| عنوان: | دینی تعلیم کی اہمیت و افادیت |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد مبارک حسین ازہری |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
آج اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے، آج کا دور کمپیوٹر ٹیکنالوجی، ایٹمی، سائنسی اور صنعتی ترقی کا ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ عصرِ حاضر میں جدید علوم تو بہت ضروری ہیں لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے کیونکہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لیے دینی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اس تعلیم کی وجہ سے ہماری زندگی میں خدا پرستی، عبادت، محبت، اخلاص، تقویٰ، ایثار، خدمتِ خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے صالح اور نیک معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور یہ بھلائیوں اور نیکیوں کا سر چشمہ و مرکز ہے اور تمام مفاسد اور برائیوں کو ختم کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اور اقتصادی و سیاسی، فکری و فلاحی، تہذیبی و تربیتی، سماجی و قومی، ملی اور اصلاحی وغیرہ مسائل کا حل اس میں پوشیدہ ہے اور یہ رشد و ہدایت، عزت و افتخار کا منبع ہے۔
اس لیے مذہبِ اسلام نے اپنے سفر کا آغاز ہی علمِ دین سے کیا اور اس نے علمِ دین کو جو اہمیت دی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں ہے، اس نے علم و جہل کے درمیان خطِ فاصل کھینچ کر صاف لفظوں میں بتایا:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
”اے میرے محبوب آپ فرما دیجیے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟“
نہیں ہو سکتے، اور یہ بات بھی ہمیشہ کے لیے ذہن نشین رکھیں کہ علم کا تعلق خواہ دنیا سے ہو یا دین سے، مذہبِ اسلام نے دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ مذہبِ اسلام بنیادی طور پر کسی بھی ایسے علم کا مخالف نہیں ہے جو انسانیت کے لیے نافع اور صالح ہو اور نہ وہ کسی زبان کی مخالفت کرتا ہے، اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی زبان سیکھنے کی ہدایت دی بلکہ ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو چھ زبانوں پر عبور حاصل تھا، ان کے علاوہ بھی کچھ صحابہ کرام کو عربی کے علاوہ مختلف زبانوں پر قدرت حاصل تھی، اگر دوسری قوموں کی زبانیں اور ان کے علوم و فنون ناپاک اور ناقابلِ التفات ہوتے تو نہ صحابہ کرام کو اس کی ہدایت دی جاتی اور نہ وہ اس کی طرف رخ کرتے۔ لیکن بحیثیتِ مسلمان ایک شخص کا اولین فریضہ ہے کہ وہ سب سے پہلے قرآن و حدیث اور دینی علوم و فنون حاصل کرے تاکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل ہو اور مقصدِ حیات کی طرف اس کا سفر آسانی سے طے ہو سکے۔ اسلام جس علم کو واجب اور ضروری قرار دیتا ہے اور جس علم کی بنیادی اور اولین اہمیت ہے وہ علمِ دین اور علمِ آخرت ہے۔ علمِ دین سے محروم انسان چاہے دنیا کے کیسے ہی اہم اور عظیم الشان علوم و فنون کا فاضل اور ماہر ہو وہ دین اور شریعت کی نظر میں جاہل ہی مانا جائے گا، کیونکہ علمِ دین ہی وہ علم ہے جو انسان کو اس کے خالق اور رب کا عرفان عطا کرتا ہے اور ذہن و فکر کو صحیح عقائد اور اعلیٰ خیالات کی جلا بخشتا ہے۔
اعمال و افعال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا صحیح رخ دے کر اس کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرتا ہے جو دائمی نجات اور ابدی عزت و افتخار کا باعث ہے، اسی لیے قرآن و حدیث میں جہاں کہیں بھی علم کا لفظ آیا ہے مفسرین کی وضاحت کے مطابق تمام جگہوں پر علمِ دین مراد ہے، جس کا تعلق قرآن و حدیث اور فقہ کے جاننے اور سیکھنے سے ہے۔ علمِ دین کا سیکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسلام نے جتنے بھی احکام دیے ہیں، ان پر علم کے بغیر عمل نہیں ہو سکتا۔ آپ نماز کی مثال لے لیجیے کہ اس میں ابتدا سے سلام پھیرنے تک کچھ سورتیں اور کچھ دعائیں اور کچھ ذکر و اذکار زبان سے ادا کیے جاتے ہیں اور پھر تھوڑی سی خطا نماز کو فاسد کر دیتی ہے، حالانکہ نماز جو پہلی اور اہم ترین عبادت ہے، اس کو بھی ادا کرنے کے لیے علم کی سخت ضرورت ہے اور اس کے بغیر وہ ادا نہ ہوگی اور تمام عبادتوں کا یہی حال ہے، اسی لیے اسلام کا پہلا سبق ہی علم سے شروع کیا گیا ہے، پہلی وحی سورۂ علق میں سب سے پہلا لفظ اقْرَأْ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پڑھیے، اور اپنی امت کو پڑھنے کی تلقین کیجیے۔ یہ پڑھنا اس لیے ضروری ہے کہ عقائد، ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نظافت و طہارت، حلال و حرام وغیرہ پر مشتمل جو اسلامی شریعت کا مکمل اصول دیا گیا ہے ان پر ایمان لانا اور عمل کرنا پڑھے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعے پر ارشاد فرمایا:
”ولادت کے بعد سے موت تک علم حاصل کرتے رہو اس کے لیے نہ کوئی عمر کی حد ہے اور نہ ہی کوئی جگہ متعین ہے اور جس شہر اور جس علاقے سے بھی علم کی تحصیل ممکن ہو مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ پہلی فرصت میں علم حاصل کرے۔“ اور علمِ دین کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر تمام محدثین نے کتاب العلم کے نام سے مستقل باب باندھا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شہرہ آفاق تالیف صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے متصلاً بعد کتاب العلم کا باب قائم کیا اس لیے کہ علم نہیں تو نماز نہیں، علم نہیں تو شریعت نہیں اور علم نہیں تو خدا کی معرفت اور ایمان کی نظافت اور چاشنی نہیں۔ قرآن کریم نے اہلِ علم کا اسی لیے بڑا مقام بیان کیا ہے:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
”اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے جنھیں علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا۔“ (المجادلہ: ۱۱)
اہلِ علم مومنین میں شامل ہیں پھر بھی قرآن نے خصوصیت سے ان کا تذکرہ کیا ہے اس لیے کہ دین و شریعت کا علم رکھنے والوں میں خدا ترسی اور اخلاص، تقویٰ، للہیت زیادہ پائی جاتی ہے اس لیے اجر و ثواب اور رفعِ درجات میں دیگر مومنین کے مقابلے میں ان کا مقام بلند ہے۔ دیگر مختلف آیات میں بھی علم کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اور مختلف انداز سے مسلمانوں کو ابھارا گیا ہے کہ وہ علمِ دین سیکھیں اور اس پر عمل کریں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف ارشادات کے ذریعے علمِ دین میں منہمک اور مشغول رہنے والے افراد کا بلند مقام و مرتبہ بیان فرمایا چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ
ترجمہ: ”جو بندہ علم کی طلب و تحصیل میں گھر سے نکلا وہ اس وقت تک اللہ کے راستے میں ہے جب تک واپس نہ آئے۔“ (ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، حدیث نمبر ۲۵۷۱)
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین میں رہنے والی ساری مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی اس بندے کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی اور دین کی تعلیم دیتا ہے۔“ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر ۲۶۰۹)
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جس بندے کو اس حالت میں موت آ جائے کہ وہ اس نیت سے علمِ دین کی طلب و تحصیل میں لگا ہو کہ اس کے ذریعے اسلام کو زندہ رکھے تو جنت میں اس کے اور پیغمبروں کے درمیان بس ایک درجے کا فرق ہو گا۔ (مسند دارمی)
