| عنوان: | حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | محشر فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں فتویٰ نویسی
فتویٰ نویسی جو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں انجام دیا کرتا تھا وہ اکثر اور عموماً املا کی صورت میں ہوتی تھی کہ اعلیٰ حضرت کے سامنے سوال پڑھ کر سنا دیا جاتا تھا پھر جواب ارشاد فرماتے اور لکھ لیا جاتا، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ سوالوں سے متعدد نمبر، ایک ساتھ سنا دیے جاتے اور سب کے جواب سلسلہ وار اور نمبردار املا فرمایا کرتے تھے جن سے اعلیٰ حضرت کے حافظہ اور ذہانت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت قبلہ نے متعدد بار یہ فرمایا کہ دو شخص جب میرے پاس کچھ لکھنے بیٹھتے ہیں تو مجھے غور و خوض اور سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل میرے قلب پر مضمون کا القا ہوتا ہے۔ ایک حضرت مولانا وصی احمد صاحب سورتی دوسرے مولانا امجد علی اعظمی۔
منصبِ افتا و قضا کی تفویض:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے بعض علمائے اعلام کی موجودگی میں مولانا امجد علی و مولانا مصطفیٰ رضا خان صاحبان کو منصبِ افتا پر فائز فرمایا یہ کہتے ہوئے کہ شریعت کی جانب سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اختیار مجھے عطا فرمایا ہے اس کی بنا پر میں ان دونوں کو اس کام پر مامور کرتا ہوں نہ صرف مفتی بلکہ شرع کی جانب سے ان دونوں کو قاضی مقرر کرتا ہوں کہ ان کے فیصلے کی وہی حیثیت ہوگی جو ایک قاضیِ اسلام کی ہوتی ہے اور اپنے سامنے تخت پر بٹھا کر اس کام کے لیے قلم دوات وغیرہ سپرد کیا۔
[یہاں اصل عبارت کی اسکیننگ میں کچھ خلل آ گیا ہے جس سے عبارت آگے پیچھے ہو گئی ہے۔ ہدایت کے مطابق موجودہ الفاظ کو من و عن درست ترتیب کے ساتھ نیچے پیراگرافس میں شامل کیا گیا ہے تاکہ بات کا تسلسل اور مفہوم واضح ہو سکے]
چنانچہ اعلیٰ حضرت قبلہ کے زمانہِ حیات میں حسبِ ضرورت افتا کا کام بھی انجام دیتے رہے اور کچھ دشواری پیش آتی اس میں اعلیٰ حضرت سے مدد لیتے تھے۔ اس سلسلے میں یہ ذکر بھی نامناسب نہ ہوگا کہ اعلیٰ حضرت کی وفات سے چند روز بعد خواب میں دیکھا تقریباً دس بجے دن کا وقت ہوگا، زنانہ مکان سے کچھ کاغذ ہاتھ میں لیے ہوئے برآمد ہوئے اور جس پلنگ پر باہر تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔ اس کے قریب حسبِ دستور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ایک کرسی پر میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے پلنگ کے پاس تشریف لا کر وہ تمام کاغذات میرے حوالے کیے۔ اس وقت میری زبان سے نکلا کہ آپ کا تو انتقال ہو چکا ہے، آپ کیسے تشریف لائے؟ فرمایا ہم اس طرح آیا کریں گے۔ خواب سے بیدار ہونے کے بعد میں نے یہ تصور کیا کہ اعلیٰ حضرت قبلہ کا مقصد یہ ہے جس طرح میرے زمانہِ حیات میں تم یہ سب کام انجام دیا کرتے تھے اب بھی یہ چیزیں تمہارے سپرد کی جاتی ہیں، لوگوں کی تحریروں کا جواب دینا تمہارے ہی متعلق کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد بلا تکلف اس خدمتِ افتا وغیرہ کو انجام دیتا رہا اور سمجھ لیا کہ جس طرح اعلیٰ حضرت نے اپنی حیات میں اس کام کو تفویض فرمایا تھا اب بھی اس کام کو مجھ سے لینا چاہتے ہیں اور جو کچھ دشواریاں ہوں گی اس میں وہ خود مددگار ہوں گے چنانچہ کبھی باوجود اپنی کم بضاعتی کے اس معاملہ میں دشواری پیش نہیں آئی فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔
اعلیٰ حضرت کے وصال سے ایک روز قبل میرے پاس ایک استفتا آیا جس میں مجھے کچھ دشواری پیش آئی اور صحیح بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہوتا اور جو بات ذہن میں آتی مخدوش نظر آتی۔ میں حاضرِ آستانہ ہوا پردہ کرا کر حضور کی خدمت میں پہنچا۔ مزاج پرسی وغیرہ کے بعد استفتا کا مضمون عرض کیا اور یہ بھی کہ اس کا جواب کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب ارشاد فرمایا پھر میں نے عرض کیا یہ حکم کسی کتاب میں اور کس مقام پر ہے؟ فرمایا بحر الرائق میں فلاں مقام پر۔ اس کے بعد فرمایا آج میری ایک لڑکی میرے سامنے آئی بہت دیر تک میں سوچتا رہا اور اس کا نام مجھ کو یاد نہیں آتا تھا۔ اب میرے دماغ کی یہ حالت ہے مگر الحمد للہ کہ دینی مسائل و عقائد اور بدمذہبوں کے جملہ مضامین میرے پیشِ نظر ہیں، ان باتوں کے لیے مجھے غور و خوض کی حاجت نہیں۔ کسی بد مذہب کو کس بارے میں عاجز کیا جا سکتا ہے؟ اس کی دکھتی رگ کون سی ہے اب بھی بلا تأمل بتا سکتا ہوں۔ میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو خدمت آپ کو سپرد فرمائی ہے وہ آپ اخیر وقت تک برابر انجام دیتے رہیں گے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا اعلیٰ حضرت نے امامت کی خدمت بھی سپرد فرمائی تھی۔ فجر، ظہر، عصر تین نمازیں خود اعلیٰ حضرت پڑھایا کرتے تھے اور مغرب و عشا یہ دونوں وقت عموماً دوسرے سے پڑھواتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کی مسجد میں ان کے حکم سے ان کی موجودگی میں صرف چار شخص نماز پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا حامد رضا خان صاحب خلفِ اکبر، مولوی محمد رضا خان صاحب برادرِ خورد، حافظ یقین الدین صاحب یہ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ بھی تھے اور قرآنِ پاک رمضان میں بھی سنایا کرتے تھے اور مولانا امجد علی اعظمی، نمازوں کی ادائیگی میں اتنی احتیاطیں کی جاتیں جن کو کہیں نہیں دیکھا۔
وصال کے وقت سے کئی سال پیشتر سے جمعہ کی امامت بھی اعلیٰ حضرت نے میرے ذمہ سپرد فرما دی تھی۔ خصوصاً مقدمہ بدایوں کے زمانہ میں کہ اسی دوران میں ایک سال سے زیادہ تک صرف میں ہی نماز پڑھایا کرتا تھا۔
ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت نے منظرِ اسلام کے جملہ مدرسین و طلبا کے متعلق حکم صادر فرمایا کہ سب لوگ وضو مولانا امجد علی صاحب کے سامنے کریں اور پھر ان کی نگرانی میں دو رکعت نماز بالجہر ادا کریں اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کے وضو اور نماز اچھی طرح دیکھی جائیں۔ ان کو موقع دیا جائے کہ کچھ دنوں مشق کرنے کے بعد پھر اپنے وضو اور نمازوں کا امتحان دیں۔ جس کے متعلق کہہ دیں کہ اس کا وضو اور نماز صحیح ہے وہی شخص شہر کی کسی مسجد کی امامت کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔ مدرسین و طلبا نے اس حکم کی پابندی کی اور بفضلہِ تعالیٰ اپنا وضو اور نمازیں لوگوں نے درست کیں۔ ایک مدرس صاحب کو یہ چیز ناپسند آئی اور انہوں نے کسی کے سامنے وضو اور نماز کا امتحان دینا اپنے لیے باعثِ ذلت سمجھا، وہ مدرسہ کی ملازمت سے مستعفی ہو کر اپنے وطن چلے گئے اور ایسے ہی رہ گئے۔ اور جن لوگوں نے اس میں اپنی ذلت محسوس نہ کی وہ بفضلہ تعالیٰ وضو اور نماز کے ادا کرنے میں مسائلِ شرعیہ کی پوری پابندی کرتے ہیں۔
سلاسلِ تصوف کی خلافت:
اٹھارہ ذی الحجہ 1333ھ کو بموقع عرس سراپا قدس حضرت سیدنا آلِ رسول صاحب قدس سرہ العزیز و رضی اللہ عنہ بغیر کسی تحریر و طلب کے اعلیٰ حضرت نے جملہ سلاسلِ قادریہ قدیمہ جدیدہ، چشتیہ نقشبندیہ اور سہروردیہ کا اجازت نامہ عامہ عطا فرمایا اور اپنا خلیفہِ مطلق کیا اور اپنا عمامہ سرِ اقدس سے اتار کر میرے سر پر باندھا اور اپنی زبانِ پاک سے یہ الفاظ ادا فرمائے کہ: ”جملہ وظائف و اذکار و اعمال اور اپنی تمام مرویاتِ حدیث و فقہ و جملہ علوم کی اور اپنی تمام تصانیف کی بلا استثنا میں اجازت نامہ عامہ دیتا ہوں۔“
