Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوشل میڈیا پر ایمان کی بربادی

سوشل میڈیا پر ایمان کی بربادی
عنوان: سوشل میڈیا پر ایمان کی بربادی
تحریر: کنیز عائشہ رضویہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کا نام ایمان ہے، یعنی صدق دل سے ان تمام باتوں کا اقرار کرنا جو ضروریات دین میں سے ہیں۔ اور کسی ایک ضرورت دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات دین کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریات دین وہ مسائل دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت، انبیاء کی نبوت، جنت و دوزخ، حشر و نشر وغیرہ۔

فِي شَرْحِ الْعَقَائِدِ النَّسَفِيَّةِ: إِنَّ الْإِيْمَانَ فِي الشَّرْعِ هُوَ التَّصْدِيقُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالَى، أَيْ: تَصْدِيقُ النَّبِيِّ بِالْقَلْبِ فِي جَمِيعِ مَا عُلِمَ بِالضَّرُورَةِ مَجِيئُهُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالَى. [شرح العقائد النسفية، مبحث الإيمان، ص: 120]

شرح العقائد النسفیۃ کی اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے: “اور تحقیق شریعت میں ایمان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائی ہوئی چیزوں کی تصدیق کرنے کا نام ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام باتوں میں دل سے تصدیق کرنا جن کے بارے میں بالضرورۃ معلوم ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں۔”

ایمان ایک محتشم اور قیمتی چیز ہے، جو انسان کی دنیا اور آخرت سنوار دیتی ہے۔ ایمان اسلام کی بنیاد اور روح ہے، جس کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں۔ ایمان ہی وہ جوہری فرق ہے، جو مسلمانوں کو باقی مذاہب کے لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔ تادم مرگ ایمان کی بقا ہی جنت کی ضمانت ہے، جبکہ ایمان سے عاری لوگ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ کے مصداق ہیں۔ اہل ایمان اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں چلے جائیں گے، لیکن جو ایمان سے محروم رہے اور دنیا میں کفر کیا وہ لوگ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے۔ ایمان ایک بیش قیمتی سرمایہ ہے، اور جو چیز قیمتی ہوتی ہے اس کی حفاظت کی جاتی ہے، لیکن افسوس! عصر حاضر میں اس عظیم دولت کو مختلف ذرائع سے ختم کیا جا رہا ہے۔ اور ان تمام ذرائع میں سوشل میڈیا سر فہرست ہے۔

آج کا یہ دور میڈیا کا دور ہے۔ اور الیکٹرانک اور میڈیا میں بھی جو شعبہ سب سے آگے بڑھا ہوا ہے، وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، بوڑھا ہو یا بچہ، ہر کوئی سوشل میڈیا پر مصروف نظر آتا ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا کے بھی کئی میدان ہیں، مثلاً: فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹویٹر اور یوٹیوب وغیرہ۔ اور اس کے علاوہ جو دیگر ذرائع ہیں ان تمام چیزوں کے اندر ہر کوئی لگا ہوا نظر آتا ہے۔ آج کے دور میں انسانی زندگی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جتنی ایکٹیوٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (فیس بک، انسٹاگرام، ٹویوٹر، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ) پر نظر آتی ہے اتنی کسی اور شعبے میں نہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔

سوشل میڈیا آج کے دور کا سب سے متحرک شعبہ بن چکا ہے۔ اگر اس کو مثبت مقصد اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کی اصلاح کے لیے ایک مؤثر ہتھیار بن سکتا ہے۔ اور اگر منفی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو پھر اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا ایک بہتا ہوا دریا ہے، جس میں کچرا بھی ملے گا اور ہیرا بھی ملے گا۔ یہ وہ بہتا ہوا دریا ہے جس کے اندر موتی اور جواہرات بھی ملیں گے، اور گندگی بھی ملے گی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ بہت ساری خطرناک برائیاں بھی اس کے اندر موجود ہیں، جس سے بندے کی دنیا تو دنیا آخرت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اندر خوبیاں کم ہیں اور خامیاں زیادہ ہیں، اس کے اندر فوائد کم ہیں نقصانات زیادہ ہیں۔ اور سب سے بڑا اس کا جو نقصان آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، وہ الحاد اور ارتداد، بدمذہبیت اور گمراہیت کا پھیلاؤ ہے۔ اور یہ ہر کوئی محسوس کر سکتا ہے کہ اس میڈیا کے ذریعے کتنی تیزی کے ساتھ میں الحاد پھیل رہا ہے، ارتداد کا فتنہ بڑھ رہا ہے، گمراہیت وبد مذہبیت بڑھ رہی ہے، ہر آئے دن خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ معاذ اللہ فلاں کی بیٹی مرتد ہو گئی، فلاں شخص گمراہ و بد مذہب ہو گیا۔

