| عنوان: | حافظ ملت علیہ الرحمہ اور ادب و احترام |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اہلِ سنت و جماعت کی ریڑھ کی ہڈیوں میں ہی ادب و احترام ودیعت کر دی گئی ہے۔ اولاً تو بنیادی طور پر اللہ کریم و رسولِ رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام ضروری و بنیادی ہے۔ پھر دیگر انبیائے کرام، رسولانِ عظام کا ادب و احترام بھی ضروری ہے۔ پھر صحابہ کرام، اہلِ بیتِ اطہار، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، اولیائے کرام، علمائے کرام، مشائخِ عظام، کتبِ دینیہ اور دیگر معظماتِ دینی کے ادب و احترام کا بھی دینِ اسلام میں خصوصیت کے ساتھ ذکر موجود ہے کہ حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے والا بھلائی پائے گا اور بے ادبی کرنے والا نقصان و خسران اٹھائے گا۔ حافظِ ملت علامہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ کے لیل و نہار بھی کئی جہت سے ادب و احترام سے مملو اور نمایاں پہلو والی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِنْدَ رَبِّهِ [الحج: 30]
اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں اور جن مقامات کو اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ و برباد ہو جاتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے، نیز جن ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اولیاءِ عظام رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہ، ان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے۔ [صراط الجنان تحت الآیہ]
اب آئیے! حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی کو ادب کے تناظر میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے۔
قرآن مجید کا ادب و احترام
دارالعلوم اہلِ سنت اشرفیہ گولا بازار میں شام چار بجے چھٹی کے بعد حضرت شہزادے حافظ عبد القادر بھائی کے ساتھ راقم الحروف اور پرانے مدرسے میں قیام کرنے والے کئی طلبہ سیڑھی کے پاس حضرت کا انتظار کر رہے تھے۔ حضرت تشریف لائے۔ سب لوگ چل پڑے۔ یک بیک حضرت کی نگاہ عبد القادر بھائی پر پڑی۔ فرمایا: ”آگے آگے چلو۔“ وہ جھجکے۔ یہ فرمایا: ”آپ کے پاس قرآن شریف ہے اس لیے آگے چلنے کو کہہ رہا ہوں۔“
اللہ اللہ! کتنا پیارا ادب کا انداز ہے۔ عام طور پر لوگ اس کی طرف توجہ مبذول نہیں کرتے۔ قرآن کریم کا ادب نصیب والوں کو ہی میسر آتا ہے۔ واقعی بڑے نصیب والے ہیں جن کے ہیں یہ نصیب۔ اللہ تعالیٰ عطا کرے۔ آمین۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 66]
اساتذہ کا ادب و احترام
یہ بات ہمیشہ دل کی تختی پر نقش رکھیں کہ جو بھی شخص اپنے اساتذہ کا ادب نہیں کرتا وہ کامیابی نہیں حاصل کر سکتا۔ فقیر راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ ہمیشہ میں نے اسی شخص کو ترقی کرتے دیکھا ہے جو اپنے اساتذہ کا ادب و احترام بجا لاتے ہیں۔ وگرنہ اساتذہ کا بے ادب اگر وقتی طور پر کامیابی بھی نظر آ جائے تو الگ بات ہے، حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے یہ نقل فرمایا ہے:
تواضعوا لمن تعلمون منه وتواضعوا لمن تعلمونه ولا تكونوا جبابرة العلماء.
جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لیے تواضع کرو، اور جسے سکھاتے ہو اس کے لیے تواضع کرو۔ اور گردن کش عالم نہ بنو! [فتاویٰ رضویہ، ج: 15, ص: 566]
اب حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی کا اسی زاویے سے مطالعہ کریں:
- حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ جس طرح اپنے اساتذہ کرام کا ادب بجا لاتے تھے اس کی آج مثال ملنی کافی مشکل بلکہ ناممکن کی طرح ہے۔ حضرت حافظِ ملت علیہ الرحمہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ہمیشہ دو زانو بیٹھتے۔ حضور صدر الشریعہ کسی ضرورت سے کچھ دیر کے لیے تشریف لے جاتے تو سب لوگ بیٹھ جاتے مگر حافظِ ملت علیہ الرحمہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی واپسی تک ہاتھ باندھے کھڑے ہی رہتے، جب حضرت صدر الشریعہ واپس آ کر تشریف فرما ہو جاتے اس کے بعد حافظِ ملت پھر دو زانو بیٹھ جاتے۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 295]
- مبارک پور تشریف لانے کے بعد حضرت حافظِ ملت کو جب بھی یہ خبر ملتی کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سٹھیاؤں اسٹیشن سے فلاں دن فلاں ٹرین سے گزرنے والے ہیں تو کھانا لے کر اسٹیشن ضرور جاتے۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 295]
- مولانا نجم الہدیٰ یافی نے جامعہ مسعود العلوم بہرائچ شریف میں ایک بار بیان فرمایا کہ صاحبزادۂ گرامی مرتبت مولانا عبد الحفیظ صاحب کو ابتدائی درجوں کی کچھ کتابیں پڑھاتا رہا، انہیں ایام میں ایک بار عزیزِ ملت قبلہ حضرت کے پاس تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اسی درمیان میں حاضر ہوا تو ارشاد فرمایا: ”عبد الحفیظ! یہ تمہارے استاد ہیں، استاد کا ادب ضروری ہے۔“ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 295]
واہ کیا شان ہے حضور حافظِ ملت کی!
کہ آپ نے جس طرح اپنے استادِ محترم صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا ادب بجا لایا ہے، یہ فقید المثال ہے، عدیم المثل ہے اور عدیم النظیر ہے۔ تو پیارے! ہمیں اپنے اندر غور و خوض کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپنے اساتذہ کرام کا صحیح معنوں میں باادب بننے کی ضرورت ہے۔ آج کے وقت میں علم کی برکات نصیب نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اپنے اساتذہ کا کماحقہ ادب نہ کرنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کا کماحقہ ادب بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
کتابوں کا ادب و احترام
آپ جہاں خود کتابوں کا ادب کرتے تھے وہیں دوسروں کو بھی ادب کا حکم فرمایا کرتے تھے اور بارہا تلقین کیا کرتے تھے کہ طلبہ اپنی کتابوں کا ادب بجا لائیں۔
حضرت حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے نزدیک حصولِ علم کے اسباب میں کتابوں کا ادب بھی داخل تھا۔ قیام گاہ پر ہوتے یا درسگاہ میں کبھی کوئی کتاب لیٹ کر یا ٹیک لگا کر نہیں دیکھتے بلکہ تکیہ یا ڈیسک پر کتاب رکھ کر دیکھتے اور پڑھاتے۔ قیام گاہ سے مدرسہ یا مدرسہ سے قیام گاہ کبھی کتاب لے کر آنا جانا ہوتا تو کتاب داہنے ہاتھ میں لے کر سینے سے لگا لیتے۔ کبھی کسی طالب علم کو ہاتھ میں کتاب لٹکا کر چلتے دیکھتے تو فرماتے: ”کتاب جب سینے سے لگائی جائے گی تو کتاب سینے میں اترے گی اور جب کتاب کو سینے سے دور کیا جائے گا تو کتاب سینے سے دور ہو گی۔“ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 296]
کیا لاجواب و بے مثال انداز ہے کہ آپ کے نزدیک کتاب کی کتنی اہمیت تھی اور آپ کتابوں کا کس قدر ادب فرمایا کرتے تھے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی غور کریں اور آپ علیہ الرحمہ کی زندگی کے اس پہلو سے، اس گوشے سے خوب خوب مستفیض و مستنیر ہوں اور اپنی کتابوں کا ادب کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کتابوں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
طالبانِ علومِ نبویہ سے ایک اہم گزارش!
طالبانِ علومِ نبویہ کو چاہیے کہ کلامِ مذکور سے درس حاصل کریں، اگر کامیابی کا شوق رکھتے ہیں تو اپنے اساتذہ کرام کا کماحقہ ادب کرنے کی سعیِ بلیغ کریں۔ اسی طرح اپنی کتابوں اور دیگر معظماتِ دینی کے ادب و احترام بجا لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ آج کے وقت میں طالبانِ علومِ نبویہ اپنے اساتذہ کا کیسا ادب بجا لاتے ہیں یہ سب پر عیاں ہے۔ خدارا! اپنے اساتذہ کرام کے ادب پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نخلِ علم میں وہ پانی جس سے دل کو کماحقہ جلا حاصل ہوتی ہے وہ اپنے اساتذہ کا کماحقہ ادب کرنا ہے۔
