Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مروجہ تعزیہ اور مراسمِ محرم علما و محدثین کی نظر میں (قسط:دوم)

مروجہ تعزیہ اور مراسمِ محرم علما و محدثین کی نظر میں (قسط:دوم)
عنوان: مروجہ تعزیہ اور مراسمِ محرم علما و محدثین کی نظر میں (قسط:دوم)
تحریر: مولانا طفیل احمد مصباحی
پیش کش: بنت محمد صدیق

صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ فرماتے ہیں:
"تعزیہ داری کہ واقعات کربلا کے سلسلہ میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے روضہ پاک کی شبیہ کہتے ہیں، کہیں تخت بنائے جاتے ہیں، کہیں ضریح (گنبد نما) بنتی ہے اور علم اور شندے (جھنڈے یا نشان) نکالے جاتے ہیں، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑے ہوتے ہیں، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتی ہیں، کہیں چبوترے کھدوائے جاتے ہیں، تعزیوں سے بنتیں مانی جاتی ہیں، سونے چاندی کے علم چڑھائے جاتے ہیں، ہار پھول، ناریل چڑھاتے ہیں، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے، چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں، تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں، سبز غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت، مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں، یہ تصور کر کے کہ حضرت امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہہ اقدس میں فاتحہ دلا رہے ہیں۔

پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے، پھر تیجا، دسواں، چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے، حضرت قاسم کی مہندی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہو رہی ہے اور مہندی رچائی جائے گی اور اس تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک (پیغام پہنچانے والا) بنتا ہے جس کے کمرے گھنگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کا قاصد اور ہرکارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابن زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہرکاروں (قاصدوں) کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔

کسی بچے کو فقیر بنایا جاتا ہے، اس کے گلے میں جھولی ڈالتے ہیں اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں، کوئی سقہ (پانی بھرنے والا) بنایا جاتا ہے چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے، گویا یہ حضرت عباس علم دار رضی اللہ تعالی عنہ ہیں کہ فرات سے پانی لا رہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے، اس قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں، یہ سب لغو خرافات ہیں ان سے ہرگز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ خوش نہیں، یہ تم خود غور کرو کہ انھوں نے احیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اللہ اس کو بدعات کا ذریعہ بنالیا؟

بعض جگہ اس تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کا سا، شاید یہ حضرت امام عالی مقام کی سواری کے لیے ایک جانور ہوگا، کہیں دلدل بنتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر لنگور بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی، ایسی بری حرکت اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبت اہل بیت کرام کا دعوی اور ایسی بے جا حرکتیں! یہ واقعہ تمہارے لیے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشا بنا لیا۔

اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ درم ہو جاتا ہے، سینہ سرخ ہو جاتا ہے، بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے، تعزیوں کے پاس مرثیہ پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں، اہل بیت کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چوں کہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں، بعض میں تبرا بھی ہوتا ہے مگر اس روشنی میں سنی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انھیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔

اظہار غم کے لیے سر کے بال بکھیرتے ہیں، کپڑے پھاڑتے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑاتے ہیں، یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اللہ عز وجل اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے، تعزیوں اور علم کے ساتھ بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں، یہ ناجائز ہے کہ رزق کی سخت حرمتی ہوتی ہے۔" [بہار شریعت حصہ 16، ص: 247، ج: 3، مکتبۃ المدینۃ دیلی]

حضور سرکار مفتی اعظم ہند بریلوی فرماتے ہیں:
"تعزیہ داری جو شرعا ناجائز ہے، اس کے لیے جبرًا چندہ لینا کس قدر شنیع (بری) بات ہے۔" [فتوی مصطفویہ، ص: 535، مفتی اعظم ہند اکیڈمی، دھم تری]

تعزیہ اور دیگر مراسم محرم سے متعلق سرکار مفتی اعظم ہند سے استفتا ہوا، جس کا مضمون کچھ اس طرح ہے: محرم میں لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ صرف امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کی نیاز ہونی چاہیے اور ہرے کپڑے پہننا چاہیے اور روٹی کے بسکٹ کا لنگر اوپر سے لٹانا چاہیے اور قلاوہ (پٹہ) جس میں سرخ اور ہرے گنڈے پڑے ہوتے ہیں، اس کو گلے میں پہننا چاہیے اور عطر وغیرہ نہ لگانا چاہیے اور عشرہ سے تیرہ تک گھر میں جھاڑو نہ دینا چاہیے اور کام بھی چھوڑ دینا چاہیے، حکم فرمایا جائے کہ مذکورہ بالا کام درست ہیں؟ سرکار مفتی اعظم ہند اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہ سب باتیں غلط ہیں، محرمیوں (محرم منانے والے) کے اختراع میں ایسا کہنے اور کرنے والوں پر توبہ لازم۔" [فتوی مصطفویہ، ص: 532، مفتی اعظم ہند اکیڈمی، دھم تری]

