| عنوان: | عقیدہ امامت میں شیعہ اور اہل حدیث |
|---|---|
| تحریر: | محمد یحییٰ انصاری اشرفی |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی نوری |
شیعوں کے نزدیک عقیدہ امامت:
شیعہ مذہب میں عقیدۂ امامت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بقیہ تمام عقیدے اسی عقیدۂ امامت کی صیانت و حفاظت کے لیے تصنیف کیے گئے ہیں۔ اہلِ تشیع کے نزدیک امامت کا عقیدہ، توحید و رسالت کے عقیدہ پر فوقیت رکھتا ہے۔ عقیدۂ امامت عماد الدین (دین کا ستون) ہے۔ اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ نبی پر لازم ہے کہ امام کا تعین خود کرے، قوم کے حوالے نہ کرے اور یہ کہ امام نبی کی طرح معصوم ہوتا ہے۔
شیعوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی تصریح فرمائی تھی اور حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی امامت، اور حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت، اور حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا ابو جعفر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی، اور سیدنا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا محمد تقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا علی نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا محمد بن حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کی تصریح فرمائی تھی۔ یہ کل بارہ امام ہیں، انہیں کی طرف شیعوں کا مشہور فرقہ امامیہ منسوب ہے جس کو اثنا عشریہ بھی کہتے ہیں۔ [منہاج السنۃ، ج: 2، ص: 106]
امامِ غائب کے بارے میں اہل حدیث کا عقیدہ:
امامِ غائب اور بقیہ اماموں کے بارے میں غیر مقلدین کا عقیدہ قریب قریب وہی ہے جو اہلِ تشیع کا ہے۔ چنانچہ غیر مقلدین کے ایک مشہور عالم اور مقتدر ہستی نواب وحید الزماں صاحب اپنی کتاب ”ہدیۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں: اگر سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان ہمارے زمانہ میں جنگ ہوتی تو ہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوتے، اس کے بعد حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، پھر امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ ہوتے، ان کے بعد علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ، ان کے بعد امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، ان کے بعد امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، ان کے بعد حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، ان کے بعد امام علی بن موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ، ان کے بعد امام محمد تقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، ان کے بعد امام محمد نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، پھر ان کے بعد حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوتے اور اگر ہم باقی رہے تو ان شاء اللہ اپنے امام غائب محمد بن عبد اللہ (حسن عسکری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوں گے۔ [ہدیۃ المہدی، ص: 103]
اور اس لیے موصوف تحریر فرماتے ہیں: یہ بارہ امام ہیں اور در حقیقت یہی حکمراں ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت اور دین کی ریاست منتہی ہوتی ہے، یہ آسمانِ علم و یقین کے آفتاب ہیں۔ [ہدیۃ المہدی]
نواب وحید الزماں اس فصل کو ان دعائیہ کلمات پر ختم فرماتے ہیں:
اللهم احشرنا مع هؤلاء الأئمة الاثنى عشر وثبتنا على حبهم إلى يوم النشور
اے اللہ! ان بارہ اماموں کے ساتھ ہمارا حشر فرما اور قیامت تک ان کی محبت پر ہمیں ثابت قدم رکھ۔
غور فرمائیں! کہ کیا مذکورہ کلام میں شیعی عقائد کے جراثیم صاف معلوم نہیں ہو رہے ہیں؟ کیا اس کلام میں شیعیت کی روح صاف نہیں جھلک رہی ہے؟ کیا اہلِ سنت و جماعت کے کسی فرد کا یہ عقیدہ ہو سکتا ہے!
