Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نشہ کی تباہ کاریاں اور اسلامی تعلیمات|مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی

نشہ کی تباہ کاریاں اور اسلامی تعلیمات
عنوان: نشہ کی تباہ کاریاں اور اسلامی تعلیمات
تحریر: مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی
پیش کش: سعدیہ سلطانہ عطاریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

کھانا اور پینا انسان کی بنیادی ضرورت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالی نے انسانی زندگی کی بقا اور تحفظ کے لیے کھانے اور پینے کو ذریعہ بنایا ہے جس کے ذریعے انسان اپنی بھوک اور پیاس مٹاتا ہے۔ لیکن کھانے پینے کو انسانی خواہشات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اللہ نے کھانے پینے کی چیزوں کے لیے پاک اور حلال ہونے کی شرط لگائی ہے۔ حکمت ربی کے مطابق جن چیزوں کا استعمال انسان کے لیے فائدہ مند تھا ان کے کھانے اور پینے کی اجازت دی گئی اور جن چیزوں کے استعمال سے دنیوی اور اخروی نقصان تھا ان چیزوں کے استعمال پر اللہ تعالیٰ نے پابندی لگادی اور ان کا استعمال حرام قرار دیا گیا۔

نشے کا چلن اور دور حاضر:

کسی زمانے میں نشہ صرف پی کر ہی کیا جاتا تھا لیکن ترقی یافتہ زمانے میں نشے نے بھی ترقی کی اور نشہ کی نئی نئی شکلیں مارکیٹ میں آگئیں۔ اب پینے کے ساتھ ساتھ ناک سے سونگھ کر، چلم میں بھر کر، ٹیبلیٹ اور گولی کی شکل میں کھا کر، انجیکشن کی شکل میں نسوں میں لگوا کر بھی نشہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شراب کو نئے نئے ناموں سے بیچا جاتا ہے اور نوجوان نسل دھڑلے سے نشہ کرتی ہے۔ ٹوکنے پر کہتے ہیں کہ یہ تو بیئر اور پھلوں کا جوس ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا کہہ کر وہ لوگوں کو فریب دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کاش! انہیں شعور ہوتا کہ وہ کسی اور کو نہیں خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ رات کو دن کہنے سے رات کا اندھیرا اجالا نہیں ہو جاتا، اسی طرح شراب کو کوئی بھی نام دیا جائے وہ شراب ہی رہتی ہے چاہے اسے بیئر کہیں یا فروٹ جوس! جو چیز نشہ لاتی ہے وہ حرام ہے۔

سرکار مدینہ علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:

كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [بخاری شریف: 2/ 1063]

کسی بھی طریقے سے نشہ کیا جائے جائز نہیں ہے، ہر نشہ لانے والی چیز کسی بھی شکل میں ہو اس کا استعمال حرام ہی رہے گا۔

نشے کا بڑھتا چلن اور وجوہات:

دور حاضر میں شراب اور نشہ خوری کا چلن بہت بڑھ گیا ہے۔ اچھے خاصے سفید پوش گھرانوں میں بھی نشہ خوری کے منحوس پنجے گڑ چکے ہیں۔ اگر یہ بری عادت نوجوانوں کی آوارگی کی بنا پر ہوتی تو اصلاح کی بھرپور گنجائش موجود تھی، افسوس اس بات کا ہے کہ گھر کے ذمہ داروں اور بزرگوں کو اس بری عادت کا پتا ہونے کے باوجود خاموش رہنا یا اشاروں کنایوں میں اس برائی کی حمایت کرنا انتہائی تکلیف دہ معاملہ ہے۔

جب مسیحا ہی دشمن جاں ہو تو کب ہو زندگی
کون راہ دکھلائے گا جب خضر بہکانے لگے

گھر کے ذمہ داران اور بزرگ ہی وہ ہستی ہوتے ہیں جن کا خوف بچوں کو برائیوں سے روکتا ہے لیکن بدلتے وقت میں بزرگوں کا رویہ بھی اس قدر بدل گیا کہ اب کھلی برائی کے بعد بھی نوجوانوں کو روکا جاتا ہے، نہ ہی ٹوکنے کی ہمت ہوتی ہے۔ الٹے ان برائیوں کی دبے لفظوں میں حمایت کی جاتی ہے:

