| عنوان: | فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:اول) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بدرالعلماء، زبدۃ الفضلاء، استاذ الاساتذہ، عاشق اولیاء مرشدنا و ملاذنا حضرت علامہ شاہ مفتی بدرالدین احمد قادری رضوی نوری علیہ الرحمۃ والرضوان پندرہویں صدی ہجری کی ایک عبقری اور فلک پیما شخصیت تھے۔ تحریر و تدریس، افتا و تدبیر، علم و عمل، تقویٰ و طہارت، فکر و فن، فضل و کمال، جود و نوال، خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ، محبت صحابہ و اولیاء جیسے اوصافِ حمیدہ کے پیکر اور اشعارِ ذیل کے مصداق کامل تھے۔
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشان کبھی
قرنہا باید کہ تا یک مردِ حق پیدا شود
بایزید اندر خراساں یا اویس اندر قرن
سالہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں
سراپا
- قد مبارک: متوسط
- رنگ: گندم گوں
- سرِ اقدس: بڑا، گول، اس پر اکثر ٹوپی کے ساتھ عمامہ کی بہار۔
- چہرہ: نورانی جسے دیکھ کر خدا کی یاد آئے۔ مناسب گول۔
- پیشانی: کشادہ، روشن، آثارِ تقدس لیے ہوئے۔
- بھنویں: ملی ہوئیں، گنجان، بلند ہالہ نما۔
- آنکھیں: بڑی بڑی، سیاہ، چمک دار پُر جلال و جمال۔
- رخسار: بھرے، نرم و گداز۔
- ناک: متوسط، قدرے بلند۔
- مونچھ: پست، تراشیدہ، موافق شرع۔
- ہونٹ: تبسم ریز، سرخی مائل۔
- دانت: چھوٹے، ہموار، مضبوط۔
- کان: مناسب، درازی لیے ہوئے۔
- داڑھی: مناسب گھنی، موافق سنتِ مصطفٰی علیہ التحیۃ والثنا۔
- گردن: معتدل و مناسب۔
- سینہ: کشادہ و فراخ۔
- ہاتھ: دراز جود و نوال آثار۔
- پاؤں: مناسب طویل۔
- بدن: سڈول، معتدل، صحت مند مضبوط۔
لباس
- کرتا: کلی دار، دراز، اس پر صدری، شیروانی، جبہ حسب موقع۔
- ٹوپی: دو پٹّی، کڑھی ہوئی۔
- عمامہ: بڑے عرض کا، مختلف رنگ کا۔
- پاجامہ: چوڑی مہری والا، ٹخنوں سے اوپر موافق شرع۔
یہ شیخ الاسلام مفتیِ اعظم ہند، شہزادہ امام اہل سنت حضور مفتی اعظم مصطفٰی رضا خان قادری کے خلیفہ اجل بدرِ ملت علامہ شاہ مفتی بدر الدین احمد صدیقی قادری رضوی نوری برکاتی علیہ الرحمہ کا سراپا ہے۔ جن کی پوری زندگی خدا اور رسول کے ارشادات کی پابندی، اپنے مذہب و مسلک کی خدمت و اشاعت، حق گوئی و بے باکی، احقاقِ حق و ابطالِ باطل، تصلب فی الدین، وہابیوں، دیوبندیوں، صلح کلیوں سے نفرت و بیزاری، ان سے دوری کی ترغیب و تاکید، مداہنت سے اجتناب، حق پسندی، تقویٰ شعاری، صلح جوئی، ارشاد و ہدایت، اصلاح و تبلیغ سے معنون رہی۔
جلوہ نمائی
آسمان صلاح و تقویٰ کا یہ بدر کامل ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۹ء کو ضلع گورکھپور کے موضع حمید پور میں رونما ہوا۔ جس کی علمی و ضو بار کرنوں سے ایک عالم مستنیر ہو گیا۔
والد گرامی
آپ کے والد گرامی کا نام نامی اسم گرامی عاشق علی صدیقی (علیہ الرحمہ) ہے۔ وہ بڑے نیک، دین دار، تقویٰ شعار، منکسر المزاج، خوش اخلاق، علم دوست تھے۔ اپنے مذہب و مسلک کی سچی محبت سے سرشار تھے۔
آپ کے تین صاحبزادے تھے۔ (۱) محمد امین الدین صدیقی (۲) محمد بدرالدین صدیقی (۳) محمد نعیم الدین صدیقی۔ آپ کی تمنا اور خواہش تھی کہ میرے فرزندان عالم دین بنیں اور دین حق یعنی مسلک اعلیٰ حضرت کی اشاعت کریں۔ رب کریم نے آپ کی دلی آرزو کو اس طرح پورا فرمایا کہ بڑے صاحبزادے تو ضروری حصول علم دین کے بعد گھریلو ذمہ داری سنبھالنے میں مصروف ہو گئے اور بحمدہ تعالیٰ اخیر عمر تک دین پر قائم رہے۔ مگر موخر الذکر دونوں صاحبزادوں کو دین اسلام کا محافظ بنانے کی سچی تڑپ باقی رہی۔ اور الحمد للہ رب العالمین آپ کی نیت خیر ثمر بار ہوئی۔ اور دونوں آسمان علم و فضل کے درخشاں آفتاب بن کے طلوع ہوئے۔ اور دونوں نے متاع حیات محض اسلام کی خدمت مذہب و مسلک کی حمایت، اعدائے سنیت کی نکایت، مسلک رضا کی اشاعت و نقابت میں صرف کر دیا۔
