| عنوان: | اللہ دیکھ رہا ہے (قسط:دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، لہٰذا نجات اسی میں ہے کہ آدمی ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، گناہوں سے سچی توبہ کرے، اپنی ہر سانس اور حرکت کا محاسبہ کرے؛ تاکہ روزِ قیامت کی پریشانی و رسوائی سے محفوظ رہے۔
ربِ ذو الجلال ارشاد فرماتا ہے: وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِيْ أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ [البقرۃ: 235] ”جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے، تو اس سے ڈرتے رہو۔“
گنہگاروں کو اللہ کی تنبیہ
بعض لوگ معصیت و نافرمانی میں اس قدر بے خوف اور حد سے بڑھ جاتے ہیں، کہ اعلانیہ گناہوں کا نہ صرف خود ارتکاب کرتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی نیک اعمال سے روکتے اور ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، فرشتے ہر قول و فعل کو ان کے نامہِ اعمال میں لکھ رہے ہیں، انہیں ایک دن موت آنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، ایسوں کو بطورِ تنبیہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللّٰهَ يَرٰى [العلق: 14] ”کیا نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔“
ہر مسلمان کو چاہیے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچائے، شراب نوشی، رشوت ستانی اور ناپ تول میں کمی سے کوسوں دور بھاگے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تنگ کرنے سے اجتناب برتے! اللہ نے ارشاد فرمایا: إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ [الفجر: 14] ”یقیناً تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں۔“
علامہ اسماعیل حقی تفسیر ”روح البیان“ میں فرماتے ہیں کہ ”اس آیتِ مبارکہ میں یہ بیان کیا گیا ہے، کہ مجرم اللہ تعالیٰ سے چھپ نہیں سکتے، اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا نگہبان ہے، انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دے گا، بندے اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے، اس کی گرفت اور محاسبہ سے کوئی بچ کر نہیں نکل سکتا۔“ علامہ کاشفی فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ سب کو دیکھتا، سب کی سنتا ہے، اس سے کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں۔“
اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپی باتوں سے بھی باخبر ہے
تنہائی یا رات کے اندھیرے میں بھی کسی برے کام کا ارتکاب نہ کریں، اپنے دل و دماغ کو پراگندہ خیالات سے پاک رکھیں؛ کہ اللہ تعالیٰ ہماری چھپی باتوں اور دل کے ارادوں سے بھی خوب واقف ہے اور سب دیکھ رہا ہے؛ کیونکہ اس کا علم ہر چیز پر غالب و حاوی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ [المؤمن: 19] ”اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔“
صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ ”نگاہوں کی خیانت اور چوری، نامحرم کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور دلوں کے راز، سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔“ لہٰذا کسی بھی چھوٹے یا بڑے گناہ کا ارتکاب نہ کریں؛ کہ نہ جانے کس گناہ کے باعث اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے اور بروزِ قیامت ہماری پکڑ ہو جائے۔
گناہوں پر دلیری
انسان روزانہ بڑی دیدہ دلیری سے گناہ اور نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے اور یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا، کہ ایک ایسی ذات ہمیں دیکھ رہی ہے، جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ آتی ہے، اللہ رب العالمین آنکھوں کی خیانت اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو بھی خوب جانتا ہے، مگر ہم گناہ و نافرمانی کرتے ہوئے لوگوں سے تو ڈرتے ہیں کہ ہمیں کہیں کوئی دیکھ نہ لے، لیکن ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور نہ شرمندگی و ندامت کا احساس ہوتا ہے کہ ربِ کائنات جل شانہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطًا [النساء: 108] ”وہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے، اللہ ان کے پاس ہے جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے اور اللہ ان کے کاموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔“
یہ آیتِ مبارکہ تقویٰ و طہارت کی جڑ ہے، اگر انسان یہ خیال رکھے کہ میرا کوئی حال اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں، تو گناہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ اپنے علم و قدرت سے ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، اس سے شرم و حیا زیادہ ہونی چاہیے، آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں، اس نے اپنے علم و قدرت سے ساری کائنات کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے۔
کوئی دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے
ایک رات حضرت سیدنا عمر بن خطاب (اپنے عہدِ خلافت میں)، لوگوں کی خبر گیری میں مصروف تھے کہ آپ کو تھکاوٹ محسوس ہوئی، آپ نے کسی گھر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی، اسی دوران کسی خاتون کو اپنی بیٹی سے یہ کہتے سنا کہ ”بیٹی! جاؤ اٹھو اور دودھ میں پانی ملا دو“، بیٹی نے کہا: ”اماں کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب نے اس سے منع فرمایا ہے!“ ماں نے کہا کہ ”بیٹی جاؤ تم دودھ میں پانی ملا دو، حضرت عمر تو ہمیں نہیں دیکھ رہے“، اس لڑکی نے جواب دیا کہ ”اماں حضرت عمر اگرچہ ہمیں نہیں دیکھ رہے، لیکن ان کا رب تو دیکھ رہا ہے!“ حضرت سیدنا عمر کو اس نیک لڑکی کا جواب بہت پسند آیا، آپ نے اپنے غلام اسلم سے فرمایا: يا أسلم! علم الباب واعرف الموضع ”اے اسلم! اس دروازہ کی شناخت رکھنا، اور یہ جگہ بھی یاد رکھنا“ پھر وہاں سے آگے چل دیے۔
جب صبح ہوئی تو حضرت سیدنا عمر نے فرمایا: يا أسلم! امض إلى ذلك الموضع فانظر من القائلة، ومن المقولة لها، وهل لهم من بعل ”اے اسلم! وہاں جا کر معلوم کرو کہ وہ کون دو عورتیں تھیں جو آپس میں بات کر رہی تھیں؟ اور کیا ان کے ہاں کوئی مرد ہے؟“ حضرت سیدنا عمر فاروق کے غلام حضرت اسلم معلومات لے کر واپس آئے اور حضرت سیدنا عمر کو بتایا کہ وہ لڑکی کنواری اور غیر شادی شدہ ہے اور وہ عورت اس کی ماں ہے اور ان کے ہاں کوئی مرد نہیں۔
حضرت سیدنا عمر نے اپنے بچوں کو بلایا اور ان کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا، پھر فرمایا: هل فيكم من يحتاج إلى امرأة أزوجه؟ ولو كان بأبيكم حركة إلى النساء، ما سبقه أحد منكم إلى هذه الجارية ”کیا تم میں سے کسی کو عورت کی حاجت ہے تو میں اس کی شادی کرا دوں؟ اگر تمہارے باپ میں عورتوں کی حاجت ہوتی، تو تم میں سے کوئی بھی اس لڑکی سے (اس کی نیک نامی کے باعث) نکاح کرنے میں، مجھ پر سبقت نہ لے سکتا۔“ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر اور حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عمر نے عرض کی: ہم شادی شدہ ہیں، جبکہ آپ کے بیٹے حضرت سیدنا عاصم بن عمر نے عرض کی: ابا جان! میں غیر شادی شدہ ہوں لہٰذا آپ میری شادی کرا دیں۔ اپنے بیٹے کی رضامندی جان کر حضرت سیدنا عمر فاروق نے اس لڑکی کو پیغامِ نکاح بھیجا اور حضرت سیدنا عاصم سے اس کی شادی کرا دی، بعد میں اس نیک خاتون کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی والدہ بنیں۔
[سنی دنیا، جولائی 2024ء، ص: 22]
