Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

حضور مجاہد ملت اور فیضان بریلی شریف

حضور مجاہد ملت اور فیضان بریلی شریف
عنوان: حضور مجاہد ملت اور فیضان بریلی شریف
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: ام ماجد فاؤنڈر نالج آف اسلام

حضور مجاہد ملت ہمیشہ رضا اور خانوادۂ رضا کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے، راہ طلب میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، جذبۂ عشق کا دامن تھامے، ذوق جنوں میں ہر نشیب و فراز سے گزرتے رہے۔ آپ کا ولولہ صادق ایک دن آپ کے کام آہی گیا۔ پھر جو جلوؤں کی چاندنی کھلی ہے تو مجاہد ملت پوری زندگی اس کی روشنی میں شرابور رہے، ہر کٹھن گھڑی اور آڑے وقتوں میں بریلی کا فیضان سہارا ابلتا رہا۔ مثلاً:

  1. حضور مجاہد ملت کے بڑے بڑے کارناموں میں مسجد اعظم الہ آباد کا تحفظ بھی ہے جو ہمیشہ جلی سرخیوں میں سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا رہے گا۔ ہوا یہ کہ جناب معظم خاں صاحب مرحوم جو دور مغلیہ میں بڑے عہدے پر فائز تھے، انہوں نے سن 1118ھ میں مسجد اعظم کے نام سے ایک مسجد تعمیر کرائی، وقت کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے گئے، آخری دور میں جناب حسین خان مرحوم اس مسجد کے نگراں مقرر ہوئے، گیارہویں شریف کے موقع پر اسی میں شاندار گیارہویں کا جلسہ بھی کرتے، جس میں کافی لوگ شریک ہوا کرتے تھے، اسی دوران امپرومنٹ ٹرسٹ کی نیت خراب ہو گئی، وہ مسجد کی زمین پر قبضہ کر کے اس پر سے سڑک نکالنا چاہتی تھی، جس سے کافی الجھن پیدا ہو گئی، خان صاحب نے مجاہد ملت سے بھی رابطہ کیا اور اس طرف توجہ دلائی، اب یہاں سے مجاہد ملت کا اضطراب شروع ہوتا ہے مجاہد ملت کا جذبۂ جہاد انگڑائی لیتا ہے اور آپ اس مومنانہ جوش و خروش میں تحریک تحفظ مسجد اعظم کا صور پھونک دیتے ہیں۔ اسی دوران حضرت عین القضاۃ صاحب مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ جہاں مسجد اعظم ہے حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے ہیں، اس مبارک خواب نے مجاہد ملت کے مجاہدانہ عزائم کو اور دو آتشہ کردیا، فرماتے تھے، جس روز سے میں نے خواب کا ذکر سنا، اسی روز سے فیصلہ کر لیا کہ بہر حال اسے حاصل کرنا ہے خواہ اس کے لیے جان کی قربانی دینی پڑے رات کو شہادت کی بے پناہ خوشی اور، کل سے یہ مشن کون چلائے گا؟ کا دکھ لیے جانے کب اس مرد مجاہد کی آنکھوں نے جھپکی لی کیا دیکھتے ہیں کہ سیدی اعلیٰ حضرت قدس سره تشریف فرما ہیں اور اس جگہ کی پیمائش کر کے ارشاد فرما رہے ہیں کہ میاں یہ مسجد رہے گی تم فکر مند نہ ہو، آنکھ کھلی تو معاملہ سمجھ سے باہر تھا۔ اس لیے کہ نہ بظاہر کوئی ثبوت نہ حکومت کی طرف سے نرمی کے آثار مگر صبح کو اچانک ایسا ہوا کہ ایک مستری صاحب بانس کے چونگے میں کچھ کاغذات لیے آئے اور عرض کیا کہ حضرت! اس میں پرانے کاغذات ہیں ملاحظہ فرمائیں اگر کوئی آپ کے کام کا ہوا تو قبول فرمائیں، آپ فرماتے تھے کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس بانس کے چونگے سے اس مسجد کی زمین کے کاغذات برآمد ہوئے، جس کے بعد تمام لاینحل مسائل خود بخود آسان اور حل ہو گئے، آج اس مسجد اعظم میں حضرت کا قائم کردہ جامعہ حبیبیہ ہے جو علوم دینیہ کا شہرستان ہے، یہ کتنی واضح مثال ہے قربت اور نوازش کی کہ مسجد کی حفاظت کے لیے مجاہد ملت الہ آباد میں پریشان ہوں اور اعلیٰ حضرت ان کی پریشانی پر خاموش ہو جائیں گوارا نہ فرمایا، فوراً خواب میں تشریف لائے ڈھارس بندھائی، ہمت دلائی اور وہ انتظام فرما دیا کہ بدلے تیور دیکھتے ہی رہ گئے۔ [نوائے حبیب کا مجاہد ملت نمبر، ص: 90]
  2. حضور مجاہد ملت اپنے پیر و مرشد حضور حجت الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان عليه الرحمة کا اتنا ادب و احترام فرماتے تھے کہ زمانہ گزشتہ کے بزرگوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، خدا کرے آج کا ہر مرید ویسا ادب کرنا سیکھ جائے ایک بار حضور مجاہد ملت بریلی شریف اسٹیشن پر اعلیٰ حضرت کے محلہ سوداگران حاضر ہونے کے لیے کسی رکشہ والے سے پانچ روپیہ پر معاملہ طے کرتے ہیں، ابھی تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ کیا جی میں آیا رکشہ والے سے اس کا نام پوچھ لیا، اس نے کہا حامد رضا، جوں ہی حامد رضا آپ نے سنا بہت ہی بے قراری سے رکشہ والے سے کہا رکشہ روکو جیسے ہی رکشہ رکا تو فوراً رکشہ سے اچھل کر نیچے اتر گئے 5 روپیہ کی جگہ رکشہ والے کو دس روپیہ دیا۔ رکشہ والے کی پریشانی بڑھی۔ پوچھا حضور کیا غلطی ہوئی کہ آپ ہمارے رکشہ سے جانا نہیں چاہتے؟ فرمایا، تمہارا نام میرے پیر و مرشد کے نام پر ہے میں کیسے تمہارے رکشہ پر سواری کروں یہ میرے عشق و ادب کی توہین ہے۔ آپ کو اپنے مرشد مجاز حضور حجت الاسلام سے دیوانگی کی حد تک پیار تھا، جہاں کہیں ذکر آتا ”میرے حضور“، ”اپنے مالک“ جیسے القابات سے یاد کرتے۔
  3. حضور مجاہد ملت کی خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ تھی وہ یوں تو ہر مومن کا اکرام کرتے تھے، اگر وہ صاحب فضل و تقویٰ بھی ہو تو کیا کہنا، اور پھر وہ صاحب فضل و تقویٰ بریلی کا ہے تو ادب و تکریم کا منظر دیدنی ہوتا تھا، پھر تو ادب مجسم بن جاتے۔ جناب راز الہ بادی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ایک بار الہ آباد میں تاجدار اہلسنت، عارف باللہ حضور مفتی اعظم ہند عليه الرحمة تشریف لائے، اسٹیشن پر حضرت مجاہد ملت بہت سے مریدوں کو لے کر موجود تھے ہم لوگوں نے دیکھا کہ حضور مجاہد ملت نے حضور مفتی اعظم کی پیشانی کے بوسے لیے۔ حضرت مفتی اعظم ہند نے حضور مجاہد ملت کے سر کو لیا اور اپنے سینے سے لگالیا، لوگ عش عش کر گئے سبحان الله اتنے عظیم بزرگ اپنے بڑوں کا احترام کس طرح کرتے ہیں، ایک بار پھر الہ آباد آنا ہوا تو حضور مفتی اعظم کو اسٹیشن لینے تشریف لے گئے، جب مفتی اعظم ہند کار میں بیٹھے تو ہم لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ بھی بغل میں تشریف رکھیے وہ انکار کرنے لگے ادھر حضرت مفتی اعظم ہند قبلہ بار بار فرماتے رہے کہ مولانا میرے پاس بیٹھیے مگر وہ کہتے تھے کہ میں رکشے سے آجاؤں گا ہم لوگ اس راز کو نہ سمجھے حاجی عیدو بھائی جن کی کار تھی کہنے لگے حضرت آپ کیوں رکشے سے آئیں گے؟ کار میں جگہ ہے آپ تشریف رکھیے حضرت مجاہد ملت نے عیدو بھائی سے چپکے سے کان میں کہا کہ آپ لوگ کیا ستم کر رہے ہیں آپ مجھ کو حضرت کے بغل میں بیٹھنے کے لیے کہتے ہیں میری مجال ہے کہ ان کے کندھوں سے کندھا ملا کر بیٹھوں ہم لوگ دم بخود رہ گئے آخر کار مفتی اعظم کے خادم کو حضرت کے بغل میں بٹھایا گیا تو حضرت مجاہد ملت اس خادم کے بغل میں بیٹھے یوں تو ہر آدمی اپنے اپنے ذوق کے اعتبار سے اپنے بڑوں کا ادب کرتا ہے لیکن حضرت مجاہد ملت نے حضور مفتی اعظم کا جس انداز میں ادب فرمایا ہے ادب کی یہ تفسیر صرف حضور مجاہد ملت کی کتاب عشق میں نظر آتی ہے۔
  4. حضور مفتی اعظم تو پھر مفتی اعظم ہیں حضور مجاہد ملت حضرت تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان صاحب اظہری قبلہ دام ظلہ علینا کا اتنا ادب و احترام کرتے تھے کہ آج لوگ اپنے اساتذہ کا اتنا احترام نہیں کر پاتے، یا عشق تو جھکنا چاہتا ہے مگر عقل کسرِ شان کا فلسفہ کھڑا کر دیتی ہے اس میں اپنی خفت سمجھنے لگتے ہیں، حضور تاج الشریعہ حضور مجاہد ملت سے عمر میں ظاہر ہے کہ بہت چھوٹے تھے ان کی جوانی تھی تو حضرت کی ضعیفی و پیری مگر اس تفاوت کے باوجود حضور مجاہد ملت کا انداز وفا دیکھیے، حضور تاج الشریعہ ایک بار بھدرک تشریف لائے حضور مجاہد ملت اپنے متعلقین کے ساتھ موجود ہیں پل پل خدمت اور مدارات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اسی دوران ایک صاحب حضور مجاہد ملت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور میں آپ سے بیعت کی غرض سے آیا ہوں، حضور مجاہد ملت جلال میں آگئے اور فرمایا کہ میرے مخدوم اور مخدوم زادے بریلی شریف کے شہزادے تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی موجودگی میں میں بیعت کروں؟ حبیب الرحمن کی یہ مجال کہ اتنی بڑی جرات کرے یہ تمہارا نصیب ہے کہ حضرت تشریف فرما ہیں، تمہیں شہزادے صاحب ہی سے بیعت ہونا ہے، خود لے جا کر ان صاحب کو حضور تاج الشریعہ سے بیعت کروایا۔ یہ حضور تاج الشریعہ کا عنفوان اقبال تھا، حضور مجاہد ملت اپنی نگاہ باطنی سے حضور تاج الشریعہ کی ذات میں مستقبل کا تاج الشریعہ دیکھ رہے تھے، آج کے حالات اس کی بھر پور تائید کرتے ہیں، اس وقت عالم اسلام کے مفتیان کرام و مشائخ عظام کے جھرمٹ میں حضور تاج الشریعہ کی جو شان انفرادیت و امتیازی خصوصیت ہے اس سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس وقت تاج الشریعہ نام ہے أعلم العلماء کا، تاج الشریعہ نام ہے أفضل الفضلاء کا، تاج الشریعہ نام ہے أفقه الفقهاء کا، تاج الشریعہ نام ہے حضور مجاہد ملت کے استقامت علی الشریعہ کا، اس وقت تاج الشریعہ نام ہے نائب غوث اعظم کا اور بقول حضور امین ملت اس وقت تاج الشریعہ نام ہے مسلک اعلیٰ حضرت کا، عالم یہ ہے کہ پورے ملک میں جہاں کہیں بھی دینی اجلاس و اجتماع ہورہا ہے، تمام نعروں کے بیچ میں یہ مبنی بر حقیقت نعرہ ضرور لگ رہا ہے:

