| عنوان: | اخلاق و کردار |
|---|---|
| تحریر: | نور شمع خاتون |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
انسان کو باقی مخلوقات پر جو برتری حاصل ہے وہ عقل و شعور کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاق و کردار کی وجہ سے ہے۔ دولت، شہرت اور حسن سب وقتی ہیں، مگر اچھا اخلاق وہ دولت ہے جو انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے افراد کے بلند کردار میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
انسانی شخصیت میں اخلاق کی اہمیت
اخلاق انسانی شخصیت کا آئینہ ہے۔ اگر لباس جسم کو ڈھانپتا ہے تو اخلاق روح کو سنوارتا ہے۔ نرم گفتاری، برداشت، ایثار اور عاجزی جیسی صفات انسان کو معاشرے میں ممتاز کرتی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: “انسان کی قیمت اس کے اخلاق سے ہے، نہ کہ اس کے مال سے۔” ظاہری رکھ رکھاؤ دھوکا دے سکتا ہے۔ چمکتے لباس کے پیچھے کھوکھلا انسان بھی ہو سکتا ہے۔ اصل پہچان کردار سے ہوتی ہے۔ پھول کی پہچان رنگ سے نہیں، خوشبو سے ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی پہچان اس کے عمل، وعدے کی پاسداری اور دوسروں سے برتاؤ سے ہوتی ہے۔
اسلام نے حسن اخلاق کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھی۔ دشمن بھی آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو خلق عظیم کہا ہے۔ گویا اسلام میں عبادات کے ساتھ معاملات اور اخلاق کی درستی بھی لازم ہے۔
ایک باکردار انسان میں یہ خوبیاں لازم ہیں:
-
سچائی: ہر حال میں سچ بولنا، چاہے نقصان ہو۔
-
دیانت داری: امانت میں خیانت نہ کرنا۔
-
وعدے کی پاسداری: زبان کا پکا ہونا۔
-
برداشت: غصے کو پی جانا اور معاف کر دینا۔
اخلاق، معاشرتی امن اور بھائی چارہ
اخلاق معاشرے کی بنیاد ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے، جھوٹ، دھوکہ اور نفرت نہ ہو، وہاں امن خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔ بد اخلاقی سے عداوتیں جنم لیتی ہیں اور معاشرہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ خوش اخلاقی دلوں کو جوڑتی ہے اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ مدینہ کی ریاست اس کی بہترین مثال ہے جہاں اخلاق کی بنیاد پر مختلف قبائل ایک امت بن گئے۔
موجودہ دور میں اخلاقی گراوٹ کی وجوہات اور حل
آج ہم اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات ہیں:
-
مادہ پرستی: پیسے کو کامیابی کا معیار سمجھنا۔
-
غلط صحبت: برے دوستوں کا اثر۔
-
میڈیا کا منفی کردار: بے حیائی اور تشدد کو فروغ۔
-
دین سے دوری: قرآن و سنت کی تعلیمات سے ناواقفیت۔
حل: گھر سے تربیت کا آغاز، اساتذہ کا کردار، میڈیا پر مثبت مواد، اور نوجوانوں کو صحابہ کرام کی سیرت پڑھانا۔
تعلیم ڈگری دیتی ہے، کردار نہیں۔ تعلیم دماغ کو روشن کرتی ہے، مگر تربیت دل کو منور کرتی ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر اگر بداخلاق ہو تو وہ معاشرے کے لیے ناسور ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت لازمی ہے۔ والدین کا عمل، استاد کا کردار اور ماحول مل کر انسان کی سیرت بناتے ہیں۔ صرف کتابیں پڑھنے سے کوئی باکردار نہیں بنتا۔
مسکراہٹ، نرم لہجہ اور دوسروں کو عزت دینا ایسے ہتھیار ہیں جو تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ خوش اخلاق انسان دشمن کو بھی دوست بنا لیتا ہے۔ لوگ اس کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کی تعریف ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، اخلاق وہ خوشبو ہے جو بولنے سے پہلے ہی مہک جاتی ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو سنواریں کیونکہ قوموں کی زندگی اخلاق سے ہے، عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں۔
اخلاق و کردار پر احادیث مبارکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔” [موطا امام مالک]
بہترین مومن کون؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”
دوسری جگہ فرمایا: “مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔”
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔
