Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شب معراج کا مختصر خاکہ (قسط: اول)

شب معراج کا مختصر خاکہ (قسط: اول)
عنوان: شب معراج کا مختصر خاکہ (قسط: اول)
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: ام حبیبہ واسطی

لیلۃ الاسرا میں دیکھے کوئی معراجِ جمال
لن ترانی کہنے والا طالبِ دیدار ہے

نبوت کا گیارہواں سال رجب کی ستائیسویں تاریخ دوشنبہ کی شب شعب ابی طالب میں ام ہانی بنت ابی طالب کی دولت سرا فخرِ ارم بنی ہوئی ہے۔ کعبۂ مقدسہ جو دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ اور تمام عالم کا قبلہ ہے، روزانہ ملائکہ اس کی زیارت کو آیا کرتے ہیں اور دنیا کے حاجت مند ارمان بھرے دل لے کر اس کے پردوں میں لپٹ لپٹ کر بارگاہِ الٰہی میں اپنی التجا میں عرض کیا کرتے ہیں تمام جہان کے خدا پرست اپنی عبادتوں میں اسی بیتِ محترم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ بیتِ محترم جس کی تعمیر حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی ہے اور جس کے لیے گارا لانے کا کام حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ انجام دیتے ہیں۔ وہ مقدس عمارت جس کا طواف مقربینِ بارگاہ کی دلی تمنا ہے، آج اس میں نرالی زیب و زینت ہے اس کی نورانیت کے جلوے اور انوار کی تابشیں آسمانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اس کے پہلو میں ام ہانی کا مکان ہے اور آج کی شب اللہ کا حبیب، عالم کا ہادی اس میں جلوہ افروز ہے اس کے حسنِ دلکش کی نورانی شعاعیں کعبۂ مقدسہ کے در و بام پر جلوہ افروزی فرما رہی ہیں۔ نصف شب گزر چکی ہے، دنیا مصروفِ خواب ہے حضور اقدس علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے بعد عشاء آرام فرمایا ہے ام ہانی بھی سو چکی ہیں، عالمِ ملائکہ میں دھومیں مچ رہی ہیں۔ روحانیات کو خبر ہے کہ آج ہی کی شب لیلۃ الاسرار (شبِ معراج) ہے۔ آسمان سے ملائکہ اتر رہے ہیں جبریل و میکائیل علیہما السلام بہشتی براق لے کر آئے۔ براق دروازے پر حاضر ہے۔ جبریل امین نے ام ہانی کی دولت سرا میں داخل ہو کر قبلہ گاہِ ناز کو حسنِ ادب کے ساتھ بیدار کیا، چشمِ حق نما کھولی جبریل امین کو نئے ساز و سامان کے ساتھ نرالے انداز میں خدمت میں مستعد و کمر بستہ ملاحظہ فرمایا، اور پھر خوابِ شیریں سے ہم آغوش ہو گئے۔ راتوں بیدار رہ کر گنہگاروں کی مغفرت کے لیے دریا بہانے والی آنکھیں خدا جانے کس لطف میں خواب سے سرمگیں ہیں۔ آج کے خواب میں کیا لذت اور کس طرح ربودگی ہے کہ جبریل امین نے بیدار کیا اور پھر آنکھ لگ گئی، ملائکہ کی جماعتیں کی جماعتیں آستانۂ معلیٰ پر جلو میں چلنے اور شرفِ خدمت گزاری کی تمنائیں دلوں میں لیے منتظر ہیں۔ جبریل امین نے کچھ دیر انتظار کر کے پھر ادب و احترام کے ساتھ سلطان کو بیدار کیا پھر چشمِ دلنواز کھلی نظرِ جان پرور اٹھی، جبریل امین کے قدسی پیکر کو ایک نگاہِ کرم سے نوازا اور پھر آنکھ لگ گئی۔ اس محبوبانہ ناز کے دلربا انداز پر کونین کی جانیں قربان، قدسی آستانہ پر حاضر ہیں۔ سردارِ ملائکہ خدمت پر کمر بستہ ہے۔ بار بار ادب کے عنوانوں سے شاہِ عرش پا بہ نگاہ کو بیدار کرنا ہے اور نیند قدموں پر لوٹ جاتی نورانی نرگس پر قربان ہو جاتی ہے۔ مامور معذور ہے اور اپنے مالک و مولیٰ کے تعمیلِ حکم پر مجبور، جنتیں نئی زیب و زینت کے ساتھ آراستہ ہو چکی ہیں، سموات میں تشریف آوری کا غلغلہ بلند ہو چکا ہے آسمانی نور پیکر تمنائے دید ہیں، سرشار ہیں، ناچار ملکوتیوں کا سردار پھر اس محبوبِ ذی وقار کو شاہانہ آداب کے ساتھ انتہائی رعایت و لحاظ کے ساتھ بیدار کرتا ہے۔ پھر جمیلِ جہاں پرور نے آنکھ کھولی قدسی پیامبر کی قسمت کھلی، ایک نظرِ انور سے اس کی طرف ملاحظہ فرمایا۔ جبریل امین نے بے توقف و بے درنگ حضرت رب العزت عزّ و علا تبارک و تعالیٰ کی طرف سے پیغامِ طلب پہنچا کر کعبۂ مقدسہ میں رونق افروز ہونے کی التجا کی۔ سرورِ انبیاء نے شرفِ قبول سے سرفراز فرمایا۔ قدمِ ناز اٹھا اور رحمتِ مجسم کعبۂ مقدسہ میں جلوہ افروز ہوئے نورانی رخساروں کی تابشوں سے کعبۂ مقدسہ جلوہ گاہِ محبوب بنا۔ کعبۂ مقدس میں پھر کعبۂ جمال نے آرام کیا، جبریل، میکائیل اس سرورِ انور نورِ مصور صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کے قریب لائے اور وہاں شقِ صدر کی خدمت انجام دی اور قلبِ مبارک کو سنہری طشت میں آبِ زمزم کے ساتھ غسل دے کر حکمت و ایمان سے لبریز کر کے سینۂ مبارکہ میں رکھا اور سینۂ شریف کو ہموار کر دیا۔ شقِ صدرِ مبارک عجیب شان کے ساتھ تھا۔ نہ کسی آلے کا استعمال کیا گیا نہ خون کا ایک قطرہ نکلا نہ کسی طرح کا الم نہ تکلیف محسوس ہوئی۔ یہ شقِ صدر سیرِ عالمِ ملکوت و قربِ الہیٰ و دیدارِ حضرتِ حق کے مقاماتِ رفیعہ کے لیے وضو کی طرح ایک تطہیر بھی تھی، خشک دماغوں کے فلسفے کو تو یہ سن کر اختلاجِ قلب ہو جاتا ہے اور ان کی عقلِ کوتاہ اندیش و فکرِ نارسا شقِ صدر و قلب کو علتِ موت سمجھتی ہے مگر مومنِ کامل الایمان جس کو حکمتِ الہیہ سے بہرہ ہے اور کارخانۂ قدرت میں اس کو کچھ نظر حاصل ہے وہ جانتا ہے کہ اسبابِ عادیہ مسبب کے تحتِ قدرت و اختیار میں ہیں، خلقِ موت و حیات اس کے قبضے میں ہے یہ اسباب اس کے موجبِ مستقل نہیں، قلبِ شریف کو سونے کے طشت میں غسل دینا معزز و محبوب مہمان کی توقیر و تکریم ہے۔ یہ خدشہ کہ حضور کی شریعت میں سونا حرام ہے کچھ قابلِ التفات نہیں کیونکہ یہ حرمت دارِ دنیا میں ہے نہ کہ دارِ آخرت میں۔

