| عنوان: | امتناع کذب باری و امتناع نظیر محمدی |
|---|---|
| تحریر: | رئیس التحریر علامہ یٰسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
افادات صمدیہ، مطبوعہ آگرہ ۱۲۸۹ھ از حافظ بخاری حضرت مولانا سید شاہ عبدالصمد چشتی سہسوانی ثم پھپھوندوی (متوفی ۱۳۲۳ھ / ۱۹۰۵ء) میں مسطور و مذکور ہیں۔
۱۲۸۰ھ اور ۱۲۸۴ھ کے درمیانی عرصے میں مولانا نذیر حسین بہاری دہلوی (متوفی رجب ۱۳۲۰ھ / ۱۹۰۲ء) نے اثر ابن عباس کو بنیاد بنا کر امکان نظیر محمدی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔
افادات صمدیہ میں اثر ابن عباس کا سہارا لیتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ امثال (ہم شکل و ہم مثل) بالفعل موجود ہیں۔ اس افادات صمدیہ کے اصل مصنف مولانا امیر حسن سہسوانی، شاگرد مولانا نذیر حسین بہاری دہلوی ہیں۔ مگر ان کے ایک شاگرد مولانا اشرف علی (غیر مقلد) کے نام سے ۱۲۸۹ھ میں میرٹھ سے اس کی طباعت و اشاعت ہوئی۔ [افادات صمدیہ از حافظ بخاری، سید عبد الصمد چشتی سہسوانی مطبع الہی، آگرہ، ۱۲۸۹ھ]
مولانا امیر احمد سہسوانی و مولانا نذیر احمد سہسوانی، یہ دونوں غیر مقلد علما مولانا محمد احسن نانوتوی (متوفی ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۴ء) کے صحبت یافتہ تھے۔
یہ لوگ اثر ابن عباس کو دلیل بنا کر مختلف طبقات ارض میں آدم، نوح، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دیگر انبیاء مانتے تھے۔ اور یہ اس لیے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر ممکن ہی نہیں بلکہ واقع بھی ثابت کی جاسکے۔
اس نئی کروٹ اور نئی صورت حال سے یہ ضابطہ قارئین کو اچھی طرح سمجھ میں آجانا چاہیے کہ جو چیز ممکن ہے وہ واقع بھی ہوسکتی ہے۔
اب انھیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جس نظیر محمدی و تمثیل خاتم النبیین کو پہلے محض ممکن مانا گیا تھا، وہ ممکن اب علمائے سہسوان یعنی ایک بڑے طائفہ وہابیہ نے واقع بھی مان لیا۔ فَإِلَى اللَّهِ الْمُشْتَكَى۔
بات بات پر صحیح حدیث، صحیح حدیث کا مطالبہ کرنے والے اس طائفہ وہابی کو ایسے اہم اور بنیادی اعتقادی مسئلہ میں کسی حدیث حسن کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب ایک اثر شاذ پر اکتفا کر لیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ جمہور اہل اسلام کے عقیدہ ختم نبوت کی بنیاد (امتناع نظیر محمدی) کو منہدم کرتے ہوئے اپنے بعض پیشواؤں کی شوشہ بازی کو سہارا دینا اور ان کی ناک اونچی رکھنا ہے۔
اسلام و ایمان اور اہل اسلام و ایمان کا جو بھی حشر ہو اس سے انھیں کوئی مطلب ہے اور نہ ہی اس کی کوئی پروا۔ فَإِلَى اللَّهِ الْمُشْتَكَى۔
پروفیسر محمد ایوب قادری (کراچی، متوفی نومبر ۱۹۸۳ء) لکھتے ہیں: “یہاں اس امر کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اثر ابن عباس کے مسئلہ میں علمائے بریلی اور بدایوں نے مولانا محمد احسن نانوتوی کی بڑی شد و مد سے مخالفت کی۔ بریلی میں اس محاذ کی قیادت مولانا تقی علی خاں کر رہے تھے اور بدایوں میں مولانا عبد القادر بن مولانا فضل رسول بدایونی سرخیل جماعت تھے۔” [مولانا محمد احسن نانوتوی، مؤلفہ پروفیسر محمد ایوب قادری، ص: ۹۴، مکتبہ عثمانیہ، کراچی، ۱۹۶۶ء]
مولانا عبدالحق خیر آبادی، مولانا سید حسین شاہ محدث رام پوری، مولانا عبدالعلی رام پوری، مفتی نور النبی رام پوری اور دیگر علمائے اہل سنت نے فتنہ شش مثل و امکان نظیر محمدی کے خیال کو نص قرآنی کے معارض عقیدہ فاسدہ قرار دیا۔