  1. ارے ذرا خوشی کی وجہ سے پی لی تھی۔

  2. شادی میں ذرا سا آؤٹ ہو گئے تھے۔

  3. اب بچے ہیں، کہاں تک سمجھائیں۔

  4. بھئی جب دولت ہے تو تھوڑا بہت خرچ کرنے میں کیا حرج ہے۔

  5. اب نیا دور ہے، ہلکی پھلکی باتوں پر ٹوکنا بھی اچھا نہیں۔

یہ وہ ڈائیلاگ ہیں جنہیں سفید پوش گھروں کے ذمہ دار اس وقت بولتے ہیں جب کوئی ان کے بچوں کی شراب اور نشہ خوری کے بارے میں بتاتا ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے الٹے ان کی آوارگی کی حمایت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے نشہ خوری کا چلن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

سنیما اور انٹرنیٹ:

سنیما اور ٹی وی نے شراب نوشی اور نشہ خوری کو خاصا بڑھاوا دیا۔ مگر اس کا دائرہ قدرے محدود تھا لیکن انٹرنیٹ کی فراہمی نے ہر شخص کے ہاتھ پر ٹی وی اور جیب میں سنیما گھر بنادیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ انٹرنیٹ کے دریا میں ڈوبتے گئے اور برائیوں میں مبتلا ہوتے گئے۔ کہتے ہیں برائی اس وقت تک بری ہوتی ہے جب تک اسے برا سمجھا جائے۔ اگر دیکھنے کا انداز بدل جائے تو برائی بھی اچھی نظر آنے لگتی ہے۔ کسی زمانے میں شراب اور نشہ خوری اس لیے بھی بری لگتی تھی کہ وہ ظاہری طور پر بھی بری نظر آتی تھی۔ گندے علاقوں میں تیار ہوتی، سخت بدبودار ہوتی اور پینے والے لوگ بھی گندے ہوتے تھے۔ اس لیے عام آدمی بھی اسے بری نگاہ سے دیکھتا تھا لیکن بدلتے دور میں شراب نوشی اور نشہ خوری پر گلیمر کا تڑکا لگایا گیا اور اسے طرح طرح سے پرکشش بنا کر ظاہری برائی کو ختم کیا گیا۔ ادیبوں، شاعروں اور سینمائی افراد نے شراب کو انتہائی پرکشش اور جاذب نظر بنا کر پیش کیا۔ جس سے لوگوں میں اس کا برا پن قدرے کم ہوا۔ اس کی شروعات ادیبوں اور شاعروں نے ایسے اشعار سے کی جس میں شراب اور نشہ کو اچھا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ذرا یہ اشعار دیکھیں:

بے پیے ہی شراب سے نفرت
یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے؟

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراق
جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں؟
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
مے کدے جھومتے پیمانوں میں ہوتی ہلچل

بھلے ہی شاعر کی نظر میں ان اشعار کا دوسرا مفہوم ہو اور لفظ شراب علامتی طور پر استعمال کیا ہو لیکن ظاہر بینوں کے لیے اتنا کافی تھا۔ رہی سہی کسر سنیما نے پوری کردی۔ جہاں شراب کو انتہائی پرکشش بنا کر پیش کیا گیا۔ مشہور و معروف اداکاروں کو شرابی دکھا کر نوجوانوں کو شراب کی ترغیب دلائی گئی۔ شراب کو ایسے مشروب کے طور پر پیش کیا جو غموں اور تکلیفوں کا علاج ہے۔ بناوٹی عشق و محبت کے نام پر نشہ خوری کو جائز قرار دیا گیا۔ عقل سے پیدل نوجوانوں کے لیے یہ گلیمر کا تڑکا کام کر گیا اور نوجوان بھی جام سے جام ٹکرانے لگے۔ چھوٹے شہروں میں قدریں باقی تھیں، گھر کے آس پاس ایسا کرنا برا مانا جاتا تھا اس لیے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ وبا اتنا نہیں پھیل سکی مگر حقہ بار کے چلن نے چھوٹے شہروں کو بھی اپنی پکڑ میں لے لیا۔ اب حقہ نوشی کے نام پر چھوٹے شہروں میں بھی طرح طرح کے نشے عام ہو گئے۔ شروعات حقہ اور پان سے ہوتی ہے ایک دن شراب کا جام ہاتھ میں ہوتا ہے اور پاؤں بربادی کے دلدل میں۔

شراب کے بارے میں اسلامی تعلیمات:

قرآن کریم میں شراب کی مذمت اس طرح بیان کی گئی:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا [سورۃ البقرہ: 219]

لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔

یعنی شراب پینے اور جوا کھیلنے میں چھوٹا گناہ نہیں بلکہ گناہ کبیرہ یعنی بڑا گناہ ہے۔ یوں تو ہر گناہ، گناہ ہوتا ہے۔ کیونکہ گناہ کرنا اصل میں اللہ و رسول کے احکامات کی خلاف ورزی اور نافرمانی کرنا ہے۔ جو کسی طور بھی معمولی نہیں ہے۔ لیکن قرآن و حدیث میں بعض گناہوں کو چھوٹا اور بعض کو بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ گناہ کبیرہ کی تعریف میں علما کے کئی اقوال ہیں لیکن عام طور پر گناہ کبیرہ اس گناہ کو کہا جاتا ہے جس گناہ پر دنیا میں ہی کوئی شرعی سزا مقرر کی گئی ہو یا جس گناہ پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہوں یا جس گناہ پر جہنم کے عذاب وغیرہ کی وعید آئی ہو۔ اس طرح ہر وہ گناہ بھی گناہ کبیرہ میں شامل ہے جس کے مفاسد اور برے نتائج کسی کبیرہ گناہ کے برابر یا اس سے زائد ہوں، اسی طرح جو چھوٹے گناہ بھی جرات و بے باکی سے اور لگاتار کیے جائیں تو وہ گناہ بھی گناہ کبیرہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

اس تفصیل کی روشنی میں نشہ کرنے والے اپنا جائزہ لیں کہ دنیوی اعتبار سے نشہ کرنا چھوٹا نہیں بلکہ بڑا گناہ ہے۔ جس کے لیے جہاں آخرت میں سخت سزا ہے وہیں دنیا میں بھی ایسے گناہ کی شرعی سزا مقرر کی گئی ہے۔

ایک مغالطے کا جواب:

شراب کے بارے میں انسانی دماغوں میں ایک شیطانی خلل اور وسوسہ یہ بھی رہتا ہے کہ شراب پینے سے طبیعت کو سرور ملتا ہے اور اچھا پن محسوس ہوتا ہے۔ اس وسوسے کا جواب دیتے ہوئے قرآن فرماتا ہے: “وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا”، اس کا گناہ نفع سے زیادہ بڑا ہے۔ یعنی وقتی سرور اور مستی کو سب کچھ سمجھ لینا نادانی کی بات ہے یہ بس وقتی نفع ہے۔ اس کا نقصان کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ شراب کا وقتی نفع بس اس قدر ہے کہ انسان کو تھوڑی دیر کا سرور اور مزہ ملتا ہے لیکن اس کے نقصانات شمار سے باہر ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [سورۃ المائدہ: 90]

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں اور شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔

پچھلی آیت میں شراب کا ابتدائی حکم نازل ہوا تھا اس آیت میں شراب کا قطعی اور یقینی حکم نازل ہوا اور اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ اس آیت میں شراب کو گندا اور شیطانی کام قرار دیا گیا۔ یعنی جو شخص شراب پیتا ہے وہ گندا اور شیطانی کام کرتا ہے۔ اگر انسان گندے اور شیطانی کاموں سے بچنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ “فَاجْتَنِبُوهُ” ان کاموں سے دور رہے۔ جب ان شیطانی کاموں سے بچے گا تبھی “لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ” یعنی تا کہ تم فلاح پاؤ کی بشارت کا حق دار ہوگا۔ عربی میں شراب کے لیے خمر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ خمر کے لغوی معنی ڈھانپنا ہے۔ شراب کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ اس کو بناتے وقت برتن کو کسی کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے یا اسے ڈھک دیا جاتا ہے۔ شرعی طور پر شراب کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ اسے پینے کے بعد نشہ انسانی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے اور عقل پر ایک قسم کا پردہ ڈال دیتا ہے۔

اسلام میں پانچ چیزوں کی حفاظت کو بنیادی مقصد میں شمار کیا گیا ہے:

  1. دین کی حفاظت

  2. جان کی حفاظت

  3. عقل کی حفاظت

  4. نسل کی حفاظت

  5. مال کی حفاظت

ان پانچ مقاصد میں “عقل کی حفاظت” کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جو انسان شراب پیتا ہے یا کسی اور انداز میں نشہ کرتا ہے اس کی عقل پر اس کا اختیار نہیں رہتا۔ شراب کا نشہ اس کی عقل کو زائل کر دیتا ہے۔ نشے میں دھت رہتا ہے۔ نشے میں بیوی اور بہن کا فرق بھول جاتا ہے۔ باپ اور بھائی کا احترام یاد نہیں رہتا۔ شراب کے نشے میں انسانی عقل بالکل زائل اور ختم ہو جاتی ہے اب نہ اسے اپنی آبرو کا خیال رہتا ہے نہ کسی اور کی عزت کا۔ شراب کی خباثت اور برائی اس قدر ہے کہ اسے برائیوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ.

