Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرات انبیائے کرام اور علومِ عصریہ (قسط: سوم)

حضرات انبیائے کرام اور علومِ عصریہ (قسط: سوم)
عنوان: حضرات انبیائے کرام اور علومِ عصریہ (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: عالیہ فاطمہ انیسی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

مفسرِ قرآن قاضی ابن عطیہ اندلسی (م 546ھ)، امام قرطبی مالکی (م 671ھ)، امام زرکشی شافعی (745ھ-794ھ) اور امام جلال الدین سیوطی شافعی (849ھ-911ھ) نے تحریر فرمایا:

وَقَامَتِ الْحُجَّةُ عَلَى الْعَالَمِ بِالْعَرَبِ إِذْ كَانُوْا أَرْبَابَ الْفَصَاحَةِ وَمَظَنَّةَ الْمُعَارَضَةِ كَمَا قَامَتِ الْحُجَّةُ فِيْ مُعْجِزَةِ عِيْسٰى بِالْأَطِبَّاءِ وَفِيْ مُعْجِزَةِ مُوْسٰى بِالسَّحَرَةِ فَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى إِنَّمَا جَعَلَ مُعْجِزَاتِ الْأَنْبِيَاءِ بِالْوَجْهِ الشَّهِيْرِ أَبْرَعَ مَا يَكُوْنُ فِيْ زَمَنِ النَّبِيِّ الَّذِيْ أَرَادَ إِظْهَارَهٗ فَكَانَ السِّحْرُ فِيْ مُدَّةِ مُوْسٰى قَدِ انْتَهٰى إِلٰى غَايَتِهٖ وَكَذٰلِكَ الطِّبُّ فِيْ زَمَنِ عِيْسٰى وَالْفَصَاحَةُ فِيْ مُدَّةِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ.

[المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، ج: 1، ص: 49 / تفسیر القرطبی، ج: 1، ص: 78 / البرہان فی علوم القرآن، ج: 2، ص: 98 / الاتقان فی علوم القرآن، ج: 2، ص: 10]

ترجمہ: اہلِ عرب کی عاجزی کے ذریعہ ساری دنیا پر حجت قائم ہو گئی، کیوں کہ اہلِ عرب اس وقت اہلِ فصاحت اور معارضہ کی امید گاہ تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ میں طبیبوں کے خلاف حجت قائم ہوئی، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ میں جادوگروں پر حجت قائم ہوئی، اس لیے کہ رب تعالیٰ نے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات کو اس مشہور چیز کے اعتبار سے مقرر فرمایا جس چیز میں اس نبی علیہ السلام کے زمانے میں خوب مہارت ہو، جس نبی کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا ہو، پس جادوگری حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اپنے انتہائی عروج کو پہنچ چکی تھی اور اسی طرح طبابت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اور فصاحت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں۔

اقوامِ عالم کی رہنمائی کے لیے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا انتخاب خود رب تعالیٰ فرماتا ہے اور سنتِ الٰہیہ یہ تھی کہ ہر نبی کو ایسا معجزہ عطا ہو جو اس زمانہ کا مشہور و معروف عروج پر پہنچا ہوا علم و ہنر ہو، اور خوب مہارت والے فن کے مماثل معجزہ عطا فرمایا جاتا، تاکہ نبی کو اہلِ زمانہ پر ظاہری فوقیت بھی حاصل رہے۔ اب رہنماؤں کا انتخاب ہمارے ذمے ہے، کہ قوم کے بچوں کو دینی تعلیم سے مزین و آراستہ کر کے ہم قوم کی رہنمائی کے لیے بھیجتے ہیں تو کیا سنتِ الٰہیہ کے پیشِ نظر ہم پر یہ لازم نہیں ہوتا کہ ہم قوم کی رہنمائی کے لیے منتخب ان بچوں کو ان علوم و فنون سے آراستہ کر دیں، جن علوم و فنون کا چرچا اور شہرہ درمیان ہے، جن کی رہنمائی کے لیے یہ بچے تیار ہو رہے ہیں۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عہدِ حاضر میں علومِ عصریہ اپنے عروج پر ہیں، پس یہ طلبائے علومِ دینیہ کے ساتھ علومِ عصریہ پر بھی دسترس اور مہارت رکھیں تاکہ قوم پر ان کا تفوق ظاہر ہو۔ جس طرح حضرات انبیائے کرام علیہم السلام علمِ شریعت و معرفتِ الٰہی کے ساتھ اپنے زمانہ کے علومِ عصریہ سے بھی سرفراز ہوتے، مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طبابت کا درجہ بلند عطا ہوا۔ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فصاحت و بلاغت کا رتبہِ علیا عطا ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أُعْطِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ. [جامع الترمذی، باب الغنیمۃ / السنن للبیہقی، ج: 2، ص: 433 / مسند احمد، ج: 15، ص: 194 / صحیح مسلم، کتاب المساجد / صحیح ابن حبان، ص: 87]

