Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
عنوان: وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
تحریر: علامہ رحمت اللہ صدیقی
پیش کش: بنت جمال الدین اشرفی

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

انسان کا مقصدِ تخلیق عبادت ہے، انسان عبادت کے لئے پیدا کیا گیا۔ قرآن حکیم نے اس کی یوں وضاحت کی ہے: ”ہم نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا“۔ رب کائنات کو جب اپنی ربوبیت کا اظہار مقصود ہوا تو اس نے اپنے دستِ قدرت سے حضرت آدم علیہ السلام کو وجود بخشا، حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے رب نے اس باب میں فرشتوں سے مشورہ فرمایا。

قرآن حکیم میں اس کی یوں وضاحت آئی: ”اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، فرشتوں نے جواب دیا، یا الٰہی! کیا ایسے کو (نائب) کرے گا جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزیاں کرے گا اور ہم تیری تسبیح کرتے ہوئے تیری پاکی بولتے ہیں“۔ رب نے فرشتوں کے خدشات کا جواب دیا اور فرمایا: ”مجھے (وہ) معلوم ہے جو تم نہیں جانتے“。

عناصرِ اربعہ آگ، مٹی، ہوا اور پانی سے حضرت آدم کا وجود تیار ہوا۔ جسمِ آدم کی تکمیل کے بعد اس میں روح ڈالی گئی، روح ڈالنے کے بعد رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں، قرآن حکیم میں اس کی یوں تشریح و توضیح آئی ہے:

”اور یاد کریں جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ منکر ہوا، غرور کیا اور کافر ہو گیا“。

یہ سجدہ عبادت تھا، سجدۂ تعظیم تھا، سجدۂ تحیت حضرت آدم کی شریعت میں جائز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا مجموعہ، عالمِ روحانی و جسمانی کا نمونہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصولِ کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے قول کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا، اس کی سند یہ آیت ہے:

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

سجدہ کا حکم تمام فرشتوں کو دیا گیا تھا، ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں، پھر میکائیل، پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین، یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا، ایک قول سے یہ بھی ثابت ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے۔ (کنز الایمان)

فرشتے حضرت آدم کا سجدہ کر کے انعاماتِ الٰہی اور کراماتِ الٰہی سے شرف یاب ہوئے، فرشتوں میں سجدہ کرنے میں جنہوں نے پہل کی انہیں سردارِ ملائکہ کا منصب عطا ہوا اور ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور بڑا تکبر یا بُرا اعتقاد کر لیا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے۔ اس لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ خلافِ حکمت ہے، اس اعتقادِ باطل سے وہ کافر ہو گیا اور اس کی گردن میں ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق ڈال دیا گیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی رفعتِ شان یہ ہے کہ فرشتے ان کو سجدہ کریں، ان کی تعظیم بجا لائیں اور انسان کی رفعتِ شان یہ ہے کہ وہ خدا کو سجدہ کرے، فرشتے حضرت آدم کو سجدہ کر کے انعاماتِ الٰہی سے نوازے گئے اور انسان صرف خدا کو سجدہ کر کے نوازشاتِ الٰہی سے سرفراز ہو سکتا ہے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

مفسرین اور صوفیا فرماتے ہیں کہ آقائے کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج خدائے پاک کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھنے میں تھی، لیکن ایک مومن کو اس وقت معراج حاصل ہوتی ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔ آقائے کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۲۷ رجب المرجب کو سفرِ معراج پر روانہ ہوئے اور زمین و آسمان، عرش و کرسی، جنت و دوزخ اور دوسرے بہت سارے عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ کرنے کے بعد رب کائنات کا اپنے سر کی آنکھوں سے دیدار کیا اور واپس زمین پر تشریف لائے، ایسا آپ کی ظاہری حیات میں صرف ایک بار ہوا لیکن ایک مومن ۲۴ گھنٹے میں پانچ بار اپنے رب کے حضور سجدۂ بندگی پیش کرتا ہے۔ اگر خشیت کے ساتھ سجدہ خشوع و خضوع کی دولت سے مالا مال ہے تو ہر سجدے میں اسے لذتِ معراج اور دولتِ معراج حاصل ہوتی ہے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