شراب برائیوں کی ماں ہے۔ یعنی جس طرح ماں کے پیٹ سے اولادیں جنم لیتی ہیں اسی طرح شراب سے دیگر برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جو انسان شراب کا عادی ہو جاتا ہے وہ دیگر برائیوں کی طرف خود بخود چل پڑتا ہے۔ اس لیے اسلام نے فتنہ و فساد کی جڑ کاٹنے کے لیے شراب کو سختی سے حرام قرار دیا اگرچہ ایک بوند ہی کیوں نہ ہو۔

آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً: عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا، وَالْمُشْتَرِيَ لَهَا، وَالْمُشْتَرَاةَ لَهُ. [سنن ابن ماجہ، ص: 252]

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب سے جڑے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جو شخص شراب کے لیے شیرہ نکالے یا نکلوائے، جو پیے، جو اٹھا کر لائے، جس کے پاس لائی جائے، جو پلائے، جو بیچے، جو اس کی قیمت کھائے، جو خریدے اور جس کے لیے خریدی جائے (ان سب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے)۔

شراب کے متعلق اسلامی نظریہ ایک دم صاف اور واضح ہے۔ اسلام نے نشہ خوری کو ذرہ برابر رعایت نہیں دی بلکہ شراب پینے پر کوڑے لگانے کی سزا بھی مقرر فرمائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ. [ابو داؤد، ج: 2، ص: 212]

جو لوگ شراب پئیں انہیں بطور سزا کوڑے مارو۔ دوبارہ شراب پئیں تو پھر کوڑے مارو۔ تیسری بار شراب پئیں تو پھر کوڑے مارو۔ چوتھی بار شراب پئیں تو انہیں قتل کر دو۔ اس حدیث پاک میں شرابی کو بطور سزا کوڑے مارنے اور لگاتار تین بار نہ ماننے اور چوتھی بار پینے پر قتل تک کا حکم دیا ہے حالانکہ علما فرماتے ہیں کہ قتل کا حکم محض سختی کے لیے ہے حقیقت میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ بس اس کے ذریعے یہ بتانا مقصود ہے کہ عادی شرابی ہونا اتنا برا ہے کہ اس کی سزا قتل جیسی سخت ہو۔ یہ شراب کی اسی نحوست کی بنا پر مولائے کائنات علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں اور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑے پھر دریا خشک ہو اور وہاں گھاس پیدا ہو اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں۔ [خزائن العرفان]

شراب کے نقصانات:

کچھ وقت پہلے ملک کے ایک معروف اور غیر مسلم رائٹر کا ایک انٹرویو پڑھا تھا جس میں اس شخص نے شراب کی حرمت اور عقل کے ختم ہو جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا: “مطلقاً شراب پینے کو حرام نہیں کہنا چاہیے بلکہ حد سے زیادہ پینے کو حرام کہنا چاہیے میں تقریباً سو سال سے شراب پی رہا ہوں لیکن کبھی شراب نے میری عقل پر قبضہ نہیں کیا کیونکہ میں بس اتنی شراب پیتا ہوں جسے میں کنٹرول کر سکوں اس لیے مطلقاً شراب کو حرام نہیں کہنا چاہیے بلکہ اتنی مقدار کو حرام کہنا چاہیے جو ہوش و حواس چھین لے۔” لوگوں کو لگا اس رائٹر نے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ لیکن شاید اس رائٹر کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ جو چیز اپنے آپ میں بری ہوتی ہے اس کی برائی ناپ تول کر طے نہیں کی جاتی بلکہ جو چیز انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے وہ ہر حال میں نقصان دہ ہوتی ہے بھلے ہی ایک قطرہ ہو یا ایک گھونٹ!