أَنَا أَفْصَحُ الْعَرَبِ. [التلخیص الحبیر للعسقلانی، ج: 3، ص: 14] أَنَا أَعْرَبُ الْعَرَبِ. [المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 6، ص: 35]

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں جادوگر رسیاں پھینکتے اور وہ سانپ بن جاتیں تو آپ کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ آپ اپنا عصا پھینکتے تو وہ اژدہا بن جاتا۔ طبابت، فصاحت و بلاغت وغیرہا علومِ عصریہ تھے، نہ کہ علومِ شرعیہ۔ جب حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی علومِ عصریہ میں بے نظیر مہارتِ کاملہ عطا کی گئی تھی تو پھر وارثینِ انبیا کو بھی علومِ عصریہ سے مزین ہونا سنتِ الٰہیہ کے موافق ہے یا نہیں؟ کیا رب تعالیٰ کے دستور اور طریقہِ کار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہنما اپنے عہد کے عصری علوم سے بھی آراستہ ہوں؟ نصابِ تعلیم میں تبدیلی خود سے کرنی ہوگی یا اس بارے میں وحی آئے گی؟

حضرات انبیا و مرسلین علیہم السلام کے ذرائع معاش

حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی معاش کے لیے عملی اقدام فرمایا۔ اعلانِ نبوت سے قبل ہی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے وکیل ہو کر تجارت کرتے تھے۔ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ بھی تجارتی سفر فرمائے۔ یہ سنتِ مصطفوی علما کے لیے موجبِ برکات و حسنات ہے۔

حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام تحصیلِ معاش کے لیے مختلف قسم کے پیشوں سے منسلک رہتے اور تبلیغِ مذہب یا تعلیمِ دین پر اجرت نہیں لیتے، بلکہ اس بات کا اعلان بھی فرماتے تھے۔ قرآنِ مقدس میں بہت سے انبیائے کرام کا اعلان نامہ بابتِ عدمِ اجرت منقول ہوا، تاکہ تبلیغ و تعلیم مؤثر ہو سکے۔ وعظ و نصیحت پر اجرت کے سبب اثر آفرینی کا مادہ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بھی رب تعالیٰ کی وحی آئی کہ عدمِ اجرت کا اعلان فرمائیں:

قُلْ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ ۝

[سورۃ الانعام، آیت: 90]

کیا وارثینِ انبیا کو تعلیمِ دین کے علاوہ دیگر پیشہ جات سے منسلک ہونا ننگ و عار کا سبب ہوگا؟ رب تعالیٰ نے حضرات مرسلین علیہم السلام کو پاکیزہ رزق کھانے کا حکم فرمایا۔ ارشادِ الٰہی وارد ہوا:

يٰأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۖ ۝

ترجمہ: اے مرسلین علیہم السلام! آپ پاکیزہ رزق کھائیں اور نیک عمل کریں۔ [سورۃ المؤمنون، آیت: 51]

توضیح: حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے اور معاش کے لیے کوئی ذریعہ اختیار فرماتے۔ چند انبیائے کرام علیہم السلام کے ذرائعِ معاش مرقومہِ ذیل ہیں۔