اول الذکر کو لوگ فقیہ اسلام، بدر العلما علامہ شاہ مفتی بدرالدین احمد رضوی اور ثانی الذکر کو فقیہ فقید المثال حکیم ابوالبرکات علامہ نعیم الدین احمد شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف سے جانتے ہیں۔
تعلیم و تربیت
حضرت بدر العلما علیہ الرحمہ نے مکتب کی تعلیم اپنے علاقائی مدرسہ شاہ پور میں حاصل کی۔ اور عربی و فارسی تبحر استاذ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب صدر المدرسین مدرسہ انوار العلوم جین پور ضلع اعظم گڑھ سے پڑھی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اہل سنت و جماعت کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کا رخ کیا۔ اور شوال ۱۳۶۷ھ مطابق ستمبر ۱۹۴۸ء کو مبارک پور تاج العرفاء استاذ العلماء جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی کی خدمت پاک میں پہونچ گئے۔ وہاں آپ نے مصدر علم وفضل حافظ ملت کی عنایت بے کراں اور دارالعلوم کے دیگر اساتذہ کرام کی مشفقانہ توجہات کی چھاؤں میں رہ کر چار سال بڑی محنت و جان سوزی و جگر کاوی جاں فشانی کے ساتھ علمی سیرابی حاصل کی۔ صلابت ذہنی، ذکاوت و فطانت، عمدہ عبارت خوانی، جودت طبع، ندرت فکر، حسنِ مطالعہ، علمی طلب و جستجو، سعادت شعاری، اساتذہ سے حسن نیازمندی کے سبب چند ہی مہینوں میں حافظ ملت اور اساتذہ کی نگاہ میں مقبول اور مرکز توجہ ہوگئے اور دارالعلوم کے ممتاز طلبہ میں شمار ہونے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عہدِ تعلم سے لے کر عصرِ تدریس تک حافظ ملت علیہ الرحمہ کے خصوصی الطاف و عنایات سے شادکام رہے۔
فراغت
دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کے سالانہ اجلاس منعقدہ ۱۰ شعبان المعظم ۱۳۷۱ھ مطابق مئی ۱۹۵۲ء میں آپ اکابر علمائے اسلام و مشایخ عظام کے مقدس ہاتھوں دستار و سندِ فراغت سے سرفراز ہوئے۔
اساتذہ کرام
متعلم کی شخصیت سازی میں اساتذہ کرام کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ پھر اگر اس کی محنت و لگن اور جہد مسلسل ہو تو اس کی زندگی کے اوراق کچھ اور ہی روشن و تابناک بنتے ہیں۔ حضرت بدرالعلماء پر جن اساتذہ اور مربیانِ کرام کا سحابِ کرم اور فیضانِ موسلا دھار بارش بن کر برسا ان کے اسامیہ یہ ہیں:
- جلالۃ العلم استاذ العلماء حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی بانی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
- شیخ العلماء حضرت علامہ غلام جیلانی قادری اعظمی
- حضرت علامہ حافظ و قاری شاہ عبدالرؤف قادری مصباحی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارک پور
- شیخ الخطباء حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی گھوسی
- شیخ القراء حضرت علامہ قاری محمد یحییٰ اعظمی ناظم اعلیٰ دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور
- حضرت مولانا خلیل احمد قادری رضوی کچھوچھوی صدر المدرسین مدرسہ انوارالعلوم جین پور، اعظم گڑھ۔
یہ وہ اصحاب فضل و کمال ہیں جن پر خود علم نازاں تھا۔ آج ملک اور بیرون ملک میں جو علمائے اہل سنت اور فضلاء ملت دینی خدمات کا زریں کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ اکثر انہیں کے مرہون منت ہیں۔ حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ بلا شبہ قابل فخر ہیں کہ انہیں ان ستودہ صفات شخصیتوں سے براہِ راست تلمذ کا شرف حاصل ہے۔
ابرِ رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی ناز برداری کرے
ازدواجی زندگی