خلیفہ اعلی حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ کا فتوی ملاحظہ کریں:
"ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری بلا شبہ بدعات و ممنوعات کا ایسا مجموعہ ہے کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔" [خطبات محرم، ص: 471، مکتب خانہ امجدیہ، دہلی]

حضور شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی لکھتے ہیں: "تعزیے بنانا، انھیں باجے تاشے کے ساتھ دھوم دھام سے اٹھانا، ان کی زیارت کرنا، ان کا ادب اور تنظیم کرنا، انھیں سلام کرنا، انھیں چومنا، ان کے آگے جھکنا اور آنکھوں سے لگانا، بچوں کو ہرے کپڑے پہنانا، گھر گھر بھیک منگوانا کر بلا جانا غیرہ شرعانًا جائز و گناہ ہیں۔" [شمع ہدایت، ص: 30، ج: 3]

اجمل العلما حضرت مفتی اجمل شاہ منجھلی فرماتے ہیں:
"عرف و رواج میں جس کا نام تعزیہ داری ہے، وہ بکثرت ممنوعات شرعی پر مشتمل ہے تو ایسی تعزیہ داری ناجائز ہے۔" [فتوی اجملیہ، ص: 83، ج: 4، فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]

ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
"محرم میں ڈھول تاشہ بجانا اور ماتم کرنا حرام و ناجائز ہے اور مسجد کے قریب ان کا بجانا اشد حرام اور شرم ناک جرات ہے۔" [فتاوی اجملیہ، ص: 37، ج: 4، فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]

جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرہ فرماتے ہیں:
"مروجہ تعزیہ داری، ڈھول تاشا، باجا وغیرہ یزیدیوں کی نقل اور رافضیوں کا طریقہ ہے، یہ ناجائز و حرام ہے۔" [فتاوی فیض الرسول، ص: 510، ج: 2، براؤں شریف، بستی]

حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
"فی زمانہ مروجہ تعزیہ بہت سے محرمات اور خرافات پر مشتمل ہے، اس لیے مروجہ تعزیہ داری ناجائز ہے۔" [فتاوی نعیمیہ، ص: 73-774، کتبہ جام نور، دہلی]

بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان عظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
"چوک (امام باڑہ) اور تعزیہ داری سب ناجائز ہے، اس لیے وہاں فاتحہ دینا ناجائز ہے۔" [فتاوی بحر العلوم، ص: 446، ج: 5، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]

دوسری جگہ لکھتے ہیں:
"مروجہ تعزیہ اور قوالی جائز نہیں۔"

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ ارقام فرماتے ہیں:
"تعزیہ کا جلوس، آگے پیچھے ڈھول تاشا، باجا، گاجا فلمی گیت، جان دار کی تصویر، عورتوں کا ہجوم اور اسی طرح کے دیگر خرافات جو آج کل تعزیہ داری میں کیے جاتے ہیں، ناجائز و حرام ہیں۔" [فتاوی الفیض الرسول، ص: 512، ج: 2، براؤں شریف، بستی]

اس کے بعد لکھتے ہیں:
"مسلمانان اہل سنت پر لازم ہے کہ اس قسم کی تعزیہ داری (مروجہ تعزیہ) میں کسی طرح ہر گز شریک نہ ہوں اور نہ اپنے اہل و عیال کو شرکت کی اجازت دیں، ورنہ گنہگار مستحق عذاب نار ہوں گے۔" [فتاوی فیض الرسول، ص: 513، ج: 2، براؤں شریف]

حجۃ السلف عمدة الخلف حضرت مفتی محمد ظل الرحمن ضیائی بھاگل پوری کا فتوی ہے:
"مروجہ تعزیہ سراسر ناجائز اور خالص فضول خرچی ہے۔"

حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب خطبات محرم، ص: 469 تا 474 پر مروجہ تعزیہ اور دیگر مراسم محرم کی حرمت و قباحت سے متعلق جو فتوی نقل کیا ہے، اس پر تقریبا 75 جلیل القدر علما اور مفتیان عظام کے دستخط اور تصدیقات موجود ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مروجہ تعزیہ کے حرام و ناجائز ہونے پر علمائے کرام کا اجماع و اتفاق ہے، اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے ہندو پاک کی مروجہ تعزیہ داری سے متعلق با ضابطہ ایک رسالہ لکھا ہے اور اس کا نام "أعالى الإفادة في تعزية الهند وبيان الشهادة" رکھا ہے، اس مفید رسالے میں آپ نے تعزیہ اور محرم کے دیگر ناجائز مراسم و امور کے بارے میں بڑے مفصل اور مدلل انداز میں شریعت مطہرہ کے احکام بیان کیے ہیں، یہ مبارک رسالہ "فتاوی رضویہ" مترجم کی جلد 24 اور غیر مترجم فتاوی رضویہ کی نویں جلد میں موجود ہے، اس رسالے کے چند اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

