| عنوان: | فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:سوم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
دار العلوم فیض الرسول میں
حسنِ اتفاق یہ کہ انجمن معین الاسلام پرانی بستی سے علاحدہ ہوئے آپ کو چند ماہ ہوئے تھے کہ پیشوائے اصفیاء حضرت شعیب الاولیاء صوفی شاہ محمد یار علی علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مکتب فیض الرسول براؤں کو دار العلوم کی شکل دے دی۔ اور یکم ذی الحجہ ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۰ جولائی ۱۹۵۶ء کو اپنے دار العلوم میں تدریس کی دعوت پیش کی۔ آپ وہاں پہنچے۔ اس موقع پر کئی اور جید اساتذہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ انہیں میں فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ بھی ہیں۔ البتہ علمی جاہ و جلال، فکری فضل و کمال میں بدرِ ملت علیہ الرحمہ سب پر فائق تھے۔ اسی لیے حضرت شعیب الاولیاء نے آپ کو عہدۂ صدارت پر فائز فرما کر اپنے دار العلوم کی تابناکی اور بلند اقبالی کا دروازہ کھول دیا۔ پھر آپ نے تقریباً اٹھارہ سال تک دار العلوم فیض الرسول میں صدر مدرس کی حیثیت سے بڑی جاں فشانی، دماغ سوزی و جگر کاوی، خلوص و لگن، جہدِ مسلسل، عملِ پیہم کے ساتھ دین کی زریں علمی عملی خدمات انجام دے کر دارالعلوم اور اس کی ارض و فضا اور نظامِ تعلیم و تربیت کے لیے ناقابلِ فراموش یادگار بن گئے۔
اس دارالعلوم میں آپ کی تقرری جہاں اس کی بلند اقبالی کے لیے نیک فال ثابت ہوئی وہیں خود صاحبِ تذکرہ کے لیے بھی بڑی نتیجہ خیز اور بارآور ہوئی۔ دارالعلوم کے حق میں تو یوں کہ آپ نے طلبہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ، اساتذہ و اراکین سے حسنِ معاملگی کے ساتھ دارالعلوم کا معیارِ تعلیم ایسا بلند و بالا کر دیا کہ مدتِ قلیل میں ایک مثالی اور ممتاز دانش کدہ بن کر بین الاقوامی شہرت کا حامل ہو گیا۔ ہر سو علم کی بہار، فکر و دانائی کی بھینی بھینی خوشبو سے فضائیں مشک بار ہو گئیں۔
دارالعلوم کی ہر آنے والی گھڑی میں عروج و ترقی کے آثار نمایاں محسوس ہونے لگے۔ اس لیے کہ ایک طرف تشنگانِ علم کی ہر روز بڑھتی قطار تھی تو دوسری طرف ماہر تدریس اساتذہ کا اضافہ اور ان کا انتخاب رو بہ عمل۔ تیسری طرف دارالعلوم کی فلک پیما درسگاہی عمارات کی شاہکار تعمیر کی سرگرمی۔ غرض حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے وجودِ مسعود کی برکتیں لوگوں نے بچشمِ سر ملاحظہ کیں۔ کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء، حفاظ و قراء کی لمبی فوج تیار ہو گئی۔ ان میں بعض میدانِ تدریس کے شہسوار ہوئے اور بہت سے فقہ و افتاء کے تاجور۔ بعض میدانِ وعظ و تقریر کے یگانۂ عصر ہوئے، بعض تبلیغ و ارشاد کے سرچشمہ۔
اور دارالعلوم فیض الرسول میں تقرری صاحبِ تذکرہ کے حق میں اس لیے فالِ نیک ثابت ہوئی کہ آپ علم و عمل کے موجزن سمندر تھے۔ تدریس و افتاء کے فنکار اور بحرِ شریعت و طریقت کے شناور تھے۔ اس لیے ضرورت تھی کہ کسی ایسے دارالعلوم میں علم و عرفان کا جام چھلکانے، علمی تشنہ کاموں کو آسودہ کام کرنے کا موقع میسر ہو۔ جہاں عوام کی بالا دستی نہ ہو۔ تاکہ اپنے تلاطم خیز علمی موجوں سے زیادہ سے زیادہ طالبانِ اسلام کو سیراب کر سکیں۔ چنانچہ آپ نے دارالعلوم فیض الرسول کو درحقیقت فیض الرسول بنایا۔ اور کھل کر فکر و آگہی، علم و دانش، فہم و بصیرت، استعداد و صلاحیت، حسنِ تربیت کا بانٹ تقسیم کیا۔
آپ کی روشن خدمات کے اعتراف میں خود سربراہِ اعلیٰ شعیب الاولیاء فرماتے ہیں: ”حضرت مولانا بدرالدین احمد فیض الرسول کی روح ہیں“۔ (مکتوباتِ بدر ملت، ص: ۱۶)
اور حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ ۱۳۸۵ھ میں براؤں شریف تشریف فرما ہوئے۔ دارالعلوم کے نظم و نسق کا جائزہ لیا۔ اور بریلی شریف واپس پہنچ کر ایک گراں قدر تاثراتی خط ارسال کیا۔ اس میں ہے:
”فیض الرسول کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ واقعی یہ فیض الرسول ہے۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) مولائے کریم عزوجل اسے روز افزوں ترقیاں بخشے۔ اور اس کے فیوض کو عام فرمائے۔ دل بہت مسرور ہوا۔ تعلیم اچھی تربیت بہتر۔ سنیت کی تبلیغ، رضویت کی اشاعت، سنیت کی ترویج کا جذبہ، جو فیض الرسول میں پایا کہیں نہ پایا۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۱۷)
