| عنوان: | ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر ساحل سہسرامی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائیں اور خصائص بھی منقول ہیں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کے بعد یہ دعا مانگتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا
اے اللہ تجھ سے میں نفع بخش علم، مقبول عمل اور پاکیزہ رزق مانگتا ہوں۔ [مسند احمد، ۷ / ۴۸، حدیث ۲۵۹۸۲]
قصۂ فاطمہ کی روایت بھی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں، حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی مشقت خیزی کا شکوہ لے کر حاضر ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بخدا چکی سے بار بار آٹا پیس کر میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں، کبھی آٹا پیستی ہوں اور کبھی اسے گوندھتی ہوں،“ اللہ کے مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اللہ کو اگر تمہیں سہولت دینی ہوگی تو تمہیں مل کر رہے گی، البتہ اس وقت میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں، جب تم اپنے بستر پر سونے کے لئے لیٹا کرو تو سُبْحَانَ اللَّهِ ۳۳ بار، الْحَمْدُ لِلَّهِ ۳۳ بار اور اللَّهُ أَكْبَرُ ۳۴ بار پڑھ لیا کرو۔ یہ کلمات سو کی تعداد میں ہو گئے، یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہیں اور جب نمازِ صبح پڑھو تو دس مرتبہ نمازِ فجر کے بعد اور دس مرتبہ نمازِ مغرب کے بعد یہ کلماتِ کریمہ ادا کیا کرو:“
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”ان میں سے ہر کلمہ کے بدلے تمہارے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا ثواب اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا اور شرک کے علاوہ اس دن ہونے والا کوئی گناہ قابلِ مواخذہ نہ ہوگا۔ یعنی معاف کر دیا جائے گا اور صبح جس وقت یہ کلمات کہو گی اس وقت سے شام تک ہر شیطان اور برائی سے یہ کلمات تمہاری حفاظت کا سامان بن جائیں گے، یونہی شام کو کہو گی تو صبح تک حفاظت رہے گی۔“ [مسند احمد ۴۲۳/۷/ ۴۲۴، حدیث ۲۶۰۱۱]
ام المومنین حضرت ام سلمہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرماتے:
اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
اے اللہ دلوں کے پلٹنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھ۔
فرماتی ہیں: ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دل بھی پلٹتے ہیں؟“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا، اس کا دل اللہ کے دستِ قدرت میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے تو وہ اسے دوست رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے کج کر دیتا ہے تو ہم اپنے رب اللہ سے سوالی ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت یاب کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچائے اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کرے۔ بے شک وہ ہے بڑا دینے والا۔“
ام المومنین فرماتی ہیں: ”میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم نہ فرمائیں گے جسے میں اپنے حق میں مانگا کروں؟“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں کیوں نہیں تم یوں عرض کیا کرو:“
اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا
اے اللہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار! میری خاطر میرے گناہ بخش دے، میرے دل کی رنجیدگی دور فرما دے اور تاحیات ہر گمراہ کن فتنے سے میری حفاظت فرما۔ [مسند احمد ۴۲۸/۷، حدیث ۲۶۰۳۶]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ [مسند احمد ۴۳۰/۷، حدیث ۲۶۰۵۱]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کاشانۂ اقدس سے نکلتے تو یہ دعا فرماتے:
بِاسْمِكَ رَبِّي إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ
اے میرے رب! تیرے نام سے آغاز کرتا ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں لغزش کھا جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں یا ظلم ڈھانے لگوں یا کوئی مجھ پر ستم رانی کرے یا میں نادانی کا مظاہرہ کروں یا کوئی مجھ سے جہالت سے پیش آئے۔ [مسند احمد ۷ / ۴۴۹، حدیث ۲۶۱۶۴]
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی اسرار و معمولات کا شاہد حضرات امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے جن کی نگاہوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوت و خلوت کے اسرار عیاں تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے علم و فہم و تدبیر و بصیرت، تفقہ اور دانش وری کی بدولت ان میں خصوصی امتیاز حاصل تھا اور ان دونوں حضرات کو بہت طویل عمر بھی بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی۔ اس لئے امتِ محمدیہ کو ان پاک جانوں اور محرمانِ بارگاہِ رسالت سے بہت سارے اسرار و رموزِ محمدی کی دولت حاصل ہوئی، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی ایسی چند روایات ملتی ہیں، معمولات و خصائصِ رسول بیاں ہوئے ہیں۔
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب تھا؟ فرمایا: ”جو عمل ہمیشہ ہو اگر چہ تھوڑا ہو۔“ [مسند احمد ۴۱۱/۷ حدیث ۲۵۹۴۰]
