Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام مہدی کون ہیں؟ (قسط: دوم)

مضمون: امام مہدی کون ہیں؟ (قسط دوم)
عنوان: مضمون: امام مہدی کون ہیں؟ (قسط دوم)
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

امام مہدی کا زمانہ خیر و برکت کا زمانہ ہوگا

امام مہدی کا زمانہ خیر و برکت سے بھرپور زمانہ ہوگا، سیدنا ابوسعید خدری سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَخْرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ يَسْقِيهِ اللّٰهُ الْغَيْثَ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا“ [46]

”میری اُمت کے آخر میں مہدی کا ظہور ہوگا، اللہ تعالیٰ اُسے بارانِ رحمت سے خوب نوازے گا، زمین اپنی پیداوار بھرپور اُگائے گی، وہ (لوگوں کو) مال عطا کریں گے، مویشیوں کی کثرت ہوگی، اُمت عظیم ہو جائے گی، وہ (اپنے دورِ خلافت میں) سات یا آٹھ سال زندہ رہیں گے“۔

امام مہدی کے دورِ خلافت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا

امام مہدی کے دورِ خلافت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ سیدنا ابوسعید خدری سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَنْزِلُ بِأُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ بَلَاءٌ شَدِيدٌ مِنْ سُلْطَانِهِمْ لَمْ يُسْمَعْ بَلَاءٌ أَشَدُّ مِنْهُ، حَتَّى تَضِيقَ عَنْهُمُ الْأَرْضُ الرَّحْبَةُ وَحَتَّى تُمْلَأَ الْأَرْضُ جَوْرًا وَظُلْمًا، لَا يَجِدُ الْمُؤْمِنُ مَلْجَأً يَلْتَجِئُ إِلَيْهِ مِنَ الظَّلَمِ، فَيَبْعَثُ اللّٰهُ رَجُلًا مِنْ عِتْرَتِي، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ لَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ بَذْرِهَا شَيْئًا إِلَّا أَخْرَجَتْهُ، وَلَا السَّمَاءُ مِنْ قَطْرِهَا شَيْئًا إِلَّا صَبَّهُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا، يَعِيشُ فِيهَا سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِي أَوْ تِسْعَ، تَتَمَنَّى الْأَحْيَاءُ الْأَمْوَاتَ مِمَّا صَنَعَ اللّٰهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ خَيْرِهِ“ [47]

”آخری زمانے میں میری امت پر اتنی شدید بلائیں نازل ہوں گی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی ہوں گی! یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو جائے گی اور ظلم و ستم سے بھر جائے گی، مؤمن ایسا کوئی ٹھکانہ نہیں پائے گا جہاں وہ ظلم کی فریاد لے کر جا سکے! اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک شخص (مہدی) بھیجے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری چکی تھی! زمین و آسمان میں رہنے والے اس (مہدی) سے راضی ہوں گے، زمین اپنے اندر پڑنے والا ہر دانہ اگائے گی اور اللہ تعالیٰ آسمان میں موجود ہر قطرے کو موسلا دھار بارش کی صورت میں برسائے گا، وہ (یعنی ان کا دورِ خلافت) سات، آٹھ یا نو سال رہے گا اور زندہ لوگ اللہ کے اس فضل و کرم کے سبب جو (مہدی کے ذریعے) اہلِ زمین پر ہوگا، مرنے والوں کے لیے تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی خیر و برکت کے اس زمانے کو دیکھتے“۔

امام مہدی کے دورِ خلافت میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا

سیدنا امام مہدی کے دورِ خلافت میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ سیدنا ابوسعید خدری سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین ظلم اور سرکشی سے بھر نہ جائے“ پھر فرمایا:

”ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي - أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي - مَنْ يَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا“ [48]

”میری اولاد (یا میرے اہلِ بیت) میں سے ایک شخص (امام مہدی) کا ظہور ہوگا، جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جس طرح پہلے وہ ظلم و سرکشی سے بھری تھی“۔

