| عنوان: | ویڈیو گیمز کے نقصانات |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
یہ دور ایسا دور ہے کہ ہر گھر میں تقریباً دو تین موبائل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اس گھر کے بچے بھی اس کا استعمال کر لیتے ہیں اور اس کام میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو اخلاقاً، شرعاً، عقلاً درست نہیں۔ جہاں موبائل کے فوائد ہیں، موبائل سے اچھے کام کیے جا سکتے ہیں، وہیں موبائل کے بے شمار نقصانات بھی ہیں، دنیا کو جہنم بنا سکتی ہیں۔ یہ ایک ایسی شے ہے کہ جس کا مثبت استعمال فائدہ ہی فائدہ رکھتا ہے اور منفی استعمال نقصان کے علاوہ کچھ بھی اثر نہیں چھوڑتا۔
آج میں ایک ایسے موضوع پر مقالہ لکھنے جا رہا ہوں جس میں اکثر بچے اور نوجوان مبتلا ہو چکے ہیں، جس کو ہم اپنی زبان میں ویڈیو گیمز کہتے ہیں۔
کامیاب مومن کا ایک وصف:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ترجمہ: اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 3] اس آیت میں فلاح پانے والے مومنوں کا یہ وصف نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ ہر بے مقصد اور باطل مشغلے سے کنارہ کش رہتے ہیں۔
ہمیں یہ آیہ کریمہ بتا رہی ہے: مسلمانوں! تمہاری یہ شان نہیں کہ تم بے کار کام میں مشغول ہو جاؤ، تم اپنے اوقات کو برباد کر دو۔ اگر تم فلاح و کامیابی چاہتے ہو تو وہ کام کرو جو شریعت کے دائرے میں رہ کر دنیا میں فائدہ مند ہو۔
فضول کام:
گیمز ایک فضول کام ہے، جس کا دنیا و آخرت میں ذرہ برابر بھی مفاد نہیں، بلکہ صرف خسارے ہی خسارہ نظر آتا ہے، اور اگر گیم کی لت پڑ جائے تو انسان مختلف امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے اور دنیا میں انسان کو اپاہج بنا سکتا ہے، اور جہنم کے گڑھے میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ اب آئیے، اس کے مختلف نقصانات کو دیکھتے ہیں۔
وقت کا ضیاع:
انسان کے لیے زندگی میں سب سے اہم چیز اس کا وقت ہے، اور گیمز انسان کے اس وقت کو ایسے برباد کر دیتی ہیں کہ جس کا اندازہ لگانا بھی صعب ہو جاتا ہے۔ جب کوئی گیم شروع کرتا ہے تو اگر یہ سوچ کر بھی شروع کرے کہ میں صرف 5 منٹ یا 10 منٹ کھیلوں گا، تو اس کے بدلے 5 گھنٹے یا 6 گھنٹے گزر جاتے ہیں، اور اس کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ میرا اتنا وقت گزر گیا۔ بعد میں افسوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اگر گیم کھیلنے سے پہلے یہ سوچ لیا جاتا، تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ اللہ پاک نے ہم میں سے ہر ایک کو دن و رات میں کل چوبیس (24) گھنٹے، یعنی 1440 منٹ یا 86400 سیکنڈ عطا فرمائے ہیں۔ دنیا میں کامیاب اور سکسس فل انسان وہی ہوا ہے، جس نے اپنے وقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ وقت کی اہمیت کے متعلق پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، ایک صحت اور دوسری فراغت۔“ [بخاری، ج: 4، ص: 222، حدیث: 6412]
وقت کی اہمیت کو اس بات سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وقت، یعنی زمانے کی قسم سورہ عصر میں ارشاد فرمائی ہے۔ اب ہم سب پر یہ ایک ضروری لازم ہے کہ اگر کامیابی چاہتے ہیں تو وقت کی قدر کریں، وقت کو اچھے کاموں میں صرف کریں اور فضول کاموں سے اجتناب کریں۔
ذہنی دباؤ اور تناؤ:
کثرت کے ساتھ گیمز کھیلنے والے ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ذہنی دباؤ ہو جائے تو پھر انسان یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز غلط ہے اور کون سی درست۔ بے چینی کا شکار ہو جانے کے بعد انسان ہر وقت پریشان رہتا ہے، اور کوئی کام اچھے اور بہتر انداز میں نہیں کر پاتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ناکامی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا۔ بے چینی ایک ایسی بیماری ہے، جس کے علاج اور سکون کے لیے انسان بہت محنت کرتا ہے تاکہ اسے سکون ملے۔ انسان پیسہ کماتا ہے، لیکن سکون پیسہ کمانے یا گیمز کھیلنے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ریاضت میں ہے۔ اس لیے ویڈیو گیمز کھیلنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے چین و سکون برباد ہو جاتا ہے۔