اب ظاہر سی بات ہے کہ ہم جیسے جیسے قیامت سے قریب ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے اچھائیاں نہیں بلکہ برائیاں ہی ہمارے معاشرے میں جنم لیں گی۔ اور جتنے فتنے بڑھیں گے ان میں سے جو سب سے بڑا فتنہ ہوگا وہ ایمان پر حملہ کرنے والا فتنہ ہوگا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے دور میں جن فتنوں کی نشاندہی فرمائی تھی، اور جن فتنوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ فتنے اتنی تیزی کے ساتھ بڑھیں گے تو اس کا کوئی نہ کوئی ذریعہ اور راستہ تو بنے گا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان فتنوں کے بڑھنے کا جو سبب ہماری نگاہوں کے سامنے آتا ہے وہ سوشل میڈیا ہی آتا ہے۔

فتنوں کا نزول اور احادیث مبارکہ

كِتَابُ الْإِيمَانِ، بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالْأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا. [صحيح مسلم، رقم الحديث: 313]

ایمان کا بیان، فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب۔ ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح چھا جانے والے ہوں گے، نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ ان فتنوں میں صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو مؤمن ہوگا توصبح کو کافر۔ اپنا دین (ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچتا ہوگا۔”

أَبْوَابُ الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابُ الصَّابِرِ عَلَى دِينِهِ فِي الْفِتَنِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَعُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ. [سنن الترمذي، رقم الحديث: 2260]

کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہوگا۔ ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہوگا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا۔” امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ عمر بن شاکر ایک بصری شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔

كِتَابُ الْفِتَنِ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْقَطْرِ. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 7060]

فتنوں کے بیان میں، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک بلا سے جو نزدیک آگئی ہے عرب کی خرابی ہونے والی ہے۔ ترجمہ: ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری نے کہا کہ اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبد الرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے، اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل پر چڑھے پھر فرمایا: کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔”

ایک اور موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتنے یکے بعد دیگرے اتریں گے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ آج یہ فتنہ اتر گیا اب اس کے بعد سکون رہے گا، نہیں بلکہ میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا یکے بعد دیگرے اتریں گے، یعنی ایک ختم نہیں ہوگا دوسرا پیدا ہوگا، دوسرا ختم نہیں ہوگا تیسرا پیدا ہوگا۔ اور پھر اس کی مثال دیتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے دھاگے کے اندر دانے پروئے ہوئے ہوں، اور وہ دھاگہ جب ٹوٹ جائے تو دانے بکھرنے لگتے ہیں، ایسے ہی فتنے معاشرے کے اندر پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں دعا کر رہا ہے، فتنے سے پناہ طلب کر رہا ہے۔ تو حضرت عمر نے فرمایا اگر تو فتنوں سے پناہ چاہتا ہے تو پھر ان فتنوں سے پناہ مانگ جو گمراہ کر دینے والے ہیں۔ یعنی سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ بتا دیا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے یہ پتہ چل گیا کہ فتنے تو بہت آئیں گے، بے تحاشہ فتنے اتریں گے، لیکن ان سارے فتنوں میں جو سب سے بڑا فتنہ ہوگا، یہ وہ فتنہ ہوگا جو بندے کو گمراہ کر دینے والا، الحاد و ارتداد کا شکار کر دینے والا، بدمذہبیت اور گمراہیت کے اندر ڈال دینے والا، کفر و شرک کی دہلیز پر دھکیل دینے والا ہوگا۔ اسی لیے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں سے ڈرایا بھی اور ایمان پر اٹیک کر دینے والے فتنوں سے زیادہ ڈرایا۔ اسی لیے اس دنیا میں جو سب سے بڑا فتنہ کہا گیا ہے، وہ دجال کو کہا گیا ہے؛ کیونکہ دجال جب نکلے گا تو سب سے زیادہ لوگوں کا ایمان غارت ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