اور ادیبِ شہیر ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم مصباحی بستوی تحریر فرماتے ہیں: ”جس زمانے میں حضرت مولانا بدرالدین احمد رضوی دارالعلوم فیض الرسول میں مدرس اول تھے۔ اس زمانے میں ادارے کا تعلیمی معیار بڑا اونچا تھا۔ ملک کے طول و عرض میں اس ادارہ کی شہرت جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ لیکن جب آپ اس ادارے سے سبکدوش ہو کر مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا چلے گئے۔ تو ادارے کا تعلیمی معیار روز افزوں فروتر ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ طلبہ کی تعداد میں ایک حد تک کمی محسوس ہونے لگی۔“ ان شہادتوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ نے دارالعلوم فیض الرسول کو عروج و ارتقا کی اوجِ ثریا پر پہونچا دیا۔ اور اسے عالمگیر شہرت عطا کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اس سے ان کے اخلاصِ عمل، جذبۂ دینی، ولولۂ اشاعت، حوصلۂ تائید مذہب کا پتہ چلتا ہے۔
فیض الرسول سے بدرالعلماء کی بذریعہ استعفیٰ علیحدگی
مذکور الصدر بیان سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضرت بدرالعلماء نے دارالعلوم فیض الرسول کو عروج و ارتقا کے نقطۂ انتہا پر پہونچانے میں سعیِ بلیغ فرمائی ہے۔ اپنی تدریسی زندگی کے بیش تر اوقات اسی میں صرف کیے۔ مگر زندگی کے آخری مرحلے میں استعفا دے کر اس سے الگ ہو گئے۔ اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ آپ نے دارالعلوم کیوں چھوڑا؟
اس کا جواب حضرت بدرالعلماء کا مندرجہ ذیل خط ہے۔ جو انہوں نے اپنے ایک مخلص شاگرد دارالعلوم کے فاضل مولانا حافظ و قاری امام بخش صاحب تیغی ویشالوی کے نام لکھا ہے۔ انہوں نے یہی سوال بذریعہ خط اس وقت کیا تھا جب حضرت دارالعلوم سے دست بردار ہونے والے تھے۔ اور آپ نے جواباً تحریر فرمایا تھا:
”۷۸۶/۹۲
از: براؤں شریف۔ یکم رجب ۱۳۹۴ھ دوشنبہ مبارکہ
عزیز گرامی! علیکم السلام ثم السلام علیکم۔
عرصہ ہوا آپ کا اخلاص نامہ آیا تھا۔ جواب اب جا رہا ہے۔ ادارہ فیض الرسول تو آپ کے زمانۂ تعلیم ہی میں الہٰ آباد بورڈ عربی فارسی سے الحاق ہو چکا تھا۔ اس وقت یہ بورڈ صرف مدرسہ کو امداد دیتا تھا لیکن آج تین برس پہلے کا قصہ ہے کہ بورڈ نے مدرسہ کے مدرسین کو بھی امدادی تنخواہ دینا شروع کیا، چنانچہ جب ۱۳۹۰ھ میں مدرسین کے نام پر امدادی تنخواہیں آئیں، تو سب لوگوں نے لیں میں نے انکار کر دیا، اور وہ روپیہ نہیں لیا، پارسال (گزشتہ سال) سے بورڈ کے قانون کے مطابق یہاں تمام رجسٹر انگریزی تاریخ کے مطابق کر دیے گئے، ہاں رجسٹر حاضری مدرسین میری وجہ سے دو بنانا پڑا، ایک اسلامی تاریخ کے مطابق اور دوسرا انگریزی تاریخ کے موافق میرا دستخط اسلامی تاریخ والے رجسٹر پر ہوتا رہا، لیکن باقی علما اسلامی اور انگریزی دونوں رجسٹر پر دستخط کرتے رہے۔ امسال جمادی الاولیٰ ۱۳۹۴ھ سے عربی والا رجسٹر ختم کر دیا گیا اور انگریزی تاریخ والا چالو رکھا، اور مجھ سے مطالبہ ہوا کہ انگریزی تاریخ والے رجسٹر پر آپ بھی دستخط کریں، میں نے صاف انکار کر دیا، کہ میں انگریزی تاریخ والے رجسٹر پر ہرگز دستخط نہیں کروں گا، بعد میں علما حضرات نے دستخط سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی میں رجسٹر تیار ہو، تاکہ دونوں رجسٹر پر ہم لوگ بھی دستخط کریں، ۲۵/جمادی الاولیٰ ۱۳۹۴ھ بدھ کا دن گزار کر رات میں میٹنگ ہوئی اور سب لوگوں نے طے کیا کہ الحاق برقرار رکھا جائے گا، اور حساب و کتاب سب انگریزی تاریخ کے مطابق رہیں گے، میری طرف سے اعلان ہوا کہ اب میں ادارہ ہذا میں اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہوں اور بتا دیا کہ ان شاء اللہ المولٰی تعالٰی ۱۶/شوال سے ذریعہ استعفا میں الگ ہو جاؤں گا، میرے اس اعلان سے لوگوں کو تھوڑا سا تاثر رہا، اور منیجر صاحب نے صرف تنہا میرے لیے ایک رجسٹر بنانے کے لیے دفتر والوں کو ہدایت دی ہے اب میری طبیعت اتنی اکھڑ چکی ہے کہ میں یہاں پر رہنے کے لیے تیار نہیں ہوں، اور پختہ ارادہ اور عزمِ محکم با عتماد حصولِ رضائے الہی و خوشنودیِ سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کر لیا ہے، کہ ۱۶/ شوال ۱۳۹۴ھ سے یہاں سے ان شاء اللہ المولیٰ تعالیٰ مستعفی ہو جاؤں گا، میرے حق میں استقامت و تصلب کے لیے اپنے اوقاتِ خاص میں بارگاہِ احدیت جل جلالہ میں دعا کرتے رہا کریں گے حضرت ناظمِ اعلیٰ صاحب اور حضرت صاحبِ سجادہ اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں سلامِ عرض ہے۔ فقط والسلام
بدر الدین احمد قادری رضوی
دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف بستی۔“ (مکتوبات، ص: ۱۴۵)
اس خط سے چند باتیں واضح ہوئیں:
- الحاق ہونے کے بعد سے اولاً دارالعلوم کے لیے امدادی رقم آتی رہی، اور ۱۳۹۰ھ میں پہلی بار سارے مدرسین کے نام ایڈ کی تنخواہ آئی۔
- سارے مدرسین نے اپنی تنخواہیں لے لیں مگر بدرالعلماء علامہ مفتی بدر الدین احمد قادری علیہ الرحمۃ نے لینے سے صاف انکار کر دیا۔
- اس دوران اساتذہ صرف عربی تاریخ والے رجسٹر پر دستخط کرتے رہے، ۱۳۹۱ھ سے دارالعلوم کے سارے رجسٹر انگریزی تاریخ کے حساب سے کر دیے گئے، ہاں رجسٹر حاضری مدرسین حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمۃ کی وجہ سے انگریزی و عربی دونوں حساب سے تیار ہوئے، اور آپ کے علاوہ سارے اساتذہ دونوں پر دستخط کرتے رہے۔
- جمادی الاولیٰ ۱۳۹۴ھ میں صرف انگریزی حساب سے رجسٹر حاضری مدرسین بھی تیار کیا گیا، اس پر صرف حضرتِ والا موصوف نے دستخط سے انکار کیا، البتہ اس کے بعد دیگر اساتذہ نے بھی عربی تاریخ والے رجسٹر کی فرمائش کی۔
- ۲۵/ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۴ھ کو ارکانِ ادارہ نے قطعی فیصلہ سنا دیا کہ رجسٹر حاضری مدرسین صرف انگریزی حساب سے رہے گا، اور سب کو اس پر ہی دستخط کرنا ہوگا، اس پر صرف حضرت مفتی بدر الدین احمد علیہ الرحمۃ نے انکار کرتے ہوئے ۱۶/ شوال ۱۳۹۴ھ سے اپنی سبکدوشی کا اعلان کیا۔
اس تفصیل سے درخشاں آفتاب کی طرح واضح ہوتا ہے کہ حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ دارالعلوم سے اس وجہ سے علیحدہ ہوئے کہ انہیں انگریزی حساب والے رجسٹر پر دستخط کے لیے مجبور کیا گیا۔
انگریزی، عربی تاریخ کی شرعی حیثیت
اور ظاہر ہے کہ انگریزی تاریخ والے رجسٹر پر دستخط کرنا عربی یعنی قمری تاریخ کو پسِ پشت ڈالنا ہے، جب کہ قمری تاریخ ہی عربی اور اسلامی تاریخ ہے، چنانچہ کتبِ تفاسیر میں إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا (پ ۱۰، ع ۱۱، آیت ۳۶) کی تفسیر میں تصریح ہے، مفاتیح الغیب المشتھر بالتفسیر الکبیر للامام محمد الرازی میں ہے:
اعْلَمْ أَنَّ السَّنَةَ عِنْدَ الْعَرَبِ عِبَارَةٌ عَنِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ الْقَمَرِيَّةِ وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ
(ج ۶، ص ۴۰، تفسیر آیت ۳۶) یعنی جان لو کہ اہلِ عرب کے نزدیک سال قمری بارہ مہینوں کا نام ہے، اس پر یہ آیت دلیل ہے، نیز اسی میں صفحہ ۴۱ پر ہے:
قَالَ بَعْضُهُمُ الْمُرَادُ مِنَ الْكِتَابِ الْقُرْآنُ وَقَدْ ذَكَرْنَا آيَاتٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ السَّنَةَ الْمُعْتَبَرَةَ فِي دِينِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ السَّنَةُ الْقَمَرِيَّةُ وَإِذَا كَانَ كَذَا كَانَ هَذَا الْحُكْمُ مَكْتُوبًا فِي الْقُرْآنِ
اور بعض کا قول ہے کہ کتاب سے مراد قرآن ہے، اور ہم نے چند آیتیں ذکر کی ہیں جو اس پر دلیل ہیں کہ دینِ محمدی میں معتبر سال، قمری سال ہے، اور جب ایسا ہے تو یہ حکم قرآن کے اندر نوشتہ ہے۔
اور واضح رہے کہ مسلمانوں کو اپنے سارے معاملات قمری سن و تاریخ کے اعتبار سے ہی کرنا واجب ہے، امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ اپنی مشہور زمانہ تفسیر مفاتیح الغیب میں رقم طراز ہیں:
قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْوَاجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بِحُكْمِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنْ يَعْتَبِرُوا فِي بُيُوعِهِمْ وَمُدَدِ دُيُونِهِمْ وَأَحْوَالِ زَكَوَاتِهِمْ وَسَائِرِ أَحْكَامِهِمُ السَّنَةَ الْعَرَبِيَّةَ بِالْأَهِلَّةِ وَلَا يَجُوزُ لَهُمُ اعْتِبَارُ السَّنَةِ الْعَجَمِيَّةِ وَالرُّومِيَّةِ