اگر ہم جتنی دیر ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں، اتنی دیر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، تو ہمارا دل معطر اور روشن ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی عبادات میں گزاریں اور بے کار کاموں سے اجتناب کریں۔
جسمانی بیماریاں:
ورزش نہ کرنے اور مسلسل ویڈیو گیمز کھیلتے رہنے کی وجہ سے انسان مختلف جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسم سست اور کمزور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں موٹاپا بڑھنے لگتا ہے۔ اسی طرح جسمانی حرکت نہ ہونے کی وجہ سے پٹھوں میں کھچاؤ، کمر درد، گردن درد اور سر درد جیسی شکایات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔
ویڈیو گیمز کی کثرت انسان کی آنکھوں پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔ مسلسل اسکرین کو دیکھتے رہنے سے آنکھوں میں جلن، کمزوری اور نظر کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح رات رات بھر گیمز کھیلنے کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی، جس کے باعث انسان تھکاوٹ، سستی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات انسان گیمز میں اس قدر مشغول ہو جاتا ہے کہ وہ کھانے پینے، ورزش کرنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے سے بھی غافل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے وقت کو مفید کاموں میں صرف کرے، ورزش کرے، اور ویڈیو گیمز جیسی فضول مصروفیات سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہ سکے۔
نیند کی کمی:
کچھ نوجوانوں کو اور بچوں کو گیم کھیلنے کی ایسی عادت بن گئی ہے کہ جب بھی ان کے ہاتھ میں موبائل آتا ہے، گیم شروع کر دیتے ہیں، اور کھیلتے کھیلتے پوری رات گزر جاتی ہیں اور اس کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح اس کی نیند میں کمی آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی پوری نیند نہیں لے پاتا، جو کہ سات یا آٹھ گھنٹے نیند لینا ایک انسان کے لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کا دماغ، اس کی سوچ اور فکر کی صلاحیت مستحکم رہے۔ لیکن جب وہ گیم کھیلنے میں پوری رات گزار دیتا ہے، نیند نہیں لے پاتا، اور دن میں بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گیم کھیلتے رہتا ہے، یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دن میں سوتا ہے، تو اب اگر نوجوان ہو تو اس کو نیند پوری نہیں آتی، کلاس نہیں لے پاتا صحیح طریقے سے، اور اگر کام کرنے والا ہو تو کام بھی اچھے طریقے سے نہیں کر پاتا۔ اس طرح اس کی نوکری اور پڑھائی متاثر ہو جاتے ہیں، جس کے سبب وہ یا تو اچھی تعلیم حاصل نہیں کر پاتا، یا پھر بے روزگار رہتا ہے۔
تعلقات کا خاتمہ:
انسان گیم کھیلنے میں اپنے اس وقت کو بھی گزار دیتا ہے، جس وقت میں اپنے رشتہ داروں، خاندان، الغرض تعلقات والوں سے ملنا چاہیے، اور نہ ملنے کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے نام کو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔ ایسے ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مکمل طور پر تعلقات کا خاتمہ ہو چکا ہوتا ہے۔