شیعوں کی مجلس مرثیہ خوانی میں شرکت

"مجلس مرثیہ خوانی اہل شیعہ میں اہل سنت و جماعت کو شریک و شامل ہونا حرام ہے۔" [فتاوی رضویہ مترجم، ص: 522، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

تعزیہ بنانا اور اس پر نذر و نیاز کرنا

آج کل محرم شریف کے پہلے عشرے میں مسلمان تعزیہ بناتے ہیں اور تعزیہ کے سامنے نذر نیاز کرتے ہیں، اسی طرح امام باڑہ کے پاس بھی نیاز و فاتحہ دیتے ہیں، اس سلسلے میں اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا کہ تعزیہ بنانا اور اس پر نذر و نیاز کرنا، عرائض (درخواست) بہ امید حاجت برآری لٹکانا اور بہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا کیسا ہے؟ جواب ارشاد فرماتے ہیں: "افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں، بدعت سیئہ (جس کا کرنا حرام و گناہ اور باعث گمرہی ہے) و ممنوع و ناجائز ہیں۔" [فتوی رضویہ مترجم، ص: 527، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
"شیرینی و حلوہ، تعزیہ ہائے کہ مردم رو بروئے آن پیش کش نہند، مکروہ است۔" ترجمہ: تعزیہ کے سامنے لوگ جو شیرینی اور حلوہ رکھتے ہیں (اور اس ہیئت کے ساتھ فاتحہ و نیاز دلاتے ہیں) یہ مکروہ ہے۔ [فتاوی عزیزی، ص: 106، ج: 2، رحمن پبلیکیشنز، پشاور، پاکستان]

شہادت نامہ پڑھنے کا حکم

آج کل جو شہادت نامہ (امام حسین کی شہادت سے متعلق منظوم کلام) پڑھا جاتا ہے، اس میں اکثر غلط سلط روایات اور بے سر و پیر کی باتیں ہوا کرتی ہیں، اس قسم کا "شہادت نامہ" پڑھنا ناجائز و گناہ ہے، ہاں! شہادت نامہ صحیح روایات اور درست واقعات بلا پر مشتمل ہو تو اسے پڑھنا جائز ہے، امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:
"کتب شہادت (شہادت نامہ) جو آج کل رائج ہے، اکثر حکایات موضوعہ (گڑھی ہوئی حکایتیں) و روایات باطلہ پر مشتمل ہیں، یوں ہی مرثیے ایسی چیزوں کا پڑھنا، سننا سب گناہ و حرام ہے۔" [فتاوی رضویہ، ص: 517، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
"ذکر شہادت شریف جب کہ روایات موضوعہ کلمات ممنوعہ (گڑھی ہوئی روایتوں اور ناجائز باتوں) و نیت نا مشروعہ سے خالی ہو تو اسے پڑھنا اور سننا عین سعادت ہے۔" [فتاوی رضویہ، ص: 517، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

مجلس اہل بیت منعقد کرنا

"جو مجلس ذکر شریف حضرت سیدنا امام حسین و اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ہو، جس میں روایات صحیح معتبرہ سے ان کے فضائل و مناقب و مدارج (فضیلت، تعریف و توصیف اور مرتبہ) بیان کیے جائیں اور ماتم و تجدید غم وغیرہ امور مخالفہ شرع سے یکسر پاک ہو، فی نفسہ حسن و محمود (اچھی چیز) ہے۔" [فتاوی رضویہ، ص: 522، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

لنگر کھانا، بانٹنا جائز اور بینگ لٹانا ناجائز ہے

"دو لنگر کھانا کھلانا اور بانٹنا بھی مندوب (مستحب) و باعث اجر (ثواب کا کام) ہے مگر کر لٹانا منع ہے کہ اس میں رزق الہی کی توہین ہے۔" [فتاوی رضویہ، ص: 521، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

سبیل لگانا

"پانی یا شربت کی سبیل لگانا جب کہ بہ نیت محمود اور خالص لوجہ اللہ، ثواب رسانی ارواح طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہو، بلاشبہ بہتر و مستحب و کار ثواب ہے، اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: إذا كثرت ذنوبك فاسق الماء على الماء يتناثر كما يتناثر الورق الشجر في الريح العاصف۔ ترجمہ: جب تیرے گناہ زیادہ ہو جائیں تو پانی پر پانی ملا، گناہ جھڑ جائیں گے، جیسے سخت آندھی میں پیڑ کے پتے جھڑتے ہیں۔" [فتاوی رضویہ، ص: 521، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