شیعہ اور اہل حدیث دونوں متعہ کے قائل
متعہ سے مراد وقتی نکاح ہے، یعنی مرد و زن کا جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے آپس میں وقتی و عارضی طور پر معاہدہ کر لینا ہے۔ جب کہ ”سورہ مومنون“ میں ارشاد ہوا کہ تمہارے لیے وہ عورتیں حلال ہیں جن کے ساتھ تم دائمی نکاح کر لو۔ متعہ ایسا معاہدہ ہے جو چند دنوں کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور چند گھنٹوں کے لیے بھی، نہ اس میں ولی کی اجازت کی ضرورت اور نہ گواہوں کی۔ بس دونوں فریق تنہائی میں بیٹھ کر وقت اور فیس طے کر لیں اور آپس ہی میں ایجاب و قبول کر لیں اور اس کرایہ پر لی گئی عورت سے خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کریں۔ متعہ میں طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، مقررہ وقت پورا ہونے پر خود بخود جدائی واقع ہو جائے گی۔ جدائی کے بعد نہ وراثت اور نہ عدت اور نہ نان و نفقہ۔ متعہ میں نہ اولاد کی جستجو ہوتی ہے اور نہ ہی میراث مقصود۔ اس عقد میں عورتوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں، ایک عورت سے بیسیوں مرتبہ متعہ ہو سکتا ہے اور کئی مردوں سے ایک عورت باری باری متعہ کر سکتی ہے، اس میں حرمتِ غلیظہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا。
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے تیسرے دن اللہ رب العزت کے حکم سے متعہ کو ”حرام قرار دے دیا“ جو تا قیامت حرام ہی رہے گا۔ اہلِ سنت و جماعت متعہ کی حرمت پر متفق ہیں، اسلام کی نظر میں یہ ”زنا بالرضا“ ہے۔ اسلام انسان کی تکریم کے لیے آیا ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ [الاسراء: 70] ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم بخشی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق، مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔
کیا ممکن ہے کہ یہ اسلام کوئی ایسا قانون دے جس میں ایسی جنسی اباحت ہو اور عورت کے وقار کی اس حد تک توہین کی گئی ہو کہ جس کی نظیر ہمیں اباحیت پر قائم معاشروں کی قدیم و جدید تاریخ میں کہیں نہ مل سکے۔ قانونِ متعہ میں عورت کا مقام صرف ذلت و رسوائی ہے اور اس کی حیثیت بالکل اس سودے کی طرح ہے جسے مرد جب چاہے ایک کے بعد دوسرا بغیر کسی حد و شمار کے بدلتا رہے۔ عورت جسے اللہ تعالیٰ نے اس شرف سے نوازا ہے کہ جہاں وہ ماں کی حیثیت سے عظیم مردوں اور عورتوں کو برابر طور پر جنم دیتی ہے وہاں اسے ایک ایسا مرتبہ بھی دیا ہے جو ماں کے علاوہ کسی کو نہیں دیا۔
فرمایا: الجنة تحت أقدام الأمهات، جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔
کیا اس بلند مرتبہ ماں کے شایانِ شان ہے کہ وہ اپنے اوقات یکے بعد دیگرے مختلف مردوں کی آغوشِ عشرت میں دادِ عیش دیتے ہوئے گزارے اور ایسا ہو بھی شریعت کے نام سے؟
شیعہ مذہب میں متعہ:
اہلِ تشیع کا مرغوب ترین اور پسندیدہ مسئلہ متعہ ہے جو تمام عبادتوں سے بڑھ کر عبادت اور تمام نیکیوں سے بڑھ کر نیکی ہے۔ شیعہ نہ صرف یہ کہ اس کو زنا تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس عمل پر اجر کا مستحق بھی قرار دیتے ہیں۔
برٹش عہد میں اور شیعہ ریاستوں میں لائسنس یافتہ عورتیں یہ کام کراتی تھیں۔ زنا کی جتنی شکلیں ہو سکتی ہیں ان میں سے سوائے زنا بالجبر کے کون سی شکل باقی رہ گئی؟ زنا تو عام طور پر ہوتا ہی رضا مندی سے ہے۔ جب کوئی شخص طوائف کے یہاں کوٹھے پر جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ طرفین سے رضا مندی ہوتی ہے اور فیس بھی طے ہوتی ہے۔ اگر عیش و بہار کا وقت بھی مقرر کر لیا جائے تو اس کا نام متعہ ہے اور اس تعینِ وقت کے لیے ضروری نہیں کہ مدت لمبی ہی ہو چند منٹ بھی ہو سکتے ہیں اور چند گھنٹے اور چند دن بھی۔ اگر ایک شخص دادِ عیش دے کر فارغ ہو جائے تو فوراً ہی دوسرا شخص اسی طرح عیش لے سکتا ہے اور یہ آمد و رفت کا سلسلہ پوری رات جاری رہ سکتا ہے۔