سجدہ صرف خدا کے لئے جائز ہے، اگر ایک انسان خدائے پاک کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرتا ہے تو وہ اس کا مجرم بن جاتا ہے، یہ ایک ایسا جرم ہے جو اسے مومن کی صف سے نکال کر مشرک کی صف میں کھڑا کر دے گا، اگر وہ رجوع سے پہلے مر گیا تو ہمیشہ جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔ انسان کا مقصدِ تخلیق عبادت ہے، انسان اپنے رب کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا اور ساری کائنات انسان کے لئے بنائی گئی، انسان اپنے رب کے لئے بنایا گیا، اب اگر انسان اپنے رب کے حضور جھکتا ہے تو وہ اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا کرتا ہے اور اگر اپنے رب کے حضور نہیں جھکتا ہے تو وہ اپنے مقصدِ تخلیق سے انحراف کرتا ہے۔

جھکنے کی صورت میں انعام و اکرام کا مستحق ہوتا ہے اور نہ جھکنے کی صورت میں عتابِ الٰہی کا شکار ہوتا ہے، رب کے حضور جھکنے میں عزت ہے اور نہ جھکنے میں ذلت ہے، جو رب کے حضور جھکتا ہے رب اسے کہیں اور جھکنے نہیں دیتا۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

رب کے حضور جھکنے والوں کے کئی طبقات ہیں، کچھ لوگ کائنات کی ہر چیز سے بے نیاز ہو کر صرف رضائے الٰہی کے لئے اس کی بارگاہِ عظمت نشان میں سرِ نیاز خم کرتے ہیں، کچھ لوگ صرف اس لئے جھکتے ہیں کہ جھکنا فرض ہے اور کچھ لوگ جھکنے والوں کی نقل کرتے ہیں، اگر انسان روحِ عبادت کے ساتھ جھکتا ہے، وہ ہر وقت رحمتِ الٰہی کی آغوش میں ہوتا ہے، رحمتِ الٰہی اسے جھولے جھلاتی ہے اور اس کی خواہشات کی تکمیل کرتی ہے، اس کی زبان میں كُنْ کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، اس کی زبان سے جو بات نکل جاتی ہے، وہ ہو کر رہتی ہے، اگر وہ پتھر کو سونا ہونے کا حکم دیتا ہے تو پتھر فی الفور سونے میں تبدیل ہو جاتا ہے، ہوائیں، فضائیں اور دریا کی روانی سب اس کے زیرِ اثر ہوتی ہیں، بہر حال اصل عبادت ہو یا نقل عبادت! اس کے اثرات ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔

روحِ عبادت جس انسان کے سجدوں میں جلوہ گر ہوتی ہے، اس سے ایسے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جو عقلِ انسانی کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور عام انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ انسان ہے یا انسان کے روپ میں کوئی فرشتہ! تاریخ کے دامن میں اس کی بے شمار نظیریں موجود ہیں۔

سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار کبار اولیاء میں ہوتا ہے، ایک بار آپ دریا کے کنارے آئے، آپ کو دریا عبور کرنا تھا، اس وقت کوئی کشتی نہ تھی، آپ نے پانی پر اپنا مصلیٰ بچھا دیا اور چلنے لگے، قریب میں ایک اور شخص دریا عبور کرنے کی غرض سے کشتی کے انتظار میں کھڑا تھا، اس نے یہ سوچ کر کہ کوئی ملاح کشتی لے جا رہا ہے، حضرت جنید کو آواز دی کہ مجھے بھی ساتھ لے لیں۔ جب قریب پہنچا تو حضرت جنید کو دیکھ کر شرمندہ ہوا، آپ نے اسے تسلی دی کہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، تمہیں دریا عبور کرنے سے مطلب ہے، آپ نے اسے اپنے ہمراہ کر لیا، اس طرح دونوں دریا کے دوسرے کنارے پر اتر گئے۔

