| عنوان: | اہل حدیث اور شیعہ مذہب کے فقہی مسائل |
|---|---|
| تحریر: | محمد یحییٰ انصاری اشرفی |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
شیعہ مذہب کے مسائل:
۱۔ ایک بڑے مٹکے میں کتے کے پیشاب وغیرہ کرنے سے وہ پانی پاک ہی رہتا ہے۔ (فروع کافی جلد سوم، کتاب الطہارۃ)
۲۔ قے، زرد پانی اور کچلو بھی پاک ہے۔ (المبسوط، ص ۲۸)
۳۔ پاخانہ کا بھرا ہوا ٹوکرا اگر کنوئیں میں گر جائے تو کنواں پاک ہی رہتا ہے۔ (استبصار، وسائل الشیعہ)
۴۔ اگر کنوئیں میں خون و شراب یا خنزیر گر پڑے تو بیس ڈول نکال لینے سے پانی پاک ہو جاتا ہے۔ (تہذیب الاحکام، وسائل الشیعہ)
۵۔ تھوک سے استنجاء جائز ہے۔ (فروع کافی، جلد ۳)
۶۔ خنزیر کے کھال سے بنے ہوئے ڈول سے نکالا گیا پانی پاک ہے۔ (فروع کافی جلد ۳، وسائل الشیعہ)
۷۔ جس پانی سے استنجاء کیا گیا وہ استعمال شدہ پانی بھی پاک ہے۔ (تحریر الوسیلہ، جلد اول)
۸۔ استنجاء میں استعمال شدہ پانی اگر کپڑے پر گر پڑے تو کپڑا ناپاک نہیں ہوتا۔ (وسائل الشیعہ)
۹۔ گدھے اور خچر کا بول اور لید (پاخانہ و پیشاب) ناپاک نہیں ہے۔ (المبسوط، کتاب الطہارۃ)
۱۰۔ مذی اور ودی دونوں پاک ہے۔ اگر جسم پر یا کپڑے پر لگ جائے تو اس کا دھونا اور دور کرنا ضروری نہیں ہے۔ (المبسوط، مذاہب الخمسہ)
۱۱۔ دورانِ نماز اگر مذی یا ودی نکل کر ایڑیوں تک بہہ جائے تو اس سے نہ نماز ٹوٹی اور نہ وضو گیا۔ (فروع کافی، جلد سوم)
۱۲۔ جنابت کے غسل کے لیے استعمال شدہ پانی پاک ہے۔ (المبسوط، جلد اول)
۱۳۔ ہوا خارج ہونے سے اس وقت وضو جاتا ہے جب اس کی آواز پیدا ہو یا بو ناک میں چڑھے۔ (فروع کافی، وسائل الشیعہ)
۱۴۔ ران کا پردہ نہیں۔ (من لا یحضرہ الفقیہ)
۱۵۔ عورت کی دبر میں وطی کرنے سے نہ اس کا روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ غسل کا وجوب۔ (وسائل الشیعہ، تہذیب الاحکام)
۱۶۔ خون اور پیپ وغیرہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (الفقہ علی المذاہب الخمسہ)
۱۷۔ اڑنے والے تمام جانوروں کی بیٹ پاک ہے نیز حلال جانوروں اور چوپایوں کا گوبر و پیشاب پاک ہے۔ (الفقہ علی مذاہب الخمسہ)
۱۸۔ سجدۂ تلاوت کے لیے وضو کی ضرورت نہیں ہے۔ (الفقہ علی المذاہب الخمسہ)
۱۹۔ پکی ہوئی ہڈیاں میں مرا ہوا چوہا ملے تو شوربا گرا دو اور بوٹیوں کو کھا جاؤ۔ (وسائل الشیعہ، فروع کافی)
۲۰۔ ہر حیوان بلکہ کتا اور خنزیر جب تک زندہ ہے پاک ہے۔ (المبسوط)
۲۱۔ جنبی (حالتِ ناپاکی) کی اذان بلا کراہت جائز ہے۔ (تہذیب الاحکام، وسائل الشیعہ)
۲۲۔ دورانِ نماز بچے کو دودھ پلانے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ (وسائل الشیعہ)
۲۳۔ دورانِ نماز بیوی یا لونڈی کو سینے سے لگانا جائز ہے۔ (وسائل الشیعہ)
۲۴۔ دورانِ نماز آلۂ تناسل سے دل بہلانا جائز ہے۔ (وسائل الشیعہ، جلد چہارم)
۲۵۔ نجس ٹوپی اور موزہ پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز ہے۔ (المبسوط)
۲۶۔ سونے چاندی پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ (وسائل الشیعہ)
۲۷۔ عورت کے ساتھ دبر میں وطی کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (وسائل الشیعہ)
۲۸۔ وطی فی الدبر جائز ہے۔ (وسائل الشیعہ، تہذیب الاحکام)
۲۹۔ گھوڑے کا گوشت کھانا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (تہذیب الاحکام، وسائل الشیعہ)
۳۰۔ کوا کھانا حلال ہے۔ (تہذیب الاحکام، وسائل الشیعہ)
۳۱۔ گدھا حلال ہے۔ (وسائل الشیعہ)
۳۲۔ سنی کی دکان سے خریدا ہوا گوشت خنزیر سے زیادہ حرام ہے۔ (تہذیب الاحکام، وسائل الشیعہ)
اہل حدیث مذہب کے فقہی مسائل:
مذہبِ شیعہ اور مذہبِ اہلِ حدیث میں عقائد کے ساتھ ساتھ فقہی مسائل میں بھی بہت توافق و یکسانیت ہے۔ شیعوں اور اہلِ حدیث مذہب کے فقہی مسائل کے موازنہ سے یہ واضح ہو جائے گا کہ دونوں فرقوں میں کس قدر ہم آہنگی ہے:
۱۔ پانی میں نجاست پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا خواہ وہ نجاست آدمی کا پاخانہ، پیشاب ہو یا جانور کا یا شراب ہو یا سور کا گوشت ہو یا اس کا خون ہو یا کتے کا لعاب ہو یا اس کے بدن کی کوئی نجاست ہو۔ (عرف الجاوی)
۲۔ کتا کا کنوئیں میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ (فتاویٰ نزیریہ)
۳۔ آدمی کا پیشاب پاخانہ اصلاً پاک ہے۔ (عرف الجاوی)
۴۔ کتوں کا پیشاب نجس نہیں ہے۔ (ہدایۃ المہدی)
۵۔ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے۔ (تحفہ جلد ۱ ص ۷۸)
۶۔ نجس چیز پر ناپاکی کا اثر نہ ہو تو پاک ہے۔ (کنز الحقائق)
۷۔ منی پاک ہے۔ (بدور الاہلہ)
۸۔ عورت کے شرمگاہ کی رطوبت بھی پاک ہے۔ (فقہ محمدیہ کلاں)
۹۔ غلے اگر پیشاب میں پڑے رہے اور وہ پھول بھی جائیں، اور اس کو پانی میں ڈبو دیا جائے اور خشک کر لیا جائے تو وہ پاک ہوگا۔ (نزل الابرار)
۱۰۔ نجاست سے رنگا گیا کپڑا پاک ہے۔ (نزل الابرار)
۱۱۔ خون پیپ اور قے پاک ہے۔ (نزل الابرار)
۱۲۔ شرابی کا جھوٹا پاک ہے۔ (نزل الابرار)
۱۳۔ کنوئیں میں نجاست، خون اور جانور گر کر پھول اور پھٹ جائے تو اس کنوئیں کا پانی پاک ہے۔ (نزل الابرار)
۱۴۔ چوہا شراب میں پڑ جائے پھر وہ شراب سرکہ بن جائے تو سرکہ پاک ہے۔ (نزل الابرار)
۱۵۔ شراب سے بنی ہوئی خوشبودار چیزیں پاک ہیں ان کا کھانا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ (نزل الابرار)