اب پھر کیا ہوتا ہے؟ اب یہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے، مگر لوگوں سے پہچان نہیں ہوتی کہ کس آدمی سے کس طرح بات کی جائے، کس سے کہاں پر کون سا کام لیا جائے، معلوم نہیں ہوتا، جس وجہ سے اس کو اپنی زندگی میں بہت ہی زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ٹھوکریں کھاتا رہ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ویڈیو گیمز کے نقصانات میں ایک اہم نقصان تعلقات کا خاتمہ بھی ہے۔
ذمہ دار کون؟
بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو نہ سمجھ ہوتی ہے اور نہ عقل۔ اس کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ خود سے موبائل چلا سکے اور گیمز وغیرہ میں خراب چیزیں دیکھ یا کھیل سکے۔ آخر یہ بچہ کیسے سیکھتا ہے؟ تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچے کے ہاتھ میں موبائل دے دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچہ مرضی سے کچھ بھی دیکھتا ہے اور کچھ بھی کرتا ہے۔ والدین کی اس طرف توجہ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بچہ گیم کی طرف آ جاتا ہے، اور پھر گیم کھیلتے کھیلتے اس کی عادت بن جاتی ہے۔
عادت بن جانے کے بعد پھر اس سے یہ عادت کا خاتمہ بعید الوقوع ہو جاتی ہے۔ اس مسئلہ کو کیسے حل کیا جائے؟ اب کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تو توجہ اس بات کی طرف کی جائے کہ والدین کو چاہیے کہ بچہ موبائل میں کیا دیکھتا ہے، کیا چلاتا ہے اور کیا کرتا ہے، ان سب چیزوں پر توجہ دینے کی بے حد ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنی اولاد اور بچے کو سدھارنا چاہتے ہیں تو وہ کیا دیکھتا ہے، اس پر نظر رکھیں، اور جو بری چیزیں دیکھتا ہے ان سے منع کیا جائے اور اسے باز رکھا جائے، تو آپ کی اولاد اچھی بن سکتی ہے۔
گیم کے سبب اموات:
اب آئیے، اس واقعے کو بیان کیا جاتا ہے جس میں گیم کے سبب لوگوں کی اموات ہوئیں۔ حاجی عمران عطاری کی ایک ویڈیو دیکھی، جس میں وہ بیان فرما رہے تھے کہ: ”میں صبح ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ آج میرے پاس دو مریض آئے، جو پاگل ہو گئے تھے۔“ حاجی عمران عطاری صاحب نے پوچھا: ”کس وجہ سے؟“ تو ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ لاک ڈاؤن میں پورا دن گیم کھیلتے تھے، جس کی وجہ سے وہ دونوں پاگل ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا سے ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ایک شخص کو اس کے والدین نے گیم کھیلنے سے منع کیا تو اس نے خود کشی کرلی، اور اسی طرح ایک شخص کی بیوی نے اپنے شوہر کو منع کیا کہ گیم نہ کھیلو، تو اس شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اسی طرح کے کئی واقعات ہیں جن کو بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن طوالت ہو جائے گی، اس وجہ سے اس کو مختصر کیا گیا۔ گیمز کی وجہ سے بہت سارے حادثات اور خرابیاں پیش آ چکی ہیں۔
حاصل کلام:
گیم کھیلنا ایک فضول کام ہے، جس کا مقصد اور فائدہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس سے کئی طرح کی بیماریاں، پریشانیاں، نیند کی کمی، جسمانی امراض، اور اموات ہونے کا بھی خدشہ ہو سکتا ہے۔ الغرض، گیم کے بے شمار خرابیاں ہیں۔ لیکن یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ یہاں گیم سے مراد وہ گیمز ہیں جن میں شرعی طور پر کوئی خرابی پائی جاتی ہو۔ البتہ وہ گیمز کھیلی جا سکتی ہیں جن میں دینِ اسلام کی بات ہو، جیسے ذہنی آزمائش۔ اسی طرح کی بعض دینی گیمز جیسے نحو کی دنیا، صرف کی دنیا، لیکن جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور جس کے ذریعے جوا وغیرہ کھیلا جاتا ہو، شرط وغیرہ لگائی جاتی ہو، وہ سب ناجائز اور حرام ہیں۔ عقل مند وہی ہے جو اپنے وقت، صحت اور صلاحیتوں کو ایسے کاموں میں استعمال کرے جو دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچانے والے ہوں۔
