| عنوان: | اہل سنت سے منحرف ہونے کی ایک بنیادی وجہ! |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
عصر حاضر اور عہد موجود میں دین حق، مسلکِ حق مسلک اہل سنت یعنی مسلک اعلیٰ حضرت پر قائم رہنا، ثابت قدم رہنا ایسا ہی ہوگیا ہے جیسا کہ انگارا اپنے ہاتھ میں رکھنا۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ آج کے اس پر فتن دور میں کئی افراد جو ابتدا میں اہل سنت و جماعت کے ہی پیروکار ہوتے ہیں لیکن پھر اہل سنت سے یوں منحرف ہوجاتے ہیں گویا کہ کبھی کبھی وہ شخص اس مسلک پر تھا ہی نہیں۔ خاص کر آج کا نوجوان آزاد خیالی کا بہانہ بنا کر خود کو مسلک حق مسلک اہل سنت کی پیروی سے آزاد گرداننے لگتا ہے۔
دین فہمی کے بنیادی اصول
یاد رکھیں! دین فہمی کے لیے قرآن، سنت، اجماع، قیاس یہ چار بنیادی اصول ہیں۔ انہیں چار اصولوں پر دین اسلام کی بنیاد و ستون قائم ہے۔ اب جو قرآن و سنت کو مانیں لیکن اجماع و قیاس کا منکر ہو جائے تو اسے دین حق سے انحراف کرنے سے کوئی بھی چیز روک نہیں سکتی۔ جس کو بھی دیکھیں کہ وہ قرآن، حدیث، اجماع اور جمہور کی اتباع کی ڈوری اپنی گردن سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے، تو یقین جان لیں! کہ وہ ایک دن ضرور گمراہ ہو جائے گا۔
نوٹ: ایسا شخص جو ابتدا میں تو سنی ہی ہوتا ہے لیکن پھر بھی بتدریج گمراہ ہوجاتا ہے اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ شروع میں کسی عالم دین کی توہین و بے ادبی کرتا ہے، ان کے علم کو کمتر اور معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر یہی شخص اولیائے کرام، مشائخ عظام اور سلف صالحین کی شان میں بھی گستاخی کرنا شروع کردیتا ہے۔ اور یوں وہ شخص آہستہ آہستہ گمراہی کی جانب اپنا راستہ بالکل تیار کرلیتا ہے اور ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ وہ گمراہ ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مسلک حق مسلک اہل سنت مسلک اعلیٰ حضرت پر ثبات قدمی نصیب فرمائے۔ آمين بِجَاهِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ صلی اللہ علیہ وسلم۔
انحرافی کی ابتدا، عالم دین کی بے ادبی سے
استاد محترم مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اس حوالے سے کہ ایک سنی صحیح العقیدہ مسلمان کیسے اہل سنت و جماعت سے منحرف ہوجاتا ہے، فرماتے ہیں کہ: اہل سنت و جماعت، جو دینِ اسلام کی صحیح تعبیر کا نمائندہ مسلک ہے، جس کی بنیاد قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہ سے ماخوذ ادب و تعظیم پر ہے، بدقسمتی سے کچھ لوگ ابتدا میں اہلِ سنت کے پیروکار ہونے کے باوجود بری صحبت کی وجہ سے مسلکِ حق سے پھر جاتے ہیں۔ عموماً سب سے پہلی علامت یہ ہوتی ہے کہ پھرنے والا شخص کسی عالمِ دین کی بے ادبی اور توہین کرتا ہے۔ وہ ان کے علم و فضل کو کم تر سمجھنے لگتا ہے، پھر وہ اہلِ سنت کے علما پر بے جا تنقید کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے اور ان کے علمی موقف کو غیر ضروری اور غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جب یہ رویہ شدت اختیار کرتا ہے تو وہ اہلِ سنت کے مشائخ، اولیا اور پیرانِ عظام کے خلاف زبان دراز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تمام بدمذہبوں میں ایک بات مشترک پائیں گے کہ وہ امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان عليه الرحمة جیسی عظیم ہستی پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو مسلکِ اہلِ سنت کے علمی و فکری قلعے کے معمار ہیں۔ ایسا شخص آخرکار مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کا باغی بن جاتا ہے اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اب اسے دنیا بھر کے علما و مشائخِ حق سے نفرت ہو جاتی ہے اور ان کی اہمیت کا انکار ہونے لگتا ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر اور پوری قوم کو بے وقوف سمجھنے لگتا ہے۔ شیطان اس کے کرتوت کو اچھا اور دلکش بنا کر پیش کرتا ہے، جس سے وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور دوسروں کی ہدایت کو گمراہی سمجھنے لگتا ہے۔
محترم قارئین!
مسلک اہل سنت کی مترادف اصطلاح مسلک اعلیٰ حضرت پر حالات حاضرہ کے پیش نظر ثبات قدمی ہی نجات اخروی کا ذریعہ ہے۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ صراط مستقیم پر ثابت قدمی کے ساتھ ہی زندگی بسر کریں تو اس کے لیے سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ ہم مسلک اعلیٰ حضرت پر مضبوط اور مستحکم طریقے پر قائم رہیں۔ ورنہ یہی ہوگا کہ
جو تیرے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یوں ہی خوار پھرتے ہیں
اگرچہ یہ شعر امام اہل سنت عليه الرحمة نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ میں تحریر فرمایا ہے، لیکن فقیر راقم الحروف نے اس شعر کو یہاں پر اعلیٰ حضرت عليه الرحمة کی شان میں رقم کیا ہے۔ فقیر کا بارہا کا مشاہدہ ہے کہ جو بھی امام اہل سنت سے منحرف ہوتا ہے وہ نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا۔ اللہ پاک ہمیں مسلک اہل سنت مسلک اعلیٰ حضرت پر ثبات قدمی عطا فرمائے۔ آمين بِجَاهِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ صلی اللہ علیہ وسلم۔