حضور انور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

هو لهم في الدُّنيا ولنا في الآخرة

اور عالمِ معراج عالمِ آخرت سے ہے۔ علاوہ بریں حضور نے سونے کا استعمال نہ فرمایا استعمال کیا تو ملائکہ نے کیا اور تحریم ان کے حق میں نہیں اس سب سے قطع نظر کیجیے تو ابھی تک سونا حرام ہی نہ ہوا تھا۔ اس کی حرمت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی حکمت و ایمان سے دل کے لبریز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نورانی جواہر بھر دیے گئے جن سے کمالِ حکمت و ایمان کی تحصیل ہو اور قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ معانی کو مجسم کرے اور ایمان و حکمت کو جواہرِ محسوسہ کا لباس عطا فرمائے۔ قلبِ مبارک کو آبِ زمزم سے غسل دیا گیا۔ زمزم دنیا میں عجیب پانی ہے اطباء کا اتفاق ہے کہ پانی غذا نہیں ہوتا مگر آبِ زمزم میں تغذیہ ہے۔ تقویتِ قلب کی ایک خاصیتِ خاصہ قدرت نے اس پانی کو عطا فرمائی ہے۔ اس غسل میں یہ حکمت تھی کہ قلبِ مبارک قوی ہو، اور مشاہدۂ عالمِ ملکوت قلبِ نازک کے لیے موجبِ دہشت و وحشت نہ ہو سکے۔ علماء نے یہیں سے ثابت کیا ہے کہ آبِ زمزم آبِ کوثر سے افضل ہے کہ غسلِ قلبِ مبارک کے لیے وہی مقبول ہوا۔ اب جبریل براق لائے یہ ایک سواری ہے۔ بلندی میں متوسط گھوڑے کے قریب قریب سمجھیے اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم کہ منتہائے نظر پر قدم رکھتا ہے۔ بلندی پر چڑھے تو اس کے اگلے پاؤں چھوٹے ہو جائیں اور پچھلے حسبِ ضرورت بلند ہو کر سوار کے لیے اس کی نشست گاہ ہموار رہے۔ نشیب میں اترے تو اس کے برعکس اگلے پاؤں بڑھ جائیں، پچھلے کوتاہ ہو جائیں۔ ابلق چمکدار رنگ حسین و جمیل اور ہوا میں برابر چلے پہلے تو اسیرانِ عقلِ خام اس پر بہت چمکتے رہے کہ کوئی چارپایا ہوا میں اڑ جائے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ کوتاہ اندیش مقدوراتِ الٰہیہ کو اپنی فکرِ ناقص کے تنگ دائرے میں احاطہ کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں مگر اب جو زمین اور ایروپلین ہواؤں میں اڑنے لگے تو ان تیرہ دماغوں کو کچھ شرمندگی ہوئی۔ [حوالہ: مقالاتِ نعیمی، ص: 69 تا 72]

جاری...............

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!