اہلِ مشرق کا امام مہدی کی خلافت و امارت کو تسلیم کرنا

اہلِ مشرق امام مہدی کی خلافت و امارت کو تسلیم کر کے ان کا ساتھ دیں گے، سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِي يَعْنِي سُلْطَانَهُ“ [49]

”مشرق کی جانب سے (ایسے) لوگ نکلیں گے جو مہدی کی خلافت کے آگے سر تسلیم خم کریں گے“۔

امام مہدی کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا

سیدنا امام مہدی کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا۔ سیدنا ثوبان سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ، كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ، ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيُقَاتِلُونَكُمْ قِتَالًا لَمْ يُقَاتِلْهُ قَوْمٌ“

پھر کچھ بیان فرمایا اور کہا:

”إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ“ [50]

”تمہارے (بیت اللہ کے) خزانے [51] کے حصول کی خاطر تین لوگ جنگ کریں گے، تینوں خلیفہ (بادشاہِ وقت) کے بیٹے ہوں گے لیکن یہ خزانہ ان میں سے کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ پھر مشرق سے کالے جھنڈے ظاہر ہوں گے، وہ تم سے ایسے جنگ کریں گے کہ کسی قوم نے ایسی جنگ نہیں کی ہوگی! جب تم انہیں دیکھو تو ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینا، اگرچہ تمہیں برف پر گھسٹتے ہوئے ان کے پاس جانا پڑے؛ کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے“۔

علامہ محمد بن عبدالرسول حسینی برزنجی (ت 1103ھ / 1691ء) فرماتے ہیں کہ ”امام مہدی کے خُراسان میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہاں سے آپ کی نصرت ہوگی؛ کیونکہ آپ تو مکہ مکرمہ میں ہوں گے“۔ [52]

بیت المقدس کی فتح میں اہل مشرق کی مدد

اہلِ مشرق بیت المقدس فتح کرنے میں امام مہدی کی مدد کریں گے۔ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ، فَلَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ“ [53]

”خُراسان سے سیاہ جھنڈے برآمد ہوں گے، انہیں کوئی طاقت پھیر نہیں سکے گی، یہاں تک کہ وہ جھنڈے ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کر دیے جائیں گے“۔

امام مہدی کے ذریعہ تابوتِ سکینہ ”بحیرہ طبریہ“ سے ظاہر ہوگا

آج یہود جس تابوتِ سکینہ کی تلاش میں بیت المقدس میں جگہ جگہ کھدائی کر رہے ہیں لیکن ان کی تمام تر کوششیں ناکام اور رائیگاں جا رہی ہیں اور آئندہ بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا؛ کیونکہ تابوتِ سکینہ کو بھی بحیرۂ طبریہ (Sea of Galilee) سے امام مہدی کے ذریعے ہی ظاہر ہونا ہے۔ اس بارے میں حضرت سلیمان بن عیسیٰ نے فرمایا:

”بَلَغَنِي أَنَّهُ عَلَى يَدَيِ الْمَهْدِيِّ يَظْهَرُ تَابُوتُ السَّكِينَةِ مِنْ بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ، حَتَّى يُحْمَلَ، فَيُوضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيْهِ الْيَهُودُ، أَسْلَمَتْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ ثُمَّ يَمُوتُ الْمَهْدِيُّ“ [54]

”مجھ تک یہ بات پہنچی کہ ”بحیرۂ طبریہ“ سے امام مہدی کے ذریعے تابوتِ سکینہ ظاہر ہوگا، یہاں تک کہ بیت المقدس میں اسے آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا، جب یہود اس تابوت کو دیکھیں گے تو ان میں سے چند لوگوں کے سوا سب اسلام قبول کر لیں گے، پھر امام مہدی وفات پا جائیں گے“۔