بستی بستی قریہ قریہ!
تاج الشریعہ تاج الشریعہ

مجھے بتایا جائے اوصاف مومن کامل میں اس محبوبیت کبریٰ کا تعلق کسی وصف سے ہے؟ غور کے بعد آپ بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے، جس کا اظہار میں نے کیا ہے، وہ دوسرے لوگ ہیں جو آپ کی اس نعمت عظمیٰ پر حسد کا شکار ہیں، حضور مجاہد ملت آج اگر حیات ظاہری میں ہوتے تو پھولے نہیں سماتے، دعائیں دیتے، بلائیں لیتے، میں یہ عرض کردوں کہ دھام نگر اور بریلی دو جسم ایک جان کا نام ہے، دھام نگر اگر جسم ہے تو روح بریلی شریف ہے، دھام نگر اگر دل ہے تو دھڑکن بریلی شریف ہے، دھام نگر آنکھ ہے تو روشنی بریلی شریف ہے، یہ رشتۂ محبت و عقیدت لازوال تھا، لازوال رہے گا، چاہے کوئی کچھ کہے، بریلی اور دھام نگر، دھام نگر اور بریلی کا اٹوٹ رشتہ پکار رہا ہے کہ:

نکالیں سینکڑوں نہریں کہ پانی کچھ تو کم ہوگا
مگر پھر بھی میرے دریا کی طغیانی نہیں جاتی

بجھی ہے شمع مسلم بارہا پھر جگمگائی ہے
یہ تارا ٹوٹ جاتا ہے درخشانی نہیں جاتی

یہ تھا ایک سرسری خاکہ حضور مجاہد ملت کی اعلیٰ حضرت سے قربت، حضور حجت الاسلام سے عقیدت، حضور مفتی اعظم سے محبت اور حضور تاج الشریعہ سے رضوی نسبت کا، ان شخصیتوں کے حضور کا سرکار مجاہد ملت نے احترام و اکرام تعظیم و توقیر اور ادب و لحاظ جو بے پایاں ثبوت دیا ہے، ان جواہر پاروں نے نسبتوں کا بھر پور پاس و خیال کرنے کی شاہراہ متعین کی ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا میں اب تک جس کو بھی جو کچھ بھی ملا ہے وہ ادب ہی سے ملا ہے، اور آئندہ بھی یہ سلسلہ یونہی رواں دواں رہے گا، جو با ادب ہوگا، بامراد رہے گا، اور جو بے ادب ہوگا نامراد ہی رہے گا، حضور مجاہد ملت کے عہد میں خود آپ کے معاصرین میں چندے آفتاب اور چندے ماہتاب کی کمی نہیں تھی، مگر آج حضور مجاہد ملت کا جتنا چرچا ہے، ادب و احترام کی زبان پر جس طرح آپ کا نام مصری کی ڈلی گھولتا ہے، ایسا جلوہ اور جگہ کہاں؟ میرا وجدان کہتا ہے اس میں سب سے بڑا رول حضور اعلیٰ حضرت، خانوادہ اعلیٰ حضرت اور مسلک اعلیٰ حضرت کے تعلق سے مجاہد ملت کے بے لوث والہانہ پن کا ہے اور حضرات تو خیر حضور مجاہد ملت سے بڑے ہیں، یا ہمعصر ہیں، حضور تاج الشریعہ تو عمر میں بہت چھوٹے ہیں، مگر حضور مجاہد ملت کی آنکھوں نے ہمیشہ انہیں بڑی نظر سے دیکھا اور ان کے ادب و توقیر کا کوئی بھی گوشہ کبھی بھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔

یہ تازیانہ عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو آج تاج الشریعہ کی تحقیق انیق کے مقابلے میں جدید تحقیق پیش کر رہے ہیں ان کی رائے مستقیم کو تنقید کی نظر سے دیکھنے کی جرات کر رہے ہیں، ضرور غور کریں کہ وہ کس سے کٹ رہے ہیں اور کس سے جٹ رہے ہیں، اور تاسف ان لوگوں پر بھی ہے جو بریلی کا نام لیتے اور ایسوں کا ساتھ دیتے ہیں، زبان سے مسلک اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگاتے اور دل سے اس کی مخالفت کرتے ہیں، کم از کم حضور مجاہد ملت کے نام لیواؤں کو تو حضور مجاہد ملت کا عملی اور فکری چہرہ دیکھنا چاہئے اور یہ سوچ ہونی چاہیے کہ ایسی کوئی حرکت و جرات نہ کریں جس سے حضور مجاہد ملت کی روح کو اذیت پہنچے، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حضور مجاہد ملت کی ناخوشی، رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی نا خوشی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی خدا کی ناراضگی ہے، جو لوگ ایسی حرکت مکروہی میں کار خیر سمجھ کر مشغول ہیں ان لوگوں کو حضور مجاہد ملت کی روح کبھی معاف نہ کرے گی، اس دور میں دنیا و آخرت کی بھلائی کا دارومدار اسی پر ہے کہ آدمی اپنے مرکز بریلی شریف سے ہر معاملہ میں جڑا رہے جیسے ہمارے تمام اسلاف جڑے ہوئے تھے اور جیسے حضور مجاہد ملت بریلی کے چاند کا ہالہ بنے ہوئے تھے۔

مجاہد ملت اور فروغ سنیت

حضور مجاہد ملت کا دور بڑا ہی فتنہ و فساد کا دور تھا، اندر سے لے کر باہر تک سازشوں کا جال پھیلا ہوا تھا، مقصد صرف اسلام و سنیت کو کمزور کرنا، مسلمانوں کو بے دست و پا بنائے رکھنا، مذہبی حدود و قیود سے نکال کر آزاد خیالی کے کمند میں ہمیشہ کے لیے انہیں پھنسا دینا، ایسے میں حضور مجاہد ملت امیدوں کی ایک چمکتی کرن تھے، آپ عقابی نظر اور چیتے کا جگر رکھنے والے شاہین تھے، ہر فتنے، فتنہ گروں اور فتنوں کے سرچشموں پر ان کی نگاہ تھی تبھی تو جب جیسی ضرورت پڑتی تریاق فراہم کرتے رہتے، جیسے جگہ جگہ مدارس کا قیام، مساجد کا اہتمام، آل انڈیا تبلیغ سیرت کی تنظیم، تحریک خاکساران حق کی تشکیل، یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب دوائے شفا تیار کرنے والے کارخانے ہیں، جہاں لوہا، فولاد، پیتل، سونا اور مس خام سونا بن کر نکلتے تھے۔ آپ مدارس کے قیام و اہتمام پر خصوصی توجہ دیتے تھے، جہاں جاتے مدرسہ کے قیام کی تمنا انگڑائی لینے لگتی، مدرسہ قائم فرماتے اور اپنی جیب خاص سے مدرسہ کا بہت بڑا بوجھ ہلکا کرتے رہتے، درجنوں مدارس کے آپ بانی اور سینکڑوں مدارس کے سرپرست و صدر و نگراں بنے رہے، وہ خوب جانتے تھے کہ مساجد کو خطیب و امام قوم وملت کو واعظ و مبلغ، جلسے جلوس کو بے باک مقرر اور تحریک و تنظیم کو سرفروش سپاہی اسی فیکٹری سے میسر آتے ہیں، اس لیے انہیں خوب تازہ و توانا رکھو، مدارس میں علم و ادب کے فرزانوں کی بارات اتارو تاکہ ان کی آغوش تربیت میں پل کر ملت کے دیوانے ملت کے دانے دانے میں دین کی صحیح روح پھونکتے رہیں، آپ مدارس کا اندرونی ماحول مسکراتا دیکھنے کے قائل تھے، وہ خوب جانتے تھے کہ اندر کی مسکراتی فضا کا اثر ہی باہر کی روتی دنیا کو مسکرانے کا ہنر سکھائے گا۔ اس لیے اساتذہ کے چہرے پر کوئی بل، کوئی شکن ان کو ناقابل برداشت تھا، وہ اس پر یقین رکھتے تھے کہ اساتذہ جتنے مطمئن اور مسرور ہوں گے تعلیمی و تربیتی ماحول ویسا ہی ثمردار، بارآور اور نتیجہ خیز ہوگا، کاش آج مدارس کے منتظمین مجاہد ملت کے اس نکتہ کی اہمیت کو سمجھتے اور ان کی روش پر عمل کرتے تو مدارس اسلامیہ جو آج نتیجہ کے اعتبار سے مایوس کن بلکہ عقیم صفت بنتے جا رہے ہیں یہ المناک دن دیکھنے کو نہ ملتا، مدارس عام و خاص کا موضوع بحث نہ بنتے، اخبارات و رسائل میں ان کی اصلاحات کی باتیں نہ چھپتیں، ٹی وی اور ریڈیو کا یہ دلچسپ عنوان نہ قرار پاتے، اس لیے مدارس کا کنٹرول ہمیشہ مدارس کے نشیب و فراز سے واقف حضرات علماء کے ہاتھوں میں رکھتے، تاکہ مدارس مفید، با مقصد اور بار آور بن سکیں۔

