| عنوان: | پہلی ام المومنین! حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (پہلی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد عبد الرحیم تشتر فاروقی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
امت مسلمہ کی وہ پہلی مقدس خاتون! جن کی رفاقت نے پیغمبرِ اسلام اور ان کے تبلیغی مشن کو تقویت پہنچائی
نظامِ قدرت ہے کہ جہاں تاریکی گہری ہوتی ہے، روشنی کی کرن زیادہ تر وہیں سے پھوٹتی ہے، تاریخ میں اس کی بکثرت نظیریں موجود ہیں، مکہ روئے زمین کا قلب ہے اسی لیے اسے کائناتِ انسانی کا قبلہ بنایا گیا، پوری دنیا کی تاریکی مکہ میں سمٹ آئی تھی، دنیا کی کون سی برائی تھی جو اہل مکہ میں نہیں تھی، کعبہ جو اللہ رب العزت کا اولیں گھر ہے اس میں تین سو ساٹھ بت نصب کر دیے گئے تھے اور صبح و شام ان کی پرستش کی جاتی تھی، ہر شخص نے اپنا الگ خدا تراش رکھا تھا، معبودِ حقیقی سے دنیا یکسر غافل ہو چکی تھی۔
اہل مکہ کا یہ حال تھا کہ ان کے درمیان خدائے واحد کا نام لینا جرمِ عظیم سمجھا جاتا تھا، ظلم و ستم اور جور و جفا کی شمشیریں ہر وقت نیام سے باہر رہا کرتی تھیں، کمزوروں سے جینے کا حق چھین لیا گیا تھا اور ظالم و جابر کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ تھا، انسانیت کراہ رہی تھی اور شرافت آنسو بہا رہی تھی، ایسے سسکتے حالات میں فاران کی چوٹی سے آفتابِ نبوت، ماہتابِ رسالت طلوع ہوتا ہے، صداقت کی روشنی سے جہالت کی تاریکی خوف زدہ ہو جاتی ہے، اہل مکہ بربریت کی آخری علامت تھے، وہ صداقت کے نور کو قبول کرنے کے لیے قطعی آمادہ نہ تھے، حشر و نشر کا تصور ان کے نزدیک ایک فسانہ تھا، اعلانِ نبوت نہیں ہوا تھا پھر بھی نبوت کی چاندنی سے مکہ کے در و دیوار روشن ہو رہے تھے، اہل مکہ نے انسان تو بہت دیکھے تھے مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا امین و صادق نہیں دیکھا تھا۔
آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر کی پچیسویں منزل میں قدم رکھ چکے تھے، پوری دنیا ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں تھی، لیکن مکہ میں بظاہر ذاتِ رسالت کو کسی مضبوط پناہ کی ضرورت تھی، چنانچہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ حرمِ نبوت میں داخل ہوتی ہیں اور ذاتِ رسالت کے لیے ایک مضبوط پناہ بن جاتی ہیں، سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حالات کی شدت سے متاثر ہوتے تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ سائبان بن کر سامنے کھڑی ہو جاتیں، انہوں نے اپنی ذات کو ہی ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وقف نہیں کیا بلکہ اپنی زندگی کا سارا سرمایہ ان کے قدموں میں ڈال دیا تھا، دینِ اسلام کے لیے ایک خاتون کی یہ اولیں قربانی تھی، اسلامی اقدار اور روایات کی تعمیر میں حضرت خدیجہ الکبریٰ نے جو ایثار و قربانی کی تاریخ مرتب کی ہے، اسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی، رفیقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ العزیز نے یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
سیما، پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
ذیل میں ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی انہیں حق گزارِ رفاقت سیدہ، جیدہ، طیبہ، طاہرہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے ذکرِ خیر کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جو کائنات کی تمام خواتین کے لیے بجاطور پر نمونۂ حیات اور آئیڈیل ہیں، کاش! ہماری ماں، بہنیں ان کی پاکیزہ روش کو اپنا لیں تو خدا کی قسم! ان کی دنیا و آخرت دونوں کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو جائیں۔
