| عنوان: | کیا آپ کافر کہنے میں جلدی تو نہیں کرتے؟ |
|---|---|
| تحریر: | عبدالصمد قادری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا وقار مصباحی صاحب کے بیان سے ماخوذ نکات اور اس کا خلاصہ:
اس پرفتن دور میں جہاں ہر جگہ لاعلمی کا دور دورا ہے وہیں پہ کچھ نام نہاد عالم و کتابی مفتی، احکامِ شریعت نافذ کرنے میں اتنی عجلت برتتے ہیں کہ ان کی نوکِ زبان پر یہی جاری رہتا ہے کہ فلاں کافر ہے، فلاں کام کافرانہ ہے، اگرچہ اس کا حقیقت سے کچھ بھی سروکار نہ ہو۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اثباتِ کفر کے لیے مندرجہ ذیل تین چیزوں کا فقدان لازم و ضروری ہے جن کا لحاظ ہر عالم و مفتی اور احکام نافذ کرنے والوں پر ضروری ہے:
- احتمال فی المتکلم
- احتمال فی التکلم
- احتمال فی الکلام
یہ وہ بارڈر ہیں جن کے بعد ہی کفر ثابت ہوتا ہے اب ان میں سے کوئی ایک بھی احتمال باقی ہو تو اثباتِ کفر نہ ہوگا۔
علما کے کلام کا خلاصہ ہے کہ منصبِ افتاء چنگاری پر چلنے کے مانند ہے مگر آج کل اس معاملے میں اتنی سستی برتی جاتی ہے جن کو لفظِ افتاء ہی کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا وہ بھی آج کل منصبِ افتاء پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور جن کے بارے میں بھی کچھ اختلاف ہو فٹ سے کافر کہہ دیتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا خلاصہ ہے جس کے کسی ایک کلام میں ننانوے احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال بھی ایمان کا ہو تو ایک دیندار مفتی کے لیے ضروری ہے کہ احتمالِ ایمان کو ترجیح دے۔
خدارا یہ منصب بہت اہم ہے لہذا اس کو اچھے باعمل عالمِ دین کو ہی سونپا جائے اسی میں ہمارے دین کی بقا ہے۔
اللہ پاک ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
