Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ (قسط: دوم)

سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ (قسط:دوم)
عنوان: سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ (قسط:دوم)
تحریر: محمد مرغوب حسن قادری اعظمی
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ

اس طرح کے بے شمار سوالات و جوابات ہیں جیسا کہ آپ اسی کتاب کے صفحات میں بالتفصیل مطالعہ فرمائیں گے، آپ کے فتاویٰ عشقِ رسول اور مذہبِ حقہ کی حفاظت و نصرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ فرقہائے باطلہ خصوصاً وہابیہ دیوبندیہ کے لیے آپ کا قلم شمشیرِ براں تھا۔ علمی گیرائی و باریک بینی مخالفین کو بھی مسلم تھی۔ جیسا کہ آپ کا مشہور حریف مناظر مولوی منظور سنبھلی جسے آپ نے درجنوں مناظروں و مباحثوں میں ساکت کیا ہے، پہلی مرتبہ جب آپ حاضریِ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرمین طیبین کا سفر فرما رہے تھے تو اتفاق سے آپ کے جہاز میں ہی تھا۔ ایک مسئلے کے سلسلے میں جب وہ آپ کے پاس معلومات کے لیے آیا تو آپ نے کس طور پر اس کا جواب دیا، یہ بحث دلچسپی سے خالی نہ ہوگی۔ جہاز میں ایک روز منظور نعمانی اپنے مولویوں کے ساتھ حضرت کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ کیا میں تھوڑی دیر بیٹھ سکتا ہوں؟

حضرت: میں آپ کو کیسے منع کرسکتا ہوں جہاز میری ملک تو ہے نہیں ورنہ میں آپ کو جہاز میں سوار بھی نہ ہونے دیتا اس لیے کہ آپ میرے نزدیک اپنے عقائدِ کفریہ کے سبب شرعاً کافر مرتد دشمنِ خدا و عدوِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، خیر آئیے بیٹھیے۔

منظور: ہم لوگوں کے درمیان ایک مسئلۂ فقہیہ پر بحث ہو رہی ہے اور ہم سب نے آپ کو حَکم بنایا ہے۔ لہٰذا کچھ تکلیف دینا چاہتا ہوں۔

(اس ضمن میں عقائدِ دیوبند سے متعلق کچھ مزید باتیں ہونے کے بعد پھر اصل گفتگو شروع ہوئی۔)

منظور: کیا اعلیٰ حضرت نے مناسکِ حج سے متعلق کوئی رسالہ تحریر کیا ہے؟

حضرت: جی ہاں! حضور اعلیٰ حضرت رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ نے مناسکِ حج میں بھی نہایت بہترین رسالہ مبارکہ تحریر فرمایا ہے، کئی بار شائع ہوچکا ہے، یہ دیکھیے میرے پاس بھی موجود ہے۔ اس کا تاریخی نام ”انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ“ ہے۔

منظور: اس میں اعلیٰ حضرت نے ہندوستان سے آنے والوں کے لیے احرام باندھنا کہاں سے تحریر فرمایا ہے؟

حضرت: محاذاتِ یلملم سے تحریر فرمایا ہے۔ جیسا کہ تمام فقہائے کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ آنے والا اگر میقات سے ہوکر نہ گزرے تو جب سب سے پہلے کسی ایسے مقام سے ہوکر گزرے گا جو کسی میقات کے محاذی ہے تو وہیں سے اس کو احرام باندھنا ضروری ہے۔

منظور: مگر ملا علی قاری نے تو لکھا ہے جو حاجی میقات سے نہ گزرے تو وہ جدہ سے احرام باندھے۔

حضرت: مگر ہم ملا علی قاری کے مقلد نہیں، تمام ائمہ حنفیہ علیہم الرحمہ کی تصریحاتِ جلیلہ کے خلاف ایک ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری کا تفرد ہم کیوں کر تسلیم کرسکتے ہیں، ملا علی قاری تو ملا علی قاری ہیں ہم تو ائمہ مذہب رضی اللہ عنہم کے تفردات کو بھی قبول نہیں کرسکتے۔

منظور: مگر یلملم تو جہاز سے ہم کو نظر نہیں آتا پھر اس کی محاذات ہم کو کیوں کر معلوم ہو؟

حضرت: جہاز والے اطلاع دے دیتے ہیں کہ اب جہاز یلملم کے محاذات میں آگیا۔

منظور: جہاز والوں کو بھی یلملم نظر نہیں آتا، پھر ان کا کہنا کیوں کر معتبر ہوگا؟

حضرت: ان کے سامنے نقشہ، قطب نما، گھڑی تینوں چیزیں بالکل صحیح ہوتی ہیں۔

منظور: نقشے کا کیا اعتبار!

