Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ماہِ محرم میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز؟

ماہِ محرم میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز؟
عنوان: ماہِ محرم میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز؟
تحریر: محمد سلمان العطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اسلامی سال کی ابتدا محرم الحرام سے ہوتی ہے، ماہ محرم الحرام اپنے اندر بے شمار فضائل و واقعات سموئے ہوئے ہیں، جس میں سے چند ذکر کیے جاتے ہیں:

  1. یکم محرم الحرام کو ہم مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، وزیرِ مصطفیٰ، ترجمانِ نبی، ہم زبانِ نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔
  2. دوم محرم الحرام کو حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا یومِ وصال ہے، جن کا مزار پر انوار بغداد شریف میں ہے۔
  3. دہم محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تخلیق فرمائی۔
  4. دہم محرم الحرام ہی کو خداوند متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی۔
  5. دہم محرم الحرام ہی کو عالم اسلام میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ”واقعۂ کربلا“ پیش آیا کہ ظالموں نے ظلم ستم کے پہاڑ توڑتے ہوئے نواسۂ رسول شہزادۂ بتول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو شہید کر دیا۔

اس ماہِ حرمت سے جہاں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ السلام کی یادگاریں وابستہ ہیں وہیں سب سے نمایاں اور دل سوز نسبت واقعۂ کربلا کی ہے، جس نے تاریخ انسانیت میں صبر، استقامت اور حق پرستی کی ایک ناقابلِ فراموش مثال قائم کی۔

عوام الناس میں بالعموم اسی واقعہ کی شہرت زیادہ ہے، چناں چہ انہی ایام میں واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ الرحمہ کی یاد میں مختلف اعمال اشغال کیے جاتے ہیں جن کے بارے میں اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ کون سا عمل جائز و درست ہے اور کون سا نہیں؟

اسی مناسبت سے یہ مختصر تحریر پیشِ خدمت ہے!

محرم الحرام میں کیا جائز ہے؟

یہ امر گوش گزار رہے کہ کسی بھی اسلامی شخصیت کی یاد منانا شریعت میں جائز ہے لیکن یاد کے نام پر گناہ کرنے کی شریعت میں بالکل بھی اجازت نہیں۔ اب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ہوں یا دوسری عظیم اسلامی شخصیتیں، ان کی یادیں منائی جائیں اور ضرور منائی جائیں۔ اور ان کی یاد کا سب سے اہم ذریعہ اور ان سے سچی و حقیقی محبت و عقیدت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے راستے پر چلا جائے ”اور ان کا راستہ اسلام ہے“، نمازوں کی پابندی کی جائے، روزے رکھے جائیں الغرض ہر وہ کام کیے جائیں جس کے کرنے کا اللہ و رسول نے حکم دیا ہے اور ہر اس کام سے اجتناب کیے جائیں جو منع کیے گئے ہیں، ان مذکورہ بالا احکام پر عمل کے ساتھ ساتھ ان کی محبت و عقیدت میں مندرجہ ذیل کام کیے جائیں تو کچھ حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہے:

  1. فاتحہ و نیاز
  2. ان کے نام سے صدقہ و خیرات
  3. ان کے نام سے کسی حاجت مند کی حاجت روائی
  4. ان کے لیے ایصال ثواب
  5. ان کا ذکر نظماً و نثراً، الغرض ہر وہ کام کریں جس کی شریعت نے اجازت عطا فرمائی ہے۔

محرم الحرام میں کیا ناجائز ہے؟

ہر وہ کام ناجائز ہے جو خلاف شرع ہو؛ مروجہ تعزیہ داری، محبت کے نام پر فتنہ و فساد کرنا۔

آج کی تعزیہ داری اور اس کے ساتھ ہونے والی تمام بدعات و خرافات و واہیات سب کے سب ناجائز و گناہ ہیں، مثلاً ماتم کرنا، تعزیوں پر چڑھاوے چڑھانا، ان کے سامنے کھانا رکھ کر وہاں فاتحہ پڑھنا، ان سے منتیں مانگنا، ان کے نیچے سے برکت حاصل کرنے کے لیے بچوں کو نکالنا، تعزیہ دیکھنے میلہ جانا، تعزیہ کو دیکھ کر جھک کر سلام کرنا، ڈھول باجے بجانا، ناچ، گانا اور قوالی کی مجلس لگانا۔

غلط فہمی کا ازالہ: اس موقع پر بعض مقامات پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر بچوں کو فقیر بنایا جاتا ہے اور اس کے گلے میں جھولی ڈال کر گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں۔

یہ ذہن نشیں رہے کہ ایسا کرنا ناجائز و گناہ ہے، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”یونہی فقیر بن کر بلا ضرورت و مجبوری بھیک مانگنا حرام ہے“ (بہت سی حدیثیں اس معنی پر ناطق ہیں) اور ایسوں کو بھیک دینا بھی حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ]

غلط فہمی کا ازالہ: محرم الحرام میں ہرے اور کالے کپڑے غم اور سوگ منانے کے لیے پہنے جاتے ہیں، جب کہ سوگ اسلام میں حرام ہے، سوگ منانے کی بعض یہ صورتیں ہیں جو فی زمانہ رائج ہیں جیسے محرم میں شروع کے دس دن کپڑے نہ بدلنا، دن میں روٹی نہ پکانا، جھاڑو نہ لگانا اور ماہ محرم میں بیاہ شادی کو برا سمجھنا۔

اسلام میں ان باتوں کی کوئی حقیقت و حیثیت نہیں اس لیے ان کاموں سے بچا جائے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے چالیسواں کی حقیقت!

اس موقع کی نسبت سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا چالیسواں بھی منایا جاتا ہے۔ اس پر غور کرنا ضروری ہے، کہ چالیسواں در اصل کسی فرد کی وفات کے چالیس دن بعد ایصالِ ثواب کی ایک شکل ہوتی ہے، جو عرفی طور پر رائج ہے، نہ کہ شریعت سے ثابت شدہ کوئی لازم عمل ہے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو صدیوں گزر چکی ہے، اس بنا پر ہر سال ان کا چالیسواں منانا نہ تو عقلی طور پر قابلِ فہم ہے، نہ ہی شرعی اصولوں سے ہم آہنگ، مزید یہ کہ اس عنوان سے جو رسمیں، جلوس، میلے اور خرافات اختیار کی جاتی ہیں، وہ اکثر ایصالِ ثواب کے مقصد سے دور اور بدعات کے قریب تر معلوم ہوتی ہیں۔

اگر واقعی کسی کو امام حسین رضی اللہ عنہ سے سچی محبت ہے تو اس کا سب سے بہتر اظہار یہ ہے کہ ان کے مشن، ان کے تقویٰ، ان کے صبر، ان کی حق گوئی اور دین اسلام پر استقامت کو اپنایا جائے، ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا جائے، قرآن خوانی، صدقہ و خیرات اور دین اسلام کی تعلیمات کو عام کیے جائیں۔

الحاصل: کسی بھی کام میں خالص عقیدت ہمیشہ سنت کے دائرے میں ہونی چاہیے تاکہ جذبۂ محبت بدعت کا روپ نہ اپنا لے، دین میں نئی راہیں ایجاد کرنا چاہے کتنی ہی نیک نیتی سے ہو اصل راہ سے ہٹنے کا سبب بن سکتا ہے، اسی لیے کوئی بھی کام کریں تو اس کو دین کے زاویے سے ضرور غور و تفکر کر لیا کریں۔

خداوند متعال ہمیں صحیح معنوں میں دین سیکھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!