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
 

دوسرے نمبر پر جس مرکزی نقطہ نے مجاہد ملت کو سیماب صفت بنائے رکھا وہ ہے آل انڈیا تبلیغ سیرت، مجاہد ملت اگر ایک طرف علم کا بحر بیکراں تھے تو دوسری طرف عمل کا نیر درخشاں، فرائض و واجبات تو دور کی بات ہے نوافل و سنن پر جن کی پابندی و سختی ضرب المثل بنی ہوئی تھی، اسی لیے وہ خود جیسے تھے پوری دنیائے سنیت کو اسی رنگ میں رنگ دینے کا مجاہدانہ حوصلہ رکھتے تھے، اسی غرض سے آپ نے آل انڈیا تبلیغ سیرت کی بنیاد ڈالی تھی، جیسا کہ اس کے مطبوعہ اغراض و مقاصد سے ظاہر ہے:

  1. مسلمانوں کے اصلاح عقائد و اعمال اور تنظیم و اتحاد کی کوششیں۔
  2. ہر زبان جس میں اسلامیات کا عظیم الشان ذخیرہ ہے اس کی بقا و تعلیم کی تدبیریں۔
  3. اصلاح و ترقی مدارس اور ان کے نصاب میں یکسانیت پیدا کرنے کی صورتیں۔
  4. مساجد و مقابر، خانقاہوں اور مسجدوں و قبرستانوں کو ہر قسم کی دست برد سے بچانے کی جدوجہد۔
  5. انجمن کے مقاصد اور کاروائیوں سے روشناس کرنے کے لیے پریس اور اخبار جو کانفرنس کا ترجمان ہو جاری کرنے کی اسکیمیں اور ملک کے ہر حصے میں انجمن کی شاخ کو بڑھانے کی مثبت فکر۔