حضرت مفتی ارشاد حسین مجددی رام پوری (متوفی ۱۳۱۱ھ / ۱۸۹۳ء) نے لکھا ہے کہ اس پر عقیدہ رکھنا اہل سنت و جماعت کے خلاف ہے۔ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ [کلیۃ الجمال و إلہام الباسط المتعال، ص: ۲۶، مطبوعہ بہارستان کشمیر لکھنؤ]
آیت ختم نبوت اور متعدد احادیث ختم نبوت کو سامنے رکھ کر ادنیٰ تامل کے بعد ہی واضح ہو جاتا ہے کہ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہی ہے۔ اور اس میں تاخیر زمانی ہی مراد ہے۔ مثلاً آیت کریمہ ہے:
وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
اور حدیث نبوی ہے:
أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي [أبواب الفتن، جامع الترمذي]
صاف واضح ہے کہ میرا آخری نبی ہونا قطع سلسلہ نبوت کا الہی فرمان ہے۔ “تنبیہ الجہال” میں اس مسئلہ و قضیہ کی تحقیق و تردید علامہ فضل رسول عثمانی بدایونی (متوفی ۱۲۸۹ھ / ۱۸۷۲ء)، مولانا عبد القادر عثمانی بدایونی (متوفی ۱۳۱۹ھ / ۱۹۰۱ء) اور مولانا نور احمد عثمانی بدایونی (متوفی ۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۴ء) نے کی ہے۔ جنھوں نے اسے ۱۲۹۱ھ / ۱۸۷۴ء میں تحریر کیا۔ مطبوعہ مطبع بہارستان کشمیر لکھنؤ۔
نظیر محمدی، ختم نبوت، اثر ابن عباس کی بحث طول پکڑتی گئی۔ اسی موضوع سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد قاسم نانوتوی (متولد ۱۲۴۸ھ، متوفی ۱۲۹۷ھ / ۱۸۸۰ء) نے “تَحْذِيرُ النَّاسِ عَنْ إِنْكَارِ أَثَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ” کے نام سے ۱۲۹۰ھ / ۱۸۷۳ء میں ایک کتاب لکھی۔ جسے مولانا محمد احسن نانوتوی (متوفی ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۴ء) نے اپنے مطبع صدیقی، بریلی سے طبع کیا۔
قارئین کے لیے یہ انکشاف باعث حیرت نہیں ہوگا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (متوفی ۱۲۹۷ھ / ۱۸۸۰ء) کے ہم جد تحذیر الناس کے مستفتی اور اپنے مطبع صدیقی بریلی کے ذریعہ اس کے پہلے طابع و ناشر مولانا محمد احسن نانوتوی (متوفی ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۴ء) کے تعارف میں حلقہ دیوبند ہی کے ایک مؤرخ اور تحریک بالاکوٹ کے مؤید و حامی مصنف و مؤرخ پروفیسر محمد ایوب قادری (کراچی، متوفی نومبر ۱۹۸۳ء) لکھتے ہیں:
“۲۲ مئی ۱۸۵۷ء کو نماز جمعہ کے بعد مولانا محمد احسن صاحب نے بریلی کی نو محلہ مسجد میں مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر کی اور اس میں بتایا کہ حکومت سے بغاوت کرنا خلاف قانون ہے۔” ایک انگریز مؤرخ نے لکھا ہے کہ: “حکومت سے بغاوت کرنا خلاف شرع ہے۔ اس تقریر نے بریلی میں آگ لگادی۔ اور تمام مسلمان مولانا محمد احسن نانوتوی کے خلاف ہو گئے۔ اگر کوتوال شہر شیخ بدر الدین کی فہمائش پر مولانا بریلی نہ چھوڑتے تو ان کی جان کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔” [مولانا محمد احسن نانوتوی مؤلفہ پروفیسر محمد ایوب قادری، ص: ۵۰، مطبوعہ کراچی، ۱۹۶۶ء]
مشہور دیوبندی عالم مولانا خالد محمود (مانچسٹر، انگلینڈ) لکھتے ہیں: “مولانا محمد احسن نانوتوی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ہم جد تھے۔ آپ نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس اپنے مطبع (مطبع صدیقی، بریلی) سے شائع کی تھی۔ اس میں بطور مستفتی مولانا محمد احسن نانوتوی کا نام درج ہے۔”
