| عنوان: | آنکھوں کی خیانت: بدنگاہی کی مذمت اور بچاؤ |
|---|---|
| تحریر: | انس احمد خان العطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
بد قسمتی سے آج ایسا دور آ گیا ہے کہ جس طرف بھی دیکھو بے حیائی، بے پردگی، فحاشی اور بالخصوص بد نگاہی کے گناہوں کا بازار گرم ہے اور ان گناہوں میں مسلم نوجوانوں کی اکثریت مبتلا ہے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد آج راستوں، بازاروں، چوکوں اور محلے کی گلیوں میں صرف اس لیے کھڑی ہوتی ہے کہ نامحرم عورتوں کو دیکھے اور اس کے حسن و جمال سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے، اور اللہ کی پناہ! فی زمانہ حال یہ ہے کہ موبائل فون پر سوشل میڈیا کے ذریعے شب و روز نامحرم عورتوں کو دیکھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس میں بچے، بڑے، جوان، بوڑھے، مرد و عورت، ہر طرح کے افراد ملوث ہوتے ہیں۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ گناہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ اس گناہ کو معیوب و برا ہی تصور نہیں کرتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اس کے برخلاف ہے اور ہمارے اسلاف و بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم کا طرزِ عمل اس معاملے میں ہمیں کچھ اور درس دیتا ہے۔ انھیں چیزوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آنکھوں کی خیانت، نامحرم عورتوں کو دیکھنے اور بدنگاہی کرنے کے متعلق قرآن و حدیث نے ہمیں کیا حکم دیا ہے۔
قرآنی احکامات
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمان مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیتے ہوئے سورۃ النور میں ارشاد فرمایا:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
ترجمہ کنز العرفان: مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔ [النور: ۳۰]
اس آیتِ کریمہ میں مسلمان مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور جس چیز کو دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھا کرے کیونکہ یہ طریقہ گناہ کے میل کے مقابلے میں بہت زیادہ پاکیزہ ہے۔
مزید اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ
ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ [المؤمن: ۱۹]
اس آیتِ کریمہ میں ”آنکھوں کی خیانت“ سے مراد چوری چھپے نامحرم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے، اور ”سینوں میں چھپی چیز“ سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے۔ یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ترغیب و تہیب
کثیر احادیث میں بھی مسلمان مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے:
(۱) راستے کا حق: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راستے میں بیٹھو تو اپنی نگاہیں نیچے رکھو“ (وَغَضُّوْا أَبْصَارَكُمْ)۔ چونکہ راستے سے اجنبیہ عورتیں بھی گزرتی ہیں، اس لیے بیٹھنے والے پر واجب ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں پر نظر نہ ڈالے۔
(۲) جنت کی ضمانت: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہو جاؤ تو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں“۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: ”اپنی نگاہیں نیچی رکھو“۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آنکھ دل کا جھروکہ ہے، نگاہ پڑنے ہی سے دل میں نیکی یا بدی کا خیال آتا ہے۔
(۳) عبادت کی لذت: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی مسلم نہیں جو اچانک کسی عورت کی خوبیاں پہلی بار دیکھے اور فوراً اپنی نگاہ نیچی کر لے، مگر اللہ اسے ایسی عبادت عطا فرماتا ہے جس کی وہ لذت پاتا ہے“۔
سلف صالحین کا طرزِ عمل
حضرت سیدنا سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ حج کے لیے جا رہے تھے، مقامِ ابواء پر ایک دیہاتی عورت نے آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر آپ سے غلط تعلق کی خواہش ظاہر کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”تجھے شیطان نے میرے پاس بھیجا ہے“۔ یہ فرما کر آپ نے سر گھٹنوں میں رکھ لیا اور خوفِ خدا سے زار و قطار رونے لگے۔ جب عورت نے یہ تقویٰ دیکھا تو اپنا چہرہ ڈھانپ کر واپس چلی گئی۔
چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
ارے او مجرمِ بے پروا دیکھ
سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے
امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نظر جھکا کر رکھنا دل کو بہت زیادہ پاک کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے۔ الغرض! ہمیں چاہیے کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں۔ ان آنکھوں کو شوقِ زیارتِ روضۂ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم میں اشکبار کریں اور خوفِ خدا میں گریہ و زاری کے لیے استعمال کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، عشقِ رسول میں تڑپنے اور خوفِ خدا میں رونے والی آنکھ عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