ولادتِ با سعادت
آپ شہر مکہ کے ایک عالی نسب اور معزز ترین قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتی تھیں، آپ کی ولادت عام الفیل سے ۱۵ سال قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی، آپ کے والد کا نام خویلد ابن اسعد اور والدہ کا نام فاطمہ تھا، سلسلۂ نسب اس طرح ہے: خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔ [اسد الغابہ، ج: ۷، ص: ۸۱]
حضرت خدیجہ کی والدہ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے: فاطمہ بنت زائدہ بن اصم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معيص بن عامر بن لوئی، قصی پر پہنچ کر آپ کا سلسلۂ نسب حضور نبی کریم ﷺ سے مل جاتا ہے۔
دیگر خصائل و فضائل کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی فضیلت حاصل ہے کہ دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی نسبت آپ کا سلسلۂ نسب صرف چار واسطوں سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبِ مبارک سے مل جاتا ہے، چنانچہ آپ کا سلسلۂ نسب (۱) خویلد بن (۲) اسد بن (۳) عبدالعزیٰ بن (۴) قصی سے جا ملتا ہے جو حضور ﷺ کے پانچویں جدِ محترم ہیں۔
خاندانی پس منظر
حضرت خدیجہ کے والد اپنے قبیلے کے نہایت ہی معزز، غیرت مند اور بااخلاق انسان تھے، بت پرستی سے دور و نفور تھے، مؤحد تھے، مکہ آکر آباد ہوئے، جہاں اپنے چچا زاد بھائی عبدالدار بن ابن قصی کے حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے حضرت خدیجہ پیدا ہوئیں، جلد ہی ان کا شمار قریش کے معزز اور دولت مند افراد میں ہونے لگا، انھوں نے تجارت کو اپنا پیشہ بنایا اور اس میں اتنی محنت و لگن سے کام کیا کہ بہت جلد مکہ میں ایک ”برانڈ“ کی حیثیت سے متعارف ہوئے، چنانچہ مکہ میں جو اشیاء بیرونی ممالک کی دکھائی دیتیں ان میں سے اکثر انھیں کی امپورٹ کی ہوئی ہوتیں، کل ملا کر ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا اچھا خاصا بزنس تھا۔
ان کا خاندان زمانۂ جاہلیت کے تمام برے کاموں سے سخت بیزار اور متنفر رہتا تھا، اہل خاندان برے کاموں میں ملوث لوگوں کو حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور قطع تعلق رکھتے تھے، عرب معاشرے میں لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا تھا اور ان کے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کرنے کی رسم بد تھی، لیکن بنو اسد میں لڑکیوں کو نجس نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ لڑکیوں کی پرورش بھی لڑکوں کی طرح شفقت و محبت سے کی جاتی تھی اور ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل خیال رکھا جاتا تھا۔
خویلد نے فجار کی لڑائی میں اپنے قبیلے کی قیادت کی، جب تبع حجرِ اسود کو اکھڑوا کر یمن لے گیا تو اسے واپس لانے میں بھی ان کی کوشش کا اہم رول تھا، عام الفیل کے ۲۰ سال بعد ہونے والی اس جنگ ”فجار“ میں ان کا قتل ہو گیا، جس کے بعد تجارت کا مکمل بوجھ آپ کے کاندھوں پر آ گیا، جسے آپ نے نہایت ہی مستعدی کے ساتھ سنبھالا۔
