Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

آداب عشق اور وسائل محبت (قسط دوم)

آداب عشق اور وسائل محبت (قسط دوم)
عنوان: آداب عشق اور وسائل محبت (قسط دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: نازیہ احمدی ضیائی

بے وسیلہ نجدیو! ہر گز خدا ملتا نہیں

  1. حكي عن الشيخ أبي الحسن الوتاني قال أخبرني الشيخ أبو العباس الطبخي قال: وردت على سيدي أحمد بن الرفاعي فقال: ما أنا شيخك، شيخك عبد الحكيم بقنا. قال: فسافرت بقنا. فدخلت على الشيخ عبد الرحيم. فقال لي: عرفت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا. قال: رح إلى بيت المقدس حتى تعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم. فرحت إلى بيت المقدس. فحين وضعت رجلي وإذا بالسماء والأرض والعرش والكرسي مملوءة من رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجعت إلى الشيخ. فقال لي: عرفت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: نعم. قال: الآن كملت طريقتك. لم تكن الأقطاب أقطابا والأوتاد أوتادا والأولياء أولياء إلا بمعرفة رسول الله صلى الله عليه وسلم. [الحاوي للفتاوي، ج: 2، ص: 260] [تنوير الحلك للسيوطي، ص: 9] ترجمہ: حضرت ابو الحسن وتانی سے حکایت مروی ہے۔ انہوں نے کہا مجھے شیخ ابو العباس طبخی نے کہا: میں سید احمد بن کبیر رفاعی کے پاس (بیعت کے لیے) گیا، پس انہوں نے فرمایا: میں تمہارا شیخ نہیں، تمہارے شیخ قنا میں عبد الحکیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قنا کا سفر کیا، پس میں شیخ عبد الرحیم کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل کر لی؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: بیت المقدس جا، تاکہ تجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل ہو، پس میں بیت المقدس گیا تو جب میں نے قدم رکھا تو زمین و آسمان، عرش و کرسی مصطفیٰ جانِ رحمت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پر ہے، پھر میں شیخ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے فرمایا: تم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل کر لی؟ میں نے عرض کیا، ہاں۔ شیخ عبد الحکیم نے فرمایا: اب تمہاری طریقت مکمل ہو گئی۔ اقطاب، اقطاب نہیں ہوتے اور اوتاد، اوتاد نہیں ہوتے اور اولیا، اولیا نہیں ہوتے، مگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے۔
  2. شیخ عبد الحق محدث دہلوی (۹۵۸ھ - ۱۰۵۲ھ) نے تحریر فرمایا: در رسالہ قشیریہ از ابو سعید خراز می‌آرد کہ گفت: دیدم آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم را در منام و گفتم: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! معذور دار مرا کہ محبتِ خدا باز داشتہ است مرا از محبتِ تو یعنی محبتِ من با تو چنداں است کہ اصلاً بغیر تو نہ پروازم و یادِ غیرِ تو نکنم و بذکرِ غیر تو مشغول نشوم ولیکن چوں محبتِ حق اصل و مقدم است و تو نیز فرمودہ ای بداں، مرا در ربودہ است، فرصت را و گنجائشِ محبتِ دیگرے نگذاشتہ است و بمقتضائے محبتِ تو چناں کہ من می‌خواہم، بوجود نمی‌آید۔ و ایں از بے تمیزی و سکرِ حال است و در مرتبۂ جمع و اجمال بہ بیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم در جوابِ وے چہ گفت۔ گفت یا مبارک! من أحب الله فقد أحبني۔ کسے کہ دوست می‌دارد خدا را، پس بہ تحقیق دوست می‌دارد مرا، یعنی دوستیِ خدا و دوستیِ من یکے است و لازمِ یک دیگر اند ولیکن از جہتِ غلبۂ سکر و عدمِ تمیز، اطلاع بر حقیقتِ حال از دستِ نظرِ بصیرت می‌رود، وایں است سببِ اشتباہِ بعضے کوتاہ بیناں کہ شہودِ حق را از وساطتِ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مفارق می‌دانند و بر برزخیتِ وے واقف نمی‌شوند۔ [مدارج النبوہ، ج: 1، ص: 269، مطبع مظہر العجائب مدراس] ترجمہ: رسالہ قشیریہ میں حضرت ابو سعید خراز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے خواب میں مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے معذور رکھیں کہ رب تعالیٰ کی محبت نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے باز رکھا ہے، یعنی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنی محبت ہے کہ بالکل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر نہ جی سکوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کی یاد کروں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے ذکر میں مشغول ہو سکوں۔ لیکن چونکہ رب تعالیٰ کی محبت اصل اور مقدم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا حکم فرمایا ہے۔ محبتِ الٰہی نے مجھے مستغرق کر رکھا ہے اور کسی دوسرے کی محبت کی فرصت و گنجائش نہ چھوڑی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے تقاضے جیسا کہ میں چاہتا ہوں، پورے نہیں ہو پاتے، اور یہ قول عدمِ تمیز اور سکرِ حال کے سبب ہے اور جمع و اجمال کے مقام میں دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں کیا ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے مبارک! جس نے اللہ عزوجل سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، یعنی اللہ عزوجل سے محبت و دوستی اور مجھ سے محبت و دوستی ایک ہی ہے اور ایک دوسرے کے لازم ہیں، لیکن غلبۂ سکر کی وجہ سے اور عدمِ تمیز کی وجہ سے حقیقتِ حال کی اطلاع نظرِ بصیرت سے غائب ہو جاتی ہے اور یہی بعض کم نظر حضرات کے اشتباہ کا سبب ہے کہ وہ شہودِ بارگاہِ الٰہی کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے جدا جانتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ ہونے پر واقف نہیں ہوتے ہیں۔