اعلیٰ حضرت کا یہ ایک کرمِ خاص تھا جو مجھ ایسے ناچیز پر فرمایا اگرچہ میں جانتا تھا اور اب بھی جانتا ہوں کہ میں اس کے قابل نہیں اور اس عہدہِ جلیلہ کی ذمہ داری کے لائق نہیں مگر جب انہوں نے اپنے کرمِ خاص سے اس فقیر کو نوازا اور سرفراز فرمایا تو اس کی ساری ذمہ داری انہی کے سر ہے، میں اب بھی جانتا ہوں کہ اس سلسلے میں جو کچھ کرتا ہوں اور کسی کو بھی سلسلہ میں داخل کرتا ہوں تو میں اسے اعلیٰ حضرت و مشائخ کے حوالے کر دیتا ہوں اور اس کی ساری فلاح و بہبود کی انہیں سے درخواست کرتا ہوں۔ اعلیٰ حضرت کے بہت سے خلفا ہیں جن کو محض میری تحریک پر خلافت عطا فرمائی۔ نہیں، بلکہ بعض وہ بھی ہیں جن کو خلافت دینا نہیں چاہتے تھے مگر میرے کہنے اور اصرار کرنے پر ان کو خلافت دے دی۔
[یہاں سے قرآنِ پاک کے ترجمے والا اصل پیراگراف جس کا تعلق گزشتہ قسط سے تھا، شروع ہو رہا ہے۔]
نظر نہیں آتی پھر ترجمہ لکھنے سے کیا فائدہ؟ کہ ترجمہ عوام کے لیے لکھا جائے گا کتب خانے کی الماری میں رہنے سے عوام کے لیے کیا فائدہ؟ میں نے عرض کیا ان شاء اللہ جو باتیں ضروری ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اسی طرح چھاپا جائے گا جو شریعت کے مخالف نہ ہو اور فرض کیا جائے کہ ہم سے ایسا نہ ہو سکا تو جب ایک چیز موجود ہے ہو سکتا ہے کہ آئندہ کوئی دوسرا شخص اس کے طبع کرانے کا انتظام کرے اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، اگر اس وقت یہ کام نہ ہو سکا تو آئندہ ہم کو اس کے نہ ہونے کا بڑا افسوس کرنا بیکار ہوگا۔ مگر کچھ ایسے ضروری وقتی کام تھے جن کی وجہ سے اس کام کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔
ترجمہ قرآن پاک کا اہتمام:
یہ فرمایا کہ دوسرے لوگوں کے بھی تراجم حاصل کر لیے جائیں تا کہ اس ضمن میں ان کی اغلاط پر تنبیہات بھی کر دی جائیں، یہ بھی ایک ضروری کام اور (دوسروں کے ترجمے والا) قرآنِ پاک ڈاک وغیرہ سے نہ منگایا جائے کہ اس میں بے ادبی ہوتی ہے، بلکہ اس کے لیے جہاں سے دستیاب ہوتے ہوں جا کر ایسے طریقے پر لایا جائے کہ بے ادبی نہ ہو۔ میری عدمِ فرصتی اور کام کی کثرت نے مہینوں تک تراجم کے حاصل کرنے کا موقع نہ دیا خیر کسی نہ کسی طرح انہیں شرائط کے موافق اس زمانے میں جتنے ترجمے شائع ہو چکے تھے سب حاصل کر لیے گئے اور ترجمے کا کام بفضلہِ تعالیٰ شروع ہوا۔
ترجمہ کا طریقہِ کار:
چند روز تک یہ طریقہ رہا کہ آیت پڑھی جاتی اور اعلیٰ حضرت اس کا ترجمہ لکھواتے اس کے بعد حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ، شاہ ولی اللہ، شاہ عبد القادر صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب، ڈپٹی نذیر احمد، مرزا حیرت دہلوی اور مولوی اشرف علی تھانوی و غیرہم کے ترجمے سنائے جاتے، ان تراجم میں جہاں کہیں غلطیاں ہوتیں ان پر تنبیہ فرماتے، چند روز کے بعد یہ محسوس ہوا کہ اس طرح کرنے میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور کام کم ہوتا ہے اور مترجمین کی اغلاط پر تنبیہات تو ایک جداگانہ کام ہے اس ترجمے کے بعد اگر موقع ملا تو اس طرف توجہ کی جائے گی لہٰذا ان تراجم کا سنانا موقوف کیا گیا۔
حضرت سعدی کا ترجمہِ قرآن پاک:
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا ترجمہ فارسی میں اور شاہ عبد القادر صاحب کا اردو میں یہ دو ترجمے سنائے جاتے اور اس کا سلسلہ اخیر تک جاری رہا۔ حضرت سعدی علیہ الرحمہ کا ترجمہ نہایت پاک و صاف سوا اس کے کہ وہ مذہباً شافعی ہیں آیات کا مطلب شافعیہ کچھ اور لیتے ہیں حنفیہ کچھ اور، وہاں تو ان کا ترجمہ ہمارے مذہب کے خلاف ضرور تھا، ورنہ کہیں بھی بظاہر کوئی سقم نظر نہیں آیا۔ شاہ عبد القادر صاحب کا ترجمہ بھی تقریباً صحیح ہے مگر بعض جگہ ان کے ترجمہ میں بھی خرابی نظر آئی۔