زنا و بدکاری ہر معاشرہ میں گھناؤنا اخلاقی جرم رہی ہے مگر شیعہ مذہب ہی ایک ایسا مذہب ہے کہ جس میں نہ صرف یہ کہ زنا جائز بلکہ افضل اعمال بھی ہے اور متعہ شیعہ حضرات کے نزدیک صرف مسلمہ ہی سے نہیں بلکہ یہودیہ اور نصرانیہ حتیٰ کہ مشرکہ اور کافرہ سے بھی جائز ہے اور متعہ کے لیے غیر شوہر دار ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ شوہر دار سے بھی متعہ کیا جا سکتا ہے اور یہ بد کاری دو حقیقی بہنوں سے بیک وقت جائز ہے۔
شیعہ فرقہ چونکہ یہود کا ساختہ پرداختہ فرقہ ہے لہٰذا اس کے طور طریقوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ جس طرح یہود نے اپنے اقتدار و تسلط کے لیے تاریخ کے ہر دور میں جنس (Sex) کا سہارا لیا ہے اسی طرح شیعوں نے بھی انسانی معاشرہ کو کھوکھلا کرنے کے لیے زنا و بدکاری پر متعہ کا نقاب ڈال کر اعلیٰ ترین عبادت کا درجہ دے دیا اور کہہ دیا کہ جو متعہ سے محروم رہا وہ جنت سے محروم رہے گا اور قیامت کے دن نکٹا اٹھے گا (یعنی ذلیل و خوار ہو کر) اور اس کا شمار اللہ تعالیٰ کے دشمنوں میں ہوگا۔
باقر مجلسی نے زنا و بد کاری کی حلت و جواز کو سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے یہ روایت اپنی کتاب ”منہج الصادقین“ میں درج کی ہے۔ اس شرمناک روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں: جو ایک مرتبہ متعہ کرے گا وہ امام حسین کا درجہ پائے گا، اور جو دو مرتبہ متعہ کرے گا وہ امام حسن کا درجہ پائے گا، اور جو تین مرتبہ متعہ کرے گا وہ امیر المؤمنین کا درجہ پائے گا، اور جو چار مرتبہ متعہ کرے گا وہ میرا درجہ پائے گا۔ (یعنی معاذ اللہ رسولِ پاک کا درجہ)
باقر مجلسی متعہ (زنا) کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے زنِ مومنہ سے متعہ کیا اس نے ستر مرتبہ کعبہ کی زیارت کی۔ [عجالہ حسنہ، ترجمہ رسالہ متعہ، ص: 14، 16، لاہور]
جس نے اس کارِ خیر (متعہ) میں زیادتی کی ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے مدارج اعلیٰ کرے گا، یہ لوگ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گے، ان کے ساتھ ملائکہ کی ستر صفیں ہوں گی، دیکھنے والے یہ کہیں گے کیا یہ مقرب فرشتے ہیں؟ یا انبیاء و رسل ہیں؟ فرشتے جواب دیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سنتِ رسول پر عمل کیا یعنی متعہ کیا، اور یہ لوگ بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ [عجالہ حسنہ، ترجمہ رسالہ متعہ، ص: 14، 16، لاہور]
شیعوں کو جنت میں داخلہ کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف متعہ (زنا) جیسے کارِ خیر میں کثرت کرنے سے بغیر حساب و کتاب جنت میں داخلہ کی گارنٹی ہے۔
اہل حدیث مذہب میں متعہ:
اہل حدیث مذہب کی بنیاد بھی شیعوں کی طرح خواہشاتِ نفسانیہ کی تکمیل اور شہوت پرستی پر ہے۔ یہ مقصد چاہے کسی حرام یا حلال طریقہ سے حاصل ہو اس کی قطعاً پرواہ نہیں۔
جو شخص بھی اس مذہب کا بغور مطالعہ کرے گا اور تعصب سے ہٹ کر ان کی کتب کی ورق گردانی کرے گا وہ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یہ بہت ہی بے غیرت اور حیا سے عاری لوگ ہیں۔ اہل حدیث اور شیعہ کا مسلکی رشتہ یگانگت ہے، لہٰذا متعہ جیسے لذت بخش مسئلہ میں شیعوں سے کیسے الگ ہو سکتے تھے۔
اہل حدیث کا عقیدہ ہے کہ متعہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔ نواب وحید الزماں اہلِ حدیث اپنی کتاب ”نزل الابرار“ میں لکھتے ہیں: المتعة ثابت جوازها بقطعية القرآن، متعہ کا جواز قرآن کی قطعی آیت سے ثابت ہے۔ [نزل الابرار، ج: 2] متعہ جائز ہے۔ [ہدیۃ المہدی: 110]
اس ناپسندیدہ مسئلے پر عمل کی اول و آخر ذمہ داری انہی لوگوں کے کندھوں پر ہے جنہوں نے مسلمان خواتین کی عصمتیں مباح قرار دیں اور مومن خواتین کی عزت و وقار کو رائیگاں ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ ایسے نا عاقبت اندیشوں اور ایمان سے عاری اور عقل کے اندھوں سے بچائے جنہوں نے تکمیلِ خواہشاتِ نفسانیہ کے نشہ میں زنا کو حلال قرار دیا ہے۔
لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم
[حوالہ: اہلِ حدیث اور شیعہ مذہب، ص: 9 تا 15]
