| عنوان: | قربانی کا جانور کیسا ہو؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
ہمارے معاشرے میں آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ انسان اپنے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ ترین چیزوں کو ہی اختیار کرتا ہے چاہے جیسا بھی موقع ہو لباس ہو خواہ گھر کی شادی ہو خواہ کوئی اور موقع الغرض ہر چیز میں اپنی ذات کو لیکر بہتر سے بہترین کی جانب ہی اپنی توجہ کو مبذول کرتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ انسان اپنی ذات سے متعلق چیزوں میں کمی و کوتاہی برداشت کرے، اپنے رب عزوجل کے احکام کی بجا آوری میں انتھک کوشش کرے، اعلیٰ سے اعلیٰ ترین چیزوں کو ہی راہ خدا میں صرف کرتا اور رضائے خدا و مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حتی المقدور وہ چیز اختیار کرے جس سے خدا و مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی کا سہرا اپنے سر سجا سکے۔
پیارے اسلامی بھائیو!
ہمیں خوب غور و خوض کرنے کی حاجت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اب چونکہ یہ موسم قرباں ہے تو مناسب یہ ہے کہ قربانی سے متعلق ہی تحریر پیش کی جائے اور مقالہ میں بھی ان سے تعلق رکھنے والی اشیاء سے بحث کی جائے۔ تو اب ضروری ہوا کہ ہم قربانی کے موضوع پر کسی ایک زاویے سے کلام پیش کریں کیونکہ قربانی کا ایک ایک موضوع اپنے اندر اتنی وسعت کا حامل ہے کہ ایک نہیں کئی کتب لکھی جاسکے۔ لہذا فقیر راقم الحروف کا موضوع ہے:
قربانی کا جانور کیسا ہو؟؟؟
خدائے رحمان کا فرمان: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ”تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔“ اس آیت میں بھلائی سے مراد تقویٰ اور فرمانبرداری ہے اور خرچ کرنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ”یہاں خرچ کرنے میں واجب اور نفلی تمام صدقات داخل ہیں۔“ امام حسن بصری رحمة الله تعالى عليه نے فرمایا: ”جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اسے رضائے الہٰی کے لیے خرچ کرنے والا اس آیت کی فضیلت میں داخل ہے خواہ وہ ایک کھجور ہی ہو۔“ [صراط الجنان، ج: 2، آل عمران: 92]
پتا یہ چلا کہ تقویٰ کے حصول کا ایک ذریعہ من پسند چیزوں کو راہ خدا میں صرف کرنا بھی ہے۔
قربانی بھی چونکہ ایک اہم اور واجب عبادت ہے جس میں مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کیا جاتا ہے تو یہ مذکورہ آیت میں داخل۔
اب قابل غور بات یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی بارگاہ میں کون سا جانور پیش کر رہا ہے؟ آیا کہ جانور سب اعلیٰ ترین و خوب فربہ اور تمام طرح کے معیوب و نقائص سے پاک و خالی ہوگا یا ان تمام شے میں سے کوئی نہ کوئی شے مفقود ہوگا؟؟؟ اگر پہلا آپشن ہو تو یہی شے محبوب ہو گا ورنہ شے محبوب نہ ہوگا کیونکہ اس طرح کی گھٹیا چیزوں کو ہر ذی شعور اور عقل سلیم رکھنے والا انسان اپنے لیے نقص و عیب سمجھتا اور اپنے حق میں ناپسند کرتا ہے۔
تو ضروری ہوا کہ دونوں قسم یعنی جن جانوروں کی قربانی جائز ہے اور جس کی جائز نہیں اس کو بیان کیا جائے۔
اب سب سے پہلے جس کی قربانی جائز ہے وہ درج ذیل ہیں:
قربانی کے جانور میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے:
- قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا ضروری ہے۔ البتہ تھوڑا سا عیب ہو (مثلاً کان چیرا یا سوراخ ہو) تو قربانی مکروہ ہوگی اور زیادہ ہو تو قربانی نہیں ہوگی۔
- پھر قربانی کے جانور کی عمر بھی وہ ہو جس کو شریعت مطہرہ نے مقرر فرمایا ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے: (1) اونٹ پانچ سال کا۔ (2) گائے دو سال کی۔ (3) بکرا (اس میں بکری، دنبہ، دنبی اور بھیڑ نر و مادہ دونوں شامل ہیں) ایک سال کا۔ جس جانور کی عمر شریعت نے جو مختص کر دی ہے اس سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ [رد المحتار، ج: 9، ص: 533]
ایک غلطی کا ازالہ
دیکھا یہ جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ خصی کی قربانی کرتے ہیں۔ اور یہ عمدہ طریقہ ہے کہ خداوند متعال کی بارگاہ میں محبوب اشیاء پیش کیے جائیں یہی حکم خداوند متعال نے اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیم عليه السلام کو دیا تھا، اور خصی کی قربانی ہمارے معاشرے میں عمدہ و محبوب سمجھا جاتا ہے۔