کچھ دنوں ترجمہ ہونے کے بعد میں وطن چلا آیا اور یہ کام رک گیا۔ واپسی کے بعد پھر آپ نے اس کام کو شروع کرنا چاہا، مگر کچھ دیگر دینی ضروریات ایسی مانع ہوئیں کہ گرمیاں آئیں اور ختم بھی ہو گئیں اور برسات کا موسم شروع ہو گیا۔ اب ترجمہ کا کام شروع ہوا ایک طرف برسات کی گرمی اور بالکل قریب لالٹین اور ان پر کیڑوں اور پتنگوں کا ہجوم، کبھی ہاتھ پر کبھی آستین کے اندر کبھی پاجامے میں، بہت مرتبہ کاغذ اور قلم میں پتنگے اس طرح مجتمع ہو جاتے تھے کہ لکھنا بہت دشوار ہو جاتا تھا، پھر بھی کئی کئی گھنٹہ اسی حالت میں گزارنا پڑتا تھا اور بحمدہٖ و تعالیٰ اس کام کو انجام دیا جاتا۔
ترجمہِ کلامِ پاک کا طریقہ:
ترجمہ کا املا کرنے اور اس کے تحریر کرنے کی نوعیت یہ ہوتی کہ پہلے میں پوری آیت پڑھتا تھا اگرچہ وہ کتنی ہی بڑی ہوتی، اس کے بعد اعلیٰ حضرت ترجمے کا املا فرماتے، بعض مرتبہ مسلسل دو تین سطر کی عبارت ایک ساتھ بلا توقف بول دیا کرتے تھے، مگر بفضلہِ تعالیٰ اس کے قلم بند کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آتی تھی، نہ کوئی لفظ
[یہاں او سی آر کی غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے مضمون (ترانہ سے متعلق) کی کچھ لائنیں آ گئی ہیں جن کا صدر الشریعہ کے حالات سے کوئی تعلق نہیں، انہیں الگ سے نیچے دیا جا رہا ہے]
جسے بہار کے جانے مانے شاعر ایم آر چشتی نے لکھا ہے۔
میری رفتار پر سورج کی کرن ناز کرے
ایسی رفتار دے مالک کہ جگن ناز کرے
وہ نظر دے کروں قدر ہر ایک مذہب کی
وہ محبت دے مجھے امن و امان ناز کرے
اس ترانہ میں کسی خاص مذہب کی بجائے علم دوستی، حب الوطنی اور ہر مذہب کی قدر کی دعا کی گئی ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری تو نہیں کہ ہر مذہب کے عقائد کو تسلیم کیا جائے۔ قدر کا مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ انسانیت کا معاملہ کرے۔ باقی مذہبی رسوم اور عبادات سب کا ذاتی معاملہ ہے۔ سرکاری اسکول مذہبی اسپرٹ کی تبلیغ کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔
سرکاری اسکول سائنٹفک فکر و تعلیم کی ترویج و اشاعت کے لیے ہیں۔ بسا اوقات یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسکول میں جس مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہوتی ہے اس مذہب کے لوگ اپنے مذہبی طور طریقے رائج کر دیتے ہیں۔ وندے ماترم سے لے کر سرسوتی پوجا اور دیگر پوجا تک کا اہتمام ہوتا ہے۔ اسکول کے دفتر وغیرہ میں جائیں تو سرسوتی اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں یا کبھی کبھی مورتیاں بھی نصب ہوتی ہیں۔ حالانکہ آئین کی رو سے سرکار کے مسلمہ یا ملکی فنڈ سے امداد ملنے والے سرکاری اسکول میں اس طرح کے عمل کا کوئی جواز نہیں۔ اگر مان لیا جائے کہ دوسرے مذہب کے طلبا اس طرح کے رسوم سے مستثنیٰ رہتے پھر بھی یہ ملک کے سیکولر ڈھانچے اور مشمولیتی پالیسی کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو اس سلسلے میں کوئی مؤثر لائحہِ عمل تیار کرنا چاہیے، تا کہ ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں مذہب بیانہ مواد کی بجائے قومیت اور خدمتِ خلق کے ساتھ امن و انسانیت پر مبنی ترانے رائج ہوں اور اس طرح سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور آراضی پر مذہبی شعائر کی تعمیر و تزئین کو روکنے کی کوشش کی جائے۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی اگست 2016ء ص: 40]