(ج ۶، آیت ۳۶، سورہ التوبہ) کہ علمائے اسلام نے ارشاد فرمایا کہ آیتِ مذکورہ کے ارشاد کے مطابق مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی خرید و فروخت اور قرضوں کی مدت مقرر کرنے اور زکوٰۃ کا سال متعین کرنے اور اپنے سارے احکام و معاملات برتنے میں چاند کے حساب سے عربی سال کا اعتبار و لحاظ کریں، مسلمانوں کو عجمی اور رومی سال کا لحاظ کرنا جائز نہیں ہے۔
اور تفسیر خازن میں قمری سن و ماہ کے ذکر کے بعد ہے:
فَالْوَاجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْأَخْذُ بِهَذَا الْحِسَابِ وَالْعَدَدِ فِي صَوْمِهِمْ وَحَجِّهِمْ وَأَعْيَادِهِمْ وَبِيَاعَاتِهِمْ وَأَجَلِ دُيُونِهِمْ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ سَائِرِ أَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ الْمُرَتَّبَةِ عَلَى الشُّهُورِ
(ج ۲، ص: ۳۵۷، تفسیرات احمدیہ ۳۶، سورہ التوبہ) کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اسی (قمری) حساب پر عمل کریں اور اپنے روزے اور حج کے شمار کرنے اور عیدوں اور خرید و فروخت اور قرضوں کی مدتیں مقرر کرنے اور اپنے دیگر احکام میں چاند کے حساب پر چلیں۔
یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے صراحت کر دی ہے کہ زکاۃ و حج وغیرہ عربی مہینوں کے اعتبار سے ہی فرض ہیں، انگریزی مہینوں کے اعتبار سے زکوٰۃ دینا حرام ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص مالک ہے جائداد زمین داری وغیرہ کا، اور اس کی آمدنی مختلف اوقات میں وصول ہوتی رہتی ہے اور ایسی صورت میں حساب سالانہ انگریزی ماہ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے، اور ماہ ستمبر میں ختم کیا جاتا ہے، لہٰذا جو رقم بعد اخراجات کے آخر سال پر باقی رہتی ہے اس پر زکوٰۃ کب واجب ہوگی کس وقت اس کو ادا کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا۔
تو اس کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں: ”ستمبر اکتوبر کا اعتبار حرام ہے، نہ اس کے اوقات آمدنی پر لحاظ بلکہ سب میں پہلی جس عربی مہینے، جس تاریخ، جس گھنٹے، منٹ پر وہ ۶۵۰ روپیہ کا مالک ہوا اور ختم سال تک یعنی وہی عربی مہینہ، وہی تاریخ، وہی گھنٹہ منٹ دوسرے سال آنے تک اس کے پاس نصاب باقی رہی وہی مہینہ تاریخ منٹ اس کے لیے زکوٰۃ کا سال ہے، آمدنی کا سال کبھی سے شروع ہوتا ہو اس عربی مہینے کی اس تاریخ منٹ پر اس کی زکوٰۃ دینا فرض ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج ۴، ص: ۴۲۵، رضا دارالاشاعت بریلی شریف)
جوابِ مذکور کی تحقیقی تصویر
معلوم ہوا کہ حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ نے ایک اہم حکمِ شرعی پر عمل کرتے ہوئے دار العلوم فیض الرسول سے دست برداری کی اور بدر ملت علیہ الرحمہ جیسے تقویٰ شعار عامل بالشرع ذات سے اسی کی توقع و امید بھی رکھی جا سکتی ہے، مگر افسوس صد افسوس کہ جن حضرات نے بدر ملت کے شب و روز ۱۸ سال دیکھے تھے، دار العلوم کے الحاق سے لے کر اساتذہ کی امدادی تنخواہ آنے پھر انگریزی والے رجسٹر کا مسئلہ اور کمیٹی کا فیصلہ پھر بدر ملت کا اعلانیہ استعفیٰ اور سببِ علاحدگی بچشمِ سر ملاحظہ کیا تھا، ان میں سے ایک کرم فرما نے (جب ان سے حضرت بدر ملت کے دار العلوم سے دست بردار ہونے کے تعلق سے سوال ہوا تو) ایسا عجیب و غریب جواب تحریر کیا کہ شکوک و شبہات کے نہ جانے کتنے سوتے پھوٹتے نظر آتے ہیں اور انہیں مجرموں کی صف میں کھڑا کرنے میں کوئی دریغ نہیں کی ہے، لیجیے ذرا کلیجہ تھام کر وہ سوال و جواب کا خاص حصہ ملاحظہ فرماتے چلئے۔
سوال: کہا جاتا ہے کہ مولانا بدر الدین احمد رضوی نے الحاق کی وجہ سے فیض الرسول براؤں شریف کی ملازمت چھوڑی ہے، تو کہاں تک صحیح ہے؟