آپ کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی بیوی سے چار اولادیں ہوئیں، تین صاحبزادے (۱) محمد اول عرف جلال الدین قادری (۲) مولانا محمد ثانی عرف جمال الدین رضوی (۳) محمد ثالث عرف سلیم الدین اور ایک صاحبزادی کنیز فاطمہ۔ پھر ۱۳۹۹ھ مطابق ۱۹۷۹ء میں دوسری شادی کی۔ دوسری زوجہ مکرمہ کا نام سیدہ شمسہ خاتون صاحبہ ہے۔ ان کے ساتھ اپنے پہلے شوہر سے ایک صاحبزادی بنام نجم السحر آپ کی کفالت میں آئی۔ ان کے بطن سے دو اولادیں ہوئیں (۱) مولانا محمد رابع عرف نورانی شاہ صدیقی قادری (۲) فارحہ خاتون رضویہ۔
آپ کی زندگی اپنی شریک حیات اور اولاد کے ساتھ مکمل اسلامی زندگی سے عبارت رہی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو جب دوسری شادی کی حاجت درپیش ہوئی تو آپ نے قاضی اطیع الحق صاحب عثمانی قادری رضوی گونڈوی کے نام ایک مکتوب لکھا۔ جس کا اہم حصہ یہ ہے۔
”میں مسلک رضویت کا حامی ہوں اور اسی مقدس مسلک پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مسلک رضویت جہاں ایک طرف سنیت میں تصلب اور فرقہ باطلہ وہابی، دیوبندی، رافضی، ندوی، مودودی وغیرہ سے دور و نفور رہنے کی سخت تاکید کرتا ہے وہیں دوسری طرف عمل و کردار کو صاف و ستھرا رکھنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ میں ایسے ماں باپ کی لڑکی سے رشتہ کا طالب ہوں جو دنیوی ٹِیپ ٹاپ سے بے پرواہ ہو۔ دنیا داری پر دین داری غالب ہو۔ شریعت کا جو حکم ان کے سامنے رکھا جائے اس کو بے چوں چرا مانیں اور عمل کرنے کی کوشش کریں۔ لڑکی حسب ذیل اوصاف رکھتی ہو: لڑکی تندرست ہو، آسیب زدہ یا مریضہ نہ ہو، پردہ کی پوری پابندی کر سکتی ہو، شوخ اور بے باک نہ ہو، اس کے اندر دین داری کا مادہ ہو، مزاج سادگی پسند ہو شوہر کی اطاعت و خدمت کرنے کا جذبہ رکھتی ہو، اپنی دین داری کی وجہ سے شرعی پابندیوں کو بخوشی گوارہ کر لے، قرآن مجید کی تلاوت کر سکتی ہو، اور اردو کی چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھ لیتی ہو، حسن سیرت اور قبول صورت والی ہو، نسب صاف اور بے داغ ہو فیشن پرستی کا دلدادہ نہ ہو۔“
(ماخوذ از: مکتوبات بدر ملت ص: ۱۵۳، ۱۵۴)
اوصاف مذکورہ کی حامل خاتون سے رشتہ کی خواہش روشن دلیل ہے کہ آپ نے دنیا والوں کی عام روش سے ہٹ کر محض خدا اور رسول کے ارشادات و ہدایات کے مطابق اپنی ازدواجی زندگی گزاری。
اجازت و خلافت
بحمدہ تعالیٰ شبیہ غوث اعظم مفتی عالم ابوالبرکات محی الدین آل الرحمن محمد مصطفیٰ رضا قادری نوری المعروف بہ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کے دست حق پرست پر آپ کو شرف بیعت ملا۔ پھر جملہ سلاسل کی سند و خلافت سے سرفراز ہوئے اور ضیغم اہل سنت قاطع کفر و ضلالت شیر بیشہ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے بھی جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت سے آپ کو بہرہ ور فرمایا۔ گویا بحر طریقت کے ان دونوں شناوروں نے حضرت بدرالعلماء کو طریقت کی اجازت عطا فرما کر روحانی فیوض و برکات کا مصدر و منبع بنا دیا۔
قوت حافظہ اور استحضار علمی
آپ بعطائے الہی زبردست قوت حافظہ کے مالک تھے۔ ابتدائی کتابوں سے لے کر درس نظامی کی منتہی کتابوں تک کے اکثر مسائل ہمہ وقت آپ کے پیش نظر رہتے۔ بے شمار فقہی جزئیات، احادیث اور آیات اس طرح ازبر تھیں کہ سائل کو فوراً اپنی یادداشت دلائل و شواہد سے مطمئن کر دیتے۔
۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۲ھ کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تعطیل کلاں ہوئی۔ تو راقم السطور مرشد طریقت و استاذِ کریم حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ سے شرفِ نیاز و ملاقات کے لیے ۱۲ شعبان کو بڑھیا شریف پہونچا۔ بندہ ناچیز نے حضرت سے ملاقات اور دست بوسی کی سعادت حاصل کی۔ حضرت والا نے اپنے معمول کے مطابق بڑی نوازش کی۔ دوسرے دن چاشت کی نماز مسجد غوثیہ میں ادا کی، بعدہ اس کے باہر دھوپ میں ایک تخت پر تشریف فرما ہوئے اور اپنے حالات و کوائف بیان فرمانے لگے۔ اسی دوران مجھ سے فرمایا تقریباً دو سال ہو رہے ہیں آپ کے بھائی قاری امیر الحسن صاحب کا استفتا آیا تھا۔ لیکن ادھر طبیعت کی ناسازی اور کثرتِ مصروفیت کے سبب جواب نہ لکھ سکا۔ لہٰذا آپ گھر جاتے وقت جوابی لفافہ لے لیجیے گا۔
اپنے وصال سے صرف ۲۵ روز پہلے حضرت کا یہ ارشاد صادر ہوا۔ جب کہ اس وقت سر درد میں مبتلا تھے۔ اسی لیے سر پر عمامہ نما کپڑا کس کر باندھے ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حافظہ کتنا قوی تھا کہ اس حال میں بھی یاد ہے کہ کس کا استفتا آیا ہے۔ اور کب آیا ہے۔ پھر جوابی لفافہ کے ساتھ ہے یا نہیں۔ دوسرے اس سے آپ کے تقویٰ و پرہیزگاری پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
تبحر علمی
حضرت بدرالعلماء علیہ الرحمہ نے جن اربابِ علم و کمال سے اکتسابِ علم و فضل کیا تھا جن اساتذہ کی فیاض بارگاہوں سے حکمت و معرفت کا باڑا لیا تھا۔ ان میں کا ہر ایک بجاۓ خود علم و آگہی فکر و دانش، استعداد و صلاحیت کا تلاطم خیز سمندر تھا۔ انہوں نے آپ کو اپنے دریائے عرفان سے کامل و وافر حصہ دے کر علم ظاہری کا جامع و پیکر بنا کر روانہ کیا تھا۔ اسی لیے بدرالعلماء درسِ نظامی کی جملہ کتب کی تدریس پر دستگاہِ کامل رکھتے تھے۔ اصول و فروع، منقولات، معقولات کے جامع تھے۔ علمِ قرآن و حدیث، اصول فقہ، اور فقہ، نحو، صرف، منطق سے آپ کا زیادہ لگاؤ تھا۔ ان کی درسگاہ سے فیض یافتہ علما اور ان کے فتاوے نیز ان کے تحقیقی قلمی شہ پارے مثلاً عروس الادب، تلخیص الاعراب، جواہر المنطق، فیض الادب منہ بولتے ثبوت ہیں۔
اردو اور عربی ادب میں آپ کی مہارت اپنوں اور بیگانوں کے یہاں بھی مسلم تھی۔ خود فیض الادب عربی تصنیف اور سوانح اعلیٰ حضرت، تذکرہ غوث و خواجہ، اردو جرائد و رسائل میں مطبوع تحقیقی ادبی مضامین شاہد و دلیل ہیں۔
حاصل یہ کہ متعدد علوم وفنون میں آپ کو تبحر حاصل تھا۔ اسی تبحر علمی کے سبب دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف جب مکتب سے دارالعلوم کی شکل میں منتقل ہوا۔ اور اس میں ہندوستان کے چار ماہرِ تدریس اساتذہ کا انتخاب عمل میں آیا تو آپ کو منصب صدارت تفویض ہوا۔ اور الحمدللہ اپنی فکری، علمی، تدریسی قوت واستعداد سے سب پر وہاں اپنے عہدِ تدریس تک فائق وغالب رہے۔ ان کے زمانے کے سبھی اصحابِ علم ودانش ان کے تبحر علمی کا لوہا مانتے رہے۔
تواضع وانکساری
حضرت علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور بے مثال عالم تھے۔ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف جیسے مرکزی ادارہ کے صدر المدرسین رہ چکے تھے۔ سیکڑوں علما و دانشورانِ اسلام کے استاذ و مربی، متعدد اداروں کے سرپرست درجنوں فنون کے ماہر تھے۔ مگر ترفع و تعلی، کبر و نخوت، خود ستائی و زعمِ ہمہ دانی سے کوسوں دور تھے۔ عوام ہوں یا خواص سب کے ساتھ حسنِ سلوک، خندہ پیشانی، تواضع و انکسار سے پیش آتے۔ اپنے کو دوسروں سے فروتر اور دوسرے کو خود سے بالاتر سمجھتے۔ اگر کوئی شاگرد یا عقیدت مند خط وغیرہ میں آپ کو استاذ العلما یا سند المدرسین جیسا اونچا لقب لکھ دیتا تو سختی سے منع فرماتے۔ اور آئندہ اس طرح اپنے لیے لکھنے بولنے سے بچنے کا حکم دیتے۔ چنانچہ ضلع گونڈہ کے باشندہ مولانا کمال الدین نے آپ کے پاس القابِ حسنہ کے ساتھ خط لکھا۔ تو آپ نے جواب میں لکھا:
”میرے حق میں فریدِ عصر، وحیدِ دہر، استاذ العلما، سند المدرسین، عمدۃ المحققین کے کلمات ہرگز ہرگز نہ لکھیں۔ یہ تسلیم ہے کہ زمانہ حاضر میں مبالغہ بے جا کا رواج خوب عام ہے۔ آپ اس مبالغہ ضالہ سے پرہیز کریں۔“
(ماخوذ از: مکتوباتِ بدرِ ملت ص: ۱۶۵، مکتوب ۱۰، بنام مولانا کمال الدین گونڈوی)
اسی طرح ایک خط بنام مولانا صوفی عبدالصمد صاحب قادری نوری دام ظلہ کے اندر اس سے احتراز کا حکم فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
”خط کے شروع میں آپ نے جو القاب مجھے عنایت کیے ہیں وہ مبالغہ کی حد سے باہر ہے۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت ص: ۱۸۳)
یوں ہی ایک مکتوب بنام شاہد نوری بلرام پوری میں تحریر فرماتے ہیں: ”منیر احمد مستانہ والے آئے اور آپ کا خط پیش کیا۔ آپ اور مولوی محمد اخلاق نے منیر صاحب سے میرا تذکرہ اس انداز میں کیا کہ انہیں مجھ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور انہوں نے غربت کے باوجود اتنا لمبا سفر کیا، یہ آپ دونوں کی بھول ہے۔ میں نہ بابا ہوں نہ شاہ صاحب ہوں، تو بڑھا کر تعریف کرنے سے فائدہ کیا ہے۔ دوسروں کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت ص: ۲۰۸)
غور فرمائیں! جس کی درسگاہِ فیض بخش سے ہزاروں تشنگانِ علومِ نبوت حکمت و معرفت حاصل کر چکے ہوں اور جس کے زیرِ اقتدار متعدد اکابر علماء درس و تدریس کا کام انجام دیتے رہے جو اپنے ہم عصر علماء میں امتیازی مقام کا حامل ہو اس نے متعدد تحقیقی و تدقیقی قلمی شہ پارے چھوڑے ہوں۔ وہ بلا شبہ استاذ العلماء بھی ہے عمدۃ المحققین بھی۔ سند المدرسین بھی ہے فرید عصر و وحیدِ دہر بھی۔ بھاری بھرکم القاب کے لائق ہے۔ قابلِ ستائش بھی مگر حضور والا کی یہ شانِ تواضع ہے اور کبر و عجب سے نفرت و بیزاری کی زندہ جاوید حقیقت، پھر حضرت والا جس طرح اپنے لیے مبالغہ آمیز القاب، کبر و عجب آور الفاظ استعمال کرنے سے نفرت و بے زاری ظاہر کرتے اسی طرح اپنے مریدین، معتقدین، تلامذہ کو بھی کبر و غرور فخر و عجب اور اس کے اسباب سے بچنے کی تاکید فرماتے، ذیل میں ایک مکتوب بنام مولوی سعید خان نوری بہرائچی کا ایک حصہ پیش کیا جاتا ہے جو قارئین کے لیے بے حد نفع بخش ہے۔
”آپ کے اور میرے شیخ حضور سرکار مفتی اعظم شہزادہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ شامتِ اعمال کی نحوست سے خود مجھے نعمتِ تصورِ شیخ حاصل نہیں۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ شاگرد کے اخلاص کی برکت سے استاد کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔ میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ تصورِ سرکار مفتی اعظم کی ابتدائی مشق شجرہ رضویہ کی تلقین کے مطابق شروع کریں۔“
انسان بنیادی حقیقت کو کبھی نہ بھولے۔ آپ کی نگاہ کے سامنے نجس ناپاک پیشاب کا دو قطرہ رکھا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ وہی دو قطرے جما ہوا خون بنا۔ پھر لوتھڑا ہو گیا۔ بعدہ اس لوتھڑے میں کچھ ہڈی کچھ گوشت، کچھ رگ، کچھ پٹھے بنتے گئے یہاں تک کہ سب مجموعہ احسن تقویم یعنی انسان کی صورت بن گیا۔ کچھ مدت گزر جانے کے بعد وہی انسان خانقاہ کا گدی نشین، علمی درسگاہ کا جلیل القدر استاذ، میدانِ خطابت کا ساحر البیان مقرر، مسجد کا گراں قدر امام دکھائی دینے لگا۔ اوصافِ سجادی، استادیِ خطابت، امامت کو نگاہ میں لاکر انسان اپنی ذات کو طاہر و طیب مزکیٰ شمار کرنے لگا اور پھول کر کے دوسرے آدمی کو جو اوصاف مذکورہ بالا سے خالی تھے نگاہِ تحقیر سے دیکھنے لگا۔ اور اپنی اصل کو بھول گیا کہ میں وہی ناپاک پیشاب کا دو قطرہ ہوں۔ اسی قطرہ نجس کو حضرت رب العزت جل شانہ نے طاہر و مزکیٰ بنایا ہے۔ لہٰذا مجھے اپنی اصل کو ہرگز بھولنا نہیں ہے۔ اپنے اوصاف موجودہ پر پھولنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ مجھے جو انسانی ڈھانچہ ملا، دین ملا، سنیت ملی، سجادگی ملی، خطابت ملی اور استادی نیز امامت ملی سب کا سب صرف حضرت رب العزت تعالیٰ مجدہ کے فضل ہی سے ہے ورنہ مَنْ هُمَا كَمْ كِهْ هَسْتَمْ ۔
بزرگوں کا مشہور مقولہ ہے مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ یعنی جس نے اپنی ذات کو پہچانا کہ میری اصل پیشاب کا دو قطرہ ہے تو ضرور اس نے اپنے رب کو پہچانا کہ اسی رب تعالیٰ نے اس دو قطرے کو سجادگی، امامت، خطابت اور دیگر اوصاف عطا فرمائے۔ تو اس پہچان سے اس کو اذعان ملے گا۔ کہ میں ہر حال میں بندہ ناچیز ہوں اور میرا خالق رب العزت ہے۔ جل شانہ۔ پھر جسے اذعان حاصل ہوگا۔ وہ عجب، غرور، گھمنڈ وغیرہ سے محفوظ ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔“
(ماخوذ از: مکتوباتِ بدر ملت، ص: ۲۰۱، ۲۰۲)
خط کا مذکورہ حصہ دلکش پیرا یہ بیان میں فخر و عجب سے بچنے کا زریں درس ہے۔ تواضع و انکسار اپنائے رکھنے کی ترغیب و تاکید بھی، انسانی حقیقت کی حسین تصویر کشی ہے۔ خالقِ عالم کے حسنِ تخلیق کا روشن بیان بھی، اپنے خالق کی احسان مندی و کرم شناسی کی تحریض ہے۔ بابِ تصوف کا عظیم شہ پارہ بھی، درسِ تواضع و حقیقت شناسی کا رواں دواں چشمہ ہے۔ اردو ادب کا چھلکتا جام بھی۔
تصلبِ دینی
مسلکِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ مولیٰ تعالیٰ عنہ خوفِ خدا، عشقِ رسالت علیہ التحیۃ والثنا کا نام ہے۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ و رسول کے چاہنے والوں سے محبت و دوستی رکھی جائے۔ اور دشمنوں سے عداوت و دشمنی رکھی جائے۔ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاندین و مخالفین سے حد درجہ نفرت و بے زاری رکھی جائے۔ کسی طرح ان کے ساتھ مداہنت اور نرم پالیسی نہ اختیار کی جائے۔ قرآن کریم میں اللہ عز وجل فرماتا ہے۔
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
”تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی۔“ (مجادلہ، ۲۲)
حدیث شریف میں ہے: لَا تُؤَاكِلُوهُمْ وَلَا تُشَارِبُوهُمْ وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ أو كما قال صلی اللہ علیہ وسلم (عقیلی و ابن حبان) کہ دشمنان اسلام کے ساتھ نہ کھاؤ، نہ پیو، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھو، اور بیمار پڑیں تو ان کی عیادت کو نہ جاؤ اور ایک حدیث میں ہے وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ فَاكْفَهِرُّوا وُجُوهَكُمْ کہ انہیں دیکھو تو چہرہ موڑ لو۔ گویا مومن کے لیے ایمانی تقاضا ہے کہ اپنے مسلک و مذہب پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اعدائے دین سے نفرت و دشمنی رکھے، اپنے دین میں کھرا اور پختہ رہے۔
الحمد للہ! حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ تصلب فی الدین کے شہوار تھے گویا ایمان و عقیدے کی پختگی مذہب و مسلک میں کھرا پن ان کی گھٹی میں پلا دیا گیا تھا۔ سفر و حضر ہو یا رزم و بزم کہیں بھی آپ تصلب سے ایک بال برابر نہ ہٹتے آپ کے کمال تصلب کا عالم یہ تھا کہ جس نے بھی تھوڑا سا وقت آپ کی بارگاہ میں گزارنے کا موقع پایا وہ بھی تصلب فی الدین کا کچھ حصہ پا گیا۔ درسگاہ ہو یا کرسیِ خطابت، مجمع ہو یا محفلِ خواص، ہر جگہ اور ہر موقع پر دینی تصلب کی اہمیت اجاگر فرماتے۔ اور لوگوں کو اسلامی دشمنوں مثلاً وہابیوں، دیوبندیوں، قادیانیوں، ہندوؤں، نیچریوں، صلح کلیوں، دہریوں، ندویوں، غیر مقلدوں کے فاسد عقائد و افکار سے روشناس کراتے اور ان سے بچنے کی ہدایت کرتے۔ تحریراً و تقریراً ہر طرح ان کی تردید کرتے۔ اس پر ان کی ساری کتابیں مثلاً سوانحِ اعلیٰ حضرت، فیض الادب، تعمیرِ ادب، فتاوے بین ثبوت ہیں۔