حضرت ابراہیم بن ادہم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار بھی کبار اولیاء میں ہوتا ہے، زبردست قوتِ کشف و کرامات کے مالک تھے، آپ نے تختِ شاہی چھوڑ کر فقیری کی قناعت اختیار کی تھی، ایک بار آپ دریا کے کنارے بیٹھ کر اپنی پھٹی ہوئی گدڑی سی رہے تھے، کسی آشنا کی آپ پر نظر پڑ گئی، اس نے طنزیہ انداز میں آپ سے پوچھا کہ اے ابراہیم! تختِ شاہی چھوڑ کر اس در بدری اور محرومی سے تمہیں کیا ملا؟ آپ نے سائل کو جواب دیا کہ کیا تم دیکھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں دکھاؤ، کیا دکھانا چاہتے ہو؟ جس سوئی سے آپ اپنی پھٹی ہوئی گدڑی سی رہے تھے، اسے دریا میں ڈال دیا، تھوڑی دیر کے بعد آپ نے آواز دی کہ اے مچھلیو! میری سوئی لاؤ۔ اب دیکھو دریا پر ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے کی سوئی لے کر کھڑی ہو گئیں، آپ نے مچھلیوں سے فرمایا کہ مجھے سونے کی سوئی کی حاجت نہیں بلکہ مجھے وہی سوئی چاہئے جو میں نے دریا میں ڈالی تھی، فوراً ایک مچھلی وہی سوئی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئی، آپ نے سائل سے فرمایا: بادشاہی، تختِ شاہی میرے قدموں میں تھا تو میری حکومت محدود انسانوں پر تھی، میری حکومت کا ایک دائرہ تھا اور میرا حکم اسی دائرے میں چلتا تھا لیکن جب سے میں نے رضائے الٰہی کے لئے تخت و تاج کو ٹھوکر مار دی ہے تو اللہ کی ہر مخلوق میرے زیرِ فرمان ہے، یہ مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں خلوص کے ساتھ سجدہ ریزی کی برکت ہے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہ بھی حضرت ابراہیم بن ادہم ہیں، ایک بار آپ کے دل میں کعبۃ اللہ کی زیارت کا شوق پیدا ہوا، رختِ سفر باندھا اور چل پڑے، آپ کے سفر کا انداز بڑا انوکھا تھا، قدم قدم پر سجدہ، شکر، قدم قدم پر دعا و عبادت، قدم قدم پر نفل نماز! سوچا جا سکتا ہے کہ آپ کا سفر کتنی صعوبتوں اور مشقتوں کا سفر رہا ہوگا، بلکہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ کتنا ایمان افروز اور روح پرور سفر رہا ہوگا۔ ان ساری صعوبتوں کے بعد جب آپ حرمِ کعبہ میں داخل ہوئے ہیں تو آپ کی حیرتوں کی انتہا نہ رہی، دیکھا کہ جانِ سفر نہیں ہے، حاصلِ سفر نہیں ہے اور مقصود و مشہود نہیں ہے، یعنی کعبۃ اللہ نہیں ہے۔ آنکھوں کو مل رہے ہیں کہ کہیں سمتِ منزل تو نہیں بدل گئی ہے، جسم ہچکولے لے رہا ہے کہ کہیں نیند کا غلبہ طاری تو نہیں ہے، در و دیوار کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں کہ کہیں راستہ تو نہیں بدل گیا ہے، اسی حیرت و استعجاب میں غیب سے آواز آتی ہے کہ اے ابراہیم! سمتِ منزل وہی ہے اور در بھی وہی ہے، محراب و منبر بھی وہی، حرم بھی وہی ہے، فرق بس یہ ہے کہ جانِ سفر نہیں ہے، مقصود و مشہود نہیں ہے، حاصلِ سفر نہیں ہے یعنی کعبۃ اللہ نہیں ہے، سنو وہ ہماری بندی رابعہ کے استقبال کے لئے گیا ہے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہ ساری برکتیں سجدوں کی ہیں، جب روحِ عبادت کے ساتھ سجدہ ہوگا تو انوار و تجلیات کی بارات صحنِ قلب پر اترتی ہوئی نظر آئے گی، رحمتوں کی بارش میں انوار و تجلیات کا نظارہ دکھائی دے گا، فرشتوں کی قطاریں زیارت میں چلی ہوں گی، حوریں، رفعتیں اور سعادتیں قدموں میں جھکتی ہوئی نظر آئیں گی، تاجدارانِ عالم دست بوسی و قدم بوسی کے لئے صف بصف کھڑے ہوں گے۔ آج ہماری زمینیں سسک رہی ہیں، عظمتیں لٹ رہی ہیں، آبادیاں ویرانے میں تبدیل ہو رہی ہیں، دلوں اور دماغوں پر خوف و ہراس کے سائے رینگ رہے ہیں، زمینیں تنگ ہو رہی ہیں اور جینے کے باوجود حق ہم سے چھینے جا رہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہماری پیشانیاں سجدوں کے نور سے خالی ہو چکی ہیں، قانونِ الٰہی پر عمل کا جذبہ سرد پڑ چکا ہے اور اپنی حسین روایتوں سے ہمارا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ ہمارے سامنے قرآن حکیم و سنت و سیرت کی شکل میں جو نور ہے، اس سے بہتر دستور دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے، احادیث مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم و قرآن حکیم کی تفسیر کی صورت میں موجود ہیں، محبوبانِ الٰہی کی سیرت کے نقوش ستاروں کے مثل چمک رہے ہیں، جو دولتیں اور زندگی گزارنے کے سرمائے ہمارے پاس ہیں، وہ دنیا میں کسی قوم کے پاس نہیں ہیں۔ ہم نے دنیا کو طرزِ حکومت سے آشنا کیا ہے، دنیا تاریک تھی، ہم نے قانونِ الٰہی و اخلاقِ نبوی سے اسے روشن کیا ہے، ہم نے دنیا کو جینے اور زندگی گزارنے کا شعور عطا کیا ہے پھر بھی ہمیں حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اس لئے ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا، اپنے شب و روز کا جائزہ لینا ہوگا اور ماضی کی روشنی میں مستقبل کا پروگرام بنانا ہوگا تب جا کر زمینیں ہمارے لئے کشادہ ہوں گی اور ہماری کھوئی طاقت ہمیں واپس ملے گی۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

