ج: 1، ص: 44] ترجمہ: ہمیں خبر پہنچی ہے کہ شیخ ابو الحسن شاذلی اور ان کے شاگرد ابو العباس مرسی وغیرہما کہا کرتے کہ اگر ہم سے پلک جھپکنے کی مقدار حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار پوشیدہ ہو جائے تو ہم اپنے آپ کو جماعتِ مومنین سے شمار نہ کریں، پس جب اولیائے کرام کا یہ قول ہے تو حضراتِ ائمہ مجتہدین اس مقام کے زیادہ لائق ہیں۔
- امام جلال الدین سیوطی (۸۴۹ھ - ۹۱۱ھ) نے رقم فرمایا: قال رجل للشيخ أبي العباس المرسي: يا سيدي! صافحني بكفك هذه فإنك لقيت رجالا وبلادا، فقال: والله ما صافحت بكفي هذا إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفة عين، ما عددت نفسي من المسلمين [الحاوي للفتاوي، ج: 2، ص: 260] [تنوير الحلك في رؤية النبي جهارا والملك، ص: 9] ترجمہ: ایک شخص نے شیخ ابو العباس مرسی سے عرض کیا: یا سیدی! آپ اپنے اس ہاتھ سے مصافحہ فرمائیں، اس لیے کہ آپ نے بہت سے لوگوں اور شہروں کو دیکھا۔ آپ نے فرمایا: قسم بخدا! میں نے اپنے اس ہاتھ سے حضرت شفیعِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی سے مصافحہ نہ کیا، اور شیخ ابو العباس مرسی نے فرمایا کہ اگر مجھ سے پلک جھپکنے کی مقدار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار پوشیدہ ہو جائے تو میں اپنے آپ کو جماعتِ مومنین سے شمار نہ کروں۔
یعنی بعض نفوسِ قدسیہ اس منزلِ رفیع پر بھی فائز ہیں کہ لمحہ بھر کے لیے بھی دیدارِ مصطفوی ان سے منقطع نہیں ہوتا۔ چہ عجب گر شاہاں بنوازند گدا را۔ ہم اگرچہ اس منصبِ بلند پر متمکن نہیں، لیکن ہمیں چاہیے کہ اپنے افکار و خیالات کو تصوراتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آراستہ کر لیں۔
دیوانگانِ عشقِ محمدی کا حال تو یہ ہے کہ وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی جان بھی، اور اس میں انہیں جو فرحت و سرور اور مسرت و شادمانی محسوس ہوتی ہے، زبان و قلم سے اس کی تعبیر ممکن نہیں۔
محبت کی یہ دنیا بھی بڑی پرکیف دنیا ہے
متاعِ دو جہاں کھو کر بھی کوئی غم نہیں ہوتا
[حوالہ: عشق نبوی کے آداب و وسائل، ص: 9]
جاری ہے دونوں جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