جناب قاضی اطیع الحق عثمانی کے نام ایک خط میں فرماتے ہیں۔
”میں مسلکِ رضویت کا حامی ہوں اور اسی مقدس مسلک پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مسلکِ رضویت جہاں ایک طرف سنیت میں تصلب اور فرقہائے باطلہ وہابی، دیوبندی، رافضی، ندوی، مودودی وغیرہ سے دور و نفور رہنے کی سخت تاکید کرتا ہے۔ وہیں دوسری طرف عمل و کردار کو صاف و ستھرا رکھنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔“ (مکتوبات، ص: ۱۵۳)
اگر اپنے متوسلین یا کسی بھی مسلمان کے بارے میں جان لیتے کہ اس کا ایمان و عقیدہ کچھ متزلزل ہو گیا ہے یا وہ صلح کلیت کی طرف مائل ہو رہا ہے تو آپ سخت بے چین ہو جاتے۔ اور اس کی اصلاح اور اس کی درستگی کی کوشش میں لگ جاتے۔ اول فرصت میں خط لکھتے۔ چنانچہ آپ کے ایک شاگرد غلام محمد قادری کا واقعہ ہے کہ جب وہ دینی تعلیم سے دور ہونے لگے تو حضرت بدرالعلماء سخت مضطرب ہوئے اور ایک طویل نہایت پر تاثیر رقعہ ارسال کیا۔ اس کا اہم حصہ یہ ہے۔
”میں نہ تو آپ کی والدہ کا استاذ ہوں نہ آپ کے والد کا۔ ہاں دنیا میں بھگوت پور سے موضع پھپھلی تک آپ کا استاذ کہلاتا ہوں۔ لیکن چوں کہ مذہب میں آپ عملاً پلپلے ہو گئے ہیں۔ اس لیے آپ کے پلپلا پن سے بہت صدمہ ہے۔ اور جب مجھے صدمہ ہے تو سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدمہ رہے گا، کیوں کہ سرکارِ اعلیٰ حضرت آپ کے پیروں میں ہوتے ہیں، اور جب سرکارِ اعلیٰ حضرت کو صدمہ ہو گا تو ضرور سرکارِ غوث اعظم محی الدین جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ناراضگی ہو گی۔ بھلا کیا آپ کسی بھی قیمت پر یہ گوارا کر سکتے ہیں کہ قطب الاقطاب شیخ الملائکہ والجن والناس حضور پر نور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر محی الدین جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے ناراض رہیں۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ سرکارِ غوث پاک ہی کے مقدس نام کی نسبت سے آپ کا نام قادری پڑا۔“ (مکتوباتِ بدرِ ملت، ص: ۶۰)
یوں ہی اگر معلوم ہو جاتا کہ کسی سنی صحیح العقیدہ کا رشتہ نکاح کسی بد مذہب وہابی، دیوبندی لڑکی سے ہونے جا رہا ہے تو اول فرصت میں خط لکھتے۔ اور مسئلہ شرعی سے آگاہ فرماتے۔ اور سختی سے اس رشتہ کو ختم کرنے کی تاکید فرماتے۔ چنانچہ رنگرہ ضلع گونڈہ کے علاؤالدین نام کے ایک صاحب کی شادی ایک وہابی کے یہاں ہونے والی تھی۔ آپ نے ان کے یہاں ان کی ماں کے پاس خط لکھا۔
”مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ کے لڑکے علاؤالدین کا رشتہ نکاح کسی وہابی مسلک کی لڑکی سے قائم کیا جا رہا ہے۔ سنی مذہب کے علما کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہابی مذہب والے کے یہاں رشتہ قائم کرنا حرام سخت حرام ہے۔ آپ براؤں شریف کی خانقاہ سے مرید ہیں علاؤالدین کے والد جناب کمال الدین صاحب حضرت خلیفہ صاحب سے مرید ہیں، سنی پیر سے مرید ہوتے ہوئے سرکارِ مدینہ رسولِ پاک علیہ الصلاۃ والسلام کے دشمن وہابیوں سے نکاح کا رشتہ قائم کرنا یہ کیسے گوارا ہو سکتا ہے۔ ماں ہونے کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے لڑکے علاؤ الدین کو اپنا فیصلہ سنا دیں کہ بیٹا! وہابی کے یہاں رشتہ نہیں کرنا ہے۔ اگر تو نہیں مانے گا تو میں تجھ سے الگ ہو جاؤں گی۔ میں تجھے چھوڑ دوں گی مگر پیارے مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا کا دامن نہیں چھوڑوں گی۔ ضد میں آکر اپنا ایمان برباد نہیں کرنا ہے۔“ (مکتوبات، ۲۱۳)
