| عنوان: | قرب اس کے واسطے ہے جو قربان ہو گیا... |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
| پیش کش: | ادارہ لباب |
قربانی صرف ایک ظاہری روایت نہیں، بلکہ روح کی بیداری اور تسلیم و رضا کا وہ اعلیٰ ترین مقام ہے جہاں بندہ اپنے مالکِ حقیقی کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار ہو جاتا ہے۔
خلیل اللہ کا منصب یوں ہی عطا نہیں ہوتا؛ اِس راہ میں اپنے دل کا سب سے محبوب ”اسماعیل“ بارگاہِ خداوندی میں پیش کرنا پڑتا ہے۔
اہلِ معرفت فرماتے ہیں کہ ہر انسان کے وجود کے نہاں خانے میں کوئی نہ کوئی ”اسماعیل“ ضرور پوشیدہ ہوتا ہے؛ کسی کا نفس، کسی کی خواہش، کسی کا مال، کسی کی محبت، کسی کا عہدہ اور کسی کی اپنی انا!
یہ وہ پسندیدہ ترین اثاثہ ہے جسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا انسانی نفس کے لیے سب سے دشوار ہوتا ہے، جب کہ سچ تو یہ ہے کہ اسے قربان کیے بغیر محبتِ الٰہی کا ذائقہ چکھنا ممکن ہی نہیں۔ پس مرتبۂ خلیلی پانے کے لیے، ہر دور کے ابراہیم کو اپنے وقت کے ”اسماعیل“ کی قربانی دینی ہوگی۔
ہمارا ”اسماعیل“ کون ہے؟
یہ اسماعیل کسی ایک روپ میں نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص کی زندگی میں اس کی آزمائش مختلف شکل اختیار کرتی ہے:
- نفس اور انا: جو حق کے سامنے جھکنے نہیں دیتے
- مال و دولت: جس کی ہوس انسان کو اندھا کر دیتی ہے
- جاہ و منصب: جو تکبر کا باعث بن جاتا ہے
- دنیاوی محبتیں: جو دل کا بت بن کر خدا کی یاد سے غافل کر دیتی ہیں
یاد رکھیے! قربانی محض ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے پسندیدہ ترین اثاثے کو مالک کے حضور پیش کر دینے کا پختہ عہد ہے۔ ہر وہ شے، ہر وہ تعلق اور ہر وہ خواہش جو آپ کو آپ کے رب سے دور کرے، اسے کاٹ پھینکنا ہی اصل بندگی ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر کے بتوں کو پاش پاش نہیں کرتا، تب تک عبادتوں میں وہ سرور پیدا نہیں ہوتا، ریاضتوں میں وہ نور نہیں جھلکتا۔
لہذا عیدِ قرباں کے اس مبارک موقع پر ذرا ٹھہر کر اپنے گریبان میں جھانکیں اور خود سے یہ سوال کریں: ”میرا اسماعیل کون ہے؟“ اور کیا میں رب کی رضا کے لیے اپنے اس اسماعیل پر چھری چلانے کو تیار ہوں؟ اگر ہم واقعی قربِ الٰہی کے طلب گار ہیں، تو ہمیں ہر اس حجاب کو ہٹانا ہوگا جو ہمارے اور خدا کے درمیان حائل ہے۔ ہر اس دیوار کو توڑنا ہوگا، جو قرب الٰہی سے روک رہی ہے؛ کیونکہ بندگی کا کمال خود کو بچانے میں نہیں، بلکہ محبوبِ حقیقی کے سامنے خود کو ہار دینے میں ہے۔ جب تک دل کا ”اسماعیل“ قربان نہیں ہوتا، محبت کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے۔ پس، آئیے! اس عید پر صرف رسمِ خلیل ہی نہیں، جذبۂ خلیل اللہ بھی بیدار کریں، کیونکہ کائنات کا سچا اور ابدی اصول یہی درس دیتا ہے کہ وصالِ یار کا حقیقی سرور صرف اسی کا مقدر ہے جو عشق میں اپنی ہستی مٹا دے۔
قرب اس کے واسطے ہے
جو قربان ہو گیا
اور حقیقتِ قربانی تو جان سے جانِ من تک کا سفر ہے۔