بحیرہ طبریہ کا محل وقوع

واضح رہے کہ ”بحیرہ طبریہ“ فلسطین (Palestine) کے شمال مشرق میں اُردن (Jordan) کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس علاقے میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس کی لمبائی 21 کلومیٹر اور چوڑائی 13 کلومیٹر ہے۔ ”بحیرہ طبریہ“ کو بیشتر پانی دریائے اُردن (Jordan River) سے حاصل ہوتا ہے، حدیثِ پاک میں دریائے اُردن کے لیے ”النَّهَر“ [55] اور شروحِ حدیث میں ”نہرِ اُردن“ [56] کا لفظ آیا ہے۔ یہ دریا شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور ”بحیرہ مردار“ (Dead Sea) میں گرتا ہے۔

بحیرہ طبریہ کا خشک ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے

قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک، اس جھیل کا خشک ہونا بھی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دجال نے سیدنا تمیم داری اور اُن کے ساتھیوں سے ”بحیرہ طبریہ“ کے بارے میں پوچھا کہ اس میں ابھی پانی ہے یا نہیں؟ حضرت تمیم داری اور اُن کے ساتھیوں نے جواباً فرمایا: ”هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ“ ”اس میں ابھی بہت پانی ہے“ اس پر دجال نے کہا کہ عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا۔ [57]

امام مہدی کے دورِ خلافت کی مدت

سیدنا امام مہدی کا دورِ خلافت سات سے نو سال پر مشتمل ہوگا، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ، إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٌ، وَإِلَّا فَتِسْعٌ، تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيهِ نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا، يُرْسِلُ اللّٰهُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ بِشَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ وَالْمَالُ كُدُوسٌ يَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ! أَعْطِنِي فَيَقُولُ: خُذْهُ“ [58]

”میری امت میں مہدی ہوگا (ان کی مدتِ خلافت) اگر کم ہوئی، تو سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ میری اُمت ان کے زمانے میں اس قدر خوشحال ہوگی کہ اتنی خوشحالی اُسے کبھی نہیں ملی ہوگی (خیر و برکت کا یہ عالم ہوگا کہ) آسمان سے (حسب ضرورت) موسلا دھار بارش ہوگی، اور زمین اپنی پیداوار بھرپور اُگائے گی، ایک شخص کھڑا ہو کر کچھ مانگے گا، تو وہ (امام مہدی) کہیں گے کہ (حسبِ خواہش خزانے میں جا کر) خود لے لو“۔

امام مہدی شرک کے شہر فتح کریں گے

امام مہدی شرک کے شہر فتح کریں گے۔ سیدنا ابو امامہ باہلی سے روایت ہے، رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ، وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ“ [59]

”وہ (مہدی) زمین سے خزانے نکالے گا، اور شرک کے شہروں (ہندوستان وغیرہ) کو فتح کرے گا“۔

غزوہ ہند میں لشکرِ مہدی کی فتح

”غزوۂ ہند“ بھی امام مہدی کے دورِ خلافت میں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس غزوہ میں امام مہدی کے لشکر کو فتح و نصرت عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ نے فرمایا:

”لَيَغْزُوَنَّ الْهِنْدَ لَكُمْ جَيْشٌ، يَفْتَحُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِهِمْ مُغَلَّلِينَ بِالسَّلَاسِلِ، يَغْفِرُ اللّٰهُ ذُنُوبَهُمْ فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ فَيَجِدُونَ ابْنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ“ [60]

”تم میں سے ایک لشکر ضرور ہندوستان پر حملہ کرے گا، اللہ ان کو فتح عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ اُن مشرکین کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ تعالیٰ ان (لشکر والوں) کے گناہ معاف فرما دے گا، پھر جب وہ لوٹیں گے تو حضرت عیسیٰ بن مریم کو ملکِ شام میں پائیں گے“۔

امام مہدی گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے

سیدنا امام مہدی گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے، اسلام کو غلبہ دلائیں گے اور اسلامی تعلیمات نافذ کریں گے، سیدنا علی ہلالی سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (امام حسن و حسین سے متعلق) سیدہ فاطمہ زہرا سے فرمایا:

”يَا فَاطِمَةُ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ! إِنَّ مِنْهُمَا لَمَهْدِيَّ هٰذِهِ الْأُمَّةِ إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرَجًا وَمَرَجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرٌ يَرْحَمُ الصَّغِيرَ وَلَا صَغِيرٌ يُوَقِّرُ الْكَبِيرَ، فَيَبْعَثُ اللّٰهُ عِنْدَ ذٰلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَحْ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا يَهْدِمُهَا هَدْمًا، يَقُومُ بِالدِّينِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ“ [61]

”اے فاطمہ قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! یقیناً ان دونوں (حسن و حسین کی اولاد) میں سے اس امت کا مہدی پیدا ہوگا، جب دنیا فتنہ و فساد کا شکار ہو جائے گی اور فتنوں کا خوب ظہور ہوگا، راستے کٹ جائیں گے (یعنی غیر محفوظ ہوں گے) اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے، کوئی بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا، اور کوئی چھوٹا بڑے کا احترام نہیں کرے گا۔ اس وقت اللہ رب العزت ان دونوں (حسن و حسین کی اولاد) میں سے ایک شخص کو بھیجے گا، جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کرے گا، بند دلوں کو کھولے گا، اس اُمت کے آخری زمانے میں دین کو ایسے قائم کرے گا، جیسے میں نے اس امت کے ابتدائی زمانے میں قائم کیا ہے“۔

جنگِ عظیم، خروجِ دجال اور امام مہدی

”جنگِ عظیم“ (World War)، فتحِ قسطنطینیہ (استنبول) اور خروجِ دجال کے واقعات بھی امام مہدی کے دورِ خلافت میں پیش آئیں گے، جنگِ عظیم دجال کے خروج سے پہلے ہوگی، اس وقت قسطنطینیہ جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ، فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ“ [62]

”جنگِ عظیم، فتحِ قسطنطینیہ اور خروجِ دجال، یہ سب سات ماہ کے اندر اندر ہو جائے گا“۔

خروجِ دجال سے متعلق بعض جھوٹے دعوے

آج کل یہود و نصاریٰ میں سے بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ”دجال کا خروج ہو چکا ہے اور وہ اس کذاب سے ملاقات بھی کر چکے ہیں“ یاد رہے کہ یہ سب دعوے فی الحال جھوٹے اور بلا ثبوت ہیں؛ کیونکہ ہمارے نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے خروجِ دجال سے پہلے بعض ایسی نشانیاں بتائی ہیں، کہ جب تک وہ ظاہر نہ ہو جائیں دجال کا خروج نہیں ہوگا۔ سیدنا جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت نافع بن عتبہ نے فرمایا کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

  1. تم لوگ جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں فتح دے گا،
  2. پھر فارس (بلادِ ما وراء النہر [63]) والوں سے جہاد کرو گے، رب تعالیٰ اس میں بھی تمہیں فتح دے گا،
  3. پھر رُوم [64] سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ ان پر بھی فتح عطا فرمائے گا،
  4. پھر دجال سے جہاد کرو گے تو اللہ رب العالمین اس پر بھی تمہیں فتح یاب کرے گا۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت نافع نے فرمایا: ”اے جابر! اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ دجال کا خروج اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک رُوم صحیح نہ ہو جائے“۔ [64] گزشتہ سطور میں حدیثِ پاک سے وضاحت گزر چکی، کہ قسطنطینیہ جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ [65] ان شاء اللہ!