  1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهٗ قَالَ لِرَجُلٍ جَالِسٍ عِنْدَهٗ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهٗ: ادْنُ مِنِّيْ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَبْقَاكَ اللهُ، وَاللهِ مَا أَحْسَنُ أَنْ أَسْأَلَكَ كَمَا سَأَلَ هٰؤُلَاءِ - فَقَالَ: ادْنُ مِنِّيْ فَأُحَدِّثُكَ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ الْمَذْكُوْرِيْنَ فِيْ كِتَابِ اللهِ - أُحَدِّثُكَ عَنْ آدَمَ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا حَرَّاثًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ نُّوْحٍ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا نَّجَّارًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ إِدْرِيْسَ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا خَيَّاطًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ دَاوُدَ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا زَرَّادًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ مُّوْسٰى أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا رَّاعِيًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا زَرَّاعًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ صَالِحٍ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا تَاجِرًا وَأُحَدِّثُكَ عَنْ سُلَيْمَانَ أَنَّهٗ كَانَ عَبْدًا اٰتَاهُ اللهُ الْمُلْكَ وَكَانَ يَصُوْمُ فِيْ أَوَّلِ الشَّهْرِ سِتَّةَ أَيَّامٍ وَفِيْ وَسَطِهٖ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَفِيْ آخِرِهٖ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَكَانَتْ لَهٗ تِسْعُ مُدَدٍ سَرِيَّةٍ وَثَلَاثُ مُدَدٍ فِهْرِيَّةٍ وَأُحَدِّثُكَ عَنِ ابْنِ الْعَذْرَاءِ الْبَتُوْلِ عِيْسَى بْنِ مَرْيَمَ أَنَّهٗ كَانَ لَا يَخْبَأُ شَيْئًا لِّغَدٍ وَيَقُوْلُ: الَّذِيْ غَدَّانِيْ سَوْفَ يُعَشِّيْنِيْ وَالَّذِيْ عَشَّانِيْ سَوْفَ يُغَدِّيْنِيْ، يَعْبُدُ اللهَ لَيْلَةً كُلَّهَا يُصَلِّيْ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَهُوَ بِالنَّهَارِ سَائِحٌ - وَيَصُوْمُ الدَّهْرَ كُلَّهٗ وَيَقُوْمُ اللَّيْلَ كُلَّهٗ - وَأُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفٰى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَرْعٰى غَنَمَ أَهْلِ بَيْتِهٖ بِأَجْيَادٍ وَكَانَ يَصُوْمُ، فَتَقُوْلُ - لَا يُفْطِرُ - وَيُفْطِرُ فَتَقُوْلُ - لَا يَصُوْمُ وَكُلَّهَا مَا رَأَيْنَاهُ صَائِمًا وَيَصُوْمُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَكَانَ أَلْيَنَ النَّاسِ جَنَاحًا - وَأَطْيَبَهُمْ خَبَرًا وَأَطْوَلَهُمْ عِلْمًا وَأُخْبِرُكَ عَنْ حَوَّاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْزِلُ الشَّعْرَ فَتَحُوْلُهٗ بِيَدِهَا فَتَكْسُوْ نَفْسَهَا وَوَلَدَهَا وَأَنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ كَانَتْ تَصْنَعُ ذٰلِكَ.

    [المستدرک علی الصحیحین، ج: 2، ص: 652]

  2. عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ زَكَرِيَّا عَبْدًا نَّجَّارًا.

    [المستدرک علی الصحیحین، ج: 2، ص: 645 / سنن ابن ماجہ، باب الصناعات / صحیح ابن حبان، ج: 1، ص: 542 / صحیح مسلم، باب من فضائل زکریا علیہ السلام / مسند ابی یعلیٰ، ج: 1، ص: 311 / مسند احمد، ج: 13، ص: 329 / مصنف عبد الرزاق، ج: 1، ص: 309]

  3. فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد بن ابراہیم سمرقندی حنفی (م 373ھ) نے تحریر فرمایا:

    يُرْوٰى عِيْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْكُلُ مِنْ غَزْلِ أُمِّهٖ وَكَانَ رِزْقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنِيْمَةِ وَأَطْيَبُ الطَّيِّبَاتِ الْغَنَائِمُ.