ہنیدہ خزاعی کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہر مہینہ میں تین دن روزے کی ہدایت فرماتے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا، دوسرا جمعرات اور تیسرا جمعہ کو۔“ [مسند احمد ۴۱۱/۷ حدیث ۲۵۹۴۱]
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی:
الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
نماز کا خوب خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ [مسند احمد ۴۱۲/۷ حدیث ۲۵۹۴۲]
حضرت کبشہ بنت مریم فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے عرض کی: ”آپ مجھے بتائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ خانہ کو خاص طور سے کس چیز سے منع فرمایا؟“ ام المومنین نے فرمایا کہ: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھجور کو اتنا پکانے سے منع فرمایا تھا کہ اس کی گٹھلی بھی گل جائے اور اس بات سے بھی کہ ہم کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنائیں۔“ (کہ ان دونوں حالتوں میں نشہ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے) [مسند احمد ۷ / ۴۱۵ حدیث ۲۵۹۶۶]
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری نشست گاہ کو خوب صاف ستھرا کر دو کیوں کہ اس زمین پر ایسا فرشتہ اترنے والا ہے جو پہلے کبھی نہیں اترا۔“ [مسند احمد ۷ / ۴۴۰ حدیث ۲۵۹۹۶]
حضرت یعلی بن مملک نے ام المومنین حضرت ام سلمہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شبینہ نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد اللہ کی تسبیح بیان فرماتے پھر اس کے بعد جتنا منظور ہوتا نفل نماز ادا فرماتے پھر لوٹ کر بستر پر اسی مقدار وقت تک محوِ خواب رہتے پھر نیند سے بیدار ہو کر جتنی دیر سوئے تھے اتنی دیر تک نمازیں ادا فرماتے آپ کی آخری نفل نماز صبح کے آغاز تک ہوتی۔“ [مسند احمد ۴۲۳/۷ حدیث ۲۶۰۰۷]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اقدس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں کی نسبت سنیچر اور اتوار کو زیادہ روزے رکھتے تھے فرماتے: ”یہ دونوں دن مشرکین کی عید کے دن ہیں، تو مجھے پسند ہے کہ میں ان کے خلاف عمل کروں۔“ [مسند احمد ۴۵۶/۷ حدیث ۲۶۲۱۰]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ”قمیص سے زیادہ کوئی لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہیں تھا۔“ [مسند احمد ۷ / ۴۲۴ حدیث ۲۶۱۵۵]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر تجارت کے سلسلے میں بصرہ کی طرف وارد ہوئے، ان کے ساتھ دو بدری صحابی حضرت نعیمان اور سویبط بن حرملہ بھی تھے۔ زادِ راہ کے نگراں سویبط تھے، ایک موقع پر نعیمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دے دو۔ سویبط نے کہا: ”ابھی نہیں جب تک حضرت صدیق اکبر نہ آ جائیں۔“ نعیمان بہت ہنس مکھ اور بذلہ سنج تھے، انہوں نے کہا: ”میں بھی تمہیں طیش دلا کر چھوڑوں گا۔“ پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس گئے جو دوسرے ممالک سے سواریوں پر سامان لاد کر لا رہے تھے، ان سے کہا: ”مجھ سے غلام خریدو گے جو عربی نسل، ہوشیار، زبان آور ہے؟ ہو سکتا ہے وہ یہ کہے کہ میں آزاد ہوں، اگر صرف اس کے کہنے سے تم اسے چھوڑنا چاہو تو ابھی بتا دو، میرے غلام کو میرے خلاف نہ کر دینا۔“ انہوں نے کہا: ”ہم اسے دس اونٹوں کے بدلے آپ سے خریدتے ہیں۔“ وہ ان اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے آئے ساتھ میں ان کے آدمی بھی تھے، جب اونٹوں کو رسیوں سے باندھ دیا تو نعیمان کہنے لگے: ”یہ رہا وہ غلام۔“ لوگ آگے بڑھ کر سویبط سے کہنے لگے کہ ہم نے تمہیں خرید لیا ہے، سویبط نے کہا: ”ارے وہ جھوٹ بول رہا ہے، میں مردِ آزاد ہوں۔“ ان لوگوں نے کہا: ”تمہارے آقا نے پہلے ہی تمہارے متعلق بتا دیا تھا۔“ اور یہ کہہ کر ان کی گردن میں رسی ڈال دی اور انہیں لے گئے۔ ادھر حضرت ابو بکر واپس تشریف لائے تو انہیں اس واقعہ کی خبر ہوئی۔ وہ کچھ احباب کے ساتھ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور اونٹ انہیں لوٹا کر سویبط کو واپس لے آئے۔ اس واقعہ پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ایک سال تک ہنسی آتی رہی۔ [مسند احمد ۴۴۶/۷ حدیث ۲۶۱۴۷]
حضرات امہات المومنین شریعت کے نسائی احکام جاننے کا اہم ذریعہ تھیں، کیوں کہ حضرات صحابیات ان مسائل کو براہِ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں حیا فرماتیں ایسے کئی مسائل و احکام ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے توسط سے اہلِ اسلام تک پہنچے۔ یہ چند روایات پیش کرتا ہوں:
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ام سلیم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ حق بیان فرمانے سے حیا نہیں فرماتا کیا عورت پر بھی غسل لازم ہے جب اسے احتلام ہو جائے؟“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ تری دیکھے۔“ حضرت ام سلمہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: ”کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟“ تو حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو بچہ کس وجہ سے مشابہ ہوتا ہے۔“ [مسند احمد ۴۴۶/۷ حدیث ۲۶۱۴۷]
[ماخوذ از: سنی دنیا بریلی شریف مئی ۲۰۲۴ء ص ۴۸]