خوف و خشیت اور خلوصِ نیت کے سجدے میں وہ تاثیر ہوتی ہے کہ کائنات کی ہر شے کو انسان اپنے لئے مسخر دیکھتا ہے اور انہیں اپنی خواہشات کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ مشیت اور اختیار دو الگ الگ چیزیں ہیں، انسان خود مختار مخلوق ہے، بظاہر پراگندہ لباس اور بے سر و سامان نظر آتا ہے لیکن وہ مخلوقِ خدا میں جس کو چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔ اس کی نگاہِ کیمیا بے سر و سامانی اور تنگیِ مال و زر کو اشاروں میں دور کر دیتی ہے، سجدے عرفانِ ذات و عرفانِ کائنات کی ساری راہیں انسان پر کشادہ کر دیتے ہیں پھر انسان اس منزل پر پہنچ جاتا ہے جہاں کعبہ اس کے طواف اور زیارت کا مشتاق ہوتا ہے۔

سارے انقلابِ جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف
کعبہ کرتا ہے طواف درِ والا تیرا

اولیاء کے زمانے میں حضرت رابعہ بصری کا نام سرِ فہرست آتا ہے، ان کے عہد میں مسافرانِ راہِ سلوک ان کی محفل میں کسبِ نور کے لئے حاضر ہوتے تھے، انہوں نے رضائے مولیٰ کے لئے خود کو کائنات کی ہر شے سے الگ کر لیا تھا، کسی نے ان سے کہا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتیں، انہوں نے جواب دیا کہ دو کے حقوق ادا کرنے کی خود کو اہل نہیں پاتی۔ ان کی خدا دوستی کا حال یہ تھا کہ ایک بار اپنے ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پانی لے کر انتہائی جلالی کے عالم میں جا رہی تھیں کہ کسی بزرگ نے انہیں اس حال میں دیکھ کر پوچھا کہ یہ آگ اور پانی لے کر آپ کہاں جا رہی ہیں؟ تو فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ اس پانی سے جہنم کو بجھا دوں اور اس آگ سے جنت کو جلا دوں تا کہ کوئی جہنم کے خوف اور جنت کی خواہش میں عبادت نہ کرے بلکہ اس کی عبادت صرف اور صرف خدا کے لئے ہو۔