فقیر اور پیک بننا

"پیک بننا نری نقالی اور بے ہودہ و بے معنی ہے اور گھنٹے لٹکانا حدیث میں منع فرمایا، یوں ہی فقیر بن کر بلا ضرورت مجبوری بھیک مانگنا حرام! اور (پیک بننے کی) وہ منت ماننی کہ دس برس ایسا کریں گے، سب مہمل و ممنوع ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لا نذر في معصية (گناہ کے کام میں نذر نہیں)۔" [فتاوی رضویہ، ص: 36، ج: 9، رضا اکیڈمی، ممبئی]

علم، ڈھول باجہ اور کھیل تماشا

"یوں ہی علم تعزیے، جریدے، باجے، کھیل تماشے سب بے ہودہ و بدعت و ممنوع ہیں۔" [فتاوی رضویہ، ص: 36، ج: 9، رضا اکیڈمی، ممبئی]

مرثیہ و ماتم کا شرعی حکم

"یوں ہی مرثیے کہ رائج ہیں، سب ناجائز و حرام ہیں، حدیث میں ہے: نهى رسول الله ﷺ عن المراثي (اللہ کے رسول ﷺ نے مرثیوں سے منع فرمایا) حسن حسین تشدید کہنا تو جہالت ہی تھا، چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے، مگر ماتم سخت منع ہے۔"

ماتم، چڑھاوا اور مصنوعی کربلا جانا

"علم تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم مصنوعی کربلا جانا، یہ سب باتیں ناجائز و گناہ ہیں۔" [فتوی رضویہ، ص: 496، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

محرم میں کالے اور ہرے کپڑے پہننا

"یوں ہی عشرہ محرم کے سبز رنگے ہوئے کپڑے بھی ناجائز ہیں، یہ بھی سوگ کی غرض سے ہے، عشرہ محرم میں تین رنگوں سے بچے، سیاہ، سبز اور سرخ۔" [فتاوی رضویہ، ص: 495، ج: 24، برکات رضا، پور بندر، گجرات]

امام قاسم کی مہندی

"تعزیہ، مہندی، شب عاشورا کو روشنی کرنا بدعت و ناجائز ہے، حضرت سیدنا امام قاسم کے ساتھ کربلا میں سیدنا امام حسین کی صاحب زادی کی شادی کا واقعہ ثابت نہیں ہے، کسی نے گڑھا ہے۔"

اعلی حضرت کی نصیحت

اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے تعزیہ اور دیگر مراسم محرم سے متعلق جو قیمتی افادات اور شرعی احکام صادر فرمائے، آپ نے ملاحظہ کیا، اب لگے ہاتھوں امام موصوف کی نصیحت بھی ملاحظہ فرمائیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں کہ یہی نجات کا راستہ ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، آپ فرماتے ہیں:
"کہاں امام عالی مقام کی طرف نسبت اور کہاں شنیع (بہت زیادہ بری) حرکت؟ کاش! اللہ عزوجل ہمارے بھائیوں کو سمجھ دے تاکہ ہزاروں روپے جو یوں "نیکی بر باد گناہ لازم" ہمیں تباہ کرتے (ہیں) انھیں حضرات شہیدان پاک کے نام پر تصدق (صدقہ) کرتے، مساکین کو دیتے، جاڑے میں ان کے لحاف، رضائی، گرم کپڑے بناتے (اور غریب و مسکین کو پہناتے) وغیرہ وغیرہ افعال حسنہ (نیک کام) کرتے تو کتنا بہتر ہوتا، اللہ ہدایت دے، آمین۔"

آخری بات

تعزیہ اور محرم کے دیگر مراسم و اعمال بالعموم محلے کے با اثر لوگوں کی نگرانی میں انجام دیے جاتے ہیں، اگر پنچایت کے ذمہ دار حضرات اور گاؤں کے بڑے اور مکھیا منتری لوگ چاہیں تو بڑی آسانی سے تعزیہ وغیرہ کا غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ختم ہو سکتا ہے، مسلم سماج کے جو بڑے بڑے لوگ اپنی نگرانی میں تعزیہ کا جلوس نکلواتے ہیں اور اس کی سرپرستی کرتے ہیں، وہ اگرچہ تعزیہ میں شریک نہ ہوں لیکن اس مجرمانہ خاموشی کی بدولت وہ بھی گنہگار ہوں گے، مشکوۃ شریف کی حدیث ہے:
"جو اپنے درمیان برائی دیکھے اور قدرت کے باوجود دوسرے کو اس برائی سے نہ روکے تو اللہ تعالی سب کو اس کا عذاب دے گا۔"

اللہ تبارک و تعالی ہم تمام مسلمانوں کو نیک عمل کی توفیق بخشے، آمین۔ [سنی دنیا، جولائی 2024، ص: 8]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!