اپنے پاس پڑھنے والے کسی بچے کے بارے میں معلوم ہو جاتا کہ اس کے والد کسی دیوبندی سے مرید یا معتقد ہیں یا وہابیوں کو مسلمان مانتے ہیں تو اس بچے کو اپنی کفالت میں لے لیتے اور اس کو گھر اس وقت تک جانے سے روک دیتے جب تک اس کا باپ دیوبندیوں سے برأت و بیزاری کر کے اپنے سنی مسلمان ہونے کا اعلان نہ کر دیتا۔ جب سنی ہو جاتا تو اس کو اس کے گھر بھیج دیتے۔ ورنہ اس درمیان صرف ماں سے ملنے کی شرط پر گھر جانے دیتے۔ بشرطیکہ کہ ماں سنیّہ مسلمان ہوتی۔ جیسا کہ آپ کے ایک شاگرد بنام طیب علی تھے۔ ان کے باپ کا یہی حال تھا۔ آپ نے انھیں گھر جانے سے مکمل روک دیا۔ ڈھائی سال کے بعد ماں کے اصرار اور اضطراب پر بھیجا۔ کچھ زمانے کے بعد جناب طیب علی صاحب کے والد سنی ہو گئے تو خوش ہو کر حضرت نے ان کے نام درج ذیل الفاظ میں مکتوب روانہ فرمایا۔
”جناب غلام نبی صاحب! سلام مسنون میں آپ کے لڑکے طیب علی کا استاذ ہوں۔ آپ کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ آپ کسی دیوبندی پیر کے مرید ہیں۔ اور دیوبندی مذہب کو ٹھیک مانتے ہیں اس لیے میں نے طیب علی کو روک دیا تھا کہ اپنے گھر نہ جائیں۔ اور اپنا دین و ایمان بچائیں۔ چنانچہ ڈھائی سال تک طیب علی اپنے مکان نہیں گئے۔ امسال چیت کے مہینے میں طیب علی کی والدہ کا خط آیا جس میں بے چینی کا بہت اظہار تھا۔ تو میں نے طیب علی کو ماں سے ملاقات کرنے کے لیے بھیج دیا جب طیب علی مکان پہنچے اس وقت آپ مکان پر موجود نہیں تھے۔ صرف ماں اور بھائی سے ملاقات ہوئی۔ کچھ دن بعد طیب پھر مدرسہ چلے آئے امسال عید کے مہینے میں مولوی حسن بڑھیا آئے اور بتایا کہ طیب علی کے والد نے سنی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس کو سمجھا اور دیوبندیت سے متنفر ہوئے۔ یہ بات سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ خدائے پاک نے کرم فرمایا اور دیوبندیت کے پرفریب جال سے نکال کر سنیت کی دولت سے آپ کو نوازا۔ اب آپ کا فرض ہے کہ لوگوں کے سامنے دیوبندی پیر کی بیعت توڑنے کا اعلان کر دیجیے تاکہ دوسرے لوگوں کی بھی آنکھ کھل جائے۔“ (مکتوبات بدر ملت، ص: ۲۱۲)
روشن طور پر معلوم ہوا کہ حضرت بدرالعلماء کھرے پختہ مردِ مومن، متصلب سنی تھے۔ اور ارشاداتِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا و مفتیِ اعظم علامہ شاہ محمد مصطفیٰ رضا علیہما الرحمہ پر مضبوطی کے ساتھ کاربند تھے۔ ساتھ ہی ہر سنی مسلمان کے بڑے ہمدرد و بہی خواہ تھے۔ ہر ایک کو اعدائے دین سے دور رکھنے اور ان کے مکر و فریب سے بچانے کی فکر و تدبیر میں رہتے۔ بعض لوگ حضرت کے اس تصلب فی الدین کو تشدد سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب کہ یہ ان کی نافہمی یا بد اہنت پسندی ہے یہ درحقیقت عشقِ رسالت سے نا آشنا ہیں۔ اور آیتِ قرآنیہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ اور لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ الآیۃ اور اس مفہوم کی احادیث سے قطعاً نابلد ہیں یا اس کے مفہوم سے چشم پوشی کر کے نفسانی جال کے شکار ہیں۔ کیوں کہ یہی طریقہ مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا، مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضا، صدر الشریعہ حضرت علامہ شاہ محمد امجد علی اعظمی، شیرِ بیشہ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں، مجاہدِ ملت علامہ حبیب الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا تھا جن سے سنی مسلمانوں کو اسلام کا صحیح طریقہ وراستہ ملا۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ماخوذ از: ماہنامہ: فتاوی بدر العلماء ص ۳۷ تا ۵۰