اس دورِ جاہلیت میں جب عورتوں کی کوئی عزت و عظمت نہ تھی، کوئی معاشرتی حقوق نہ تھے، جب عورتیں سامانِ خرید و فروخت کی طرح نہایت ہی بے دردی کے ساتھ بیچی اور خریدی جا رہی تھیں اور جب انھیں صرف ظلم و ستم کے لئے تختۂ مشق تصور کیا جاتا تھا، اس وقت حضرت خدیجۃ الکبریٰ پورے مکہ میں اپنی عفت و پاکدامنی کے سبب ”طاہرہ“ کے لقب سے مشہور و معروف تھیں، قبیلۂ قریش میں آپ کی فہم و فراست، عزت و عظمت، جاہ و حشمت، فضل و شرافت، ذہانت و فطانت اور تجارتی مہارت کا عالم یہ تھا کہ آپ نے دور دراز تک پھیلے اپنے والد کا کاروبار نہایت ہی کامیابی کے ساتھ سنبھال رکھا تھا، سیکڑوں افراد کی روزی روٹی آپ کے کاروبار سے وابستہ تھی، اہل مکہ آپ کو ایک کامیاب اور بااثر تاجرہ کی حیثیت سے جانتے تھے، اہل فہم و فکر کے نزدیک آپ ایک دانشور، مدبر اور متاثر کن شخصیت کی حامل خاتون تھیں۔
اکثر اہل مکہ تجارت پیشہ تھے، مشرقی ممالک سے درآمد اشیائے خورد و نوش اور دیگر مصنوعات کشتیوں کے ذریعہ یمنی بندرگاہوں تک پہنچتی تھیں، جہاں سے اہل مکہ بالخصوص تاجرانِ قریش انھیں خرید کر بحیرۂ روم کی بندرگاہوں اور شام کے شہروں میں فروخت کرتے اور پھر وہاں سے مغربی ممالک سے درآمد اشیاء خرید کر یمنی بندرگاہوں اور شہروں میں فروخت کرتے تھے، اہل قریش کی یہ تجارت بڑے پیمانے پر ہوا کرتی تھی جس کے سبب اکثر اہل قریش متمول اور مالدار تھے، نہایت ہی فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ ان کے شب و روز گزر رہے تھے، ان نامور تاجروں میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی سرِفہرست تھا، تجارتی قافلوں میں جتنا مالِ تجارت تمام اہل قافلہ کا ہوتا اتنا صرف حضرت خدیجہ کا ہوتا تھا۔
حالاں کہ ان کی دولت کا ایک بڑا حصہ انھیں اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا لیکن خود ان کی کوششوں سے بھی ان کا کاروبار بہت وسیع ہوا تھا، وہ خود انفرادی طور پر بھی ایک کامیاب کاروباری خاتون تھیں جن میں بہت خود اعتمادی تھی، وہ اپنے کاروبار کے مختلف کاموں کے لیے لوگوں کی خدمات حاصل کرتی تھیں، حضرت خدیجہ کا طریقۂ تجارت یہ تھا کہ آپ کا مالِ تجارت لے جانے والے یا تو ملازم ہوتے جن کی اجرت یا تنخواہ مقرر ہوتی، انھیں نفع و نقصان سے کوئی سروکار نہ ہوتا، یا نفع میں ان کا کوئی حصہ مثلاً نصف, تہائی یا چہارم مقرر ہوتا، اگر نفع ہوتا تو وہ اپنا حصہ لے لیتے، بصورتِ دیگر ساری ذمہ داری آپ پر ہوتی۔
انھوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک بہت بڑا بزنس ایمپائر کھڑا کیا تھا اور اس سے بھی بڑی حیرت و استعجاب کی بات یہ تھی کہ کئی ممالک میں پھیلا اپنا یہ کاروبار وہ اپنے گھر میں ہی رہ کر نہایت کامیابی کے ساتھ ہینڈل کیا کرتی تھیں، مکہ کے بڑے بڑے امراء اور بزنس مین یونہی آپ سے مناکحت کے خواہاں نہ تھے، انھیں آپ کی ان خدا داد صلاحیتوں کا بخوبی علم تھا، انھیں اس نکاح سے ایک مثالی شریکِ حیات کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ’بزنس تھینک ٹینک‘ بھی حاصل ہوتی نظر آ رہی تھی، جبکہ آپ کی ان میں قطعی کوئی دلچسپی نہ تھی، بلکہ آپ نے اب آگے نکاح کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، لیکن قدرت نے آپ کی قسمت میں ایک ایسے ’انسانِ کامل‘ کو مقدر فرمایا تھا جو ہر میدان میں اکمل ہے، جس کی عظمت و سر بلندی کے آگے سلاطینِ زمانہ بھی دریوزہ گری کرتے نظر آتے ہیں، جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے اس انسانِ کامل سے تجارتی معاملات کئے اور اس کی سحر انگیز شخصیت کو قریب سے دیکھا تو اپنا ارادہ ترک کر کے اسی کی ہو کر رہ گئیں۔
حضور ﷺ کے چچا ابو طالب جنھوں نے آپ کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رکھی تھی، انھوں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگ خدیجہ کا مالِ تجارت لے کر شام جا رہے ہیں، اگر تم چاہو تو وہ تمہیں دوسروں پر ترجیح دیں گی، کیوں کہ وہ تمہارے اوصافِ حمیدہ سے واقف ہیں، لیکن حضور ﷺ نے خاموشی اختیار کی، بلکہ ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا: وہ خود ہی مجھے بلائیں گی۔