جواب: رہی مولانا بدر الدین احمد رضوی قدس سرہ کی بات کہ انہوں نے الحاق کی وجہ سے فیض الرسول براؤں شریف کی ملازمت چھوڑی تو یہ ان کے چند جھوٹے مریدین کا الحاقی مدارس کے علما کی تحقیر اور اپنے پیر کی تعظیم کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ ہے، جو بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، اس لیے کہ ان کے براؤں شریف چھوڑنے کی وجہ کچھ اور ہے، جو دار العلوم فیض الرسول کے داخلی اور اندرونی حالات جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے، اگر وہ الحاق کے سبب فیض الرسول سے مستعفی ہوئے ہوتے تو اس کی ممبری سے بدرجہ اولیٰ استعفیٰ دے کر الگ ہو جاتے، اس لیے کہ الحاق سے متعلق ساری مکاریوں اور فریب کاریوں کے ذمہ دار الحاقی مدارس کے اراکین و ممبران ہوتے ہیں، لہٰذا تا وقتیکہ وہ مستعفی ہو کر الگ نہ ہو جائیں، ان مدارس کی غلط کاریوں سے وہ بری نہیں ہو سکتے۔
(چند سطور کے بعد) خلاصہ ہے کہ الحاقی مدارس کی غلط کاریوں کے ذمہ دار اس کے ممبران و اراکین ہیں، نہ کہ مدرسین و ملازمین، مولانا بدر الدین احمد رضوی اگر الحاق کے سبب فیض الرسول براؤں شریف کے مدرسے سے مستعفی ہوئے ہوتے تو اس کی ممبری سے وہ ضرور استعفیٰ دے کر الگ ہو جاتے، حالاں کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک الحاقی مدرسہ فیض الرسول کے ممبر رہے۔ (فتاویٰ فیض الرسول، ج ۲، ص: ۷۲۱)
اس جواب کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل باتیں اجاگر ہوتی ہیں:
- انہوں نے دارالعلوم کے الحاق کی وجہ سے دارالعلوم کو نہیں چھوڑا۔
- ان کے دارالعلوم چھوڑنے کی کوئی اہم وجہ ہے جو صرف دارالعلوم کے اندرونی حالات سے واقف کاروں پر ظاہر ہے۔
- وہ دارالعلوم فیض الرسول کے تاحین حیات ممبر رہے۔
- الحاقی اداروں میں الحاق کے تعلق سے ساری فریب کاریاں و مکاریاں اراکین و ممبران ہی کرتے ہیں اور ان غلط کاریوں کے صرف وہی ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔
- الحاقی اداروں کے مدرسین و ملازمین کا غلط کاریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
- خط کے آخری جملے سے ظاہر ہے کہ یہ جواب حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد لکھا گیا ہے۔
جوابِ مجیب کا، خلافِ واقعہ ہونا اور حقیقت سے بے تعلق ہونا حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ کے مذکورہ بالا مکتوب سے ہی ظاہر و ثابت ہو گیا، لیکن کچھ اہم باتیں بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔
- یہ مسلم امر ہے کہ کسی صاحبِ واقعہ کی اپنی تحریر زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتبار ہوتی ہے، برخلاف کسی غیر کی تحریر کے، وہ بھی جب غیر کی تحریر صاحبِ واقعہ کی تحریر کے خلاف ہو، لہٰذا صورتِ دائرہ میں مجیب کی بات ہرگز قابلِ اعتنا نہیں۔
- یہ تسلیم ہے کہ حضرت بدر ملت دارالعلوم کے نفسِ الحاق کے سبب مستعفی نہ ہوئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جس سبب سے وہ مستعفی ہوئے اس کا محرک الحاق ہی ہے، جیسا کہ مکتوب سے خوب ظاہر ہے۔ اس لیے یہ بھی کہا جانا درست ہے کہ الحاق کے سبب مستعفی ہوئے۔
- مجیب کے ارشاد (ان کے براؤں شریف چھوڑنے کی وجہ کچھ اور ہے جو دارالعلوم فیض الرسول کے داخلی اور اندرونی حالات جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے) سے بلاشبہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت مفتی بدر الدین احمد قدس سرہ نے دارالعلوم کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام کیا تھا، اور اس کے داخلی امور میں غیر قابلِ عفو دست درازی کی تھی، وغیرہ وغیرہ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے: یہ بدرِ ملت علیہ الرحمہ پر حضرت مجیب علیہ الرحمہ کا خصوصی کرم ہمایوں ہے، ورنہ حقیقت تو ان کے خط سے ہی طشت از بام ہے، اگر معاذ اللہ وہ کسی جرم کے سبب دارالعلوم سے علیحدہ ہوتے تو ان سے استعفیٰ لیا جاتا نہ کہ وہ استعفیٰ دیتے، پھر انہیں دارالعلوم کا تاحیات ممبر اعزازی نہ رکھا جاتا بلکہ ان کے جرم کی پاداش میں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر دارالعلوم کو پاک رکھا جاتا۔
انصاف کو آواز دو انصاف کہاں ہے؟
- یہ بات بھی حتماً جزماً غلط ہے کہ الحاقی اداروں میں جو غلط کاریاں ہوتی ہیں ان کے ذمہ دار صرف اور صرف ارکان ہوتے ہیں، امدادی تنخواہیں لینے والے مدرسین و ملازمین بالکل بے داغ اور پاک ہوتے ہیں، اگر یہ صحیح ہے تو بتایا جائے کہ:
