| عنوان: | فضائل عشرۂ ذی الحجہ قرآن و حدیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیائے رنگ و بو میں بے شمار قسموں اور متعدد تنوع کی چیزوں کو پیدا فرمایا ہے۔ جیسے: انسان، حیوانات، جمادات، نباتات وغیرہا۔ انہیں میں سے ایک شے مہینہ اور سال بھی ہے۔ ہر مہینے کے فضائل و خصائل پر کلام کرنا باعثِ طوالت اور سببِ وقت طویل ہے۔ نیز یہ دونوں عذر فقیر کے یہاں مقبول ہیں۔ اسی کے پیش نظر اس مضمون میں فقط ماہ ذی الحجۃ الحرام کے ابتدائی دس دنوں کے فضائل و برکات قرآن و حدیث کی روشنی میں صفحۂ قرطاس پر نوکِ قلم کیے جاتے ہیں۔ اس پہ مستزاد یہ کہ ان ایامِ عشرہ کو کس طرح گزاریں؟ اس حوالے سے بھی مختصراً کلام پیش کیا جائے گا۔
ویسے تو یہ پورا مہینہ ہی برکتوں، فضیلتوں اور کئی خصلتوں کا حامل ہے۔ لیکن اگر ہم نوکِ قلم کو بالخصوص اس کے ابتدائی دس دنوں کی جانب متوجہ کرتے ہیں تو صفحہ قرطاس پر کچھ یوں الفاظ ترتیب پاتے ہیں کہ ان ایامِ عشرہ کی شان ہی انوکھی اور نرالی ہے۔ اب قرآن کریم کی ایک آیت سے ان دس دنوں کی فضیلت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
ابتدائی عشرۂ ذی الحجہ اور قرآن کریم
کسی بھی خیر شے کی فضیلت کو فقط اتنا ہی کافی ہوا کرتا ہے کہ اس کا ذکر قرآن کریم میں وارد ہوا ہو۔ اب اگر اسی تناظر میں اپنی فکر و اعتقاد کی لڑی کو اس جانب مبذول کریں کہ کیا ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کا تذکرہ بھی قرآن مجید میں ملتا ہے یا نہیں؟ تو یہ بات ہر صاحبِ فکر و نظر اور علم دوست حضرات پر عیاں ہے کہ جی ہاں! قرآن کریم میں ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کا تذکرہ موجود ہے۔
ایام عشرۂ ذی الحجہ اور قرآن کریم
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ
ترجمہ کنز الایمان: اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی۔ [الفجر: 1-2]
آیت مذکورہ کی تفسیر ملاحظہ کریں
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان دس راتوں سے مراد ذو الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ حج کے اعمال میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے۔ [خازن، الفجر، تحت الآیۃ]
ایامِ عشرۂ ذی الحجہ احادیث کی روشنی میں
جہاں قرآن کریم میں ان ایامِ مبارکہ کا تذکرہ ملتا ہے، وہیں متعدد احادیث شریفہ میں بھی ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے فضائل و برکات جابجا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ذیل میں ان احادیث کریمہ میں سے فقط چار یہاں سپردِ قرطاس کیے جاتے ہیں۔
- ان دنوں سے افضل دن نہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کریم کے نزدیک کوئی بھی دن عشرہ ذوالحجہ سے زیادہ نہ عظیم ہے اور نہ ان دنوں سے بڑھ کر کسی دن کا نیک عمل اسے محبوب ہے لہذا ان دنوں میں تہلیل (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ)، تکبیر (یعنی اللهُ أَكْبَرُ) اور تحمید (یعنی الْحَمْدُ لِلَّهِ) کی کثرت کرو۔ [مسند احمد]
- ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزے کے برابر: پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن دنوں میں اللہ پاک کی عبادت کی جاتی ہے ان میں سے کوئی دن ذو الحجہ کے دس دنوں سے زیادہ پسندیدہ نہیں، ان میں سے (دس ذو الحجہ کے علاوہ) ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور (دس ذو الحجہ سمیت) ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔ [سنن ترمذی]
- حج کے ان دس دنوں سے افضل نہیں!: وجہ تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خوب ارشاد ہے: اللہ کریم کے نزدیک حج کے ان دس دنوں سے افضل اور پسندیدہ کوئی دن نہیں لہذا ان دنوں میں سُبْحَانَ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور اللهُ أَكْبَرُ کی کثرت کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ ان دنوں میں سُبْحَانَ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور ذِكْرُ اللهِ کی کثرت کیا کرو اور ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان دنوں میں عمل کو سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ [شعب الایمان]
- ان دنوں کے عمل زیادہ محبوب ہیں!: دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج کے دس دنوں میں کیا گیا عمل اللہ پاک کو بقیہ دنوں میں کیے جانے والے عمل سے زیادہ محبوب ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا راہِ خدا میں لڑنا بھی؟ ارشاد فرمایا: ہاں! راہ خدا میں لڑنا بھی، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور ان دونوں میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے۔ [صحیح بخاری]
محترم قارئین کرام!
تحریر کردہ آیت قرآنی اور احادیث مبارکہ سے ابتدائی عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت و اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔
ان دس دنوں میں کون سے اعمال کیے جائیں!
اب آئیے! چند ایسے اعمال نوکِ قلم سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیے جاتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر نہ فقط ان دس دنوں کو حسین ایام بنایا جاسکتا ہے بلکہ اگر اس پر پابندی سے عمل کیا جائے تو ہمارا ہر دن ہی حسین و جمیل دن کی طرح ہو جائے گا۔
- خوب خوب تلاوت قرآن کریں!
- درود شریف کی کثرت کریں!
- جتنا ہو سکے ان ایام میں روز جیسے نہیں بلکہ روزے سے رہیں۔
- ان ایام کی راتوں کو اللہ تعالی کی عبادت میں بسر کریں۔
- ان ایام میں خصوصاً غیبت، چغلی، حسد اور تمام طرح کی باطنی بیماریوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
- فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نفل نمازوں کی بھی کثرت کریں!
- ان ایام میں جتنا ہو سکے صدقہ و خیرات کر لیں!
- ان ایام میں خود کو گناہوں سے بچائیں۔
- ان ایام میں جتنا ہو سکے اعمال صالحہ بجا لائیں۔
- جہاں اپنی آل و اولاد کے لیے دعا کریں وہیں اس فقیر راقم الحروف کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