امام مہدی مسلمانوں کے امیر و امام ہیں

دجال ساری دنیا کا چکر لگانے کے بعد جب ملکِ شام پہنچے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے خاتمے کے لیے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے دمشق کے شرقی مینارہ پر نازل فرمائے گا۔ اس وقت نمازِ فجر کا وقت ہوگا، جماعت کے لیے اقامت ہو چکی ہوگی، امام المسلمین امام مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھیں گے اور آپ کے ادب میں پیچھے ہٹتے ہوئے کہیں گے:

”تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللّٰهِ! فَيَقُولُ: لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ“ [66]

”اے روح اللہ امامت کے لیے آگے تشریف لائیے! اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ تمہارا امام ہی آگے بڑھے جو نماز پڑھائے“۔

حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت میں الفاظِ حدیث یوں ہیں:

”إِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ، فَرَجَعَ ذٰلِكَ الْإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى؛ لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ، فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ“ [67]

”مسلمانوں کا امام ایک نیک شخص ہوگا (یعنی امام مہدی) وہ انہیں نمازِ فجر پڑھانے کو آگے بڑھ چکے ہوں گے، اسی دوران اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُن کے پاس تشریف لائیں گے، وہ امام اُلٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے ہٹیں گے؛ تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں، اس پر حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ مبارک امام مہدی کے کندھوں پر رکھ کر فرمائیں گے، کہ آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے؛ کہ یہ جماعت آپ کے لیے قائم کی گئی ہے! تب امام مہدی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں گے“۔

ایک اور مقام پر سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللّٰهِ هٰذِهِ الْأُمَّةَ“ [68]

”میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور قیامت تک حق پر قائم اور ثابت قدم رہے گا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے، مسلمانوں کے امیر (امام مہدی [69]) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کریں گے کہ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ نہیں، تم میں سے بعض دیگر بعض پر امیر ہیں، اس فضیلت و بزرگی کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمائی ہے“۔

نیز سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ“ [70]

”تم لوگوں کا اس وقت (خوشی سے) کیا حال ہوگا؟ جب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا“ یعنی مہدی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقامِ نزول اور محدثین کے اقوال

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کس مقام پر ہوگا؟ اس بارے میں محدثینِ کرام کے اقوال مختلف ہیں، اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

  1. مفسرِ قرآن ابن کثیر (ت 774ھ / 1373ء) ”البدایۃ والنہایۃ“ میں لکھتے ہیں کہ ”سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید مشرقی مینارہ کے پاس نزول فرمائیں گے“۔ [71] ابن کثیر نے ”البدایۃ والنہایۃ“ میں مزید یہ بھی لکھا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول: بعض روایات کے مطابق اُردن میں ہوگا، اور بعض روایات کے مطابق مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی (Military Barrack) میں ہوگا“۔ [72]
  2. امام ابن حجر مکی ”الفتاویٰ الحدیثیۃ“ میں فرماتے ہیں کہ ”صحیح مسلم کی حدیثِ پاک کے مطابق زیادہ مشہور بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نزول فرمائیں گے“۔ [73]
  3. ملا علی قاری (ت 1014ھ / 1606ء) فرماتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے جامع مسجد دمشق کے (مشرقی) مینار پر نازل ہوں گے، پھر بیت المقدس تشریف لائیں گے۔ [74] مزید فرماتے ہیں کہ ”سنن ابن ماجہ کی روایت [75] کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بیت المقدس میں ہوگا اور میرے نزدیک یہی زیادہ راجح ہے“۔ [76]
  4. علامہ عبدالرؤوف مناوی (ت 1031ھ / 1622ء) فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے سفید مشرقی منارہ پر نمازِ فجر کے وقت ہوگا“۔ [77]
  5. صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں کہ ”حضرت مسیح آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شرقی منارہ پر نزول فرمائیں گے“۔ [78]
  6. صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی نزولِ مکانِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر شریعتِ محمدیہ کے حاکم اور امامِ عادل اور مجددِ ملت ہو کر نزول فرمائیں گے“۔ [79]

دجال کا خاتمہ

نزول کے بعد جیسے ہی دجال کی نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پڑے گی وہ پگھلنے لگے گا، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ“ [80]