جس دور کے اندر ہم زندگی گزار رہے ہیں، اس دور کے اندر فتنوں کے بہت سارے ذرائع موجود ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان سارے فتنوں کے جو ذرائع ہیں، جو راستہ ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بندہ ایک کلک کرتا ہے اور اس کے ایمان کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ کتنے لوگوں نے بس ایک کلک کے اوپر اپنے ایمان کا جنازہ نکال دیا۔ تو اب ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کی توجہ تو صرف کھانے، پینے اور مال جمع کرنے کی طرف ہوتی ہے۔ لیکن ایمان کی بقا کی طرف تو کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی ہے۔

یہ دور پروپیگینڈا کا دور ہے۔ بہت سارے لوگ پروپیگنڈا کا شکار ہو جاتے ہیں جیسے مارکیٹ کے اندر بہت سارے سامان ایسے ہوتے ہیں جو نقصان دہ ہوتے ہیں، لیکن ان کو اتنا زیادہ دکھایا جاتا ہے کہ لوگ اس کو استعمال کرنا اپنا شوق بنا لیتے ہیں۔ ایسے ہی جب بدمذہبیت کو سوشل میڈیا پر لانچ کیا جاتا ہے، تو پھر اس کو اتنا دکھایا جاتا ہے کہ بندہ اس کے غلط ہونے کو بھول کر اس سے متأثر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس سے پہلے کچھ لوگ شراب پیتے تھے، کچھ لوگ جوا کھیلتے تھے، کچھ لوگ بے حیائی میں مبتلا ہوتے تھے، لیکن جب سے سوشل میڈیا کے اندر جڑے ہیں تب سے بے حیائی، فحاشی، عیاشی عام ہو رہی ہے۔ یعنی جو کام پہلے بہت چھوٹے لیول پر ہوتا تھا، آج وہ کام سوشل میڈیا کے ذریعے بہت ہائی لیول پر ہونے لگا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا پر بدمذہبوں کی بھرمار ہے۔ داڑھی، جبہ اور ٹوپی میں ایمان کے لٹیرے چھپے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں، کہ کب کوئی سنی صحیح العقیدہ آئے اور اس کے ایمان کا جنازہ نکال دیا جائے۔ اور ہمارے سنی حضرات بہت جلدی بدمذہبوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؛ کیونکہ ایسی بہت ساری خبریں ہیں کہ انسان بدمذہبوں کو سننے کی وجہ سے اپنا ایمان کھو بیٹھا۔ ایک سنی صحیح العقیدہ بندہ تھا۔ اس نے جب سوشل میڈیا کے اندر غیروں کو سننا شروع کیا، تو بار بار اس بات کو سنتا رہا کہ معاذاللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دلوایا کرتے تھے۔ بہت ساری باتیں اس نے سنی تو وہ پروپیگنڈا کا شکار ہو گیا۔ پھر اس نے حضرت امیر معاویہ کی شان میں بدتمیزی اور گستاخی کی، اور وہ بدمذہب اور نام نہاد مولائی بن گیا۔ اس کی مثالیں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ملیں گی، کہ بندہ سوشل میڈیا پر غیروں کے بدمذہبوں کے بیانات سن سن کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اس سوشل میڈیا کے دور میں پروپیگنڈا کر کے لوگوں کے دین و ایمان کو غارت کرنے کا پورا ایک سلسلہ چلا ہوا ہے۔ اور یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ جتنے پلیٹ فارمز میڈیا پر چلتے ہیں اس میں اہل سنت والجماعت آٹے میں نمک کے برابر ہیں، ورنہ زیادہ تر گمراہوں، بدمذہبوں کے پلیٹ فارمز میڈیا پر چلتے ہیں؛ کیونکہ ان کو باضابطہ طور پر فیسیلٹی دی جاتی ہے، ان کو پورا سیٹ اپ دیا جاتا ہے، بڑی بڑی تنخواہیں دی جاتی ہیں؛ کیونکہ اسلام کے خلاف جو دشمن طاقتیں ہیں وہ اس بات کو جانتی ہیں، کہ جب اہل سنت کے سچے عقائد اور علمائے اہل سنت سے عوام اہل سنت کو دور کر کے غیروں کے شکنجے میں گرفتار کر دیا جائے گا تو مسلمان خود بخود خستہ ہو جائیں گے۔ یہ ایک ناپاک منصوبہ ہے۔ پچھلی صدی کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا، کہ ہمفرے نام کا جو جاسوس اسلامی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے نکلا تھا اس نے پوری اسلامی دنیا کا دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ دی تھی، اس کے اندر یہی لکھا تھا کہ علماء کو بدنام کیا جائے ہم آسانی کے ساتھ میں مسلمانوں کو شکست دے دیں گے؛ کیونکہ علماء کے اندر دینی جذبہ ہوتا ہے، وہ آگے آتے ہیں ان کو دبایا جائے، مسلمان خود بخود دب کر رہ جائیں گے۔ یہ ایک ایجنڈا ہے اس ایجنڈے کے ذریعے اہل سنت والجماعت کے مقابل لوگوں کو پورا سیٹ اپ دیا جاتا ہے۔ اور اس کا مقصد یہی ہے تاکہ وہ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے لوگوں کو اہل سنت والجماعت سے برگشتہ کر کے کفر و شرک، الحاد و ارتداد کے دہانے پر لے جائیں اور ان کے ایمان کا جنازہ نکالیں۔

