| عنوان: | اعلی حضرت بحیثیت مفتی |
|---|---|
| تحریر: | عبد الصمد قادری |
ہر دور میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے نیک بندوں انبیاء و رسل، صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے مدمقابل کچھ نہ کچھ چیلنجز آتی رہیں، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے نیک بندوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا۔ اسی طرح ماضی قریب میں بھی کچھ ایسے فتنوں نے سر اٹھایا جو لوگوں کے عقائد کی بنیاد کو ڈھانے کا پکا ارادہ کر چکے تھے، مگر اس کے مقابلے میں اللہ پاک نے اپنے ایک بندے کو بطور ماحیِ فتنہ و بدعت بنا کر بھیجا، جنہوں نے نہ صرف فتنوں کا سر قلم کیا بلکہ کچھ ایسے قوانین بھی عوام اہل سنت کے روبرو پیش کیے جس کی بنیاد پر ہمیشہ نمودار ہونی والے فتنوں کو جانا اور پہچانا جا سکتا ہے۔ نیز ان اصول و ضوابط کو مدنظر رکھ کر خود کو بھی فتنوں سے محفوظ و مامون رکھا جا سکتا ہے۔ مختلف انداز سے بے شمار فتنوں کی جڑ کو بطور مفتی قلع قمع کیا۔ ہر دور کے مفتیِ اسلام کی بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہوا کرتی ہے کہ اس دور میں نمودار ہونے والے فتنوں کو بحیثیت مفتی اور بحیثیت عالم اپنے علمی و فکری اور عملی نقوش کے ذریعے جڑ سے ہی ختم کردے، وہ شخصیت جو ماضی قریب میں اٹھنے والے فتنوں کی در و دیوار کو منہدم کر دیا وہ شخصیت کوئی اور نہیں، امام احمد رضا خان ہی کی شخصیت ہے، جنہیں دنیا آج اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، مجدد دین و ملت، قاطع بدعت، بے مثال مفتی، عاشق رسول، مجتہد فی المسائل جیسے انمول القابات سے جانتی اور پہچانتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت عليه رحمة الرحمن کو بحیثیت مفتی کس طور پر جانتے ہیں؟ اور آپ نے بطور مفتی اغیار کے اعتراضات کا جواب کن کن ذرائع سے دیا ہے؟ راقم الحروف سوالان مذکوران کا جواب مضمون ہذا میں سپرد قرطاس کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
پیارے ذی وقار قارئین! لفظ فتویٰ قرآن پاک میں بھی مختلف انداز سے بیان ہوا ہے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو فتویٰ دیتا ہے۔ [النساء: 176]
ایسا ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فتوے کا اجرا فرمایا تو اس لحاظ سے بلفظ دیگر یہ کہنا بھی درست ہو جائے گا کہ فتویٰ دینا نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی سنت ہے۔ مفتیوں کی بنیادی ذمہ داری اپنے دور کے تمام مسائل کو مد نظر رکھ کر شریعت کا حکم بیان کرنا ہے۔ اب اگر اسی تناظر میں امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا کا تذکرہ کریں تو ہر ارباب علم و دانش کا دل بے قرار ہو کر بذریعہ زبان یہ کہنے پر مجبور ہو جایا کرتی ہے:
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دئے ہیں
امام اہل سنت نے جس بھی فن میں قلم اٹھایا، اس فن کے تمام اسرار و رموز کو عیاں کر کے علی وجہ الاکمل کمال کے درجے پر فائز فرما دیا۔ اور علی وجہ الاکمل ہو بھی کیوں نہ کہ آپ ہیں بھی تو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت ہیں۔ یوں تو فتویٰ نویسی ایک بہت ہی اہم اور پرخطر ذمہ داری ہے یہ ذمہ داری اس شخص کو ہی سونپی جاتی ہے جو اس میدان کا اہل بھی ہو، عرصۂ دراز تک کسی ماہر حاذق مفتی کی صحبت میں فتویٰ نویسی کرتا رہا ہو۔ مگر قربان جایئے امام اہل سنت کی ذہانت و فقاہت پر کہ آپ بچپن میں ہی اتنے ذہین و فطین تھے کہ فقط 13 سال کی عمر سے ہی فتویٰ نویسی کا یہ عظیم الشان کام انجام دینے لگے۔ اور آپ رحمة الله عليه کے والد محترم کے انتقال کے بعد باضابطہ طور سے مسند افتاء پر فائز ہوگئے۔ اور اپنی حیات میں 54 سال تک اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ مرجع خلائق رہے۔ آپ ہی کی شان ہے کہ ایک وقت میں کئی کئی استفتاء آتے اور آپ ان سب کا بیک وقت جواب دیا کرتے تھے۔ آپ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ:
”فقیر کے یہاں علاوہ دیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے اس درجے فتوے ہیں کہ دس مفتیوں کے کام سے بھی زائد ہیں۔“ [جہان امام احمد رضا، ج: 11، ص: 150]
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام اہل سنت نے ایک مفتی ہونے کی حیثیت سے درجنوں مسائل کا حل بطریق اتم عطا فرمایا۔ آپ کا مجموعہ فتاویٰ فقہ اسلامی کا ایک ایسا عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے جس کا نام العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ہے، اس میں آپ نے اپنے علم کا وہ دریا بہایا جسے دیکھ نہ فقط اپنے بلکہ اغیار بھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں: واہ امام کیا شان ہے تیری، بلکہ اے امام احمد رضا تیری ذات ہی عدیم المثال ہے۔
چنانچہ ہندوستان کا مشہور عالم شہرت یافتہ علمی مجلہ معارف اعظم گڑھ جب آپ کے فتاویٰ رضویہ کا ایک فتویٰ کا مطالعہ فرمایا تو آپ فرماتے ہیں: دینی علوم خصوصاً فقہ و حدیث پر ان کی نظر وسیع اور گہری تھی امام احمد رضا جس انداز میں استفتاؤں کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں اس سے ان کی جامعیت علمی، بصیرت فقہ، جزرسی، اور اس کی باریک ذہانت، طباعی کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے، ان کے عالمانہ محققانہ فتوے مخالف و موافق ہر طبقے کے مطالعہ کے لائق ہیں۔
اسی طرح شیخ ابوالخطح ابو غزا نے صرف ایک عربی فتویٰ پڑھا تو آپ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا: ”عربی کی روانی اور کتاب و سنت و احوال سلف سے دلائل کے انبار دیکھ کر میں حیران ہو گیا اور ششدر رہ گیا اور بس ایک فتویٰ کے مطالعہ کے بعد میں نے یہ رائے قائم کر لی کہ یہ شخص کوئی زبردست عالم اور اپنے وقت کا زبردست فقیہ ہے۔“ [جہان امام احمد رضا]
یہ تو فقط ایک فتویٰ پڑھنے والے کا کہنا ہے، مگر جنہوں نے آپ کے کئی فتاویٰ جات کو پڑھا تو وہ بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہو کر رہ گیا۔ اور بے ساختہ کہہ اٹھا:
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
آپ رحمة الله تعالى عليه کی فقاہت و ذہانت آپ کے ہر ہر فن، فقہ ہو یا حدیث، تفسیر ہو یا ترجمہ قرآن، سے روز روشن کی طرح واضح و عیاں اور ظاہر و باہر ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کے فتویٰ جات ہوں یا رسائل، اس میں آپ نے دلائل کے وہ انبار بکھیرے ہیں کہ گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ اپنے دور کے محقق علی الاطلاق ہیں۔ جب آپ رحمة الله عليه نے سماع موت کے مسئلے پر قلم اٹھایا تو آپ نے اس موضوع پر ایک کتاب ہی مرتب فرمائی جس کا نام ”حیات الموات فی سماع الاموات“ رکھا۔ جس میں آپ نے تقریباً 365 ادلہ سے یہ بات ثابت فرمائی کہ دنیا سے رخصت ہونے والے محض پتھر نہیں بن جاتے، بلکہ وہ جانتے، دیکھتے اور سنتے بھی ہیں، اس موضوع پر جہاں آپ نے آیت کریمہ شریفہ پیش فرمائی وہیں صحابۂ متقدمین و متاخرین کے اقوال کا ایسا ذخیرہ جمع فرما دیا کہ دوسری کتابوں میں اس کی عشر عشیر بھی نہیں ملتی۔ اسی طرح آپ رحمة الله عليه سے علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سوال ہوا تو آپ رحمة الله عليه نے ایک پوری کتاب ”انباء المصطفیٰ بحال سر و خفا“ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینا پوشیدہ کی اور پوشیدہ ترین کی، تحریر فرما دیا۔ اور اس میں بھی اس قدر ادلہ جمع فرمائے جو عقل و خرد سے بالا تر ہیں۔ گویا کہ یوں لگتا ہے کہ آپ منبع دلائل ہیں۔ ایسے ایسے فتوے دیے جن سے بہیترے لوگ قاصر ہیں، مگر جب آپ نے اپنے قلم کو اس موضوع پر اٹھایا تو آپ نے ان اعتراضات کے جوابات عطا فرمائے کہ لگتا تھا کہ آپ اپنے دور کے امام اعظم ہیں۔ بہر کیف کیسے بیان ہوں آپ کے اوصاف کریمہ:
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہو
