| عنوان: | آپ کے پاس جو ہے اسے غنیمت جانو |
|---|---|
| تحریر: | خوشبو فاطمہ قادریہ |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
کچھ وقت، کچھ لمحے، کچھ لوگ زندگی میں ایسے بھی آتے ہیں جو ہمیں بہت کچھ سکھا جاتے ہیں۔ یہ زندگی کے وہ اہم ترین مرحلے ہوتے ہیں جو ہمیں پوری زندگی کا سبق سکھا جاتے ہیں۔
ہم نے زندگی سے اتنا سیکھا ہے کہ جو بھی لوگ آپ سے وابستہ ہیں، جو لمحے، جو قدر، جو بھروسہ آپ نے دیا ہے اس کے بدلے میں آپ کو ضرور کچھ درس حاصل ہوگا۔
جو آپ کے لیے بہتر نہیں وہ اللہ کریم کے فضل سے ضرور آپ سے دور چلی جائے گی۔ اور جو آپ کے پاس بچا ہے وہ آپ کے لیے ہی ہے۔ اور جو نہیں ہے وہ آپ کے لیے بہترین ہے کیونکہ وہ آپ کے حق میں بہتر تھی ہی نہیں جس میں اللہ کریم کی عظیم حکمت ہے، جو وہی بہتر جانتا ہے۔
اور یہ ہم ضرور محسوس کر رہے ہیں آج ہماری والدہ ہمارے ساتھ ہیں وہ ہمارے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت و نعمت ہیں۔ جس کا میں رب العالمین سے اس نعمت کا پوری زندگی بھی شکر کروں تب بھی کم ہے۔
یقین جانیں آپ کے پاس جو ہے آج اسے غنیمت جانیں۔ مال و دولت ہی مالداری نہیں؛ بلکہ آپ کے پاس جو وقت بچا ہے وہ بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے، آپ کے پاس جو علم ہے، آپ کے پاس والدین ہیں، آپ کے پاس سچی پکی دین کی عقیدت ہے، آپ کے پاس عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ بھی دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔
حدیث شریف:
وعن شداد بن أوس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في صلاته: اللهم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم. رواه النسائي وروى أحمد نحوه
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یوں فرماتے تھے الٰہی میں تجھ سے دین میں استقامت اور ہدایت پر مضبوطی مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری نعمت کا شکر اور تیری اچھی عبادت مانگتا ہوں اور تجھ سے سلامت دل اور سچی زبان مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے اور اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے اور اس سے بخشش مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے۔ [نسائی / ابو داؤد / مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 2، حدیث نمبر: 955]
یہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے اور رب کریم کا کروڑ ہا شکر ہے، ہمارے پاس جو بھی ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔
ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے راضی رہنا ہماری خیر ہے۔ آپ امیر ہیں، وہ بھی اللہ کی رضا سے۔ غریب ہیں وہ بھی اللہ کی رضا سے。
اسی لیے ہمیں شکر کی دولت اپنے دل میں بسا لینی چاہیے تو ہمارے معاشرے کے کافی مسئلے حل ہو جائیں گے۔
اللہ کریم بھی شکر کرنے والے دل اور ذکر والی زبان کو پسند کرتا ہے۔ تو کیوں نہ ہم بھی اسی کی پسند کو اپنی پسند بنائیں۔
شکر سے نعمت بڑھتی ہے
آپ کے پاس علم دین سیکھنے کا جذبہ ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ آپ علم پر شکر کریں گے آپ کے پاس علم کی دولت بڑھے گی۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا، آپ کے پاس اتنا علم کیسے آیا؟ انہوں نے جواب دیا، میں جو بھی علم سیکھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں۔
اتنے بڑے فقہ کے امام ہمیں شکر کا درس دیتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر ایک نعمت پر اللہ کا شکر کریں۔
ایک بار غور و فکر کریں ابھی آپ سانس آسانی سے لے رہے ہیں اسے بھی غنیمت جانیں کیونکہ کتنے لوگ سانس لینے کے محتاج ہیں۔ سانس لینے کے لیے بناوٹی آکسیجن لے رہے ہیں اسپتال میں۔ اس کی قیمت بھی چکاتے ہیں، اور ہم وہ بنا کسی اجرت کے سانس لے رہے ہیں۔ یہ اللہ کا شکر ہے۔
یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ ہمارے پاس رب کی بڑی نعمتیں موجود ہیں۔ اس ایک نعمت کا ہم پوری زندگی شکر بجا لائیں تب بھی اللہ کی اس ایک نعمت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ تو کیوں نہ ہم ہر حال میں، ہر رنج میں، تکلیف میں بھی اس کا شکر کریں۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ اس کی ہر شے میں ہماری ہی بھلائی ہے۔
آئیے! آج سے ہمارا نظریہ بدلیں۔ اپنے خیالات میں مثبت تبدیلی لائیں اور ہمارے معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ ہمارے دل میں شکر کی نعمت بسا لیں تاکہ ہم آسانی سے زندگی گزار سکیں۔ اوروں سے مسابقت کرنے سے اپنے آپ کو روکیں اور اپنے اندر کے سکون کو پا سکیں۔
آپ کے پاس جو ہے اسے غنیمت جانیں اور جو نہیں ہے اسے اور بھی غنیمت جانیں۔
آخر میں اللہ سے دعا ہے:
اللهم أعني على تلاوة القرآن وذكرك وشكرك وحسن عبادتك.
ترجمہ: اے اللہ! قرآن کی تلاوت، اور اپنے ذکر و شکر اور اچھی عبادت پر ہماری مدد فرما۔ آمین ثم آمین۔
اللہ کریم ہمیں شکر گزار بندوں میں شمار فرمائے آمین یارب العالمین۔