“۱۸۵۰ء میں بریلی کالج قائم ہوا۔ اور مولانا محمد احسن نانوتوی اس کے شعبہ فارسی کے صدر مقرر ہوئے۔ اور جب شعبہ عربی قائم ہوا تو اس کے بھی صدر آپ ہی بنائے گئے۔ دیوبند کے حضرت مولانا ذوالفقار علی (متوفی ۱۹۰۴ء) بریلی میں انسپکٹر مدارس رہے۔ ۱۸۵۱ء میں آپ یہیں رہے۔ ۱۸۵۷ء میں میرٹھ کے ڈپٹی انسپکٹر مدارس کے عہدے پر فائز رہے۔ ۱۸۵۷ء میں حضرت مولانا فضل الرحمن عثمانی (متوفی ۱۸۹۱ء) جو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کے والد تھے، بریلی میں انسپکٹر مدارس تھے۔” [مطالعہ بریلویت، حصہ چہارم از مولانا خالد محمود، ص: ۱۸، مطبوعہ محافظی بک ڈپو، دیوبند]
“بریلی میں بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ۱۸۵۱ء میں یہیں پیدا ہوئے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی مہتمم دار العلوم دیوبند کے مولد و منشا ہونے کا شرف اسی سرزمین کو حاصل ہے۔ آپ بریلی میں ۱۲۴۸ھ میں پیدا ہوئے۔ ان سب اکابر کے استاذ حضرت مولانا مملوک علی ۱۲۶۷ھ میں فوت ہوئے۔ آپ دہلی کالج کے شعبہ عربی کے صدر تھے۔” [مطالعہ بریلویت، حصہ چہارم، ص: ۱۸، مطبوعہ دیوبند]
سارے مؤرخین اس حقیقت سے واقف ہیں کہ مولانا مملوک علی نانوتوی (متوفی ۱۲۶۷ھ / ۱۸۵۱ء) دلی کالج میں انگریزی حکومت کے منظور نظر پرنسپل تھے۔ اور انھیں کے فرزند مولانا محمد یعقوب نانوتوی (۱۸۳۳ء - ۱۹۰۱ء) مدرسہ دیوبند معروف بہ دار العلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس ہوئے۔ جنگ ۱۸۵۷ء کو غدر اور انقلابیوں کو مفسدین کہا کرتے تھے۔
جیسا کہ سوانح قاسمی مطبوعہ دیوبند میں ہے کہ مدرسہ دیوبند کے مدرسین کی اکثریت: “ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پنشنر تھے۔ جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔” [حاشیہ سوانح قاسمی، ص: ۲۴۷، مطبوعہ دیوبند]
استفتا اور اس کے جواب بنام تحذیر الناس کا عقدہ مندرجہ ذیل تحریر سے کھلتا ہوا نظر آتا ہے کہ شاید مستفتی اور مجیب کی گفتگو کے نتیجہ میں ہی تحذیر الناس کی تالیف ہوئی۔ اور جواب بھی شاید پہلے سے طے شدہ تھا۔ کیونکہ مستفتی اسی خیال کے پیشگی حامل تھے جسے تحذیر الناس میں شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
سائل و مجیب دونوں ہی نانوتہ ضلع سہارن پور کے باشندے اور ہم جد بھی تھے۔ اور اس استفتا سے پہلے ہی ان کے خیالات ظاہر بھی ہو چکے تھے۔
چنانچہ مولانا محمد حنیف گنگوہی قاسمی لکھتے ہیں: ۱۲۸۸ھ / ۱۸۷۱ء میں شیخو پور ضلع بدایوں میں مسئلہ امکان و امتناع نظیر پر مولوی عبد القادر بدایونی اور امیر احمد سہسوانی کے درمیان ایک مناظرہ منعقد ہوا۔ سہسوانی نے ہر دو فریق کے مفصل حالات و تحریرات پر مشتمل ایک کتاب مناظرہ احمدیہ کے نام سے طبع کرادی۔
تحریرات مناظرہ میں اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما:
إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ سَبْعَ أَرْضِينَ، فِي كُلِّ أَرْضٍ آدَمُ كَآدَمِكُمْ، وَنُوحٌ كَنُوحِكُمْ.
بھی زیر بحث آیا۔
سہسوانی نے آخر کتاب میں ایک جملہ یہ بھی لکھ دیا کہ: “مولوی محمد احسن صدیقی نانوتوی بھی اس کے معتقد ہیں۔ اور اسی مضمون پر ان کی مہر ثبت ہے۔ اور اس کے اور علمائے دین قائل اور معتقد ہیں۔” [ظفر المحصلین باحوال المصنفین، مؤلف محمد حنیف گنگوہی قاسمی، ص: ۳۶۵، حنیف بک ڈپو، دیوبند ضلع سہارن پور] [حوالہ: ماہنامہ جہان رضا، لاہور، اکتوبر نومبر ۲۰۱۸ء، ص: ۲۵]