* بحکم منیجر فرضی طلبہ کا رجسٹر کون بناتا ہے؟
* وظیفہ کی رقم آنے پر وصول پانے والے فرضی طلبہ کی فہرست جو حسبِ درجاتِ اساتذہ ہوتی ہے اس پر تصدیقی دستخط کون کرتا ہے؟
* بورڈ کے قانون کے مطابق محض انگریزی تاریخ والے رجسٹر پر دستخط کر کے اپنے اسلامی تاریخ کو پسِ پشت ڈالنے اور ایک حکم شرعی سے چشم پوشی کرنے کا کارنامہ کون انجام دیتا ہے؟
* ہر ماہ اپنی تنخواہ کی تحصیل کے لیے آفیسروں کو رشوت کون دیتا ہے؟
* اپنی تقرری کے لیے گورنمنٹ کے یہاں اور بینک سے تنخواہ حاصل کرنے کے لیے بینک میں تصویر کون جمع کرتا ہے؟
* فرضی میڈیکل کون بنواتا ہے؟
* الحاقی اداروں کے طلبہ کو بورڈ کا امتحان دلوانے کون جاتا ہے؟ جب کہ امتحانی مراکز میں وہابی، دیوبندی، سنی، شیعہ کی نگرانی کون کرتا ہے؟
* بورڈ کی امتحانی کاپیاں چیک کرنے کون جاتا ہے؟ جب کہ مراکزِ تقسیم میں بلا استثناء ہر مذہب کے لوگ ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ارکان و ممبران نہیں جاتے ہیں بلکہ اساتذہ اور ملازمین ہی جاتے ہیں اور یہ سارے کام کرتے ہیں۔
اتنا نہ بڑھا پاکیِ داماں کی حکایت
- واضح رہے کہ الحاقی اداروں میں بعض کے اندر صرف ایک کمیٹی ہوتی ہے، اس کے متعین ارکان ہوتے ہیں، ان کے نام تخصیصِ عہدہ کے ساتھ گورنمنٹ کے یہاں رجسٹرڈ ہوتے ہیں، وہی ارکان ایڈو الحاق سے لے کر سارے معاملات انجام دیتے ہیں، اس کمیٹی کو رجسٹرڈ کمیٹی کہتے ہیں۔ اور بعض میں ادارہ کے الحاق کی کمیٹی الگ ہوتی ہے، اور ادارہ کے تعمیر و ترقی کے تعلق سے ایک مخصوص کمیٹی الگ ہوتی ہے، جس کا گورنمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جیسے جامعہ اشرفیہ وغیرہ میں، اور ایڈ و الحاق کے تعلق سے غلط کاریوں کے مجرم صرف اسی کمیٹی کے ارکان و ممبران ہوتے ہیں، جو گورنمنٹ کے یہاں رجسٹرڈ ہوتی ہے، اور اس کمیٹی کا ممبر اس وقت تک الحاق کی غلط کاریوں، فریب کاریوں سے عہدہ برآ نہ ہوگا جب تک بذریعہ استعفیٰ اپنے عہدہ سے الگ نہ ہو جائے، لیکن ادارہ کی نجی مخصوص کمیٹی کے ممبران کا الحاق کی غلط کاریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے، نہ انہیں ان غلط کاریوں کا مجرم گردانا جا سکتا ہے، اور نہ ان پر شرعاً یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ الحاقی ادارہ سے محض الحاقی ہونے کے سبب علیحدگی اختیار کریں۔ اور دارالعلوم فیض الرسول میں بھی الحاقی کمیٹی الگ ہے، اور ایک نجی مخصوص کمیٹی الگ ہے، اس پر دلیل ہے کہ جس وقت دارالعلوم فیض الرسول کا الحاق ہوا، اس وقت حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ دارالعلوم میں صدر مدرس تھے، اور تین سال تک مسلسل ان کے لیے تنخواہ آتی رہی مگر انہوں نے نہ لی، اگر وہ الحاقی کمیٹی کے ممبر ہوتے تو پہلے انہیں صدر مدرسی سے استعفیٰ دینا پڑتا، اس لیے کہ یہ ضابطہ ہے کہ کسی ادارہ کا ملازم اسی ادارہ کی کمیٹی کا ممبر یا مینیجر نہیں ہو سکتا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ وہاں الحاقی کمیٹی کے علاوہ بھی ایک اور کمیٹی ہے، حضرت علیہ الرحمہ اسی کے تاحیات ممبر رہے، اس لیے ان کے حق میں یہ کہنا کہ وہ غلط کاریوں، فریب کاریوں سے بری نہیں ہو سکتے، جب تک الحاقی ادارہ فیض الرسول کی ممبری سے الگ نہیں ہو جاتے، بے معنی اور لغو بات ہے، بلکہ انہیں بلا وجہ مجرم گرداننا ہے، اس تفصیل سے خوب واضح ہو گیا کہ حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ نے دارالعلوم کیوں چھوڑا، اور مجیب مذکور کے جوابات کی حقیقت بھی خوب روشن ہوگئی، مولائے کریم انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
