Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقسیمِ وراثت کی اہمیت (قسط:اول)

تقسیمِ وراثت کی اہمیت (قسط: اول)
عنوان: تقسیمِ وراثت کی اہمیت (قسط: اول)
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی
پیش کش: نازیہ احمدی ضیائی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِيْنَ، وَعَلٰى آلِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِيْنَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ.

أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

حضور پر نور، شافعِ یومِ نشور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ادب و احترام سے درود و سلام کا نذرانہ پیش کیجیے!

اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَحَبِيْبِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِيْنَ.

اسلام کا نظامِ وراثت

برادرانِ اسلام! دینِ اسلام کی آمد سے قبل زمانہِ جاہلیت میں، وراثت کی تقسیم میں عجیب و غریب قسم کی افراط و تفریط پائی جاتی تھی، میدانِ جنگ میں شجاعت و بہادری دکھانے، اور اپنے دشمنوں کو شکست سے دوچار کرنے والے کو، وراثت کا سب سے زیادہ حقدار خیال کیا جاتا تھا، بیٹوں کو حصہ دینے میں بھی انصاف و برابری کا فقدان تھا، کسی بیٹے کو تھوڑا اور کسی کو زیادہ حصہ دیا جاتا، بعض اقوام میں عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت میں سے حصہ دینے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، یہود کے نزدیک ساری جائیداد کا حقدار سب سے بڑا بیٹا قرار پاتا، اور باقی ورثاء کو محروم رکھا جاتا تھا، ظلم و ستم، قتل و غارت گری اور حق تلفی سے آلودہ فضا میں، اسلامی تعلیمات کے پھول کھلنے شروع ہوئے، تو ساری کی ساری فضا معطر و خوشبودار ہو کر رہ گئی۔

دینِ اسلام نے وراثت کی تقسیم کے حوالے سے ایک متوازن اور منصفانہ نظام عطا فرمایا ہے، ماں باپ، بیٹا بیٹی، اور بیوی وغیرہ میں سے ہر ایک کو وراثت کا، نہ صرف شرعی حقدار قرار دیا، بلکہ ان کے حصوں کا بھی تعین فرمایا؛ تاکہ کسی کے ساتھ بھی کسی قسم کی کوئی زیادتی یا حق تلفی نہ ہو۔

عزیزانِ گرامی قدر! دینِ اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے سب سے پہلے عورتوں کے اس حق کے بارے میں بھی آواز بلند کی، اور انہیں وراثت کا حقدار ٹھہرایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا ۝

مردوں کے لیے جو ماں باپ اور قرابت والے چھوڑ گئے اس میں سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لیے جو ماں باپ اور قرابت والے چھوڑ گئے اس میں سے حصہ ہے، تھوڑا ہو یا بہت، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصہ ہے۔ [سورۃ النساء، آیت: 7]

صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رضی اللہ عنہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "زمانہِ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو ورثہ (وراثت میں سے حصہ) نہ دیتے تھے، اس آیت میں اس رسم کو باطل کیا گیا"۔

حقوقِ نسواں کا تحفظ اور احساسِ محرومی کا خاتمہ

رفیقانِ ملتِ اسلامیہ! اسلام نے عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا، اور ان کے احساسِ محرومی اور حق تلفی کا خاتمہ کرتے ہوئے، بیٹیوں کو بھی وراثت کا حقدار بنایا، اور ہر بیٹے کے حصے کا تعین بیٹی کو ملنے والے حصے کے ذریعے فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يُوْصِيْكُمُ اللهُ فِيْ أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ.

"اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔" یعنی بیٹی کا حصہ بیٹے کی بہ نسبت آدھا ہے۔ [سورۃ النساء، آیت: 11]

آج عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف حصہ ملنے پر بعض لوگ دینِ اسلام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر یہ حکمت سمجھ میں آتی ہے، کہ عورتوں کی بہ نسبت مردوں پر چونکہ مالی بوجھ زیادہ ہوتا ہے، پورے گھر کی کفالت کے وہی ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت، پرورش، شادی بیاہ، اور علاج معالجہ کا اہتمام بھی عام طور پر مرد ہی کرتے ہیں، لہٰذا خالقِ کائنات عزوجل کی طرف سے ان کا حصہ زیادہ مقرر فرمایا گیا، عورتوں پر چونکہ ایسی کوئی خاص ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے مردوں کے مقابلے میں ان کا نصف حصہ مقرر فرمایا گیا، غالباً اسی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

لَا تَدْرُوْنَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيْضَةً مِّنَ اللهِ ۗ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا.

"تم کیا جانو کہ ان میں سے کون تمہارے زیادہ کام آئے گا! یہ حصہ اللہ کی طرف سے باندھا (یعنی مقرر کیا) ہوا ہے، یقیناً اللہ علم والا حکمت والا ہے۔" [سورۃ النساء، آیت: 11]

میرے محترم بھائیو! اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادہ ہے، وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا نفع بخش ہے، اور کل مشکل وقت میں کون ہمارے کتنا کام آئے گا، اس بات کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے وراثت کے حصوں کی تعین کا معاملہ ہم پر نہیں چھوڑا، اور سب کے حصے خود ہی مقرر فرما دیے۔

علمِ میراث سیکھنے کی تاکید

حضراتِ ذی وقار! وراثت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ضروری ہے، کہ ہمیں "علمِ میراث" سے آگاہی ہو، یہ علم شرعاً مطلوب ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس علم کو حاصل کرنے کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے، اسے نصفِ علم قرار دیا گیا ہے، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوْهَا؛ فَإِنَّهٗ نِصْفُ الْعِلْمِ وَهُوَ يُنْسٰى، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُّنْزَعُ مِنْ أُمَّتِيْ.

اے ابو ہریرہ! فرائض (یعنی میراث کا علم) سب سے پہلے بھلایا جائے گا، اور سب سے پہلے میری امت سے جو چیز اٹھا لی جائے گی وہ علمِ میراث ہے۔ [سنن ابن ماجہ]

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْاٰنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ؛ فَإِنِّيْ مَقْبُوْضٌ.

"میراث اور قرآنِ مجید کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو! کیونکہ میں (ظاہری حیات سے) وصال پانے والا ہوں۔" [جامع الترمذی]

علمِ میراث کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے، حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ، وَاللَّحْنَ وَالسُّنَنَ، كَمَا تَعَلَّمُوْنَ الْقُرْاٰنَ.

"وراثت، لغت اور سنن (یعنی مسائلِ شرعیہ) کا علم اسی طرح حاصل کرو، جس طرح تم قرآن مجید سیکھتے ہو۔" [سنن الدارمی]

اسی طرح حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

تَعَلَّمُوا الْقُرْاٰنَ وَالْفَرَائِضَ؛ فَإِنَّهٗ يُوْشِكُ أَنْ يَّفْتَقِرَ الرَّجُلُ إِلٰى عِلْمٍ كَانَ يَعْلَمُهٗ، أَوْ يَبْقٰى (فِيْ) قَوْمٍ لَّا يَعْلَمُوْنَ.

"قرآنِ پاک اور وراثت کا علم حاصل کرو؛ کیونکہ عنقریب لوگوں کو اس علم کی ضرورت پیش آئے گی جو وہ پہلے سے جانتے تھے، یا جاننے والا وہ شخص ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جنہیں یہ علم حاصل نہیں۔" [سنن الدارمی]

حضراتِ گرامی! آج کل بہت سے لوگ نماز، روزہ اور دیگر اسلامی احکام کی پابندی تو کرتے ہیں، لیکن انہیں علمِ میراث کا ایک بھی مسئلہ معلوم نہیں ہوتا، انہیں دنیا بھر کی سیاست اور کاروباری اتار چڑھاؤ کی خبر تو ہوتی ہے، لیکن وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم نہیں ہوتا، اسلامی علوم سے اتنی دوری انتہا درجے کی غفلت ہے، خدارا اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیے! اور سوشل میڈیا وغیرہ پر غیر ضروری سرگرمیوں میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے، ضروری دینی علوم حاصل کیجیے!