ادھر حضرت خدیجۃ الکبریٰ بھی کسی ایسے فرد کی ضرورت محسوس کر رہی تھیں جو پوری امانت و دیانت کے ساتھ ان کی ترقی پذیر تجارت اور اس سے جڑے ملازمین کی سربراہی کر سکے، چوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و صداقت شہر مکہ اور اطراف میں ضرب المثل تھی، اپنے بے گانے سبھی آپ کے اخلاق و کردار کے معترف و مداح تھے، جس سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی بخوبی واقف تھیں، چنانچہ اس اہم ذمہ داری کے لئے ان کی نظرِ انتخاب کئی مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ پر پڑی مگر کبھی انھیں پیش کش کی جرأت نہ ہوئی لیکن جیسے ہی انھیں چچا اور بھتیجے کی اس گفتگو کا علم ہوا تو فوراً حضور کو پیغام بھیجا اور کہا:
”آپ تکلیف دینے کی وجہ وہ بات ہے جو مجھے آپ کی سچائی، امانت داری اور اخلاقِ حسنہ کے بارے میں پہنچی ہے، اگر آپ میرا مالِ تجارت اپنی نگرانی میں لے جائیں تو اس سے زیادہ معاوضہ آپ کو پیش کروں گی جو قریش کے دوسرے لوگوں کو دیتی ہیں۔“ [دلائل النبوۃ، ج: ۱، ص: ۱۷۳]
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی اس پیش کش کو قبول فرمایا اور اپنی نگرانی میں مالِ تجارت لے کر ملکِ شام روانہ ہوئے، اس موقع پر حضرت خدیجہ نے اپنے معتمد غلام میسرہ کو بھی حضور کے ساتھ بھیجا اور اسے تاکید کی کہ ان کا خیال رکھنا اور کبھی ان کی حکم عدولی نہ کرنا، حضور مالِ تجارت کے ساتھ بازار تشریف لے گئے، دورانِ تجارت ایک شخص سے کسی بات کو لے کر کہا سنی ہو گئی، اس شخص نے کہا: ”یہ بات ہے تو لات وعزّیٰ کی قسم کھائیے، رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: میں ان دونوں کی قسم کبھی نہیں کھاتا بلکہ جب میں ان کے پاس سے گزرتا ہوں تو ان سے منہ پھیر لیتا ہوں، اس شخص نے کہا: آپ کی بات حق ہے، پھر وہ میسرہ کو ایک طرف لے جا کر بولا: اے میسرہ! یہ نبی ہیں، قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، یہ وہی شخصیت ہے جس کی صفات ہمارے علماء اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔“ [دلائل النبوۃ، ج: ۱، ص: ۱۷۲-۱۷۳]
تجارت سے فراغت کے بعد واپسی کے لیے جب حضور اونٹ پر سوار ہوئے تو میسرہ نے دیکھا کہ دو فرشتے دھوپ سے حفاظت کے لیے آپ پر سایہ کر رہے ہیں، اس بار کاروبار میں کئی گنا زیادہ منافع ہوا تھا، چنانچہ میسرہ نے خوش ہو کر میں نے اتنا زیادہ نفع کبھی نہیں دیکھا، یہ سب حضور کے قدموں کی برکت ہے، حضور نبی کریم ﷺ جب دوپہر کو مکہ میں داخل ہو رہے تھے تو آپ کو دھوپ کی تپش سے بچانے کے لیے فرشتے آپ پر سایہ فگن تھے، یہ حیرت انگیز نظارہ حضرت خدیجہ نے اپنے گھر کے بالا خانے سے ملاحظہ کیا اور پڑوس کی عورتوں کو بھی دکھایا جسے دیکھ کر وہ تمام عورتیں بھی انگشت بدنداں تھیں۔ [زرقانی علی المواہب، ج: ۱، ص: ۱۹۹] [ماہنامہ :- سنی دنیا بریلی شریف ص: ۵ تا ۸]
میسرہ نے آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے حسنِ سلوک، اخلاق و کردار، صدق و صفا، امانت و دیانت، تجارتی ہنرمندی، اموالِ تجارت کی کئی گنا منافع بخش فروختگی کے ساتھ ساتھ دھوپ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتوں کا سایہ فگن ہونا، یہودی شخص اور راہب کی پیشین گوئی جیسی باتیں تفصیل سے بتائیں جو آپ کے لیے باعثِ فرحت و مسرت ثابت ہوئیں اور ان غیر معمولی واقعات سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔
جاری۔۔