علمائے دین کو انبیائے کرام کا وارث اور ان کے حصولِ علم کو جنت کی طرف مسافت طے کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے، ان کے ساتھ دنیا کی تمام مخلوقات کی دعائیں شاملِ حال رہتی ہیں اور اس طرح کے دیگر ایسے فضائل بیان کیے گئے ہیں، جن سے ان کی غیر معمولی اہمیت اور ان کے بلند مقام کا اندازہ ہوتا ہے اور جس میں دوسرا کوئی ان کا ہمسر نہیں ہے۔ اور ان فضائل کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان سب سے پہلے دینی تعلیم حاصل کرے اور اسی میں اپنی کامیابی تصور کرے، اور اگر مکمل علم حاصل نہ کر سکے تو کم از کم اتنا علم تو ضرور حاصل کر لے جس سے اسلامی طرزِ زندگی اپنا سکے اور حلال و حرام کی تمیز ہو سکے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ وحدانیت اور رسالت کے بنیادی امور کیا ہیں؟ ایک مسلمان کے لیے کن چیزوں کا جاننا ضروری قرار دیا گیا ہے؟ کیونکہ ان چیزوں کو جانے بغیر شریعت پر عمل ناممکن ہے اور اہلِ ایمان کے نزدیک شریعت پر عمل ہی مقصدِ حیات اور ساری سرگرمیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ دینی تعلیم جس طرح خود حاصل کرنا ضروری ہے، اسی طرح خود اپنی اولاد کو بھی اس سے آراستہ کرنا والدین کی ذمہ داری ہے، قیامت کے دن ماں باپ سے اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا:
مَاذَا عَلَّمْتَهُ وَمَاذَا أَدَّبْتَهُ؟
یعنی آپ نے بچوں کو کیا تعلیم دی اور کیا ادب سکھایا؟
اگر اولاد کو عصری تعلیم سے آراستہ کیا گیا لیکن دینی تعلیم نہیں دی گئی تو والدین گناہ گار ہوں گے اور اولاد کی معصیت میں وہ برابر کے شریک ہوں گے اس لیے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا، علمِ دین سکھانا اور اسلامی آداب سے مزین کرنا بہت ضروری بلکہ فرض ہے اور جس نے اپنی اولاد کو ادب سکھایا، اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا، اس نے گویا ان کو ایسی لازوال نعمت عطا کی جس کے بہتر نتائج دنیا و آخرت دونوں جگہ حاصل ہوں گے یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعے پر ارشاد فرمایا:
مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ
ترجمہ: ”والدین کا بہترین عطیہ اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت ہے۔“ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی ادب الولد، حدیث نمبر ۱۸۷۵)
تربیت بہتر عطیہ اس لیے ہے کہ اولاد کو بہت ساری جائیداد اور بلڈنگیں بنا کر دی جائیں لیکن ان میں اگر اپنی خوبی نہیں ہے یا ان میں احساس و شعور نہیں ہے تو دولت اور ملکیت رفتہ رفتہ کم ہوتی جائے گی اور ایک دن وہ خود محتاج بن جائیں گے اور بہتر تعلیم و تربیت کے نتیجے میں ہر جگہ ان کی عزت ہوگی اور وہ ہمیشہ باقی رہے گی اس کے گم یا چوری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے وہ شخص جس نے دین و اخلاق سے اپنی اولاد کو محروم رکھا، اس نے بڑے خیر سے انھیں محروم کر دیا کیونکہ مفکرین کا کہنا ہے کسی بھی مذہب اور فکر و عقیدہ کے لیے دینی تعلیم کی حیثیت شہ رگ کی ہے، اگر کسی قوم کو اس کے دین سے محروم کرنا ہو تو اس کے دینی تصورات سے اس قوم کا علمی رشتہ کاٹ دیجیے یہ چیز خود بخود اس قوم کو اپنے مذہب سے بیگانہ بنا دے گی تو اس کے لیے نہ پنجہ آزمائی اور نہ ہی معرکہ آرائی کی ضرورت پڑے گی، تو یہ کسی قوم کو فکری اور مذہبی اعتبار سے قتل کرنے کا ایسا کامیاب اور بے ضرر نسخہ ہے کہ بقول شاعر:
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے دو درجے ہیں:
- پہلا درجہ یہ ہے کہ اتنی تعلیم ہر شخص کے لیے ضروری ہے جس سے دین کے بارے میں بنیادی واقفیت حاصل ہو جائے اور توحید، ایمان، عقیدہ، کفر و شرک کی حقیقت، نبوت و وحی کا اسلامی تصور، انبیاء اور بالخصوص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ضروری حالات، پاکی و ناپاکی، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور قربانی کے بنیادی احکام، نکاح و طلاق، خرید و فروخت، ملازمت اور نوکری، کسبِ معاش کے حلال و حرام طریقے، شریعت کی حرام کی ہوئی چیزوں وغیرہ سے متعلق ضروری مسائل، صحابہ اور صحابیات کی مبارک زندگیوں سے متعلق بنیادی معلومات، والدین، اولاد، میاں بیوی اور اعزہ و اقربا سے متعلق حقوق، شب و روز کیے جانے