لیکن ایک بات ذہن نشین رہے! کہ کسی پر قربانی واجب ہو اور فی الوقت خصی خریدنے کا پیسہ نہ ہو جبکہ وہ اسی پیسے سے بکری یا پاٹھی خرید سکتے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ بکری یا پاٹھی خرید کر قربانی کرے، اگر وہ خصی خریدنے کے چکر میں رہتا ہے اور پیسے کی کمی کی وجہ سے کوئی جانور (بکری یا پاٹھی) نہیں خریدتا حتی کہ ایام قربانی گزر جاتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا۔
خدارا اس مسئلہ کو عام کریں! کہ خصی کی قربانی عمدہ و اعلیٰ ہے کہ اس میں محبوب شے کو خداوند متعال کی بارگاہ میں قربان کرنا ہے، لیکن اگر فی الوقت خصی خریدنے کا پیسہ نہیں ہے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ خصی سے کم قیمت (بکری یا پاٹھی) خرید کر واجب قربانی ادا کرے۔
استثنائی صورت: البتہ دنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ [رد المحتار، ج: 9، ص: 533]
اوپر تو وہ چیزیں مذکور ہوئیں جس کا ہونا ضروری ہے لیکن اب ان چیزوں کا بیان ہوتا ہے جس کا ایک قربانی کے جانور میں نہ ہونا ضروری ہے۔ تاکہ وہ چیزیں جن کا ہونا ضروری ہے اور وہ چیزیں جن کا نہ ہونا ضروری ہے دونوں چیزیں قربانی کرنے والے کے سامنے رہیں اور اسی حساب سے قربانی کا جانور خریدیں۔
درج ذیل چیزیں قربانی کے جانور میں نہ ہونا ضروری ہے:
- ایسا پاگل جانور جو چرتا نہ ہو۔
- اتنا کمزور کہ ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑا نہ ہوسکے۔
- اندھا ہو۔
- ایسا لنگڑا جو خود اپنے پاؤں سے مذبح (قربان گاہ) تک نہ جاسکے۔
- ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔
- ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھاسکے۔
- جس کے پیدائشی کان نہ ہوں۔
- ایک کان ہو۔
- وحشی (جنگلی) جانور جیسے: نیل گائے، جنگلی بکرا یا خنثیٰ (جس میں نر و مادہ دونوں علامتیں ہوں) جانور۔
- جلالہ جو صرف غلیظ کھاتا ہو۔
- جس کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو۔
- دم یا چکی ایک تہائی (1/3) سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں۔
- ناک کٹی ہوئی ہو۔
- تھن کٹے ہوئے ہوں یا خشک ہوں ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔ [درمختار، ج: 3، ص: 340-341 / بہار شریعت، ج: 3، ص: 535-537]
- دانت نہ ہوں (یعنی جھڑگئے ہوں)۔
ضروری بات: خیال رہے بکری میں ایک تھن کا خشک ہونا اور گائے، بھینس میں دو خشک ہونا ”ناجائز“ ہونے کیلئے کافی ہے۔ [درمختار، ج: 3، ص: 340-341]
یہ بات بھی ذہن نشیں رہے!
جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے۔ اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گئے، تو دیکھا یہ جائے گا کہ جڑ سمیت ٹوٹا ہے یا صرف اوپر سے اگر جڑ سے ہو تو قربانی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی۔ [عالمگیری، ج: 5، ص: 297]
لہذا بیان کردہ صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی قربانی کی حفاظت کریں کہ جانور مذکورہ عیوب و نقائص سے پاک و صاف ہوں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم کما حقہ قربانی کا جانور لاکر راہ خدا میں صرف کرتے یعنی قربانی کرتے ہیں یا نہیں ان ساری باتوں کے پائے جانے کے ساتھ ساتھ قربانی ضرور کریں لیکن تقویٰ کے ساتھ کہ اللہ تعالی کے یہاں جانور کا گوشت و خون نہیں پہنچتا بلکہ اگر کوئی چیز رب تعالی تک پہنچتی ہے تو وہ صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ اور اسلام میں تقوی کی اہمیت کو صرف اتنی سی بات سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ: اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰكُمْ ”تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔“ [ترجمہ کنز الایمان] اسلام میں جب مقبولیت کا معیار اور شرافت و فضیلت کا معیار تقویٰ پر ہے تو ضروری ہے قربانی کے جانور میں بھی تقویٰ والے پہلو کو مدنظر رکھے۔
مزید معلومات کیلئے کتب فقہیہ معتبرہ و مستندہ کا مطالعہ کریں۔ آسانی کیلئے چند کتب کا نام پیش خدمت ہے۔ فتاویٰ شامی، فتاویٰ رضویہ، فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ ولوالجیہ، مبسوط سرخسی، فتاویٰ اقناعیہ، بہار شریعت، فتاویٰ فیض الرسول، فتاویٰ فقیہ ملت، فتاویٰ مرکز تربیت افتاء اہلسنت، فتاویٰ بحر العلوم، فتاویٰ امجدیہ، ابلق گھوڑے سوار، اجتماعی قربانی کے مدنی پھول، قربانی کے فتاویٰ دارالافتاء اہلسنت وغیرھا。
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں قربانی کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمين
