| عنوان: | فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
صلاح و تقویٰ
تقویٰ کے کئی معانی آتے ہیں۔ نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔ اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ متقی وہ ہے جو شرک و کبائر و فواحش سے بچے۔ بعضوں نے کہا متقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر نہ سمجھے۔ بعض کا قول ہے، تقویٰ حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور اطاعت پر غرور کا ترک تقویٰ ہے۔ بعض نے کہا تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مولیٰ تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی پیروی کا نام ہے۔ (خازن)۔ یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں۔ اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں۔
تقویٰ کے مراتب بہت ہیں۔ عوام کا تقویٰ ایمان لا کر کفر سے بچنا۔ متوسطین کا اوامر (احکام) و نواہی (جن چیزوں سے منع کیا گیا) کی اطاعت، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے۔ حضرت مترجم (اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا تقویٰ کی سات قسمیں ہیں:
- کفر سے بچنا، یہ بفضلہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے۔
- بد مذہبی سے بچنا، یہ ہر سنی کو حاصل ہے۔
- ہر کبیرہ سے بچنا۔
- صغائر سے بھی بچنا۔
- شبہات سے احتراز۔
- شہوات سے بچنا۔
- غیر کی طرف التفات سے بچنا، یہ اخص الخواص کا منصب ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص: ۴)
حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے کردار و اطوار، افعال و اشغال، رفتار و گفتار، اعمال و افکار، نشست و برخاست، اقوال و ارشاد عین تقویٰ کے مطابق ہوتے۔ جنہوں نے حضرت والا کی ذاتِ کریمہ کا مشاہدہ کیا ہے، وہ زبان و قلب سے اس کے معترف ہیں کہ بدرالعلماء تقویٰ، حزم و احتیاط کے پیکرِ مجسم تھے۔ فقیر راقم السطور نے الحمدللہ حضور والا کی خدمتِ بابرکت میں چار سال گزارے ہیں بہت قریب سے دیکھا، ان کی جلوت و خلوت، رزم و بزم کا مطالعہ کیا۔ ہمیشہ ہر عمل مطابقِ سنت کرتے پایا۔
آپ کے احتیاط و تقویٰ کے چند اعمال
-
دینی کتابوں کا احترام: آپ دینی کتابوں کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کبھی بھی زمیں یا فرش پر کتاب نہ رکھتے تھے۔ اگر کبھی کسی کو زمین یا فرش پر رکھے ہوئے دیکھ لیتے، فوراً اٹھانے کا حکم دیتے۔ ورنہ خود اٹھاتے اور احترام کے ساتھ اونچی جگہ پر یا کوئی ستھرا کپڑا بچھا کر اس پر رکھتے۔ اس تعلق سے اہلِ سنت و جماعت کے مشہور قلمکار عالم حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی کا مشاہدہ اور واقعہ انہیں کے قلم سے ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں: ”حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے تقویٰ کا یہ واقعہ کبھی نہیں بھول سکتا۔ مبارک پور سرکار حافظِ ملت علیہ الرحمہ اشرفیہ قصبہ مبارک پور کی عمارت درسگاہِ حافظِ ملت میں علمائے کرام کی ملاقات اور زیارت کا شرف حاصل کر رہا تھا۔ بستی ہی کے ایک عالمِ دین تشریف فرما تھے۔ اچانک اتنے میں حضرت بدرِ ملت تشریف فرما ہوئے۔ تو دیکھا کہ بچوں کے نصاب کی کوئی کتاب تعمیرِ ادب یا نورانی تعلیم فرش پر رکھی ہوئی ہے، جہاں سب بیٹھے ہیں۔ حضرت بدرِ ملت نے فوراً اس کتاب کو اٹھایا اور فرمایا: آپ حضرات علما ہی ادب نہ کریں گے تو کون کرے گا؟ پھر بغل سے تکیہ لیا اور اس پر رکھ دی۔ حضرت کی یہ بے باکی اور غایتِ ادب نے میرے دل پر بڑا اثر ڈالا۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۳)
-
کاغذ کے ٹکڑوں کا احترام: سادہ یا اردو وغیرہ لکھے ہوئے کاغذ کے ٹکڑوں کا بھی احترام کرتے، مدرسے میں کئی جھولے بنوا کر رکھوا دیا تھا۔ جب کبھی کوئی ٹکڑا پاتے انہیں جھولوں میں ڈالتے۔ اور مدرسہ کے تمام طلبہ کو بھی ہدایت فرماتے، چنانچہ وہ بھی حضرت کے نقشِ قدم اور حکم پر عمل کرتے۔
-
استنجا کے بعد پانی کے ساتھ کلوخ کا استعمال: عام طور پر لوگ استنجا کے بعد طہارت کے لیے صرف پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر آپ بالالتزام پانی استعمال کرتے اور اس سے پہلے ڈھیلے بھی۔ سرکار کے زمانۂ اقدس میں کلوخ کے ساتھ پانی بھی استعمال کرنے والوں کے بارے میں آیتِ کریمہ اتری تھی: فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (سورہ توبہ، ۱۰۷) ”کہ اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں۔ اور ستھرے اللہ کو پسند ہیں۔“ آپ نے اس کا التزام کر کے ان صحابہ کی جہاں سنت قائم کر دی وہیں عند اللہ اپنے محبوب ہونے کی سند پیش فرمادی。
-
مساجد کی تعمیر: آپ نے اپنی توجہِ خاص سے دو مسجدیں تعمیر کرائیں۔ (۱) مسجدِ غوثیہ بڑھیا شریف۔ (۲) مسجدِ غوثیہ جنگل روڈ پچپیڑوا۔ دونوں مسجدوں کی تعمیر مشکوک فرد کے بھی تعاون سے پاک رکھی۔ یعنی کسی وہابی، دیوبندی، رافضی، مرتد یا جس کے ایمان کے حق میں شک تھا اس سے چندہ نہ لیا۔ صرف اور صرف کھرے، پختہ، صحیح العقیدہ مسلمان کا تعاون قبول فرمایا۔ اس پر ذیل کی وہ تحریر ثبوت ہے جو حضرت والا کے قلم سے ضروری اعلان کے نام سے روئداد مدرسہ غوثیہ بڑھیا بابت ۱۳۹۹ھ تا ۱۴۰۰ھ میں شائع ہوئی۔ ”مسجدِ غوثیہ بڑھیا، خالص سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ جو سرکار اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی پیشوا مانتے ہیں اس مسجد کی تعمیر میں کسی بے دین، بد مذہب، بد عقیدہ کا پیسہ لگانے سے سخت اجتناب کیا گیا ہے“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۹۶)
-
احتیاطِ تقویٰ: یکم ذی الحجہ ۱۳۷۳ھ مطابق ۱۰ جولائی ۱۹۵۶ء میں آپ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے اور آپ نے اپنے جہدِ مسلسل، عملِ پیہم کے ذریعہ دارالعلوم فیض الرسول کا تعلیمی معیار بلند سے بلند تر کیا۔ اربابِ حل و عقد سے لے کر اساتذۂ دارالعلوم اور متعلقین کے نزدیک آپ کی تدریسی، تنظیمی، معاملاتی صلاحیت مسلم ہو چکی تھی۔ ۲۲ محرم ۱۳۸۷ھ کو دارالعلوم کے روحِ رواں، سرپرستِ اعلیٰ شعیب الاولیا حضرت یار علی شاہ علیہ الرحمہ کا وصال ہو گیا۔ اس کے چند سال بعد ارکانِ ادارہ نے دارالعلوم کو گورنمنٹ سے ایڈ کرا دیا۔ حضرت بدرالعلماء دینی مدرسہ کے ایڈ کرانے یا گورنمنٹ سے ایڈ لینے کے حرام ہونے کے قائل نہ تھے۔ مگر چوں کہ اس میں بہت سے مضمرات، نقصان اور خطرات ہیں اس لیے احتیاط و تقویٰ پر عمل کرتے ہوئے ۱۶ شوال ۱۳۹۴ھ کو محض توکلاً علی اللہ استعفیٰ دے دیا۔ اور ایک بالکل غیر معروف ادارہ مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا کی تدریسی ملازمت اختیار فرمائی。
نماز کی پابندی
نماز اہم الفرائض ہے۔ اس کی پابندی بحکمِ خدا و رسول ہر مکلف مسلمان پر فرض ہے۔ اس کا تارک فاسق مردود الشہادۃ ہے۔ اور ہر مکلف کو پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرنا واجب ہے۔ حضرت بدرالعلماء علیہ الرحمہ نمازوں کے بڑے پابند تھے۔ سفر ہو یا حضر نماز کو اس کے وقت میں تمام حقوق کے ساتھ ادا کرتے۔ ٹرین یا بس سے سفر کا ارادہ کرتے تو ایسا وقت اس کے لیے اختیار فرماتے کہ کوئی نماز قضا نہ ہونے پائے۔ طلبہ معتقدین و متوسلین کو نماز کی اہمیت بتاتے اور وقت میں ادا کرنے کی تاکید فرماتے۔ نماز چھوڑنے والے پر سخت برہم ہوتے اور فوراً قضا پڑھنے کا حکم دیتے۔ کوئی طالب علم اگر کوئی جرم کرتا تو مناسب سزا دے کر معاف فرما دیتے، مگر قصداً بلا عذر نماز نہ پڑھنے والے کا اخراج کر دیتے۔ راقم السطور کے ایک ہم سبق طالب علم کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنے ایک مہمان کے ساتھ سیر و تفریح کرتے ہوئے قصداً کسی عذر کے بغیر مغرب کی نماز ادا نہ کی۔ یہاں تک کہ وقتِ مغرب نکل گیا۔ دوسرے دن آپ کے یہاں شکایت پہونچی۔ آپ نے فوراً اس کو بلایا اور تحقیقِ حال کی۔ اس نے اقرار کیا۔ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا: ”ہمارا مدرسہ نماز نہ پڑھنے والے کے لیے نہیں، آپ پڑھنے کے لیے کسی اور مدرسہ کا انتخاب کر لیں۔“ پھر وہ گھر گیا اور واپس نہ آیا。
آپ کے ایک معتقد شاہد نوری بلرام پوری ہیں، انہوں نے آپ کے پاس ایک خط لکھا۔ اس میں تحریر کیا کہ جب سے لسی لگانے لگا ہوں روزانہ فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ حضرت والا نے جب یہ پڑھا تو سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پاس جواباً لکھا:
”آپ نے لکھا ہے کہ جب سے لسی لگانے لگا ہوں روزانہ فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ معاذ اللہ! معاذ اللہ! معاذ اللہ! خدائے پاک کی پناہ، خدائے تعالیٰ کی پناہ، خدائے رب العزت کی پناہ، اس طرح دکان چلانا کہ فرضِ الہٰی قضا ہو جاتا ہو، حرام، حرام، اشد حرام ہے، بے برکت ہے، نحوست ہے۔ توبہ کیجیے، صدقِ دل سے توبہ کیجیے، پکی اور ٹھوس توبہ کیجیے۔ فرضِ الہٰی کی جم کر پابندی کیجیے۔ اگر نماز کی پابندی سے آمدنی میں کمی ہو جائے تو حرج نہیں۔ تھوڑی آمدنی جو حلال و پاک ہو اس سے اتنا کام بنے گا جتنا زیادہ آمدنی سے کام نہیں بنے گا جو حرام و نجس ہو۔ نماز ترک کر کے جو آمدنی ہو گی اس سے دسیوں وبال کھڑے ہوں گے۔ آپ نوری ہیں تو کیا نوری کا کام فرضِ الہی کو کاروبار کی لالچ میں ترک کرنا ہے؟ پتہ چلتا ہے کہ دولت کی فراوانی اور کثرت آپ کے دین کے لیے زہرِ قاتل ہے۔“ (مکتوبات، ص: ۲۰۸)
اپنے ایک مریدہ کے بارے میں اس کے شوہر سے واقف ہوئے کہ اس نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ مضطرب و بے چین ہو کر اس کے پاس یوں تحریر فرماتے ہیں:
”تم میرے ہاتھ پر سرکار غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے سلسلہ عالیہ میں مرید ہوئی ہو۔ پھر فرضِ الہی نماز پڑھنا تم نے کیسے چھوڑ دیا؟ تمہیں یہ خیال نہ آیا کہ تم مرید ہو چکی ہو۔ بہر کیف تم اپنی مریدی برباد مت کرو۔ میں عام طور سے مرید نہیں کرتا ہوں۔ بہت دباؤ پڑنے پر میں نے تم کو مرید کیا تھا۔ تم نے بیعت کی بے قدری کی۔ خدائے تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ اب تم نماز پابندی سے پڑھو۔ اور شوہر، اپنی ساس کو، اپنے خسر (سسر) کو راضی کرو۔ اور ان کو راضی رکھو۔ (آخر میں لکھا) اپنے پیدا کرنے والے رب سے ڈرو، ڈرو، ڈرو۔ اپنی روش و رفتار ایسی بناؤ کہ سن کر مجھے خوشی ہو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۲۱۱)
مذکورہ بالا بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت بدر العلما علیہ الرحمہ نماز کے کتنے بڑے پابند اور فرضِ الہی کے ادا کرنے میں چاک و چوبند تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آپ اور پیروں کی طرح نہیں کہ اپنے مریدوں کی منشا اور رضا کے متلاشی ہوں بلکہ آپ اپنے مریدوں کو خدائے پاک کے طاعت گزار بندہ بنانے والے پیر تھے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے مرشد تھے۔ راہِ حق کے رہنما اور راہِ بد سے بچانے والے شیخ تھے۔
عشقِ رسالت علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک مومن کی متاعِ حیات و سرمایۂ زندگی ہے۔ عشق کی جتنی دولت کسی مومن کو ملتی ہے اسی درجہ کا وہ مومن ہوتا ہے۔ اور اس کو خدا اور رسول کے یہاں اسی حیثیت سے رفعت و سرفرازی ملتی ہے۔
بدرالعلماء علامہ بدرالدین احمد قادری برکاتی رضوی نوری عشقِ رسالت کے درجۂ کمال پر فائز تھے۔ وہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشقِ زار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی محبتِ رسول میں گزار دی۔ اور جس طرف نکلے عشقِ نبی کی تحریک لے کر چلے۔ بزمِ تشنگانِ علومِ نبویہ سے لے کر عام سنی مسلمانوں کے اجلاس اور علمائے کرام کی مخصوص محفلوں تک ہر جگہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ روشن کیا۔ آپ کی زبان گویا ہوتی تو اپنے محبوب اور آقا کے ذکر میں۔ قلم چلتا تو ناموس و عظمتِ مصطفیٰ کی پاسداری میں۔ قدم اٹھتے تو الفتِ سرکار کی تحریک میں۔ ہر سال شبِ معراج اور شبِ ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی طرف سے مٹھائی کا اہتمام کرتے۔ پوری رات بیدار رہتے۔ اور رات کے آخری حصہ میں طلبہ و اساتذہ کے سامنے معراج کے عنوان پر پرمغز، سحر انگیز تقریر فرماتے، اور یومِ ولادت کے موقع پر آپ نے جلوسِ محمدی نکالنے کی تحریک شروع کی۔ اور الحمدللہ عملِ پیہم، جہدِ مسلسل کے ذریعہ بڑھیا کے اطراف و جوانب کے ہزاروں ہزار آبادیوں کے مسلمانوں کو آمادہ کر لیا۔ جلوس میں شرکت کرنے والوں کے اجتماع کے لیے اٹوا بازار کا انتخاب کیا۔ چند ہی سال میں دیکھا گیا اٹوا بازار میں ہر طرف سے تقریباً ۵۰/۵۰ کلومیٹر کی دوری سے مسلمان اپنی مختلف گاڑیوں، بس، ٹرک، ٹرالی، موٹر سائیکل سے دیوانہ وار جمع ہونے لگے۔ اور آج تک وہ جلوس اپنی اسی شان و آن کے ساتھ نکلتا ہے۔ بارہ ربیع الاول شریف کو ’اٹوا بازار‘ میں ہزاروں ہزار گاڑیاں موجود ہوتی ہیں۔ عاشقانِ مصطفیٰ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہوتا ہے۔ اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ حضرت بدرِ ملت ایسے عاشقِ نبی تھے کہ انہوں نے دیوانگانِ مصطفیٰ کی عظیم فوج تیار کر دی ہے۔
ان کی تصنیف تعمیرِ ادب مکتب کے بچوں کے لیے ہے۔ ظاہراً یہ لگتا ہے کہ معمولی کتاب ہے۔ مگر اس میں تعظیمِ مصطفیٰ، محبتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و اہمیت ایسے اچھوتے اسلوب میں بیان فرمائی ہے کہ بچے پڑھتے جاتے ہیں اپنے نبی کی زندگی، سیرت و اسوہ، تاریخِ ہجرت وغیرہ سے واقف ہوتے ہوئے بادۂ حبِ نبی سے مخمور ہوتے جاتے ہیں۔ اور ابتدائی عمر میں جو محبت بیٹھ جاتی ہے وہ با آسانی زائل نہیں ہوتی۔ گویا بدرِ ملت کی کوشش رہی کہ بوڑھے جوان، بچے، مرد، عورت سب کو اپنے آقا کا وفادار غلام اور عاشق بنا دیا جائے۔ فارغ اوقات میں درود شریف پڑھتے رہتے۔ اور ہر طالبِ علم کو روزانہ سو بار درودِ غوثیہ پڑھنے اور اس کی عادت بنانے کا حکم دیتے۔ ہفتہ، دو ہفتہ میں ہر ایک سے استفسار فرماتے کہ درودِ غوثیہ شریف روزانہ پڑھنے کا عمل جاری ہے یا نہیں؟ اگر کسی کے بارے میں معلوم ہو جاتا کہ وہ نہیں پڑھتا ہے تو برہم ہوتے اور اسے سمجھاتے، آئندہ پابندی سے پڑھنے کا حکم دیتے۔ اور فرماتے درود شریف پڑھنے سے اپنے آقا کے ساتھ محبت پیدا ہوتی ہے۔ ابھی سے عادت ڈالو۔ ہر جمعہ کو درودِ پاک سو بار پڑھتے اور تمام طلبہ سے اس کا التزام کراتے۔
اپنے مریدوں اربابِ تعلق کو درود شریف پڑھنے اور حرزِ جاں بنانے کی ترغیب و تشویق کرتے، چنانچہ اپنے ایک مکتوب بنام حافظ امام بخش تیغی مظفر پوری میں لکھتے ہیں: ”میرا مشورہ ہے کہ درودِ پاک کو اپنا مربی بنا لیجیے۔ خود درودِ پاک پڑھیے اور اپنے شاگردوں کو حکم دیں کہ وہ لوگ یا متفرق اوقات میں یا جلسۂ واحدہ میں روزانہ سو مرتبہ درود شریف کی گنتی ضرور پوری کر لیں۔ جمعہ کے دن مدینہ طیبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو کر ہاتھ باندھے ہوئے درودِ جمعہ اپنے شاگردوں سے پڑھوائیں۔“ (مکتوبات ص: ۱۳۸)
اور یہ ظاہر ہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے اسی کی یاد میں مست رہتا ہے۔ مَنْ أَحَبَّ شَيْئًا أَكْثَرَ ذِكْرَهُ۔ حضرت بدرالملت اپنے نبی کے عاشق تھے۔ حبیبِ رب العالمین کے دیوانہ تھے۔ اسی لیے صبح ہو یا شام، دن ہو یا رات، سفر ہو یا حضر، رزم ہو یا بزم، خلوت ہو یا جلوت، ہر وقت ہر جگہ اپنے آقا کے ذکر، ان کی عظمت کی بجا آوری، ان کی حمایت یا ان کی عزت و ناموس کی حفاظت، ان کے دشمنوں کے رد و ابطال، ان کی سنتوں کو عام کرنے، ان کی شریعت کی ترویج، یا ان کے احکام پر عمل کی تاکید و ترغیب میں مشغول رہتے۔
اولیائے کرام سے محبت
اولیائے کرام خداوندِ قدوس کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں۔ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے ہوتے ہیں۔ ان سے الفت و محبت سعادتِ دنیا و آخرت کی موجب ہے۔ ان سے دشمنی خدا سے اعلانِ جنگ ہے۔
حضرت بدرالعلماء علیہ الرحمہ اولیائے کرام سے غایت درجہ کی محبت رکھتے تھے۔ خاص طور پر پیرِ پیراں، دستگیرِ دستگیراں غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، عطائے رسول خواجہ خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری، سلطان الشہداء سالار مسعود غازی بہرائچ شریف، اعظم المشائخ سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھہ شریف، امامِ عاشقاں مصطفیٰ مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی، ان کے شاہزادے مفتیِ اعظم شبیہِ غوثِ اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خاں قادری، خلیفہ اعلیٰ حضرت فقیہِ اعظم صدر الشریعہ علامہ شاہ محمد امجد علی اعظمی، شیرِ بیشہ اہلِ سنت علامہ شاہ حشمت علی خان قادری رضوی، مشائخِ مارہرہ مقدسہ، جلالۃ العلم استاذ العلما حضور حافظ ملت علامہ عبدالعزیز مبارک پوری، مجاہدِ سنیت علامہ حبیب الرحمن اڑیسوی، شعیب الاولیا حضرت شاہ یار علی براؤں شریف علیہم الرحمۃ والرضوان سے بڑی الفت رکھتے تھے۔ اکثر آپ کی زبان ان کی تعریف و ثنا میں محو رہتی اور بڑی عقیدت و نیاز مندی کے ساتھ ان کا چرچا کرتے۔ اپنی محفل میں جب ان کا ذکر کرتے تو ایسا لگتا کہ ہر بنِ مو سے ادب و احترام، شیفتگی و وارفتگی کے قطرات ٹپک رہے ہیں۔ دل عقیدتوں کا چشمہ سیال بنا ہوا ہے۔ سرکارِ غوثِ اعظم رضی مولیٰ تعالیٰ عنہ سے عقیدت و محبت کی روشن دلیل یہ ہے مثلاً یہ پڑھتے یا لکھتے:
وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ وَنُورِ عَرْشِهِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَعِتْرَتِهِ وَابْنِهِ السَّيِّدِ الْكَرِيمِ الْغَوْثِ الْأَعْظَمِ الْجِيلَانِيِّ الْبَغْدَادِيِّ أَجْمَعِينَ
خطبہ مضمون یا خطبۂ تقریر میں کبھی یوں فرماتے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَالَ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْأَكْمَلَانِ عَلَى رَسُولِ الْإِنْسِ وَالْجَانِّ الَّذِي قَالَ: مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَابْنِهِ الْغَوْثِ الْأَعْظَمِ وَعَلَى شَهِيدِ مَحَبَّتِهِ الشَّيْخِ أَحْمَدَ رِضَا قُدْوَةِ أَهْلِ الشَّرِيعَةِ وَالْعِرْفَانِ
اور جب کسی دنیاوی پریشانی کا شکار ہو جاتے تو کسی صاحبِ ثروت یا با اثر انسان سے استمداد کے بجائے اپنے انہیں محبوبوں کی طرف لو لگاتے۔ انہیں کی بارگاہوں میں استغاثہ کرتے۔ انہیں کی روحانی توجہ طلب کرتے۔ چنانچہ ایک بار عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں یوں استغاثہ پیش کیا:
”یا سیدی! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ لَدَيْكُمْ۔ بارگاہِ غوثیت کا نام لیوا بدر الدین احمد بے نوا، سرکار کی سلطنتِ ہند کی رعیت ہے۔ سرکار کو رب العزت جل شانہ نے غریب نواز بنایا ہے۔ یہ بے نوا اپنے کندھے پر قرض کا بوجھ رکھتا ہے۔ یا سرکار غریب نواز! الغیاث، الغیاث، الغیاث، یا سیدی سگانِ دنیا کی طرف جھکنے سے بچائیے۔ المدد المدد، المدد۔ فحسب بدر الدین احمد۔“ (مکتوبات ص: ۱۹۴)
اسی طرح سلطان الشہدا حضرت سیدنا سالار مسعود غازی بہرائچی کی بارگاہ میں استغاثہ تحریر کیا:
”از: بدر الدین احمد خادم مدرسہ غوثیہ بڑھیا بستی۔ یا سیدی! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ لَدَيْكُمْ۔ میں دینی، دنیوی حیثیت سے پریشان حال ہوں۔ سرکار کے نگاہِ کرم کا محتاج ہوں۔ فحسب بدرالدین احمد۔“
اور مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں بھی استغاثہ ذیل کے الفاظ میں پیش کیا۔ استغاثہ بدرگاہِ سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
”از: بدرالدین احمد، یا مرشدی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ لَدَيْكُمْ۔ بارگاہِ رضویت کا نام لیوا بدرالدین احمد بے کس و بے نوا ہے۔ اس کے حق میں تجلیِ جلال کا ظہور ہے۔ سرکار کرم فرمائیں کہ تجلیِ جمال کے ظہور کی ٹھنڈک بدرالدین کو نصیب ہو۔ یا سیدی! الغیاث، الغیاث، الغیاث۔ فحسب بدرالدین احمد۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۱۹۳)
ان استغاثات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ انہیں اپنا مرجع و مآل سمجھتے تھے۔ کشادہ حالی و تنگ حالی دونوں میں ان سے ہی لو لگاتے۔ کسی دنیا دار سے اپنی پریشان حالی بیان نہ فرماتے۔ عرض یوں کرتے:
تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
عرسِ خواجہ غریب نواز، عرسِ اعلیٰ حضرت و مفتیِ اعظم، عرسِ مارہرہ مقدسہ، عرسِ حافظِ ملت، عرسِ صدر الشریعہ، عرس سید سالار مسعود غازی، عرس مخدوم اشرف کچوچھہ کی تقریب ہو، مدرسے میں کرتے۔ حسبِ وسعت ان بزرگوں کے آستانوں پر حاضر ہوتے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی عقیدت کا مندرجہ ذیل واقعہ افادہ سے خالی نہ ہوگا۔
آپ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبد الصمد صاحب قادری نوری رضوی ایک بار سخت بیمار ہوئے تو آپ کے پاس خط لکھا اور دعائے شفایابی کی گزارش کی۔ آپ نے جواباً ذیل نسخہ شفا تحریر فرمایا۔ ”کنز الایمان ترجمہ قرآن مجید مختلف مطابع سے چھپ کر شائع ہوا مگر کتابت کی غلطی سے کوئی بھی نسخہ محفوظ نہیں۔ آپ غسل کر کے دو رکعت نماز پڑھیں۔ اور بارگاہِ احدیت جل جلالہ میں یوں عرض کریں، یا اللہ، یا رحمن، یا رحیم! جب تو مجھے شفایاب فرمادے گا تو میں بعونہ تعالیٰ اعلیٰ حضرت کے ترجمہ قرآن کی اصل نسخہ سے تصحیح نقل کا فریضہ انجام دوں گا۔“ (مکتوبات ۱۸۱)
اس سے اندازہ لگائیں کہ آپ کو اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کتنی محبت تھی۔ مریض کے لیے شفا کا نسخہ بھی یہ تجویز کرتے کہ ان کے محبوب کی کتاب و ترجمہ کی تصحیح و اصلاح کی منت مانی جائے۔ یقیناً ایک عاشقِ زار کی یہی حالت و کیفیت ہوتی ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر
بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں آپ شہزادہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مفتیِ اعظم علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خان قادری رضوی نوری علیہ الرحمہ کے مظہرِ اتم تھے۔ جن لوگوں نے انہیں دیکھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں۔ بطورِ ثبوت چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔
-
اپنے ایک معتقد محمد اسلام بمبئی کے نام لکھا: ”اگر آپ بیوی والے ہیں تو بیوی کو پردہ میں رکھیے۔ غیر مرد کے سامنے ہرگز ہرگز نہ ہوں۔ اور اپنے بچوں کو خدا اور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام سکھائیے۔ ان کو بچپن ہی میں نماز کی تعلیم دیں اور تاکید رکھیں۔ آپ کی بیوی نماز پڑھے۔ حیا باختہ بے پردہ عورت کو اپنی بیوی کے پاس نہ آنے دیں۔ بمبئی کی دنیا میں عورتوں، لڑکیوں کا حال بہت برا ہے۔ دین کا تقاضا ہے کہ اپنے بال بچوں کو جہنم سے بچاؤ۔ ان کو اسلامی راستے پر چلاؤ۔ ان کو خلافِ شرع لباس پہننے سے روکو۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۱۷۰)
-
حضرت علامہ منشا تابش قصوری پاکستان نے آپ کے پاس مکتوب بھیجا۔ اس کے اوپری سرے پر لکھا تھا 'انجمنِ رضائے حبیب' اور حبیب کے اوپر 'صلی اللہ علیہ وسلم' تحریر تھا۔ اس پر حکمِ شرع بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مرسلہ پیڈ کے ماتھے پر انجمنِ رضائے حبیب میں حبیب پر 'صلی اللہ علیہ وسلم' لکھا ہوا ہے۔ تعجب ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ جب کہ شرعاً صلعم، 'صلی اللہ علیہ وسلم' کا لکھنا حرام ہے۔“ (مکتوبات، ۱۱۸)
-
ملک العلما علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے سید مختار الدین صاحب نے اپنے پوسٹ کارڈ میں ملک العلما کے سامنے 'رح' اور کلمہ جلالت لکھا اس سے انہیں منع فرماتے ہوئے ان کے پاس لکھا: ”اپنے مرسلہ کارڈ میں آپ نے ملک العلماء کے لفظ کے سامنے ’رح‘ کا اشارہ لکھا ہے اور اسی پوسٹ کارڈ میں دو جگہ کلمہ جلالت لکھا ہے حالاں کہ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے پوسٹ کارڈ میں کلمہ جلالت لکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ تعلیم دی ہے کہ اس کی جگہ مولیٰ تعالیٰ لکھا جائے۔ اور فقہائے کرام نے جس طرح درود شریف کے بدلے ’صلعم‘ لکھنے سے منع فرمایا ہے۔ یوں ہی کلمہ ترضی، کلمہ ترحم، ’رض‘ لکھنا منع فرمایا ہے۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ۱۵۱)
-
ایک صاحب نے آپ کے پاس لکھا کہ میں مسٹر شبلی نعمانی اور ندوہ کی کتابیں پڑھ چکا ہوں اور پڑھ رہا ہوں مگر میں شیرِ بیشہ اہلِ سنت اور مفتیِ اعظم کا غلام ہوں اس لیے میرا عقیدہ نہ بگڑے گا۔ آپ انہیں بد مذہبوں کی کتابیں پڑھنے سے باز رہنے کا حکم دیتے ہوئے نہایت دلکش اسلوب میں فرماتے ہیں: ”جب آپ سرکار شیرِ بیشہ اہلِ سنت کے نام لیوا اور سرکار مفتیِ اعظم کے مرید اور غلام ہیں تو دشمنِ دین شبلی نعمانی اور مودودی کی تصنیفات کے مطالعہ کا حق آپ کو کہاں سے ملا۔ پیر و مرشد کی تحریری ہدایت کے خلاف چلنے سے کامیابی مل سکتی ہے؟ ایمان و عقیدہ کی حفاظت و بقا کے معاملہ میں اپنی ذات پر بھروسہ ایک سنگین دھوکہ ہے۔ (چند سطور کے بعد) دشمنانِ سنیت کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا مطالعہ کرتا جا رہا ہے۔ ابلیس تاک اور گھات میں ہے اگر اس نے سنیت کے خلاف کسی عقیدہ کو جما دیا تو مطالعہ کرنے والا کیا کر سکتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ پیرانِ کرام کی نگاہِ عنایت شیطان کے وسوسے سے بچالے گی۔ لیکن جب پیرانِ کرام کی ہدایت کے خلاف چل رہا ہے تو ان کی نگاہِ عنایت کا مستحق ہی کہاں رہ گیا۔ اب وہ نگاہِ قہر کا حق دار بن گیا۔“
-
کسی مرد کو تانبہ، پیتل، سونے، لوہے کی انگوٹھی یا چاندی کی دو انگوٹھیاں یا چند نگوں والی ایک یا کئی انگوٹھیاں پہنے دیکھتے تو فوراً اترواتے۔ سخت ناراضگی کا اظہار کرتے。
-
حضور مفتیِ اعظم علیہ الرحمہ اور اکابر علما کا فتویٰ یہی ہے کہ چین دار گھڑی پہننا جائز نہیں۔ آپ اپنے پیر و مرشد کے فتوے اور ارشاد کے بڑے پابند تھے۔ طلبہ و متعلقین کو چین دار گھڑی پہننے سے منع فرماتے اور چین دار گھڑی پہننے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھتے。
-
داڑھی منڈانے سے بتاکید شدید منع فرماتے اگر آپ کی خدمت میں کوئی داڑھی منڈا آجاتا تو اسے زجر فرماتے۔ اور آئندہ داڑھی موافقِ شرع رکھنے کا عہد لیتے۔ حاصل یہ کہ آپ برملا لوگوں کی اصلاح فرماتے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں ذرہ برابر تامل نہ کرتے۔ گویا اس حدیثِ ذیل کے مصداق کامل تھے:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ وَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
(مسلم شریف)
خدماتِ اسلام
حضرت بدرالعلماء علامہ شاہ مفتی بدرالدین احمد صدیقی رضوی علیہ الرحمہ کی حیاتِ طیبہ اسلام کے لیے وقف تھی۔ پوری زندگی خدمتِ مذہب، اشاعتِ مسلک میں صرف کی۔
تدریس
استحکامِ ایمان و عقائد، نشرِ سنیت و شریعت، تبلیغِ احکامِ اسلام کا زریں طریقہ تدریس ہے۔ اس لیے آپ نے اپنی زندگی کا اہم محور تدریس کو بنایا۔ اور دمِ واپسی تک تدریسی شغل رکھا。
آغازِ تدریس
آپ نے تدریسی خدمت کا آغاز اپنے مادرِ علمی دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور سے کیا۔ وجہ یہ ہوئی کہ ۱۰ شعبان المعظم ۱۳۷۱ھ مطابق مئی ۱۹۵۲ء کو جب آپ فارغ ہوئے اور تعطیلِ کلاں کے لیے گھر روانہ ہونے لگے۔ تو تاج العلماء استاذ الاساتذہ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے عنایتِ خسروانہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تعطیلِ کلاں گزار کر آپ دارالعلوم آ جائیے۔ حضرت اپنے شیخ کے حکم کے مطابق شوال ۱۳۷۱ھ کو دارالعلوم اشرفیہ حاضر ہو گئے۔ اور آپ کو معین المدرسین کی حیثیت سے اپنے مادرِ علمی میں خدمتِ تدریس تفویض ہوئی۔ ۲۵ رجب المرجب ۱۳۷۲ھ تک اپنے کریم اساتذہ کی چھاؤں میں رہ کر اپنی استعداد و صلاحیت میں نکھار پیدا کرتے رہے اور طلبہ کو محنت و جانفشانی کے ساتھ پڑھاتے رہے۔ پھر موضع کوٹواری ضلع بلیا اور اس کے قرب و جوار میں بڑھتی ہوئی بد مذہبیت، لادینیت، صلح کلیت، دہریت کے سدِ باب کے لیے ایک داعیانہ فکر و عمل، مجاہدانہ کردار و اطوار، مصلحانہ اخلاق و گفتار کے حامل عالم کی ضرورت حضور حافظِ ملت کی خدمت میں پیش کی گئی۔ تو فوری طور پر آپ کو حافظِ ملت نے وہاں بھیج دیا۔
۲۸ رجب ۱۳۷۲ھ کو آپ موضع کوٹواڑی پہنچے۔ اور اپنے حسنِ تدبیر، اخلاقی آثار، بلند اقدار، دل نشین وعظ و بیان، شیریں کلامی کے ذریعہ اصلاحِ احوال، تطہیر معاشرہ، تصحیح عقائد و ایمان کا ایسا انقلاب آفریں کارنامہ انجام دیا کہ بد مذہبیت و وہابیت کا امنڈتا سیلاب تھم گیا۔ باطل کے عزائم خاک آلود ہو گئے۔
چوں کہ بدرِ ملت تدریسی صلاحیت کے تاجور تھے۔ اس لیے حضور حافظِ ملت نے ۲۲ ذی قعدہ ۱۳۷۲ھ / ۳ اگست ۱۹۵۳ء کو درسِ نظامی کی تدریس کے لیے انجمن معین الاسلام پرانی بستی جانے کا آپ کو حکم فرمایا۔ آپ تاریخ مذکور میں مدرسہ معین الاسلام پرانی بستی کے مدرس ہو گئے۔ اور ڈھائی سال تک اپنے علم و عرفان کا جوہر لٹاتے رہے۔ اس مدت میں آپ نے عمدہ تدریس و تعلیم، طلبہ کی حسین تربیت اور ان کے ظاہر و باطن کی اصلاح، انجمن کے نظامِ تعلیم کو سدھارنے کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ جس کی بنیاد پر آپ بڑی مقبولیت کے حامل ہو گئے۔ اپنے صلاح و تقویٰ، زہد و ورع، حسن رفتار و گفتار، خوبی افعال و کردار، پختگی علم و عمل کے سبب طلبہ، عوام و خواص سب کے مرکز توجہ ہو گئے۔ بستی اور اس کے اطراف و جوانب میں آپ کی شہرتِ عامہ ہو گئی۔ آپ کے آبدان علم و فضل سے سیرابی لینے کے لیے ہر طرف سے طالبانِ اسلام کشاں کشاں آنے لگے۔ مگر کچھ نامساعد حالات کے پیشِ نظر آپ نے استعفیٰ دے دیا۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ماخوذ از: ماہ نامہ: فتاویٰ بدر العلماء، ص ۵۰ تا ۶۲