اس کو ذرا بہتر انداز میں اس مثال سے سمجھیں کہ زہر انسان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے اگر اسے ٹھیک ٹھاک مقدار میں کھا لیا جائے تو چند ہی لمحات میں انسان کی موت ہو جاتی ہے۔ لیکن کئی بار انسان کو زہر کی ہلکی ڈوز دی جاتی ہے۔ جسے سلو پوائزن (slow poison) یعنی دھیما زہر کہا جاتا ہے۔ اتنے ہلکے زہر سے انسان فوراً نہیں مرتا ہے وقتی طور پر اس کا جسم ہلکے پھلکے زہر کو جھیل جاتا ہے لیکن لگاتار استعمال سے آہستہ آہستہ اس کا اندرونی نظام خراب ہوتا جاتا ہے اور ایک دن انسان مر جاتا ہے۔ اب اگر کوئی عقل سے کورا انسان یہ کہے کہ کوئی مطلقاً زہر کھانے کو برا نہ کہے بلکہ زیادہ مقدار میں کھانے کو برا کہے کہ تھوڑا زہر کھا کر میں کنٹرول کر لیتا ہوں۔ کیا کوئی عقل مند انسان اس بات کو قبول کرے گا؟ بڑے سے بڑا نادان بھی اسے اعلی درجے کی بے وقوفی اور خودکشی ہی کہے گا۔ یہی حال شراب کا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں شراب زہر قاتل ہے جو پینے والے کے ہوش و حواس ختم کر دیتی ہے۔ اس لیے مطلقاً شراب کو حرام قرار دیا گیا۔

آقائے کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ. [ترمذی: 902]

جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لائے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ نشہ کرنے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں حادثات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ اپنی جان گنواتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگ نشے کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سالانہ کتنے ہی لوگ محض شراب کی بنا پر مر جاتے ہیں۔

شراب اکیلی نہیں آتی اس کے ساتھ درجنوں دوسری برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ جوا بازی، زنا کاری، لوٹ مار، قتل و غارت گری اسی نشے کی بدولت ہوتی ہیں۔

نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی: تم شراب کی آدھی دکانیں بند کروا دو تو میں تمہیں آدھے اسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہو جانے کی ضمانت دیتا ہوں۔

The Indian Express 25 مئی 2016 کی رپورٹ کے مطابق شراب نوشی کی وجہ سے ہر 96ویں منٹ میں ایک انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اسی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بڑے جرائم اور حادثات کرنے والے زیادہ تر لوگ شراب پینے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور چوری ڈکیتی کرنے والے لوگ بھی عموماً شرابی ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں تمل ناڈو میں 30 سال سے کم عمر والی بیوہ عورتوں کی بڑی تعداد میں اصل وجہ شراب نوشی کو بیان کیا گیا ہے۔

اسی اخبار میں اقتصادیات کے ایک ماہر کا تجزیہ ذکر کیا گیا کہ کیرالا کے ہسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے 25 فیصد مریض نشہ کے شکار ہوتے ہیں، نیز جرائم کرنے والوں میں سے 69 فیصد لوگ نشے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ این ڈی ٹی وی (NDTV) کی خبر کے مطابق ہندوستان میں ہر چار منٹ میں سڑک حادثہ میں ایک آدمی مرجاتا ہے۔ صرف 2013 میں سڑک حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سینتیس ہزار سے زیادہ ہے جو ہندوستان کی جنگوں میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ تو وہ تعداد ہے جو دستاویزوں میں درج ہے، حقیقت میں مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ نہ جانے کتنے افراد ان حادثات کا شکار ہو کر عمر بھر کے لیے اپاہج ہو جاتے ہیں۔ شراب کی وجہ سے بڑھ رہے سڑک حادثات کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں کو حکم دیا کہ ہائی وے پر 500 میٹر تک شراب کی کوئی دکان نہیں ہونا چاہیے۔ شراب کی وجہ سے نہ جانے کتنی عورتیں بیوائیں ہوتی ہیں، کتنے بچے یتیم بن جاتے ہیں، کتنے بچوں کی تعلیم چھوٹ جاتی ہے۔ کتنے ہی بچوں کا بچپن شراب کی نحوست کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ کتنے ہی نوجوان جوانی کی بہار دیکھنے سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں اور جوانی میں ہی بے موت مر جاتے ہیں۔

غرض یہ کہ کسی بھی اینگل سے دیکھیے شراب ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ نہ دنیا کا فائدہ نہ آخرت کا بھلا! طرفہ تماشا یہ کہ دولت بھی جاتی ہے اور صحت بھی برباد ہوتی ہے۔ مفت کی بدنامی الگ ملتی ہے۔ بھلے ہی شراب کو بہت زیادہ گلیمرائز کر دیا گیا ہے۔ مگر آج بھی عام لوگ شرابی کو دیکھتے ہیں تو پیکڑ، بیوڑا، چرسی، بھنگیڑی، نشیڑی اور مختلف برے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ یعنی تمام تر خوب صورت پیکنگ کے باوجود نشہ خوری آج بھی ایک گندگی اور غلاظت کا ہی نام ہے جسے آج بھی کوئی بھلا انسان اچھا کہنے کو تیار نہیں ہے۔ [حوالہ: سہ ماہی عرفان رضا مراد آباد، ص: 74 تا 78]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!