بعض ابتدائی مراحل میں صوفیائے کرام کو وساطتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم نہیں ہو پاتا۔ جب آگے ترقی ہوتی ہے، تب حقائق روشن ہو جاتے ہیں اور منکشف ہو جاتا ہے کہ بلا توسط حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم امت کے لیے تجلیاتِ الٰہی کا دروازہ نہیں کھلتا، بلکہ امت کو جو کچھ ملتا ہے، ان کے نبی و رسول کے وسیلے ہی سے ملتا ہے اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو بارگاہِ الٰہی میں حضرات انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے بھی وسیلے ہیں، جیسا کہ حدیثِ ذیل میں تصریح ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت تاج الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے۔

فقلت: اللهم اغفر لأمتي، اللهم اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم عليه الصلاة والسلام

ترجمہ: پس میں نے دعا کی: یا اللہ! میری امت کو بخش دے۔ یا اللہ! میری امت کو بخش دے اور تیسرا سوال اس دن کے لیے اٹھا رکھا جس میں تمام مخلوق میری طرف نیاز مند ہوگی، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام۔ [صحیح مسلم، ج: 1، کتاب الصلوۃ، باب بیان أن القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف]

اے پائے نظر ہوش میں آ، کوئے نبی ہے

امام المحدثین مجتہد مطلق امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے باہر جانا پسند نہیں کرتے تھے کہ کہیں مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آ جائے اور مدینۃ العظمیٰ میں موت کی فضیلت مجھ سے چھوٹ نہ جائے۔ کوئی سوچتا ہے کہ ہم اس پاکیزہ سر زمین پر قدم کیسے رکھیں، ہم گناہوں سے آلودہ وجود کو لے کر اس پاکیزہ سر زمین میں کیسے داخل ہوں۔

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

علامہ ابنِ حاج مالکی عبدری فاسی (م ۷۳۷ھ) قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا:

قد جاء بعضهم إلى زيارته صلى الله عليه وسلم فلم يدخل المدينة. بل زار من خارجها أدبا منه رحمه الله تعالى مع نبيه صلى الله عليه وسلم. فقيل له: ألا تدخل؟ فقال: أمثلي يدخل بلد سيد الكونين صلى الله تعالى عليه وسلم؟ لا أجد نفسي تقدر على ذلك

ترجمہ: بعض صالحین زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حاضر ہوئے تو شہرِ مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوئے، بلکہ اپنی جانب سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرتے ہوئے مدینہ منورہ کے باہر سے زیارت کر لی۔ اللہ عزوجل ان پر رحم فرمائے، پس ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ اندر نہ جائیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: کیا مجھ جیسا آدمی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں داخل ہوگا؟ میں اپنے اندر اتنی قدرت نہیں پاتا۔ [المدخل، ج: 1، ص: 254، دار الکتاب العربی، بیروت]

ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آیند جنید و بایزید ایں جا

ترجمہ: آسماں کے نیچے عرش سے زیادہ نازک ادب کی ایک جگہ ہے۔ حضرت جنید بغدادی و بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس جگہ سانس روک کر آتے ہیں۔ [حوالہ: عشق نبوی کے آداب و وسائل، ص: 9]

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!