| عنوان: | وہ کون سی تبدیلی ہے جو آپ کائنات میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ |
|---|---|
| تحریر: | سائرہ الطاف کشمیر |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
مظلوم کو حق ملے اور ظالم کا ہاتھ روکا جائے
آج کا دور فتنوں، آزمائشوں اور ناانصافیوں کا دور بنتا جا رہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں ظلم کی داستانیں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں غریب کا حق چھینا جا رہا ہے، کہیں کمزور کو دبایا جا رہا ہے، کہیں بے گناہ انسان ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور کہیں طاقتور لوگ اپنی طاقت کے نشے میں انسانیت کو بھول بیٹھے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میں کائنات میں کون سی تبدیلی دیکھنا چاہتی ہوں، تو میری سب سے بڑی خواہش یہی ہوگی کہ مظلوم کو اس کا حق ملے، کمزور کو انصاف نصیب ہو، اور ظالم کے ہاتھ کو ظلم سے روک دیا جائے۔
کیونکہ ظلم صرف ایک انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں ناانصافی بڑھتی ہے تو لوگوں کے دلوں سے سکون ختم ہو جاتا ہے۔ خوف، بے چینی، نفرت اور بداعتمادی عام ہو جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیتے ہیں اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اسی معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہو جائے تو امن، محبت اور بھائی چارہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ ہر شخص خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
اسلام نے ہمیشہ عدل و انصاف کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
ترجمہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔“ [النحل: 90]
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ انسانوں کے حقوق ادا کرنے، انصاف قائم کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو سخت ناپسند فرمایا ہے، کیونکہ ظلم انسانیت کے وجود کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کئی طاقتور لوگ اور سیاسی رہنما اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھنے کے بجائے طاقت اور اقتدار کی علامت سمجھ بیٹھے ہیں۔ کہیں عوام کے حقوق دبائے جا رہے ہیں، کہیں کمزور قوموں پر ظلم کیا جا رہا ہے، اور کہیں سچ بولنے والوں کی آواز کو خاموش کیا جا رہا ہے۔ طاقت کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت اور انصاف قائم کرنا تھا، مگر افسوس کہ بہت سے لوگ اسے کمزوروں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بدامنی، جنگیں اور نفرتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: ”بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔“ [آل عمران: 57]
یہ آیت ہر انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ مذمت ہے۔ دنیا کا کوئی طاقتور انسان، بڑا عہدہ یا دولت ظالم کو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتی۔ اسی لیے ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کا ساتھ دے، انصاف کی حمایت کرے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ: ”اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے۔“ [ابراہیم: 42]
یہ آیت مظلوم کے لیے امید اور ظالم کے لیے تنبیہ ہے۔ دنیا میں چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب ضرور دینا ہوگا۔ مظلوم کی آہیں کبھی ضائع نہیں جاتیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی فریاد سنتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث ہمیں احساس دلاتی ہے کہ اسلام میں مظلوم کا مقام کتنا بلند ہے۔ ایک مظلوم انسان کی آہ عرشِ الٰہی تک پہنچتی ہے، اسی لیے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ کمزوروں کا سہارا بنے، یتیموں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرے، اور ظالم کو ظلم سے روکنے کی کوشش کرے۔
آج افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ ظلم دیکھ کر خاموش رہنا سیکھ گئے ہیں۔ حالانکہ خاموشی بعض اوقات ظلم کی حمایت بن جاتی ہے۔ اگر معاشرے کے افراد حق بات کہنا شروع کر دیں، سچ کا ساتھ دیں اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ ایک زندہ قوم وہی ہوتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو اور ظالم کے سامنے ڈٹ جائے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ
ترجمہ: ”انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے سچی گواہی دو۔“ [النساء: 135]
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انصاف صرف دوسروں سے مطالبہ کرنے کا نام نہیں بلکہ خود بھی انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ اگر ہر انسان اپنی زندگی میں عدل و انصاف کو اختیار کر لے تو معاشرے کے بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا میری نظر میں دنیا کی سب سے خوبصورت تبدیلی یہی ہوگی کہ ہر مظلوم کو انصاف ملے، ہر کمزور محفوظ ہو، اور ہر ظالم کا ہاتھ ظلم سے روک دیا جائے۔ کیونکہ جب انصاف قائم ہوگا تو دلوں میں سکون پیدا ہوگا، محبت بڑھے گی، نفرتیں ختم ہوں گی، اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی آج انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