اب ذرا مجیب کریم کا بالائے کرم تھوڑا اور ملاحظہ کرلیں کہ فتاویٰ فیض الرسول میں تو مذکورہ خلاف واقع جواب مطبوع ہی ہے۔ اس کے متعدد نسخے مارکیٹ میں آچکے ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ اس کو فتاوے میں طبع ہی نہ کرایا جاتا یا کم از کم دوسرے نسخے سے نکال دیا جاتا، اس لیے کہ فتاویٰ فیض الرسول کا پہلا ایڈیشن منظر عام پر آتے ہی حضرت بدر ملت کا خط مشتہر کر دیا گیا تھا، جس سے جواب کا غلط ہونا آشکار ہو گیا، مزید یہ کہ فتاویٰ فیض الرسول جلد اول و دوم کے بعد دونوں سے کچھ فتاوے چن کر ایک اور مجموعہ فتاویٰ بنام فتاویٰ برکاتیہ کتب خانہ امجدیہ سے طبع ہوا، اس میں بھی یہ جواب بعینہ موجود ہے، فتاویٰ برکاتیہ کے شروع میں لکھا ہوا ہے کہ اس میں فتاویٰ فیض الرسول اول و دوم کے اہم فتاوے شامل کیے گئے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت بدر ملت کا دارالعلوم فیض الرسول کو چھوڑنے کی بہتان آمیز اور خلاف واقع وجہ بیان کرنا اور لکھنا اہم فتویٰ کیسے ہو گیا؟ اور اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟
حضرت بدر العلماء کے دارالعلوم فیض الرسول چھوڑنے کی وجہ اتنی تفصیل اور مجیب کے جواب کی تحلیل سے ہرگز کسی کو ٹھیس پہونچانا نہیں اور نہ محاذ آرائی مقصود بس مودبانہ التماس کرنا ہے کہ فتاویٰ فیض الرسول (ج۲، ص: ۷۲۱) پر حضرت بدر ملت کے تعلق سے جو غلط بات مسلسل چھپ رہی ہے اسے آئندہ نسخوں سے نکلوا دیا جائے، اور یوں ہی فتاویٰ برکاتیہ کے طابعین سے بھی گزارش ہے کہ اس سے بھی نکال کر احسان کریں اس قسم کی خلاف واقع اور غلط باتوں کی اشاعت جب کتب فتاویٰ سے ہوگی تو امان ہی اٹھ جائے گا، خدارا کتب فتاویٰ کی قدر و عظمت برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔
حضرت بدرالعلماء علیہ الرحمہ کا الحاقی ادارہ سے متعلق نظریہ
حضرت بدرالعلماء علیہ الرحمہ اسلامی مدارس کو ایڈ و الحاق کرانے کے سخت مخالف تھے، جس طرح خود دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف سے علاحدہ ہو گئے، ایسے ہی دوسروں کو بھی الحاق کے مضمرات بتاتے اور الحاقی اداروں میں الحاقی مدرس کی حیثیت سے ملازمت کرنے سے روکتے اپنے معتقدین، مریدین، تلامذہ کو بھی اس کی نفرت دلاتے۔
چنانچہ حضرت صوفی عبد الصمد صاحب قادری نوری اورنگ آبادی نے حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ کو قصبہ "رفیع گنج بہار" میں مسجد و مدرسہ کے لئے زمین حاصل کرنے کے بعد اطلاع دی تو جواب میں تحریر فرمایا: ”یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مدرسہ و مسجد کے لیے زمین حاصل ہو گئی ہے، یہ خیال رہے کہ بورڈ کے مزاج رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، اراکین اور ممبران کا تعلق مدرسہ سے نہیں ہونا چاہیے، ورنہ آئندہ محنت ضائع ہو جائے گی، مولانا کوثر حسین صاحب چھپرہ میں کام کر رہے ہیں اپنے مدرسہ میں انہیں لڑکوں کا داخلہ قبول کرتے ہیں جو زندگی بھر بورڈ سے الگ رہنے کا عہد کرتے ہیں۔“ (مکتوبات بدر ملت، ص: ۱۱۷)
مدرسہ فیضان رضا وارث العلوم بھوتی علاقہ بھانبھر ضلع گونڈہ کے ذمہ داران نے مدرسہ الحاق کرانے کی کوشش کے دوران ایک جلسہ کا انعقاد کیا۔ اس میں حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ کو دعوت شرکت دی، اس پر جواباً حضرت نے درج ذیل الفاظ میں تفصیلی خط تحریر کیا:
”از: بڑھیا ۸۶/۹۲ ۲۱/ جمادی الاخریٰ ۱۴۰۵ھ
جناب ضیاء اللہ پردھان صاحب کی زبانی دعوت ملی، پوسٹر میں انگریزی تاریخ کا اندراج پہلے اور اسلامی تاریخ کا اندراج نمبر دو پر ہے، مدرسہ فیضان رضا وارث العلوم علاقہ بھانبھر، میری مسلسل تحریک پر وجود میں آیا، پھر میں نے یہ وحشت ناک خبر سنی کہ مولانا اصغر علی اور سابق پردھان ضیاء اللہ صاحب وغیرہ مدرسہ فیضان رضا کو الحاق کرانا چاہتے ہیں تو مجھے صدمہ ہوا اور میں نے مولانا اصغر علی صاحب اور پردھان موصوف کے پاس الحاق روکنے کے لیے ایک تحریر بھیجی، لیکن آج تک مولانا موصوف نے اور پردھان موصوف نے میری تحریر کا کوئی جواب نہیں دیا، میں جلسہ منعقدہ ۲۶/ جمادی الاخریٰ ۱۴۰۵ھ بمقام بھوتی کی دعوت اس شرط پر منظور کرتا ہوں کہ بھوتی گاؤں کے سربراہ آوردہ حضرات اور سابق پردھان ضیاء اللہ صاحب نیز مولانا اصغر علی صاحب اس امر کی تحریر دیں کہ۔۔۔ نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہ الکریم وآلہ الفخیم - ہم باشندگان بھوتی وغیرہ علاقہ بھانبھر ضلع گونڈہ اس بات کا صفائی کے ساتھ تحریری اعلان کرتے ہیں کہ اللہ و رسول جل شانہ و علیہ التحیہ والثناء کی رضا کی خاطر مدرسہ فیضان رضا وارث العلوم علاقہ بھانبھر گونڈہ کو الحاق سے آزاد رکھا جائے گا، اور شریعت اسلامیہ کے تقاضا کے مطابق مدرسہ مذکورہ میں صرف دینی، مذہبی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔
فقط بدر الدین احمد قادری رضوی۔ خادم مدرسہ بڑھیا“
اس طرح متعدد شواہد ہیں، یہاں اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے، اسی سے اندازہ اور فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ بدرالعلماء مدارس کا الحاق کرانے سے سخت بیزار ہوتے تھے۔
حضرت بدرالعلماء مدرسہ غوثیہ بڑھیا میں
۲۱ شوال المکرم ۱۳۹۴ھ مطابق ۶ نومبر ۱۹۷۴ء کو دارالعلوم فیض الرسول سے آپ بذریعہ استعفیٰ علیحدہ ہو گئے، تو مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا کے ارکان نے اپنے ادارہ میں تدریس کی دعوت پیش کی، آپ نے دعوت قبول فرمائی، اور نہایت قلیل مشاہرہ پر ۹ ذی قعدہ ۱۳۹۴ھ مطابق ۲۴ نومبر ۱۹۷۴ء سے زندگی کے آخری حصہ تک مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا میں بحیثیت صدر المدرسین خدمت انجام دی۔
حضرت بدر ملت اور فقہ و افتاء
حضرت بدرالعلماء منصب صدارت کے جملہ مشاغل، تصنیف، تدریس، وعظ و ارشاد کی مصروفیات کے باوجود فتاویٰ بھی لکھتے، ان سے بخوبی واضح ہے کہ آپ ایک بڑے فقیہ بھی تھے، فقہ دانی رب کی عظیم نعمت ہے، ہر شخص نہ فقیہ ہو سکتا ہے نہ ہر خواہش مند افتاء کا کام انجام دے سکتا ہے، اس نعمت عظمیٰ و سعادت کبریٰ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے، جس کے ساتھ رب عزوجل کا ارادہ خیر و فلاح ہو جائے، حدیث پاک میں ہے:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
”کہ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے فقہ عطا فرماتا ہے“ کارِ افتاء انجام دینے والے کے اندر کم از کم درج ذیل اوصاف ہونا اشد ضروری ہے:
- سوال پورے طور سے سمجھنے کی صلاحیت و لیاقت۔
- سوال کے لب و لہجہ، سیاق و سباق سے منشا سوال کی کامل معرفت۔
- دقت نظری، تعمق فکری، ژرف نگاہی، نظرِ انتقادی، اخلاص و بے نفسی۔
- عربی زبان میں اتنی مہارت کہ عبارۃ النص، دلالۃ النص، اقتضاء النص، اشارۃ النص وغیرہ کے ذریعہ فقہی عبارت کے جملہ معانی کی حسب موقع تعیین کر سکے۔
- متداول کتب فقہ پر مطالعہ کے ساتھ استحضاری نظر ہو، فقہ کے اکثر کلیات و جزئیات پر استیعابی نگاہ ہو۔
- بلا خوفِ لومة لائم حق بات کہنے اور لکھنے کی جرات۔
- معتدل مزاجی، یعنی مزاج پر غصہ غالب نہ ہو، نہ نرمی۔
- کامل اطمینان کے بعد ہی فتویٰ صادر کرنا، اور ساتھ ہی حکم کی قوی دلیل کو حفظ کر لینا۔
- متشابہ مسائل میں امتیاز پر قدرت تامہ۔
- تصلب کا التزام، مداہنت و صلح کلیت سے کامل اجتناب۔
- تقویٰ، جزم و احتیاط، جذبۂ احقاقِ حق، و ابطالِ باطل۔
- علتِ منصوصہ کے اجرا اور استدلال کی قوت۔
بحمدہ تعالیٰ بدرِ ملت علیہ الرحمہ کے اندر مذکورہ اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے، آپ کے نوکِ قلم سے صادر شدہ وہ فتاویٰ میری صداقت کے آئینہ دار ہیں، جو فتاویٰ فیض الرسول جلد اول، جلد دوم کے مختلف صفحات پر بکھرے آبدار موتیوں کی طرح جگمگا رہے ہیں، اور جو ابھی غیر مطبوع محفوظ ہیں، آپ کے بعض فتاویٰ بڑے مفصل اور تحقیقی ہیں، جن سے آپ کی وسعتِ علمی، تحقیقی قوت، ژرف نگاہی، دقیقہ سنجی، دقتِ نظری، استدلال کی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، ہم بطور نمونہ چند اہم سوالات اور حضرت بدرِ ملت کے جوابات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
(۱) خدا اور رسول چاہیں گے تو یہ کام ہو جائے گا، کہنا کیسا ہے؟
عام طور پر اہل سنت و جماعت کہہ دیتے ہیں کہ خدا اور رسول چاہیں گے تو یہ کام ہو جائے گا، اور اس کہنے کو ناجائز و حرام یا شرک تصور نہیں کرتے، مگر وہابی، دیوبندی حرام یا شرک گردانتے بلکہ کہنے والے پر بڑا طعن کرتے اور کہتے ہیں، خدا کے چاہنے کے ساتھ رسول کا کیا دخل؟ اور ایسا کہنا رسول کو خدا کے برابر ٹھہرانا بلکہ خدا سے رسول کا مرتبہ بڑھانا ہے، لہٰذا شرک ہے، مگر حقیقت میں یہ کیا ہے تو لیجیے پہلے سوال کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے۔ پھر جواب کا۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ماخوذ از: ماہ نامہ فتاویٰ بدر العلماء ص ۶۲ تا ۷۶