حضرت رابعہ بصری کا بہت مشہور واقعہ ہے کہ ان کی ولایت اور خدا دوستی کی شہرت سن کر ملک شام سے کچھ لوگ بصرہ میں ان کی زیارت کے شوق میں حاضر ہوئے، جب وہ لوگ بصرہ شہر میں داخل ہوئے تو اہلِ بصرہ سے حضرت رابعہ کا پتہ پوچھا، چونکہ اہلِ بصرہ حضرت رابعہ کو پاگل اور مجنون سمجھتے تھے، ان کی عرش نشان عظمت کا اہلِ بصرہ کو عرفان نہ تھا۔ بعض اہلِ اللہ خود کو اس حال میں رکھتے ہیں کہ اہلِ زمانہ ان کی حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکیں اور انہیں قربِ الٰہی کی راہوں میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو۔ اہلِ بصرہ نے مسافروں کے لباس اور ان کے چہروں کی کیفیات سے سمجھ لیا تھا کہ یہ لوگ دور دراز کا سفر کر کے آئے ہیں۔ مسافروں نے جب اہلِ بصرہ سے حضرت رابعہ کا پتہ پوچھا تو اہلِ بصرہ نے جواب دیا کہ تم لوگ دور دراز کا سفر کر کے آئے ہو، اس لئے تھوڑا آرام کر لو پھر ہم تمہیں رابعہ کا پتہ بتا دیں گے۔ اہلِ عقیدت تھے اس لئے جلد سے جلد حضرت رابعہ کی زیارت سے شاد کام ہونا چاہتے تھے، مسافروں نے کہا کہ تم لوگ ہماری پریشانیوں کو قطع نظر کرو، ہمیں صرف حضرت رابعہ کا پتہ بتا دو۔ جب اہلِ بصرہ نے مسافروں کی حقیقت اور ان کا خلوص دیکھا تو فرمایا کہ جب تم لوگوں کی لگن کے سامنے ہماری مہمان نوازی اور مسافر دوستی کی کوئی قدر نہ ہو تو سنو! جنگلوں میں، پہاڑوں میں اور پہاڑی گھاٹیوں میں ایک پگلی، مجنون اور دیوانی عورت ملے گی، جو بے سر و پا باتیں کرتی ہوئی نظر آئے گی، اسی کا نام رابعہ ہے۔ اہلِ بصرہ نے حضرت رابعہ کا جو تعارف پیش کیا، اسی کی روشنی میں مسافرانِ شام اپنی قبائے عقیدت، حاصلِ سفر اور مقصود و منشاء کی تلاش میں پہاڑوں اور بیابانوں کی طرف چل پڑے۔

جب کچھ سفر طے کر لیا تو ایک مقام پر ایک ایسا منظر انہوں نے دیکھا کہ اس سے پہلے ایسا منظر ان کی آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ جنگل کے کچھ درندوں، شیروں، چیتوں اور وحشی جانوروں نے ایک چشمے پر بکریوں کی ایک جماعت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ مسافروں کے دل میں خیال گزرا کہ لگتا ہے کہ یہ رابعہ کی بکریاں ہی ہیں، اس لئے ہم واپس چلتے ہیں اور اہلِ بصرہ سے کہتے ہیں کہ رابعہ کی بکریوں کو شیروں، چیتوں اور وحشی جانوروں نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے، اس لئے تم بھالے اور دوسرے شکاری سامان لے کر چلو تا کہ رابعہ کی بکریوں کو ان درندوں سے بچایا جا سکے۔

ابھی یہی گفتگو چل رہی تھی کہ مسافروں میں جو لوگ زیادہ حساس تھے انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا عقل کے خلاف ہے، ہم یہاں سے واپس جا کر انہیں بتائیں گے، اہلِ بصرہ تیاری کریں گے پھر واپس آئیں گے، اس میں کافی وقت لگ جائے گا، جب تک یہ درندے رابعہ کی بکریوں کو صاف کر جائیں گے۔ اس لئے بصرہ نہ جا کر ہم خود ہی رابعہ کو تلاش کر لیں، اگر وہ مل جاتی ہیں تو انہیں سارے حالات بتا دیں گے، ممکن ہے کہ وہ خود ہی اپنی بکریوں کی حفاظت کا سامان کر لیں۔ اب لوگ حضرت رابعہ کی تلاش میں آگے بڑھے لیکن اب مسافروں کے چلنے کا انداز پہلے سے مختلف ہے، انتہائی محتاط انداز میں قدم آگے بڑھا رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ درندے قدموں کی آہٹ پا کر ہماری طرف متوجہ ہو جائیں۔ اب حال یہ ہے کہ کوئی پتا کھڑکتا ہے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ خوف و ہراس کے ماحول میں آگے بڑھے، اچانک تھوڑی دور چلے تھے کہ دیکھا کہ ایک عورت سجدے کی حالت میں اپنے رب سے مناجات میں مصروف ہے۔ جب لوگ قریب ہوئے تو حضرت رابعہ نے سلام پھیرا اور سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے ان کی خیریت پوچھی。