پورے ملک میں اس پار سے اس پار تک آل انڈیا تبلیغ سیرت کی دھومیں مچ گئیں، جلسوں کا تانتا بندھ گیا، قافلہ در قافلہ علماء و عوام اشتیاقانہ حاضر ہوتے، کانفرنسیں تو بہت ہوئیں مگر پٹنہ بہار کی کانفرنس سب سے تاریخی اور یادگار ہے، جو 10 اپریل 1954ء کو ہوئی تھی، اس میں حضور مجاہد ملت نے جو خطبہ صدارت پیش فرمایا، اس کا جملہ جملہ بلکہ لفظ لفظ منشور حیات کا مجسمہ ہے، پیش ہے تبرکاً اس کا ایک مختصر اقتباس:

”پونے چودہ سو سال پیشتر جبکہ انسان نما حیوانوں کی بدکرداری دامن انسانیت پر بدنما داغ تھی، ایک رہنمائے اعظم تاج رسالت زیب سر کئے، روائے شفاعت کاندھوں پر ڈالے، مشعل ہدایت ہاتھوں میں لیے دنیائے انسانیت کی رہنمائی کے لیے حرم کعبہ سے پیغام خداوندی لَقَدْ كَانَ لَكُمْ سناتا ہوا نمودار ہوا، یہ پیغام خداوندی صرف پیغام عبادت ہی نہیں بلکہ پیغام حیات، اصول زندگی اور دستور انسانیت تھا اور ہے، رہبر اعظم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی چوٹی سے آواز دی، اے گم کردہ راہ انسانو! کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکل کر توحید و رسالت کی روشنی میں منزل مقصود سے ہمکنار ہو جاؤ، شرافت و نجابت کو ہوا و ہوس کے زنداں سے آزادی دلا کر صاحب اختیار کر دیں، نفس پرستی و بد گوئی کو ختم کر کے حق پرستی و حق گوئی کو شرف تکلم بخشیں، غربت و بےکسی کو قصر سرمائیگی سے رہائی دلا کر خزانہ برکت کی کنجیاں عطا کر دیں، دامن انسانیت کے بدنما داغوں کو آب رحمت سے دھو کر مجلیٰ و مصفیٰ کردیں، انسانیت نے نبوت کی اس صدا کو گوش دل سے سنا اور جبین عقیدت بارگاہ رسالت پر جھکادی، حضرت صدیق اکبر جیسا سرمایہ دار، حضرت بلال جیسا غلام، حضرت سلمان جیسا پردیسی، حضرت صہیب جیسا غریب الوطن، سب کے سب دوڑ پڑے رضي الله عنهم اور سرکار کونین، روحي فداه کے پرچم کے زیر سایہ، ابدی سکون و راحت حاصل کی، کیا قدرت کی اس نعمت عظیمہ کا شکریہ ادا کرنا ہم پر واجب نہیں، جس کی سیرت مقدسہ آج بھی دنیائے انسانیت کے لیے پیغام حیات اور پیغام نجات ہے اور اس کا عملی شکریہ سیرت نبویہ پر عمل کرنا اور دنیائے انسانیت کو تبلیغ سیرت سے دعوت عمل دینا ہے، تاکہ مسلمان اس پر عمل پیرا ہو کر نکبت و ہلاکت سے نجات حاصل کر کے رفعت و عظمت کی بلندیوں پر فائز ہو سکے۔“ [مرد جوزا، ص: 328]