    [تفسیر بحر العلوم، ج: 2، ص: 582]

احادیثِ مذکورہ کا مفہوم

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی گیری کرتے۔ حضرت ادریس علیہ السلام درزی گیری کرتے۔ حضرت صالح علیہ السلام تجارت کرتے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام زرہ سازی کرتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اون بنتیں اور ماں، بیٹا اس سے کھاتے۔ حضرت حوا رضی اللہ عنہا بھی اون بنتی تھیں۔

مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے بعد حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا رزق مالِ غنیمت قرار دیا اور جہاد کو فضلِ کسب قرار دیا گیا، کیوں کہ اس میں اسلام کی سربلندی بھی ہے اور مالِ طیب کا حصول بھی لیکن موجودہ زمانہ کی دہشت گردی اسلامی جہاد نہیں اور اہلِ سنت و جماعت کے لوگ اس میں شریک بھی نہیں، بلکہ غور و فکر بعد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ غیر مسلم مفکرین ہیں جو اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے پر جوش مسلم نوجوانوں کو غلط راہ پر لگا چکے ہیں۔ اب ان نوجوانوں کی صحیح فکری رہنمائی کی ضرورت ہے، تاکہ اہلِ عالم دینِ اسلام کی حقیقت سے واقف ہو سکیں۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے، نہ کہ دہشت گردی کا۔

حضرت حبیبِ محتشم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذرائعِ معاش

  1. مفسر اسماعیل حقی استنبولی حنفی (م 1127ھ) نے تحریر فرمایا:

    أَفْضَلُ الْكَسْبِ الْجِهَادُ وَهُوَ حِرْفَةُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ وَالْهِجْرَةِ ثُمَّ التِّجَارَةُ بِشَرْطِ الْأَمَانَةِ بِحَيْثُ لَا يَخُوْنُ عَلٰى مِقْدَارِ حَبَّةٍ أَصْلًا ثُمَّ الْحِرَاثَةُ ثُمَّ الصِّنَاعَةُ.

    ترجمہ: سب سے افضل کسب (ذریعہِ معاش) جہاد ہے، اور یہ اعلانِ نبوت اور ہجرت کے بعد حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پیشہ تھا۔ پھر تجارت بشرطیکہ ایک دانہ برابر بھی خیانت نہ کرے، پھر کھیتی، پھر صنعت گیری (دست کاری)۔ [تفسیر حقی، ج: 8، ص: 322]

  2. امام عبد الرؤف مناوی (952ھ-1031ھ) نے تحریر فرمایا:

    ثُمَّ التِّجَارَةُ لِأَنَّ الصَّحَابَةَ كَانُوْا يَكْتَسِبُوْنَ بِهَا.

    ترجمہ: پھر تجارت افضل ذریعہِ معاش ہے، اس لیے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم تجارت کے ذریعہ کسبِ معاش فرماتے۔ حضرت سرورِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعلانِ نبوت سے قبل تجارت فرماتے تھے اور حضرات صحابہ کرام کا ذریعہِ معاش بھی تجارت تھی خصوصاً خلفائے راشدین حضرت صدیقِ اکبر، حضرت فاروقِ اعظم و حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تجارت کرتے تھے۔ [فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ج: 2، ص: 424]

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ امام عبد الرؤف مناوی نے افضل ذرائعِ معاش کو شمار کراتے ہوئے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تجارت فرمایا کرتے تھے۔ اب علمائے کرام کو بھی تجارت، صنعت و حرفت وغیرہ سے متعلق ہونا مفید ہوگا۔ فقہائے اسلام نے محض بوجہ ضرورت تعلیمِ دین اور امامت وغیرہ پر اجرت کو جائز قرار دیا، ورنہ در اصل یہ سب ممنوعات میں سے ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں تفاصیل مرقوم ہیں۔ رب تعالیٰ علمائے دین کے لیے معیشت کے عمدہ اسباب مہیا فرما دے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔

[ماہنامہ پیغامِ شریعت اکتوبر 2016ء ص: 20]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!