”دجال اس طرح پگھلے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے“۔

دجال اپنے آپ کو بچانے کے لیے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے دُور بھاگنے کی کوشش کرے گا، حضرت عیسیٰ اس کا تعاقب فرمائیں گے، یہاں تک کہ بیت المقدس سے 50 کلومیٹر اور تل ابیب (Tel Aviv) سے صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ”لد“ (Lod) نام کی ایک بستی کے دروازے پر پہنچ کر اس پر قابو پائیں گے اور وہیں نیزے کے وار سے اُسے ہلاک کر دیں گے اور اس کام میں حضرت امام مہدی بھی اُن کے مددگار ہوں گے۔ [81]

اس بارے میں حضرت نوّاس بن سمعان کلابی سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ“ [82]

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گے، یہاں تک کہ اسے بابِ ”لد“ میں پائیں گے تو وہیں اسے قتل کر دیں گے“۔

امام مہدی پر اس اُمت کا اختتام

امام مہدی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امت کا آغاز فرمایا لیکن اسے اختتام امام مہدی پر فرمائے گا۔ سیدنا علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مہدی ہم (آلِ محمد) میں سے ہوں گے یا کسی اور سے؟ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”بَلْ مِنَّا بِنَا يَخْتِمُ اللّٰهُ كَمَا بِنَا فَتَحَ، وَبِنَا يُسْتَنْقَذُونَ مِنَ الشِّرْكِ، وَبِنَا يُؤَلِّفُ اللّٰهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةٍ بَيِّنَةٍ، كَمَا بِنَا أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةِ الشِّرْكِ“ [83]

”نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہی ہوں گے، اللہ تعالیٰ اُن پر دین اس طرح ختم فرمائے گا جس طرح ہم سے آغاز فرمایا، اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو (فتنہ و) شرک سے بچایا جائے گا اور اللہ ہمارے ذریعے ہی عداوت و دشمنی کے بعد اُن کے دلوں میں محبت و الفت پیدا فرمائے گا، جس طرح ہمارے ہی ذریعے اُن کے دلوں میں الفت پیدا کی ہے شرک کی عداوت کے بعد“۔

ظہورِ امام مہدی کی چند علامات

کتبِ حدیث میں ظہورِ امام مہدی کی متعدد علامات مذکور ہیں، ان میں سے بعض حسبِ ذیل ہیں:

نفسِ زکیہ کی شہادت اور امام مہدی کا ظہور

ظہورِ امام مہدی کی ایک علامت خاندانِ اہلِ بیت کے ایک فرد ”نفسِ زکیہ“ کی شہادت بھی ہے، جنہیں آپ کے باقاعدہ ظہور سے چند روز قبل شہید کیا جائے گا۔ حضرت مجاہد کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں، سرورِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”أَنَّ الْمَهْدِيَّ لَا يَخْرُجُ حَتَّى تُقْتَلَ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ، فَإِذَا قُتِلَتِ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ غَضِبَ عَلَيْهِمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، فَأَتَى النَّاسَ الْمَهْدِيُّ، فَزَفُّوهُ كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا“ [84]

”مہدی کا ظہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ”نفسِ زکیہ“ [85] کو شہید نہ کر دیا جائے، جب نفسِ زکیہ کو شہید کیا جائے گا [86] تب ان قاتلوں پر زمین و آسمان سے غضب برپا ہوگا! پھر لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اور اسے حکومت اس طرح سونپیں گے جیسے ایک دلہن کو شبِ عروسی میں اس کے شوہر کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔

سورج کے ساتھ کسی نشانی کا طلوع ہونا

سورج کے ساتھ کسی نشانی کا طلوع بھی ظہورِ امام مہدی کی علامات میں سے ایک ہے۔ حضرت علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرسلاً روایت ہے، فرماتے ہیں کہ:

”لَا يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ حَتَّى تَطْلُعَ مَعَ الشَّمْسِ آيَةٌ“ [87]

”امام مہدی اس وقت ظاہر نہیں ہوں گے، جب تک سورج کے ساتھ ایک اور نشانی طلوع نہ ہو جائے“۔

  • [جاری...]
  • [حوالہ: ماہنامہ سنی دنیا، جنوری 2026، ص: 13 تا 19]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!