| عنوان: | رسوماتِ محرم اور ان کے احکام (قسط:اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر فیض احمد چشتی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
واقعہِ کربلا کا غم ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے اور یہ اہلِ بیت سے محبت کی علامت ہے، مگر شریعتِ محمدی ہمیں صبر کا درس دیتی ہے لہٰذا اس غم کا اظہار مرثیہ و ماتم اور چیخیں مار کر رونے کی صورت وغیرہ میں نہیں ہونا چاہیے۔ جسے اس واقعہِ کربلا کا غم نہیں اس کی محبت اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ناقص اور جس کی محبت اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ناقص ہے اس کا ایمان ناقص ہے۔
مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اپنی مصیبت یا مصائبِ اہلِ بیت کو یاد کر کے ماتم کرنا یعنی ہائے ہائے، واویلا کرنا، چہرے یا سینے پر طمانچے مارنا، کپڑے پھاڑنا، بدن کو زخمی کرنا، نوحہ و جزع فزع کرنا، یہ باتیں خلافِ صبر اور ناجائز و حرام ہیں، جب خود بخود دل پر رقت طاری ہو کر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور گریہ آ جائے تو یہ رونا نہ صرف جائز بلکہ موجبِ رحمت و ثواب ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ [البقرۃ: 154] ”اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔“
ماتم تو ہے ہی حرام، تین دن سے زیادہ سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے۔ حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان لائی ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ اپنے خاوند کی (موت پر) چار ماہ دس دن سوگ کرے۔“ [بخاری، حدیث: 299]
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَحُدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا حَتّٰى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا ترجمہ: کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا (جائز نہیں) سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کر سکتی ہے۔ [من لا یحضرہ الفقیہ، ج: 1]
اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتے ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہاں ایصالِ ثواب کرنا، ان کی یاد منانا اور ذکر اذکار جائز ہے، یہ سوگ نہیں ہے۔
شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”کون سا سنی ہوگا جسے واقعہِ ہائلہِ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کا دل محزون اور آنکھ پرنم نہیں، ہاں مصائب میں ہم کو صبر کا حکم فرمایا ہے، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارِ غم ریا ہے اور قصداً غم آوری و غم پروری خلافِ رضا ہے۔ جسے اس کا غم نہ ہو اسے بے غم نہ رہنا چاہیے بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہیے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کا ایمان ناقص۔“ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 24، ص: 500-501، رضا فاؤنڈیشن لاہور]
شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں، اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔“ [عرفانِ شریعت، حصہ اول، ص: 15]
شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”غرض عشرہِ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعتِ پاک تک نہایت بابرکت محلِ عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا۔ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خود ساختہ تصویریں بعینہ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں۔ کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے۔ یہ ہر سال اضاعتِ مال کے جرم و وبال جداگانہ ہیں۔ اب تعزیہ داری اس طریقہِ نامرضیہ کا نام ہے، قطعاً بدعت و ناجائز و حرام ہے، تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے، اگر نیاز دے کر چڑھائیں، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں۔“ [رسالہ تعزیہ داری]
تعزیہ بنانا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، جلد: 24، ص: 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہٰذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ [ملفوظات شریف، ص: 286]
تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، جلد: 24، ص: 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 21، ص: 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
محرم الحرام میں ناجائز رسومات
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا)، سوائے امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، ص: 488، جلد: 24، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]
محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام میں) تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلِ بیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، لہٰذا مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔ [احکامِ شریعت]
عاشورہ کا میلہ
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کا میلہ لغو، لہو و ممنوع ہے، یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتا ہے، نیتِ باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، جلد: 24، ص: 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے، ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے، ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلعین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجبِ لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصاً سیاہ (لباس) کا شعار رافضیاں لیام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 23، ص: 756، رضا فاؤنڈیشن لاہور]
مسلمانوں کو چاہیے کہ محرم الحرام میں خرافات سے بچیں، سبیلوں اور دکانوں پر نوحہ اور مرثیہ کی کیسٹیں ہرگز نہ بجائیں۔ محترم قارئینِ کرام! بدقسمتی سے لوگوں میں پائی جانے والی خرافات و غیر شرعی رسومات ان کے یومیہ، ماہانہ و سالانہ معمولات کا حصہ بن چکی ہیں اور وہ بڑے اہتمام کے ساتھ ان رسومات کی ادائیگی کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلامی سال کے پہلے بابرکت اور حرمت والے مہینے محرم الحرام میں پائی جانے والی خرافات و بدعات جن کے سبب اس ماہِ مقدس کی نہ صرف بے حرمتی ہوتی ہے بلکہ اسلامی اقدار کا کھل کر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے، نیز ہمارے شہدائے اسلام بالخصوص شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد منانے کی آڑ میں ایسے غیر شرعی کام سرانجام دیے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- تعزیوں کو ماتم کرتے ہوئے گلی گلی پھرانا، تعزیوں کے سامنے سجدہ کرنا، بچوں کو محرم کا فقیر بنا کر بھیک منگوانا۔
- مال کو ضائع کرنا، برتن پھوڑنا، دسویں محرم کو گھر میں کھانا پکانے کو معیوب سمجھنا، خود کو فقیر بنا کر بھیک مانگنا وغیرہ۔
- ماتم کرنا، کپڑے پھاڑنا، نوحے پڑھنا، رونا پیٹنا، بطورِ سوگ سیاہ لباس پہننا، کالے بلے پہننا، نئے لباس کو برا سمجھنا وغیرہ۔
- ناچنا، کودنا، رقص کرنا، مرد و عورت کا ایک ساتھ مجالس و محافل میں بیٹھنا، جھوٹے واقعات بیان کرنا وغیرہ۔
- جھوٹی منتیں ماننا، امام قاسم کی مہندی نکالنا، فضول کاموں میں لگ کر نمازیں ترک کر دینا وغیرہ۔
- حضرت علی و حسنین کریمین یا دیگر بزرگوں رضی اللہ عنہم کی تصاویر بنانا، ان کا احترام کرنا، ان کو حقیقت کا رنگ دینا وغیرہ۔
مذکورہ خرافات و بدعات یا اس طرح کی اور رسومات جو مسلمانوں میں رائج ہیں، سب ناجائز و ممنوع ہیں، ان سے بچنا ہر صورت لازم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ خرافات ہماری دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب بن جائیں اور ہمیں علم بھی نہ ہو۔
[سنی دنیا، جولائی 2024ء، ص: 16]