لیکن جب اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والوں کو بدمذہبوں کے بیانات سننے سے روکا جاتا ہے، تو سامنے سے یہی جواب آتا ہے کہ ہم تو دین کی باتیں سنتے ہیں، قرآن کا ترجمہ سنتے ہیں، حدیث پاک کی تشریح سنتے ہیں، بزرگوں کی باتیں سنتے ہیں، تو یہاں پر ایک سوال ہوتا ہے کہ دین متین کا علم کس سے حاصل کیا جائے، سنی علماء سے یا بدمذہبوں سے؟ اس کے متعلق حضرت محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ جو کہ بڑے پائے کے تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں: کہ دین کا علم جس سے حاصل کرو اس کو دیکھ لو کہ وہ ہے کون؟ تم جس سے علم حاصل کر رہے ہو کہیں وہ گمراہ تو نہیں ہے، کہیں اس کے عقیدے کے اندر خرابی تو نہیں ہے؛ کیونکہ بندہ جب بدعقیدہ سے علم حاصل کرتا ہے تو چاہے وہ قرآن کا علم ہو یا حدیث کا علم، اخیر میں یہی ہوتا ہے کہ اس کا بھی ایمان غارت ہو کر رہ جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث پڑھ کر پیش کرتے ہیں، لیکن یہ تو معلوم نہیں ہے نا کہ جو وہ قرآن کا ترجمہ کر رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط، یہ تو نہیں معلوم کہ قرآن پڑھ کر اس کی تشریح صحیح کر رہا ہے یا نہیں کر رہا ہے، یہ تو نہیں معلوم کہ وہ آیت و حدیث کا جو مفہوم بتا رہا ہے وہ کس کے بارے میں ہے؛ کیونکہ بدمذہبوں کی یہ خصلت رذیلہ ہے کہ وہ آیتیں جو کفار و مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہیں، ان آیتوں کو وہ اہل سنت والجماعت پر چسپاں کرتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ دیکھو سنی حضرات شرک کرتے ہیں۔ اس طرح سے آسانی کے ساتھ وہ سنی عوام کو بدمذہبیت کی طرف مائل کر لیتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہوتا ہے کہ ہم بدمذہبوں سے اس وجہ سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ ان کو ہم اہل سنت والجماعت کی طرف مائل کر سکیں۔ لیکن ان کی یہ سوچ باطل ہوتی ہے؛ کیونکہ ایسے لوگ بدمذہب کے عقیدے کو درست تو نہیں کر پاتے ہیں، بلکہ خود ان کے شکنجے میں پھنس کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم بہت مضبوط ہیں، ان کے باطل نظریات ہم پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ تو ایسے خیالات رکھنے والوں کو یہ علم ہونا چاہیے، کہ دور گزشتہ میں ایک محدث گزرا ہے جس کا نام عمران تھا۔ اس نے جب بدمذہب عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو علماء نے اسے بہت سمجھایا، تو اس نے بھی یہی کہا تھا کہ میں اس کو سنی بنا لوں گا، لیکن ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا اور وہ خود بدمذہب ہو گیا تھا۔ جب اتنا بڑا محدث اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کر پایا، تو عوام کی کیا گنتی ہے؟ عوام کیسے بدمذہبوں کو سن کر اپنے ایمان کو بچا سکتی ہے؟

اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں، بدمذہبوں اور مرتدوں کا مذہبی بائیکاٹ کرنا، ان سے دور رہنا، ان کے یہاں شادی بیاہ نہ کرنا خلق عظیم سے ہے؛ کیونکہ خداوند قدوس اور اس کے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہی حکم فرمایا ہے۔ اور ہمارے بزرگوں نے ہم کو یہی تعلیم دی ہے کہ بدمذہبوں اور مرتدوں سے دور رہو۔ ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا تو دور کی بات ہے ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. [سورۃ الانعام: 68]

ترجمہ کنز الایمان: اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ. [سورۃ ہود: 113]

ترجمہ کنز الایمان: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں بدمذہبوں کا بائیکاٹ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللّٰهِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ. [سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 92]

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اس امت کے مجوسی وہ ہیں جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہو جائیں، تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ جاؤ، ان سے ملاقات ہو تو ان سے سلام مت کرو۔”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، وَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ. [صحيح مسلم]

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “بدمذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو۔ اگر مر جائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔ ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو۔ ان کے ساتھ پانی نہ پیو۔ ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو۔ ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو۔ اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔” (نوٹ: اس حدیث شریف کو ابو داؤد نے حضرت ابن عمر سے اور ابن ماجہ نے حضرت جابر سے اور عقیلی و ابن حبان نے حضرت انس سے روایت کیا)۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ. [صحيح مسلم، رقم الحديث: 16]

ترجمہ: مجھ سے حدیث بیان کی حرملہ بن یحییٰ بن عبد اللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی نے، وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ابن وہب نے، وہ فرماتے ہیں مجھ سے حدیث بیان کی ابو شریح نے، انہوں نے شراحیل بن یزید کو فرماتے ہوئے سنا، کہتے ہیں: مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “آخری زمانے میں ایسے دجال (فریب کار) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے۔ تم ان سے دور رہنا اور انہیں اپنے سے دور رکھنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔”

مذکورہ آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوگیا کہ بدمذہبوں سے کسی بھی قسم کا رشتہ نہیں رکھنا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔ اور جو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں ان سے ہمیں دشمنی رکھنا ہے۔ اور دوستی اور رشتہ بھی انہی سے رکھنا ہے، جو اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب بندے ہیں۔ بدمذہبوں، گمراہوں سے تعلق رکھنا ایمان کے لیے زہر قاتل ہے؛ کیونکہ جو ان کی صحبت اختیار کرتا ہے وہ بھی انہی کے عقیدے پر ہو جاتا ہے۔ اور ایمان جو کہ بہت قیمتی سرمایہ ہے بندہ اس سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ایمان کی حفاظت سب سے اہم فریضہ ہے؛ کیونکہ اگر ایمان سلامت ہے اگرچہ بندہ گنہگار ہو تو اس کو جنت مل سکتی ہے، مگر جب ایمان ہی نہیں رہے گا تو پھر انسان اس جہنم کا مستحق ہوگا جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ لیکن انسان کی حالت کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، کہ بندہ اپنے مال و جان سب چیزوں کی حفاظت کرتا ہے، مگر ایمان جیسی عظیم دولت کی حفاظت کی فکر کسی کو نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔ اپنی دعاؤں میں خاتمہ بالخیر کی دعائیں کرتا رہے؛ کیونکہ شیطان جو ہے وہ انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اور وہ بندے کی آخری سانس تک اس کے ایمان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور آج کے دور میں سوشل میڈیا پر شیاطین بدمذہبوں کی شکل میں ایمان کے لٹیرے بنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا سوشل میڈیا کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ جب بھی کسی کا بیان سنیں تو سنی صحیح العقیدہ کا ہی بیان سنیں، ہر ایرے غیرے کو سننے سے پرہیز کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ مولیٰ کریم ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، بدمذہبوں، گمراہ فرقوں اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے دور رہنے اور انہیں اپنے سے دور رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ایمان کے ساتھ زندگی گزارنے اور ایمان پر موت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!