مسافروں نے کہا: رابعہ! ہماری خیر خیریت تم بعد میں پوچھنا، پہلے تم اپنی بکریوں کی حفاظت کا سامان کرو، تمہاری بکریوں کو جنگل کے درندوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے، اگر تاخیر ہوئی تو جنگل کے وہ درندے تمہاری بکریوں کو صاف کر جائیں گے۔ حضرت رابعہ نے ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی، حضرت رابعہ نے پھر پوچھا کہ لوگو! تمہارے گھر والے، تمہارے متعلقین خیریت سے تو ہیں؟ اتنا سننے کے بعد مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا لیکن ابھی ضبط کا دامن ہاتھ میں تھا، مسافروں نے جواب دیا کہ رابعہ! ہم ساری باتیں بعد میں بتائیں گے، پہلے تم اپنی بکریوں کی حفاظت کا سامان کرو۔ حضرت رابعہ نے پھر ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور پوچھا کہ لوگو! تمہارے پڑوسی اور محلے کے لوگ عافیت سے تو ہیں؟ اب اس آخری سوال پر مسافروں کا پیمانہ چھلک پڑا، مسافروں نے جواب دیا کہ رابعہ! اہلِ بصرہ نے ہمیں بتایا تھا کہ رابعہ پگلی ہے، رابعہ دیوانی ہے، رابعہ مجنونہ ہے لیکن ہم نے ان کی باتوں پر یقین نہیں کیا تھا، اب ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ تم پگلی ہو، تم دیوانی ہو، تم مجنونہ ہو۔ مسافروں کی یہ باتیں سننے کے بعد حضرت رابعہ کو جلال آیا اور اسی عالمِ جلال میں حضرت رابعہ نے مسافروں کو جواب دیا: ”کیا کہا؟ میں پگلی ہوں، میں دیوانی ہوں، میں مجنونہ ہوں! ارے نادانو! سنو پگلی میں نہیں، پاگل تم ہو، دیوانی میں نہیں، دیوانے تم ہو، مجنونہ میں نہیں، مجنون تم ہو۔ ارے تمہیں معلوم نہیں، جب سے رابعہ نے اس مالکِ حقیقی اور معبودِ حقیقی کی بارگاہ میں سر کو جھکانا شروع کیا ہے، جنگل کے سارے درندے، پرندے رابعہ کی بارگاہ میں خود کو جھکانے لگے ہیں، انہیں علم ہو جانے کے بعد کہ بکریاں رابعہ کی ہیں، کسی درندے کی مجال نہیں کہ انہیں چیر پھاڑ کھا سکے، وہ درندے بکریوں کو چرانے کے بعد صاف و شفاف چشمے پر پانی پلانے کے لئے لے گئے ہیں“。

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

سجدے انسان کو قربِ الٰہی کی لذتوں سے آشنا کرتے ہیں، سجدے انسان کو آقائی عطا کرتے ہیں، سجدے انسان کو اقتدار عطا کرتے ہیں اور سجدے انسان کو وہ اوج و کمال عطا کرتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کافر تیروں اور تلوار پر بھروسہ کرتا ہے جبکہ مومن کی پیشانی اگر سجدوں کے نور سے روشن ہے تو وہ میدانِ کارزار میں بے تیغ ہی لڑتا ہے اور کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ تلواروں سے گردنیں کاٹی تو جا سکتی ہیں، جھکائی نہیں جا سکتیں، لیکن سجدوں میں وہ توانائی ہے کہ وہ کفر کی جڑوں کو کاٹ دیتے ہیں اور اونچی اونچی گردنوں کو جھکا دیتے ہیں۔

سجدوں کی پابندی کے ساتھ جو زندگی گزرتی ہے، وہ زندگی اہلِ دنیا کے لئے چراغِ راہ ثابت ہوتی ہے۔ تخت و تاج اہلِ سجدہ کی ٹھوکروں میں ملا کرتے ہیں اور اہلِ تخت و تاج ساجدین کی خدمت میں برہنہ پا حاضر ہوتے ہیں۔

ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص ۵۳ تا ۵۷

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!