۱۶۔ کتے اور خنزیر کا جھوٹا پاک ہے۔ (ہدیۃ المہدی)
۱۷۔ خونِ خنزیر اور شراب پاک ہے۔ (عرف الجاوی)
۱۸۔ خون اور قے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (عرف الجاوی)
۱۹۔ سجدۂ تلاوت کے لیے وضو ضروری نہیں، بلا وضو بھی جائز ہے۔ (کنز الحقائق)
۲۰۔ جنبی (حالتِ ناپاکی میں) اذان دے سکتا ہے۔ (عرف الجاوی)
۲۱۔ کتے کو اٹھا کر نماز پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (نزل الابرار)
۲۲۔ اموالِ تجارت میں زکوٰۃ نہیں۔ (عرف الجاوی)
۲۳۔ ماں باپ اور اولاد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ (عرف الجاوی)
۲۴۔ ایک بکری کی قربانی سب کے لیے کافی ہوگی اگرچہ سو آدمی ایک مکان میں ہوں۔ (بدور الاہلہ)
۲۷۔ نکاح میں گواہ کی ضرورت نہیں، بلا گواہ بھی نکاح درست ہے۔ (عرف الجاوی)
۲۸۔ شراب ملی ہوئی دوائیں جائز ہیں۔ (کنز الحقائق)
۲۹۔ شراب سے گندھا ہوا آٹا اور اس سے پکی ہوئی روٹی کھانا جائز ہے۔ (کنز الحقائق)
۳۰۔ پانی میں مرنے والی مچھلی کھانا حلال ہے۔ (کنز الحقائق)
۳۱۔ چوہے کا پاخانہ اگر روٹی کے بیچ پایا گیا ہو تو اس کو کھانا جائز ہے۔ (کنز الحقائق)
۳۲۔ سڑا گوشت، چربی اور بدبودار کھانا جائز ہے۔
۳۳۔ گھوڑا حلال ہے۔ (صحیفہ اہلِ حدیث)
۳۴۔ ہاتھی اور خچر کھانا حلال ہے۔ (کنز الحقائق)
۳۵۔ کافر کا ذبیحہ حلال ہے۔ (کنز الحقائق)
۳۶۔ سب دریائی جانور حلال ہیں یہاں تک کہ کتا، خنزیر اور سانپ بھی حلال ہیں۔ (نیل الاوطار)
۳۷۔ کچھوا، کیکڑا، گھونگھا حلال ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ)
۳۸۔ جنگلی گدھا حلال ہے۔ (فتاویٰ محمدیہ)
۳۹۔ عورت کی دبر میں وطی کرنے سے نہ اس کا روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ ہی اس پر غسل کا وجوب۔ (کنز الحقائق)
۴۰۔ ضب (گوہ / سوسمار) حلال ہے۔ (صحیفہ اہلِ حدیث)
اللہ تعالیٰ نے ان کو دراصل یہ سزا دی ہے کہ ان جانوروں کا گوشت خوب کھائیں مگر وہ متبرک کھانا جس پر قرآن شریف یا درود شریف پڑھا گیا ہو وہ کھانا ان کو نصیب نہ ہو۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ کھانا متبرک کھانا حرام ہے۔ جن لوگوں کے نزدیک ایصالِ ثواب کی غرض سے دی ہوئی بزرگوں کی فاتحہ اور نیاز حرام ہے اور کتے خنزیر منی مردار جانور وغیرہ ان کے لیے حلال ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ کریم تمام اہلِ اسلام کو حق پر قائم رکھے اور جمہور علماء و امت کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ابن تیمیہ اور اس کی پیروی کرنے والے اہلِ حدیث کے فتنے سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
ماخوذ از: اہل حدیث اور شیعہ مذہب، ص ۲۹