مالِ وراثت میں سے کسی کا حصہ ہڑپ کرنے کی سزا

عزیزانِ گرامی قدر! بعض لوگ مختلف حیلے بہانوں سے یتیموں، خواتین اور بیٹیوں کو مالِ وراثت میں سے ان کا شرعی حصہ نہیں دیتے، یہ بہت بڑا گناہ اور قانونِ خداوندی سے بغاوت کے مترادف ہے، بحیثیت مسلمان ہمیں یہ ہرگز زیب نہیں دیتا، کہ ہم شرعی حدود سے تجاوز کریں، اپنی بہو بیٹی یا کسی یتیم اور کمزور کا مالِ وراثت ناحق طور پر دبا لیں، قرآن و حدیث میں ایسا کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں،

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

وَمَنْ يَّعْصِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ ۝

"جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے، اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا، جس میں ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے ذلت و رسوائی کا عذاب ہے۔" [سورۃ النساء، آیت: 14]

صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "کل حدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے؛ اس لیے کہ مومن کیسا بھی گنہگار ہو، ایمان کی حد سے تو نہیں گزرے گا۔"

حضراتِ گرامی قدر! مالِ وراثت میں سے کسی کا حق دبا لینا، فعلِ حرام اور زمانہِ جاہلیت کا طریقہ ہے، اللہ رب العالمین ایسا کرنے والوں کو روزِ محشر اور جہنم کے عذاب سے خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَتَأْكُلُوْنَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ۝ وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ۝ كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ۝ وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ۝ وَجِيْءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَّتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ۝ يَقُوْلُ يَا لَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْ ۝ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗ أَحَدٌ ۝

"میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو! اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو! ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کر دی جائے گی، اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار در قطار، اور اس دن جہنم لائی جائے گی، اس دن آدمی سوچے گا، اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں؟! کہے گا کہ ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی آگے کوئی نیکی بھیجی ہوتی! تو اس دن کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا۔" [سورۃ الفجر، آیت: 19-25]

عزیزانِ محترم! مالِ وراثت ہو یا کوئی اور جائیداد، کسی کا مال ناحق دبا لینے والے کے لیے، احادیثِ مبارکہ میں بھی بہت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، جیسا کہ حضرت سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِّنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهٗ يُطَوَّقُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِيْنَ.

"جس نے بالشت برابر بھی (کسی کی) زمین ناحق لی، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔" [صحیح البخاری و مسلم]

کسی یتیم کا مال ناحق کھانے والے کے بارے میں، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَرْبَعَةٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ أَنْ لَّا يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُذِيْقَهُمْ نَعِيْمَهَا:

  1. مُدْمِنُ الْخَمْرِ،
  2. وَآكِلُ الرِّبَا،
  3. وَآكِلُ مَالِ الْيَتِيْمِ بِغَيْرِ حَقٍّ،
  4. وَالْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ.

4 چار قسم کے لوگ ہیں، جنہیں جنت میں داخل نہ کرنا، اور اس کی نعمتوں سے محروم رکھنا اللہ تعالیٰ پر حق ہے:

  1. شراب کا عادی،
  2. سود کھانے والا،
  3. ناحق یتیم کا مال کھانے والا،
  4. والدین کا نافرمان،

لہٰذا ہر وارث چاہے وہ مرد ہو یا عورت، یتیم بچہ ہو یا بوڑھا، بالغ ہو یا نابالغ، طاقتور ہو یا کمزور، مالِ وراثت میں ہر ایک کا جو شرعی حصہ بنتا ہے، وہ بصد عزت و احترام اس کے سپرد کریں، ہاں اگر کوئی وارث اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد، بلا جبر و اکراہ (یعنی بغیر کسی زور و زبردستی کے) اپنی رضا، رغبت اور خوشی سے کسی دوسرے شخص کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے، ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!