یہ تھی حضور مجاہد ملت کی تقریر دل پذیر و پر تنویر کا ایک اقتباس جس کی پیشانی پر فصاحت کا جھومر بھی ہے، گلے میں بلاغت کا ہار بھی ہے، سر پر اردوئے معلیٰ کا تاج بھی ہے، دل میں قوم و ملت کا بے پناہ درد بھی ہے، اس میں سنت و شریعت کی دعوت بھی ہے، اور ہاتھ میں غلامی مصطفیٰ کا پٹہ بھی، اس طرح ملک کے مختلف صوبوں، ضلعوں اور حصوں میں تبلیغ سیرت کا جلسہ آپ سجاتے رہے اور قوم کی بگڑی ہوئی حالت و سیرت پر بلک بلک کر خون کے آنسو روتے رہے، اس زمانے کے جید علماء، نامور خطباء آپ کی ایک دعوت پر لبیک یا سیدی کہہ کر حاضر ہوتے رہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تبلیغ سیرت کے پلیٹ فارم سے عقائد و اعمال کا زبردست کام ہوا، کتنے بدعقیدے صحیح بنے، کتنے مذبذب اور صلح کلیوں نے اپنی ڈھل مل یقینی سے توبہ کیا اور کتنے بے عمل و بد عمل صاحب عمل و خوش اطوار بن گئے، افسوس کہ حضور مجاہد ملت کی رحلت سے آل انڈیا تبلیغ سیرت کے جسم سے حرارت عمل اور روح اخلاص رخصت ہو گئی حضور مجاہد ملت نے آل انڈیا تبلیغ سیرت کے جو اغراض و مقاصد رکھے تھے، انہیں بغور دیکھئے ان مقاصد کو روبعمل لانے میں جتنے گہرے علم جتنی گہری سوچ جتنی اجلی فکر اور نکھری طبیعت کا حامل ہونا ضروری ہے، حضور مجاہد ملت نے اسی اعتبار سے اس کا انتخاب کیا تھا، تمام مرکزی منصب اور اس کلیدی عہدے پر نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز اوصاف کے پیکر علمائے کرام فائز تھے، بشکل عوام امراء اور دانشور و مفکرین کی شمولیت بھی تھی، مگر اندرونی معاملے میں عمل دخل سے بے نیاز، اسی وجہ سے ہر جزو کل سلامت تھا اور سبک روی سے تبلیغ سیرت کا کارواں منزل بہ منزل آگے بڑھتا رہا، حضور مجاہد ملت کے بعد حضرت کے مقررہ اصول کو اپنی مطلب برآری کی خاطر جہاں لوگوں نے پس پشت ڈالا سالمیت بکھر گئی، اجتماعیت ٹوٹ گئی اور جمعیت پارہ پارہ ہوگئی اور اگر کہیں باقی بھی رہی ”تو رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی“ کا مرثیہ پڑھتی رہی، کہیں کہیں پھر سے لوگوں نے اپنے اپنے علاقے میں کام کرنے کے لیے آل انڈیا تبلیغ سیرت کا جھنڈا اٹھانا شروع کر دیا ہے، ان کے کام کے انداز، طور طریقے، تصرف و اختیار کو دیکھے تو برملا آپ یہ کہیں گے ”شاہیں کے نشیمن میں ہے زاغوں کا بسیرا“ بس خدا خیر کرے اور مجاہد ملت کے مشن کی لاج بچائے رکھے۔

اپنے اخیر دور میں ”کل ہند تحریک خاکساران حق“ کے نام سے ایک ہندوستان گیر تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں سرگرم وکلاء، دانشور، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور سماجی قائدین اس کے باضابطہ رکن منتخب ہوئے، اس تحریک نے دینی جلسوں، کانفرنسوں اور مختلف قومی و مذہبی تقریبات اور اعراس بزرگان دین میں اپنی رضا کارانہ خدمات سے اہل ملک کو کافی حد تک متوجہ کیا اور مسلمانوں میں ولولہ انگیز اور ایک طاقتور اجتماعی زندگی کی راہیں ہموار کیں، وہ چاہے مدارس ہوں یا مساجد تبلیغ سیرت ہو یا خاکساران حق، جلسہ و جلوس ہو یا وعظ و ارشاد چاہے کوئی سا بھی پلیٹ فارم ہو سب کے عزائم و مقاصد کی روح اور سب کی جدوجہد کے اہداف مسلک اعلیٰ حضرت کی خدمت و اشاعت و حفاظت ہی رہی ہے، آج چاہے کوئی کچھ کہے مسلک اعلیٰ حضرت کے عروج و فروغ میں حضور مجاہد ملت نے جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور ملکی ریکارڈ قائم کیا ہے اس کی کوئی مثال کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ [حوالہ: سنی دنیا بریلی شریف، ص: 45-47]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!