حضرت: نقشے، قطب نما، اور گھڑی کا اعتبار نہ کیا جائے تو جہاز کا سفر ہی دشوار ہوجائے کہیں کا کہیں چلا جائے اور پہاڑ سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے۔

منظور: مگر جہاز والے تو کافر ہوتے ہیں، پھر ان کی خبر کیونکر معتبر ہوگی؟

حضرت: دیانات میں کافر کی خبر معتبر نہیں امورِ دنیا میں تو معتبر ہے۔

منظور: مگر احرام باندھنا تو امورِ دینیہ سے ہے۔

حضرت: احرام باندھنا ضرور امورِ دینیہ سے ہے، لیکن جہاز کا یلملم سے محاذی آجانا تو ایک دنیاوی خبر ہے، جہاز والے کفار یہ تو نہیں کہتے کہ حاجیو احرام باندھ لو، وہ تو سیٹی بجا کر صرف اس امر کی اطلاع دیتے ہیں کہ اب جہاز یلملم کے محاذات میں آگیا۔

منظور: الحمد للہ میری تسلی ہو گئی جو میرا خیال تھا آپ کے جوابات سے اس کی تائید ہو گئی اب میں اجازت چاہتا ہوں۔

مولوی منظور اٹھ کر جانے لگا تو حضرت نے فرمایا: ”منظور ایک بات سنتے جاؤ جو ضروری ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی قاسم نانوتوی، مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی اپنی کفریاتِ قطعیہ یقینیہ کی بنا پر ایسے کافر و مرتد ہیں کہ جو ان کی کفریات پر باخبر ہوکر انہیں کافر نہ سمجھے یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“

منظور اٹھتے ہوئے کہنے لگا: ”آپ مناظرہ بھی کرتے جاتے ہیں اور یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ یہ مناظرہ نہیں ہے۔“ حضرت نے فرمایا: ”میں نے یہ حکم اس لیے بیان کیا کہ کل قیامت میں احکم الحاکمین جل جلالہ، اور اس کے حبیب رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضری کے وقت تم یہ نہ کہہ دو کہ ہم نے دورانِ سفر حرمین طیبین حشمت علی کو دینی مسائل میں حَکم بنایا تھا۔ اس نے اس وقت احرام کا مسئلہ تو بیان کیا مگر تکفیرِ علمائے دیوبند کا حکم ظاہر نہ کیا ورنہ چونکہ ہم حَکم بنا چکے تھے اگر اس نے تکفیر کا مسئلہ بیان کیا ہوتا تو وہ بھی ہم تسلیم کرلیتے۔“ اتنا سن کر مولوی منظور سنبھلی دیوبندی خاموش اٹھ کر چلا گیا۔

اللہ اللہ! یہ تھا آپ کے علوم و معارف کا عالم، جس مسئلے پر بات آگئی برملا اس کا جواب دیتے گئے۔ سچ کہا خطیبِ مشرق حضرت علامہ مشتاق احمد صاحب نظامی الہ آبادی علیہ الرحمہ نے:

اپنے بیگانے سبھی کہتے ہیں تیری موت پر
بو حنیفہ کی فقہ کا راز داں جاتا رہا

بالآخر علوم و فنون کا یہ کوہِ گراں اور عشق و وارفتگیِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا سے سرشار یہ دیوانہ ساٹھ سال کی عمر تک عظمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، حبِ اولیا اور غلامیِ سرکار غوث الوریٰ کا درس دیتے ہوئے ۸ محرم الحرام ۱۳۸۰ھ کو جان جانِ آفریں کے سپرد کرتا ہے۔ ہوش و حواس کا یہ عالم کہ وصال کے وقت شہزادۂ اکبر جانشین شیر بیشۂ سنت حضرت علامہ و مولانا مشاہد رضا خان صاحب کو حکم دیتے ہیں کہ سورہ یٰسین شریف کی تلاوت بلند آواز سے کرو۔ اور آپ آنکھ بند کیے ہوئے سن رہے ہیں۔ کہیں کہیں اگر پڑھنے میں لفظ صاف معلوم نہ ہوا تو آپ نے خود اس کو دہرا کر صحیح پڑھنے کی تاکید کی پھر يَا اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور یا غوث کی صدائیں بلند کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

اخیر میں ہم اس حقیقت کے اظہار کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ نشر و اشاعت کے یہ سارے جلوے شہزادگانِ شیر بیشۂ سنت خصوصاً شہزادۂ اوسط مقرر شعلہ بیان فاضل جلیل حضرت مولانا الحاج محمد ادریس رضا خاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی کے رہینِ منت ہیں جن کی توجہات سے یہ کتاب بھی منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئی۔

خزاں کی چھاتی کی دھڑکنوں سے بہار نکلے گی رقص فرما
اگر ہے جذبِ حسن مکمل تو حسن کی کچھ کمی نہیں ہے

اللہ رب العزت مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کی روشنی میں ہمیں زندگی گزارنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

[ماخوذ از: فتاویٰ حشمتیہ جلد اول، ص ۴۶]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!