والے افعال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں، مسنون و ماثور اوراد و اذکار وغیرہ وہ امور ہیں جن کے بارے میں جاننا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے، مسلم مرد ہوں یا عورت، جوان ہوں یا بوڑھے، انھیں دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ اور مزین کرنا بہت ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے جگہ جگہ دینی مکاتب اور بالغوں کے لیے دینی تعلیم کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے اور دینی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کوئی محلہ اور کوئی مسجد ایسے مکاتب اور مراکز سے خالی نہ ہو، بلکہ بچوں اور بچیوں کے اسکول کے اوقات کے لحاظ سے ان کے صباحی اور مسائی دونوں طرح کے مکاتب ہوں اور کوشش یہ بھی کی جائے کہ محلہ کا کوئی بچہ اور دین سے ناواقف کوئی نوجوان ایسا نہ رہے جو اس نظام سے فائدہ نہ اٹھائے۔
- دوسرا درجہ یہ ہے کہ ضرورت ایسی درسگاہوں کی ہے جہاں قرآن و حدیث، کلام و عقیدہ اور سیرتِ نبوی سے متعلق اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہو اور اسلام کو اصل ماخذ سے سمجھنے اور سمجھانے کی غرض سے عربی زبان اور ادب میں بصیرت و ادراک کا سامان فراہم کیا جاتا ہو۔
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دینی تعلیم کا حصول ہمارے لیے ضروری ہے جو کہ ہماری بنیادی ضرورت ہے، لہٰذا بچوں کو دین کی اہم اور ضروری تعلیم دینے کے بعد عصری تعلیم بھی دلائیں اور دوبارہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام عصری تعلیم سے ہر گز نہیں روکتا ہے، آپ بلاشبہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس افسر بنائیں لیکن اس سے پہلے انھیں دینی تعلیم و تربیت سے مزین کرکے بہترین عالمِ دین اور صحیح العقیدہ مسلمان بنائیں اگر اس میں کوتاہی کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں حساب دینا ہوگا، اور یہ بات مکمل طور سے سمجھ لیں کہ عصرِ حاضر میں علم، دنیا میں قوموں کی ترقی اور ملکوں کی خوشحالی کا ایک سچا حوالہ ہے اور جو قوم بھی علم کا دامن تھامے ہوئی ہے، آج پوری دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ اسلام علم اور فروغِ علم کے سب سے بڑے علمبردار اور داعی کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی پہلی اینٹ ہی لفظ اقْرَأْ پر رکھی گئی ہے، اور اسلام کے نقطہ نظر سے علم ایک کلی ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان ہو جائے، اپنے معاشرے اور کائنات کی پہچان ہو جائے، اپنے پیدا کرنے والے کی پہچان ہو جائے۔ اس علم کے دو ذرائع ہیں ایک تو اللہ عزوجل کی وحی جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعے انسانوں کے پاس آئی اور دوسرا انسان کا اپنا مشاہدہ و تجربہ جس کے لیے اللہ عزوجل نے اسے عقل و حواس کی نعمت عطا فرمائی ہے، اور یہ دونوں ذرائع بنیادی طور پر الگ الگ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے لیے معاون و مددگار ہیں۔
اللہ عزوجل نے علم کو اتھاہ سمندر بنایا ہے، جو شخص جتنا بھی علم حاصل کرے وہ کم ہے اور اسلام نے علم کو دین و دنیا کے دو الگ الگ خانوں میں تقسیم بھی نہیں کیا ہے۔ اور جو لوگ دینی علوم سے نا آشنا ہیں اور اپنی چند روزہ زندگی کو اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف گزار رہے ہیں ان کی مثال اس آپریٹر کی ہے جو مشین کو اپنی مرضی کے مطابق چلائے، مشین کے مالک اور کتابچہ کے مطابق نہ چلائے، تو ظاہر ہے کہ اس آپریٹر کے ساتھ مالک کوئی بھی سلوک کر سکتا ہے بلکہ اسے اس کی ذمہ داری سے محروم بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی تعلیم و تربیت کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم ضرور دلوائیں تاکہ ہم اور ہماری نسل دنیا و آخرت میں کامیابی، فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکے۔
