Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورت کا کردار گھر سے معاشرہ تک

عورت کا کردار گھر سے معاشرہ تک
عنوان: عورت کا کردار گھر سے معاشرہ تک
تحریر: ام حبیبہ واسطی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

عورت کا کردار گھر سے معاشرہ تک

اسلام سے پہلے دنیا نے جتنی بھی ترقی کی، اس میں صرف مرد کا حصہ سمجھا جاتا تھا، عورت کا کہیں بھی کوئی نمایاں کردار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن جب اسلام آیا تو اس نے دونوں صنفوں کی کوششوں کو وسائل ترقی میں شامل کر لیا۔ اسلام نے جو عزت اور مقام عورت کو عطا کیا، اس کی مثال نہ تو قومی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں۔ اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی مقرر نہیں کیے بلکہ انہیں مردوں کے برابر درجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت، چاہے ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی، ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے، جس کے بغیر کائنات انسانی کی ہر شے پھیکی اور ماند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے۔ عورت اپنی ذات میں ایک تناور درخت کی مانند ہے، جو ہر قسم کے سرد و گرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے۔ اسی عزم و ہمت، حوصلے اور استقامت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے رکھا ہے۔

عورت ہی وہ عظیم ہستی ہے جس کے وجود سے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم السلام نے جنم لیا اور انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا پیغام لے کر آئے۔ حضرت حوا علیہا السلام سے لے کر اسلام کے ظہور تک کئی نامور خواتین کا ذکر قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام میں موجود ہے، جن میں حضرت سارہ علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہ السلام، حضرت آسیہ علیہ السلام، حضرت ام موسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہ السلام، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اور دیگر عظیم خواتین شامل ہیں، جن کے کارناموں سے تاریخ کے اوراق روشن ہیں۔

تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ دعوت و تبلیغ اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے کی سعادت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوئی۔ آپ نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اپنی پوری زندگی دین اسلام کے لیے وقف کر دی۔ شعب ابی طالب میں تین سالہ محاصرہ برداشت کرنا آپ کے صبر و استقامت کی روشن مثال ہے۔

اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فضل میں بے مثال تھیں۔ آپ سے ہزاروں صحابہ کرام نے علم حدیث حاصل کیا۔ آپ کی ذہانت، فطانت اور علمی وسعت نے انہیں منفرد مقام عطا کیا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، جو خاتون جنت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی تھیں، صبر، حیا اور جرأت کا عظیم نمونہ ہیں۔ بچپن ہی سے آپ نے اپنے والد محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے مظالم کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ہاجرہ جیسی عظیم خواتین نے بھی اپنی جرأت، قربانی اور استقامت سے تاریخ اسلام میں سنہری نقوش چھوڑے۔ حضرت ہاجرہ کی صفا و مروہ کے درمیان سعی آج بھی قیامت تک کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔

معاشرے کی بلندی اور زوال میں عورت کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “ایک تعلیم یافتہ عورت ایک پورے معاشرے کو تعلیم دیتی ہے۔” یہی وجہ ہے کہ صحابیات کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مرد دیندار ہو تو دین گھر تک محدود رہتا ہے، لیکن اگر عورت دیندار ہو تو دین نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے عورت ایک مضبوط اور پائیدار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے، اور اس میں سب سے اہم کردار اولاد کی صحیح تربیت کا ہے۔

معاشرے کی اصلاح کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، اور گھر کی بنیاد عورت ہوتی ہے۔ اگر خواتین اپنے گھروں میں اعلیٰ اقدار، اخلاق اور تربیت کو فروغ دیں تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

مختصراً، عورت معاشرے کی روح ہے۔ اس کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی ہی ایک کامیاب اور مہذب معاشرے کی ضمانت ہے۔ عورت کا کردار گھر سے لے کر معاشرے تک نہایت وسیع اور اہم ہے۔ اگر عورت اپنے کردار کو بہترین انداز میں ادا کرے تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ لہٰذا عورت کو چاہیے کہ وہ علم اخلاق اور صبر کے زیور سے خود کو آراستہ کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا سکے۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یہ عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہمیں ان پاکیزہ اور مثالی خواتین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، جنہوں نے اپنے کردار، اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں سے تاریخ انسانیت کو روشن کیا۔ صحابیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیاں ہمارے لیے محض واقعات نہیں بلکہ مشعل راہ ہیں، ایمان کی پختگی، حیا کی لطافت، صبر کی عظمت اور اطاعت الہی کی کامل تصویر۔

وہ مائیں تھیں تو شفقت کی مثال، بیٹیاں تھیں تو ادب و حیاء کا پیکر، بیویاں تھیں تو وفا و محبت کی جیتی جاگتی تفسیر۔ انہوں نے ہر حال میں دین کو مقدم رکھا، خواہ وہ خوشی کا لمحہ ہو یا آزمائش کی گھڑی۔ ان کی زندگیوں میں دنیا کی چمک دمک نہیں بلکہ آخرت کی فکر غالب تھی، اور یہی ان کے کردار کی اصل خوبصورتی تھی۔

اے اللہ! ہمیں بھی وہی صدق، وہی اخلاص، وہی استقامت عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر دے اور ہمارے اعمال کو اپنی رضا کے مطابق بنا دے۔ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں کو صحابیات کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھال سکیں اور ایک پاکیزہ، باوقار اور باعمل معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!